غیر مسلمین سے تعلقات
دین کے مخالفین کے ساتھ معاملہ کرنے کے سلسلہ میں اگر ہم اسلامی تعلیمات کو اجمالاً بیان کرنا چاہیں تو قرآن کریم کی دو آیتیں ہی کافی ہیں، جو اس معاملہ میں ایک جامع دستور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ یہ ہیں :
لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ 8 إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ وَظَاهَرُوا عَلَىٰ إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُمْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ
”اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے نہیں روکتا جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ یہ ہے کہ تم ان لوگوں سے دوستی کرو جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی۔ ایسے لوگوں سے جو دوستی کریں گے وہی ظالم ہوں گے۔“
(سورہ الممتحنة : 8-9)
پہلی آیت میں ان غیر مسلمین کے ساتھ جو مسلمانوں کے دشمن، یا ان سے برسر جنگ نہیں ہیں، نہ صرف عدل و انصاف کی بلکہ حسن سلوک اور بِرّٗ کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔ بِرّٗ ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی خیر اور بھلائی کو شامل ہے گویا بِرّٗ عدل سے زائد چیز ہے۔
آیت کے الفاظ لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ (اللہ تمہیں نہیں روکتا) سے حسن سلوک کے مطلوب ہونے کی نفی نہیں ہوتی کیونکہ یہ اسلوب اس بنا پر اختیار کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات آسکتی تھی کہ دین کے مخالفین حسن سلوک اور عدل وغیرہ کے مستحق نہیں ہیں۔ اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے واضح کر دیا گیا کہ اللہ مخالفین کے ساتھ حسن سلوک اور عدل کرنے سے نہیں روکتا بلکہ صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات سے روکتا ہے جو مسلمانوں کے خلاف برسر جنگ ہوں اور ان کے خلاف جارحیت اختیار کریں۔
اہل کتاب کے ساتھ خصوصی رعایت
اسلام جہاں اپنے مخالفین کے ساتھ عدل اور حسن سلوک کرنے سے نہیں روکتا، خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں یہاں تک کہ وہ بت پرست مشرک ہی کیوں نہ ہوں وہاں وہ اہل کتاب یعنی یہود و نصاری کے ساتھ خصوصی رعایت برتتا ہے خواہ وہ دارالاسلام میں رہتے ہوں یا اس سے باہر چنانچہ قرآن يَا أَهْلَ الْكِتَابِ (اے اہل کتاب!) اور يَا أَيُّهَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ (اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی) کہہ کر ان سے خطاب کرتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اصلاً آسمانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہذا ان کے اور مسلمانوں کے درمیان رشتہ و قرابت ہے یعنی اس دین واحد کے اصولوں میں اتفاق ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام کا دین رہا ہے :
شَرَعَ لَكُم مِّنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ
”اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا اور جس کو تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ بھیجا ہے اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو کی تھی کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں جدا جدا نہ ہو جاؤ۔“
(سورہ الشورى : 13)
اور مسلمانوں سے اسلام کا مطالبہ یہ ہے کہ اللہ کی تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لائیں اس کے بغیر ایمان معتبر نہیں ہے۔ اہل کتاب جب قرآن پڑھتے ہیں تو انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کی کتابوں اور ان کے پیغمبروں کی اس میں کس قدر تعریف کی گئی ہے۔ مسلمان جب اہل کتاب سے بحث کریں، تو انہیں ایسی باتوں سے احتراز کرنا چاہیئے جن سے نفرت و عداوت کے جذبات پیدا ہوتے ہوں :
وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ ۖ وَقُولُوا آمَنَّا بِالَّذِي أُنزِلَ إِلَيْنَا وَأُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَإِلَٰهُنَا وَإِلَٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ
”اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر احسن طریقہ سے سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں اور کہو ہم ایمان لائے اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف نازل کی گئی۔ ہمارا الہ اور تمہارا الہ ایک ہی ہے اور ہم اس کے مسلم (مطیع و فرمانبردار اور تابعدار) ہیں۔“
(سورہ العنكبوت : 46)
اس سے پہلے ہم دیکھ چکے ہیں کہ اسلام نے اہل کتاب کے ساتھ کھانے میں شرکت اور ان کا ذبیحہ کھانے کی اجازت دی ہے اور ان کی عورتوں کے ساتھ نکاح کو بھی جائز قرار دیا ہے حالانکہ زوجیت کا رشتہ سکون و مودت کا باعث ہوتا ہے۔ یہ ہے عام اہل کتاب کے ساتھ اسلام کا روا دارانہ سلوک اور خاص طور سے نصاریٰ کو تو اسلام نے مسلمانوں کے دلوں میں قریبی جگہ دی ہے :
لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا ۖ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ
تم ایمان لانے والوں کی دوستی میں قریب تر ان لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا ہم نصاری ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عالم اور راہب ہیں اور وہ بلاشبہ تکبر نہیں کرتے۔“
(المائدة : 82)