لا إله إلا الله کا حقیقی مفہوم: اثباتِ توحید اور نفیِ شرک

فونٹ سائز:

کلمۂ شہادت «لا إله إلا الله» کا معنی:

مضمون کے اہم نکات

[لا إله إلا الله] کا معنی: اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔

اللہ عزوجل فرماتا ہے:

[وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا نُوۡحِیۡۤ اِلَیۡہِ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعۡبُدُوۡنِ]

اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔ [الأنبیاء: 25]

اللہ عزوجل فرماتا ہے:

[وَ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الرَّحۡمٰنُ الرَّحِیۡمُ]

اور تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، بےحد رحم والا، نہایت مہربان ہے۔ [البقرۃ: 163]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[التوحيد الذي بعث الله به رسله هو عبادة الله وحده لا شريك له وهو معنى شهادة أن لا إله إلا الله وذلك يتضمن التوحيد بالقول والاعتقاد وبالإرادة والقصد]

وہ توحید جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مبعوث فرمایا، یہ ہے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے، جس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی اس گواہی کا معنی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اور یہ توحید قول و اعتقاد کے ساتھ ساتھ ارادہ و قصد میں بھی اللہ کو ایک ماننے کو شامل ہے۔ [بيان تلبيس الجهمية في تأسيس بدعهم الكلامية:4/623]

امام صنعانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[رأسَ العبادة وأساسَها التوحيدُ لله الذي تفيده كلمته التي إليها دعت جميع الرسل، وهي قول (لا إله إلَاّ الله)، والمراد اعتقاد معناها والعمل بمقتضاها، لا مجرَّد قولها باللسان. ومعناها: إفراد الله بالعبادة والإلهية، والنفي والبراءة من كلِّ معبود دونه]

عبادت کی اصل اور بنیاد اللہ تعالیٰ کی توحید ہے، جس پر وہ کلمہ دلالت کرتا ہے جس کی طرف تمام رسولوں نے دعوت دی، اور وہ «لا إله إلا الله» ہے۔ اس سے مراد اس کے معنی پر اعتقاد رکھنا اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا ہے، محض زبان سے اسے کہہ دینا مراد نہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ عبادت اور معبود ہونے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کیا جائے، اور اللہ کے سوا ہر معبود کی نفی اور اس سے براءت اختیار کی جائے۔ [تطهير الاعتقاد عن أدران الإلحاد ويليه شرح الصدور في تحريم رفع القبور: (الصنعاني) الصفحہ53]

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[معنى شهادة أن لا إله إلا الله أن يعترف الإنسان بلسانه وقلبه بأنه لا معبود حق إلا الله- عز وجل فكل ما عبد من دون الله فهو باطل قال تعالى: ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ] اس گواہی کا معنی کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، یہ ہے کہ انسان اپنی زبان اور دل دونوں سے اس بات کا اقرار کرے کہ اللہ عزوجل کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ پس اللہ کے سوا جس کی بھی عبادت کی جاتی ہے وہ باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ] یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں۔ [الحج: 62]،[مجموع فتاوى ورسائل العثيمين:7/223]

ابن جریر الطبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

قال ابن جرير: [يقول: لا معبود بحق تجوز عبادته، وتصلح الألوهة له إلا الله الذي هذه الصفات صفاته، فادعوه -أيها الناس- مخلصين له الدين، مخلصين له الطاعة، مفردين له الألوهة، لا تشركوا في عبادته شيئا سواه؛ من وثن وصنم، ولا تجعلوا له ندا ولا عدلا]

اس کے سوا کوئی ایسی ہستی نہیں جس کی عبادت حق کے ساتھ جائز ہو اور جو الوہیت کی مستحق ہو، سوائے اللہ کے، جس کی یہ صفات بیان ہوئی ہیں۔ پس اے لوگو! اسی کو پکارو، اس حال میں کہ دین کو خالص اسی کے لیے کرنے والے، اطاعت کو صرف اسی کے لیے مخصوص کرنے والے اور الوہیت میں اسے یکتا ماننے والے ہو۔ اس کی عبادت میں اس کے سوا کسی چیز کو شریک نہ کرو، خواہ وہ کوئی بت ہو یا تراشا ہوا معبود، اور نہ کسی کو اس کا ہم سر اور برابر ٹھہراؤ۔ [تفسير الطبري جامع البيان: ج21 ص410]

ابن جریر الطبری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقال ابنُ جريرٍ في تَفسيرِ قَولِه تعالى: [فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ] [محمد: 19] (يقول تعالى ذكره لنبيه محمد صلى الله عليه وسلم: فاعلم -يا محمد- أنه لا معبود تنبغي أو تصلح له الألوهة، ويجوز لك وللخلق عبادته، إلا الله الذي هو خالق الخلق، ومالك كل شيء، يدين له بالربوبية كل ما دونه]

اور ابن جریر رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: [فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ] پس جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ سے فرماتا ہے: اے محمد! جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی ایسا معبود نہیں جس کے لیے الوہیت سزاوار اور شایان ہو، اور جس کی عبادت آپ کے لیے اور تمام مخلوق کے لیے جائز ہو۔ وہی اللہ ہے جو تمام مخلوق کا خالق اور ہر چیز کا مالک ہے، اور اس کے سوا جو کچھ ہے، سب اس کی ربوبیت کے آگے سرِ اطاعت خم کیے ہوئے ہیں۔ [تفسير الطبري جامع البيان: ج22 ص173]

امام بقاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقال البقاعي في تفسيرِ قَولِه تعالى: [فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ] [محمد: 19]: (أي: انتفى انتِفاءً عَظيمًا أن يكونَ مَعبودٌ بحَقٍّ غيرُ المَلِكِ الأعظَمِ؛ فإنَّ هذا العِلْمَ هو أعظَمُ الذِّكرى المُنجِيةِ مِن أهوالِ السَّاعةِ، وإنَّما يكونُ عِلْمًا إذا كان نافِعًا، وإنَّما يكونُ نافِعًا إذا كان مع الإذعانِ والعَمَلِ بما يَقتَضيه، وإلَّا فهو جَهلٌ صِرفٌ]

اور امام بقاعی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں فرمایا: [فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ] پس جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس بات کی نہایت مؤکد اور قطعی نفی ہے کہ بادشاہِ اعظم، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور معبودِ برحق ہو۔ کیونکہ یہی معرفت قیامت کی ہولناکیوں سے نجات دلانے والی سب سے عظیم نصیحت ہے۔ اور یہ معرفت حقیقتاً اسی وقت علم کہلاتی ہے جب نفع بخش ہو، اور نفع بخش اسی وقت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ دل کی کامل تسلیم و فرماں برداری اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل بھی ہو؛ ورنہ وہ محض جہالت ہے۔

[كتاب التوحيد وقرة عيون الموحدين في تحقيق دعوة الأنبياء والمرسلين، (عبد الرحمن بن حسن آل الشيخ): ص14-15]

عز بن عبدالسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقال العز بن عبد السلام: (كلمة التوحيد تدل على التكليف بالواجب والحرام؛ إذ معناه: لا معبود بحق إلا الله، والعبادة هي الطاعة مع غاية الذل والخضوع)

اور عز بن عبدالسلام رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کلمۂ توحید واجبات کی ادائیگی اور محرمات سے اجتناب کی پابندی پر دلالت کرتا ہے؛ کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور عبادت سے مراد کامل عاجزی، فروتنی اور انتہائی خضوع کے ساتھ اطاعت کرنا ہے۔ [الإمام في بيان أدلة الأحكام: ص168-169]

امام القرافی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقال القرافي في صفة الأذان وشهادة التوحيد: (الإله المعبود، وليس المراد نفي المعبود كيف كان؛ لوجود المعبودين في الوجود، كالأصنام والكواكب، بل ثم صفة مضمرة تقديرها: لا معبود مستحق للعبادة إلا الله، ومن لم يضمر هذه الصفة لزمه أن يكون تشهده كذبا)

اور قرافی رحمہ اللہ اذان کی کیفیت اور کلمۂ توحید کی شہادت کے بیان میں فرماتے ہیں: اِلٰہ کے معنی معبود کے ہیں۔ یہاں ہر طرح کے معبود کی مطلق نفی مراد نہیں؛ کیونکہ حقیقتِ واقعہ میں بہت سی چیزوں کی عبادت کی جاتی ہے، جیسے بتوں اور ستاروں کی۔ بلکہ یہاں ایک صفت مقدر ہے، یعنی معنی یہ ہے: اللہ کے سوا کوئی ایسا معبود نہیں جو عبادت کا مستحق ہو۔ اور جو شخص اس مقدر صفت کو نہ مانے، لازم آئے گا کہ اس کی شہادتِ توحید جھوٹی قرار پائے۔ [الذخيرة للقرافي: ج2 ص57]

امام محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقال مُحَمَّدُ بنُ عَبدِ الوَهَّابِ: (معناها: لا مَعبودَ بحَقٍّ إلَّا اللهُ وَحْدَه، و (لا إلهَ) نافيًا جميعَ ما يُعبَدُ مِن دونِ اللهِ، (إلَّا اللهُ) مُثبِتًا العِبادةَ للهِ وَحْدَه لا شَريكَ له في عبادتِه، كما أنَّه ليس له شَريكٌ في مُلْكِه، وتفسيرُها الذي يوضِّحُها قَولُه تعالى: وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ]،[إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ]،[وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ] [الزخرف: 26-27-28]، وقولُه تعالى: [قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتاب تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ] [آل عمران: 64])

اور محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ وحدہٗ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ «لَا إِلٰهَ» اللہ کے سوا ہر اس چیز کی عبادت کی نفی کرتا ہے جس کی عبادت کی جاتی ہے، جبکہ «إِلَّا اللهُ» عبادت کو صرف اللہ وحدہٗ کے لیے ثابت کرتا ہے؛ اس کی عبادت میں اس کا کوئی شریک نہیں، جس طرح اس کی بادشاہی اور اقتدار میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور اس کلمے کی وہ تفسیر جو اس کے مفہوم کو پوری طرح واضح کرتی ہے، اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: [اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا بے شک میں ان چیزوں سے بالکل بری ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو]،[سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیا، پس بے شک وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا]،[اور اس نے اس (توحید کی بات) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات بنا دیا، تاکہ وہ رجوع کریں]، اور اللہ تعالی کا فرمان ہے: [کہہ دے اے اہل کتاب! آئو ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے درمیان اور تمھارے درمیان برابر ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو اللہ کے سوا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ پھر جائیں تو کہہ دو گواہ رہو کہ بے شک ہم فرماں بردار ہیں]۔

[ثلاثة الأصول وشروط الصلاة والقواعد الأربع: ص15]

سلیمان بن عبد اللہ آل الشیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقال سُلَيمانُ بنُ عبدِ اللهِ آل الشَّيخِ: (معنى "لا إلهَ إلَّا اللهُ”، أي: لا معبودَ بحَقٍّ إلَّا إلهٌ واحدٌ، وهو اللهُ وَحْدَه لا شريكَ له، كما قال تعالى: وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ] [الأنبياء: 25]، مع قَولِه تعالى: [وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ] [النحل: 36]، فصَحَّ أنَّ معنى الإلهِ هو المعبودُ؛ ولهذا لَمَّا قال النبيُّ صلَّى اللهُ عليه وسلَّم لكُفَّارِ قُرَيشٍ: ((قولوا: لا إلهَ إلَّا اللهُ)) قالوا: [أَجَعَلَ الْآلِهَةَ إِلَهًا وَاحِدًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ] [ص: 5]، وقال قومُ هود: أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُنَا [الأعراف: 70]، وهو إنَّما دعاهم إلى لا إلهَ إلَّا اللهُ، فهذا هو معنى لا إلهَ إلَّا اللهُ، وهو عبادةُ اللهِ وتَرْكُ عبادةِ ما سِواه، وهو الكُفرُ بالطَّاغوتِ، وإيمانٌ باللهِ؛ فتضَمَّنَت هذه الكَلِمةُ العظيمةُ أنَّ ما سوى اللهِ ليس بإلهٍ، وأنَّ إلهيَّةَ ما سِواه أبطَلُ الباطِلِ، وإثباتَها أظلَمُ الظُّلمِ، فلا يستحِقُّ العبادةَ سِواه، كما لا تصلُحُ الإلهيَّةُ لغيرِه)

اور سلیمان بن عبد اللہ آل الشیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: [لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ] کا معنی یہ ہے کہ ایک اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور وہ اللہ وحدہ ہے، جس کا کوئی شریک نہیں؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو]، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ: [اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو]، پس یہ بات درست ثابت ہوئی کہ «اِلٰہ» کے معنی معبود کے ہیں۔ اسی لیے جب نبی کریم ﷺ نے کفارِ قریش سے فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ کہو»، تو انہوں نے کہا: [کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلاشبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے]، اور کہا قوم ہود نے: [ کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اس اکیلے اللہ کی عبادت کریں اور انھیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟]، حالانکہ نبی کریم ﷺ نے انہیں صرف «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کی دعوت دی تھی۔ پس یہی «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کا حقیقی مفہوم ہے: صرف اللہ کی عبادت کرنا اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت چھوڑ دینا۔ یہی طاغوت کا انکار اور اللہ پر ایمان ہے۔ چنانچہ اس عظیم کلمے میں یہ حقیقت مضمر (پوشیدہ) ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی حقیقی معبود نہیں، اور اللہ کے سوا کسی دوسرے کے لیے الوہیت ثابت کرنا باطل ترین باطل ہے، جبکہ کسی غیر اللہ کے لیے الوہیت ماننا بدترین ظلم ہے۔ لہٰذا عبادت کا مستحق صرف اللہ ہی ہے، جس طرح الوہیت بھی اس کے سوا کسی اور کے شایانِ شان نہیں۔ [تيسير العزيز الحميد في شرح كتاب التوحيد الذى هو حق الله على العبيد: ص52]

عبد الرحمٰن بن حسن آل الشیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقال عبدُ الرَّحمنِ بنُ حَسَن آل الشَّيخِ: (فدَلَّت لا إلهَ إلَّا اللهُ على نَفيِ الإلَهيَّةِ عن كُلِّ ما سِوى اللهِ تعالى كائِنًا ما كان، وإثباتِ الإلَهيَّةِ لله وَحْدَه دونَ كُلِّ ما سِواه، وهذا هو التَّوحيدُ الذي دعت إليه الرُّسُلُ، ودَلَّ عليه القُرْآنُ مِن أوَّلِه إلى آخِرِه، كما قال تعالى عن الجِنِّ: [قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا]،[يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا] [الجن: 1، 2]، فلا إلهَ إلَّا اللهُ لا تنفَعُ إلَّا مَن عَرَف مَدلولَها نفيًا وإثباتًا، واعتَقَد ذلك وقَبِلَه وعَمِلَ به، وأمَّا مَن قالها مِن غيرِ عِلمٍ واعتِقادٍ وعَمَلٍ، فقد تقَدَّمَ في كلامِ العُلَماءِ أنَّ هذا جَهلٌ صِرفٌ، فهي حُجَّةٌ عليه بلا رَيبٍ)

اور عبد الرحمٰن بن حسن آل الشیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پس «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ہر ایک سے، خواہ وہ کوئی بھی ہو، الوہیت کی نفی کی جائے، اور الوہیت صرف اللہ وحدہٗ کے لیے ثابت کی جائے، اس کے سوا کسی اور کے لیے نہیں۔ یہی وہ توحید ہے جس کی دعوت تمام رسولوں نے دی، اور قرآنِ مجید ابتدا سے انتہا تک اسی پر دلالت کرتا ہے؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جنات کے بارے میں فرمایا: [کہہ دے میری طرف وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر سنا تو انھوں نے کہا کہ بلاشبہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے]،[جو سیدھی راہ کی طرف لے جاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے اور (اب) ہم اپنے رب کے ساتھ کسی کو کبھی شریک نہیں کریںگے]، پس «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» صرف اسی شخص کو نفع دیتی ہے جو اس کے مفہوم کو نفی و اثبات دونوں اعتبار سے پہچانے، اس پر اعتقاد رکھے، اسے قبول کرے اور اس کے تقاضوں کے مطابق عمل کرے۔ رہا وہ شخص جو اسے علم، اعتقاد اور عمل کے بغیر محض زبان سے کہے، تو علماء کے کلام میں گزر چکا ہے کہ یہ محض جہالت ہے۔ لہٰذا بلاشبہ یہ کلمہ اس کے حق میں حجت ہوگا، نہ کہ اس کے لیے باعثِ نجات۔ [فتح المجيد شرح كتاب التوحيد: ص38]

ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وقال ابنُ باز: (معنى الشَّهادة أن يَشهَدَ بلِسانِه وبقَلْبِه أنَّه لا معبودَ حَقٌّ إلَّا اللهُ، يَشهَدُ بلِسانِه ويُؤمِنُ بقَلْبِه أنَّه لا إلهَ إلَّا اللهُ، يعني: لا مَعبودَ حَقٌّ إلَّا اللهُ، وأنَّ ما عَبَده النَّاسُ مِن دونِ اللهِ مِن أصنامٍ أو أمواتٍ أو أشجارٍ أو أحجارٍ أو ملائكةٍ أو غيرِهم: كُلُّه باطِلٌ، كما قال تعالى: [ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ] [الحج: 62]، هذا معنى شَهادةِ أنْ لا إلهَ إلَّا اللهُ؛ أن تَشهَدَ عن عِلمٍ ويَقينٍ وصِدقٍ أنَّه لا معبودَ حَقٌّ إلَّا اللهُ، وأنَّ ما عَبَده النَّاسُ مِن دونِ اللهِ كُلُّه باطِلٌ)

اور ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شہادت کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنی زبان اور اپنے دل دونوں سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ وہ زبان سے اس کا اقرار کرے اور دل سے اس پر ایمان رکھے کہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» یعنی اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں۔ اور اللہ کے سوا لوگ جن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں، خواہ وہ بت ہوں، مردے ہوں، درخت ہوں، پتھر ہوں، فرشتے ہوں یا ان کے علاوہ کوئی اور، یہ سب باطل معبود ہیں؛ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [یہ اس لیے کہ اللہ ہی ہے جو حق ہے اور (اس لیے) کہ اس کے سوا وہ جسے بھی پکارتے ہیں وہی باطل ہے]، یہی «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ» کی شہادت کا معنی ہے: یہ کہ تم علم، یقین اور سچائی کے ساتھ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اور اللہ کے سوا لوگ جن جن کی عبادت کرتے ہیں، وہ سب باطل ہیں۔ [فتاوى نور على الدرب لابن باز: ج1 ص49]