مضمون کے اہم نکات
چرمہائے قربانی کا مصرف
چرمہائے قربانی کا بھی وہی مصرف ہے، جو قربانی کے گوشت کا مصرف ہے، یعنی قربانی کی کھالیں ذاتی استعمال میں لانا، صدقہ یا ہدیہ کرنا مشروع ہے، اس کے دلائل وہی ہیں، جو قربانی کے گوشت کی تفصیل کے دلائل ہیں۔
قربانی کا چمڑا ذاتی استعمال میں لانا:
قربانی کا چمڑا ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے، اس کی دلیل حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا ہے کہ ایک سال عید الاضحیٰ کے موقع پر کچھ مفلوک الحال بادیہ نشین لوگوں کی آمد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پابندی عائد کر دی کہ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت زیر استعمال لانا ممنوع ہے اور تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت صدقہ کر دیا جائے، چنانچہ آئندہ سال لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ!
إن الناس يتخذون الأسقية من ضحاياهم ويجملون منها الودك
”بے شک لوگ اپنی قربانیوں (کے چمڑوں) سے مشکیزے بناتے اور اس سے چربی پگھلاتے ہیں (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے، ذخیرہ کرنے اور صدقہ کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی)۔“
صحیح مسلم: 1971. سنن أبی داؤد: 2812. سنن نسائی: 4436
یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ قربانیوں کے چمڑے ذاتی استعمال میں لانا جائز و مسنون ہے۔
قربانی کی کھالیں بیچنا جائز نہیں:
صاحبِ قربانی کا قربانی کی کھال بیچنا جائز نہیں اور قربانی کی کھال فروخت کرنے والے کی قربانی کا ثواب ختم ہو جاتا ہے، لہذا صاحبِ قربانی کو قربانی کی کھال صدقہ و ہدیہ کرنی چاہیے یا ذاتی تصرف میں لانی چاہیے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من باع جلد أضحيته فلا أضحية له
”جو شخص اپنی قربانی کا چمڑا فروخت کرے، اس کی قربانی نہیں ہے۔“
حسن: مستدرک حاکم: 390/2 . سنن بیہقی: 294/9. عبد اللہ بن عیاش صدوق راوی ہے
فوائد:
① حافظ مناوی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ قربانی کا چمڑا بیچنے والے کو قربانی کا ثواب حاصل نہیں ہوتا۔
فیض القدیر: 121/6
② ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ فرض و نفل قربانی کا گوشت اور چمڑا بیچنا ناجائز ہے، کیونکہ یہ جانور ذبح کے لیے متعین ہو چکا ہے اور امام احمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ قربانی کا گوشت، کسی بھی قسم کا چمڑا اور قربانی کا کوئی بھی حصہ بیچنا جائز نہیں، وہ کہتے ہیں کہ قربانی کو کیونکر بیچا جا سکتا ہے، حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے نامزد ہو چکی ہے۔
المغنی مع الشرح الکبیر: 112/11
قربانی کا چمڑا بطور اجرت دینا:
قصاب کو قربانی کا چمڑا بطور اجرت دینا جائز نہیں، بلکہ قربانی کرنے والے کو قصاب کی اجرت اپنی طرف سے کرنی چاہیے۔
① سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أقوم على بدنه، وأن أتصدق بلحمها، وجلودها، وأجلتها وأن لا أعطي الجزار منها وقال: نحن نعطيها من عندنا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کی نگرانی کروں اور ان کا گوشت، چمڑے اور جھول صدقہ کر دوں اور قصاب کو اس سے کچھ (اجرت) نہ دوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیں گے۔“
صحیح مسلم، کتاب الحج، باب الصدقة للحوم الهدایا: 1317. سنن أبي داؤد، كتاب المناسك، باب كيف تنحر البدن: 1769. سنن ابن ماجه، كتاب المناسك، باب من جلل البدن: 3099. مسند أحمد: 79/1
② سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن نبي الله صلى الله عليه وسلم أمره أن يقوم على بدنه، وأمره أن يقسم بدنه كلها، لحومها وجلودها وجلالها فى المساكين، ولا يعطي فى جزارتها منها شيئا
”بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کی نگرانی کریں اور قربانیوں کا گوشت، چمڑے اور جھول ہر چیز تقسیم کر دیں اور ذبح کی اجرت میں ان سے کچھ نہ دیں۔“
صحیح بخاری، كتاب الحج، باب تصدق بجلود الهدى: 1717. صحیح مسلم، كتاب الحج، باب الصدقة للحوم الهدایا: 1317
فوائد:
① قربانی کا گوشت، چمڑا اور جھول صدقہ کرنا مستحب فعل ہے۔ قصاب کو گوشت، چمڑا یا جھول بطور اجرت نہیں دینا چاہیے، کیونکہ قربانی کا کچھ حصہ بطور اجرت دینا اس کی مزدوری کا عوض ہے، تو یہ قربانی کی بیع کے مثل ہوگا اور قربانی کی فروخت جائز نہیں (لہذا بطور اجرت قربانی کا کوئی بھی حصہ نہیں دیا جائے گا)۔ قربانی ذبح کرنے کی اجرت لینا جائز ہے۔
شرح النووی: 65/9
② قصاب کو قربانی میں اجرت کی ممانعت سے مقصود یہ ہے کہ اسے قربانی کا کچھ بھی حصہ بطور اجرت نہ دیا جائے۔ امام بغوی رحمہ اللہ (شرح السنہ میں) بیان کرتے ہیں کہ قربانی کا مالک جب قصاب کو ذبح کی اجرت مکمل ادا کر چکے، پھر اگر قصاب فقیر ہو تو اس پر صدقہ کر دے تو جیسے دیگر فقراء پر صدقہ کرنا جائز ہے، ایسے قصاب پر بھی صدقہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور دیگر علماء کہتے ہیں: قصاب کو قربانی سے بطور اجرت دینا ممنوع ہے، کیونکہ یہ معاوضہ ہے، لیکن اسے قربانی سے بطور صدقہ، ہدیہ اور مزدوری سے اضافی دینا جائز ہے۔ البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قصاب کو قربانی سے مطلق اجرت نہ دینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قصاب کو قربانی سے صدقہ بھی نہ دیا جائے کیونکہ اس صدقہ سے اجرت میں کمی واقع ہو سکتی ہے، جو معاوضہ کی شکل اختیار کر لے گی (سو قصاب کو صدقہ و ہدیہ دینے سے اجتناب بہتر ہے)۔
فتح الباری: 702/3، 703
③ قربانی کرنے والے کو قربانی کا چمڑا صدقہ کرنے کی صورت میں فقراء و مساکین کو چمڑا ہی پیش کرنا چاہیے، پھر وہ چاہیں تو ذاتی استعمال میں لائیں اور چاہیں تو فروخت کر دیں، یہ صورت افضل ہے، لیکن وہ چمڑا فروخت کر کے قیمت فقراء و مساکین وغیرہ کو دے دے تب بھی جواز بہر حال ہے۔