مضمون کے اہم نکات
بنو ثقیف اور لات کا حج :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مساجد کے علاوہ کہیں عبادت کی نیت سے سفر کی اجازت نہیں دی۔ فرض حج صرف وہی ہے جو بیت اللہ کے ساتھ خاص ہے۔ اس کے علاوہ صرف دو مسجدیں ایسی ہیں جن کی طرف سفر کیا جا سکتا ہے۔ ان تین مساجد کے علاوہ کسی اہم اور معظم جگہ کی طرف سفر کرنا حج کی قبیل سے ہے جو سخت منع ہے۔ ہماری اس بات کی تصدیق ابو سفیان والی حدیث سے بھی ہوتی ہے جبکہ وہ امیہ بن ابی الصلت ثقفی سے ملا جس میں نصاری کے علماء میں سے ایک کا تذکرہ بھی ہوا جس نے یہ پیش گوئی کی تھی کہ عرب میں ایک نبی کے ظہور کا وقت آ گیا ہے۔ امیہ نے کہا: ”ہم بھی عربوں میں سے ہیں۔“ اس نے کہا: ”وہ ایسے گھر والوں میں پیدا ہوگا جس کا عرب حج کرتے ہیں۔“ امیہ نے کہا کہ ہم بنو ثقیف میں سے ہیں اور ہمارے ہاں ایسا گھر ہے جس کا عرب حج کرنے آتے ہیں۔ اس نے کہا: ”آنے والا نبی تم میں سے نہیں بلکہ وہ تمہارے بھائیوں قریش میں پیدا ہو گا۔“
یاد رہے کہ بنو ثقیف کا دیوتا لات تھا، جس کا قرآن کریم میں بایں طور ذکر ہے:
أَفَرَأَيْتُمُ اللَّاتَ وَالْعُزَّىٰ ﴿١٩﴾ وَمَنَاةَ الثَّالِثَةَ الْأُخْرَىٰ ﴿٢٠﴾ أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْأُنثَىٰ ﴿٢١﴾
”تم نے کبھی اس لات اور اس عزی اور تیسری ایک دیوی مناۃ کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا ہے؟ کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں اللہ کے لیے؟“
(53-النجم:19-21)
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لات ایک جگہ کا نام ہے جہاں بیٹھ کر وہ شخص آنے جانے والے حجاج کو ستو پلایا کرتا تھا۔ جب وہ فوت ہو گیا تو لوگ اس کی قبر پر مجاور بن کر بیٹھ گئے اور آہستہ آہستہ یہ قبر بہت بڑا بت بن گئی جس کی عبادت کی جانے لگی۔ لات کی طرف سفر کرنے کو مشرکینِ عرب حج کا نام دیتے تھے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ کسی بھی مشہد کی طرف سفر کرنا گویا اس کا حج کرنا ہے جیسا کہ کسی نے کہا ہے:
وحق النبى الذى تحج المطايا إليه
”اور اس نبی کا حق ہے جس کی طرف سواریاں حج کے لیے جاتی ہیں۔“
عبد بن حمید اپنی تفسیر میں أفرأيتم اللات والعزى کے متعلق مجاہد رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کرتے ہیں:
”لات ایک شخص کا نام تھا جو لوگوں کو ستو پلایا کرتا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر کو عبادت گاہ بنا لیا گیا۔“
عبد بن حمید سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول بھی نقل کرتے ہیں کہ:
”لات ایک شخص تھا جو حاجیوں کو ستو پلایا کرتا تھا۔“
ابن ابی حاتم نے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
”یہ شخص ایک پہاڑی پر لوگوں کو ستو پلایا کرتا تھا اور جو شخص بھی پی لیتا وہ موٹا ہو جاتا۔ چنانچہ اس کے مرنے کے بعد لوگوں نے اس کی عبادت شروع کر دی۔“
اعمش نے مجاہد رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے کہ:
”یہ شخص ایک پہاڑی پر جو مکہ مکرمہ اور طائف کے درمیان واقع ہے لوگوں کو ستو پلایا کرتا تھا۔ جب یہ مر گیا تو لوگ اس کی قبر پر مجاور بن کر بیٹھ گئے۔“
سلیمان بن حرب ابی الجوزاء کا یہ قول نقل کرتے ہیں کہ:
”لات ایک پتھر تھا جس پر ایک شخص لوگوں کو ستو پلایا کرتا تھا۔ تو اس کے مرنے کے بعد اس شخص کا نام لات مشہور ہو گیا۔“
مندرجہ بالا اقوال کے لیے دیکھئے تفسیر در منثور (573/7-576) و غیره
لات عزی اور مناۃ :
عبد اللہ بن موسی ابی صالح کا یہ قول نقل کرتے ہیں:
”لات جسے عربوں نے اپنا اللہ بنا لیا تھا وہ لوگوں کو ستو پلایا کرتا تھا۔ اور عزی ایک کھجور کا درخت تھا جس پر عرب لوگ خوبصورت پردے اور روئی لٹکایا کرتے تھے، اور مناۃ قدید نامی مقام کے قریب ایک پتھر تھا۔“
سلف میں سے ایک جماعت نے العَلَّات بھی پڑھا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ اسمِ جلالت اللہ سے ماخوذ ہے۔
الخطابی کہتے ہیں کہ:
”مشرکینِ عرب اپنے بعض اہم بتوں کو لفظ اللہ سے تعبیر کیا کرتے تھے، تو ربِ کریم نے اپنے اس ذاتی نام کی حفاظت و صیانت کی خاطر ان کے اس تلفظ کی طرف پھیر دیا۔“
ہم کہتے ہیں کہ مندرجہ بالا دونوں اقوال اور دونوں قرات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کیونکہ ایک شخص پہاڑی پر بیٹھ کر لوگوں کو ستو پلایا کرتا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد لوگ اس کی قبر پر بیٹھ گئے اور اس کا یہی نام رکھ دیا گیا۔ اس لفظ کو تخفیف یعنی (ت) کی شد کے بغیر کہنے سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ یہ الہ ہے جیسا کہ وہ عام طور پر اصنام کو الہۃ کہا کرتے تھے۔ پس اس نام میں یہ دونوں صورتیں جمع ہو گئیں۔
اہل مکہ اور عزی
لات اہل طائف کا بت تھا جسے الربۃ بھی کہتے ہیں، اور عزی اہل مکہ کا دیوتا تھا یہی وجہ تھی کہ جنگ احد میں ابوسفیان نے کہا تھا:
لنا العزى ولا عزى لكم
”ہمارا معبود عزی ہے اور تمہارا کوئی عزی نہیں!“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا کہ اس کا جواب کیوں نہیں دیتے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہم کیا جواب دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ جواب دو:
الله مولانا ولا مولى لكم
”ہمارا مددگار اللہ ہے اور تمہارا کوئی مددگار نہیں۔“
(صحیح بخاری، کتاب المغازي، باب غزوة احد، حدیث: 4023)
مناۃ اہل مدینہ کا مشکل کشا کہا جاتا تھا۔
الغرض! حجاز کا کوئی شہر اور کوئی بستی ایسی نہ تھی جس کا کوئی الگ اور مستقل طاغوت نہ ہو اور جس کا عرب حج نہ کرتے ہوں، اس کی پوجا پاٹ نہ کرتے ہوں اور اسے اپنا شفاعت کنندہ نہ سمجھتے ہوں۔
عزی کا حج :
بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ عزی بنو غطفان کا حاجت روا سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ اس کی عبادت کرتے تھے۔ عرفات کے قریب وادی بطنِ نخلہ میں اس کا مجسمہ نصب تھا اور اس کے قریب ہی غطفان کا قبیلہ آباد تھا۔ اہل مکہ اس کا حج کرنے جاتے تھے۔
اہل یثرب اور مناۃ :
صحیح روایات اور تاریخ کی معتبر کتب سے پتہ چلتا ہے کہ اہل مکہ اسی عزی کی عبادت اور اہل طائف لات کی پوجا کرتے تھے، اور مناۃ قدید نامی جگہ کے قریب واقع تھا۔ اس جگہ سے مشرکینِ مدینہ اپنا احرام باندھتے تھے، اس کی تائید صحیح بخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے بھی ہوتی ہے۔ معمر بن مثنی کا یہ کہنا کہ یہ تینوں بت پتھر کے بنے ہوئے تھے اور بیت اللہ کے اندر تھے، اہل علم کا اتفاق ہے کہ یہ قول صحیح نہیں ہے۔
اہل مکہ کا ہبل :
البتہ ہبل نامی بت کعبہ کے اندر تھا جس کے متعلق جنگ احد میں ابوسفیان نے کہا تھا:
أعل هبل أعل هبل
”ہبل بلند ہو، ہبل بلند ہو!“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا کہ اس کے جواب میں کہو:
الله أعلى وأجل
”اللہ ہی بلند و بالا ہے۔“(حوالہ سابق)
اساف اور نائلہ :
یہ بھی یاد رکھنے کی بات ہے کہ اساف اور نائلہ دیوی کے بت ایک صفا اور دوسرا مروہ پہاڑی پر نصب تھا اور بیت اللہ کے ارد گرد 360 بت لٹکا رکھے تھے۔ لات، عزی اور مناۃ مونث مشہور تھے۔