قربانی کی کھالیں مدارس، طلباء اور دینی کاموں میں خرچ کرنے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

قربانی کے چمڑوں سے مبلغین و مدرسین کو تنخواہ دینا

قربانی کے چمڑوں سے مبلغین و مدرسین کو تنخواہ دینا اور غریب و نادار طلباء کی خوراک وغیرہ کا انتظام کرنا جائز ہے، اس بارے حافظ عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ کا فتویٰ من و عن نذرِ قارئین ہے:
سوال: کیا انجمن اسلامیہ بوجہ غربت مدرس مدرسہ اسلامیہ کی تنخواہ یا غریب اور نادار طلباء کی کتب اور خوراک وغیرہ یا جلسہ ہائے علماء میں قربانی کے چمڑوں کو خرچ کرنے کا شرعاً جواز رکھتی ہے اور مبلغین کو بطور ہدیہ کے چمڑے ہائے قربانی دیے جا سکتے ہیں؟
جواب: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا﴾
”(صدقات) ان فقراء کے لیے ہیں جو اللہ کے راستے میں روکے ہوئے ہیں، جو زمین میں سفر نہیں کر سکتے۔“
سورة البقرة: 273
اس آیت سے پہلے صدقات کا ذکر ہے، پھر فرمایا کہ یہ صدقات ان فقیروں کے لیے ہیں، جو خدا کے راستہ میں بند ہیں، زمین میں سفر نہیں کر سکتے، یعنی تجارت وغیرہ نہیں کر سکتے، کیونکہ سفر کرنے سے دین کا کام بند ہو جاتا ہے، حدیث میں قربانی کے چمڑوں کی بابت صدقہ کرنے کا حکم آیا ہے اور اس آیت میں صدقات کے مستحق یہ لوگ بتائے ہیں جو فی سبیل اللہ محصور ہیں، ان میں طالب علم، مدرسین، مبلغین بھی شامل ہیں، سوال کی صورت میں جن لوگوں کا ذکر ہے ان پر قربانی کے چمڑے لگ سکتے ہیں۔
فتاویٰ اہل حدیث، جلد دوم، صفحہ: 106/5

مصارفِ صدقات:

مصارفِ صدقات آٹھ ہیں، زکوۃ کی طرح جہاں قربانی کا گوشت اور چمڑے وغیرہ دیے جا سکتے ہیں، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾
”صدقات تو صرف فقیروں اور مسکینوں کے لیے اور ان پر مقرر عاملوں کے لیے ہیں اور ان کے لیے جن کے دلوں میں الفت ڈالنی مقصود ہے اور گردنیں چھڑانے میں اور تاوان بھرنے والوں میں اور اللہ کے راستے میں اور مسافر میں (خرچ کرنے کے لیے ہیں)۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک فریضہ ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔“
سورة التوبة: 60
اس آیت کی رو سے صدقات کے مصارف میں تمام مصارف پر خرچ کرنا یا کسی ضرورت و احتیاج کے پیش نظر کسی ایک مصرف پر صدقہ کا مال خرچ کرنا جائز و مباح ہے۔ نیز فی سبیل اللہ سے مراد جہاد اور اللہ کی راہ میں مصروف مجاہدین، واعظین و مدرسین، مدارسِ دینیہ کے طلباء اور دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے کام کرنے والے لوگ مراد ہیں، لہذا مصارفِ زکوۃ میں سے یہ ایک باقاعدہ مصرف ہے، جہاں قربانی کا گوشت اور چرمہائے قربانی صدقہ کیے جا سکتے ہیں۔ البتہ قربانی کے گوشت اور چمڑوں میں فقراء و مساکین کا باقی مصارف سے زیادہ خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ قربانی کے گوشت، چمڑے اور جھول کی تقسیم میں مساکین کو بطورِ خاص ذکر کیا گیا ہے۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن نبي الله صلى الله عليه وسلم أمره أن يقوم على بدنه، وأمره أن يقسم بدنه كلها، لحومها، وجلودها وجلالها فى المساكين
”بالتحقیق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم کیا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کی نگرانی کریں اور تمام قربانیاں، ان کے گوشت، چمڑے اور جھول مساکین میں تقسیم کر دیں۔“
صحیح مسلم: 1317