اللہ کے حقوق کی حفاظت کرنے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اللہ تعالیٰ کے حقوق کی حفاظت کرنے کی فضیلت

کتاب اللہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ عز وجل نے انسانیت کی تخلیق عبث اور کھیل کے طور پر نہیں فرمائی۔ بلکہ ان کی تخلیق کی ایک غرض و غایت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں ذکر فرمایا:
﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ﴾
”جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے، تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہے۔“
(67-الملك:2)
مذکورہ بالا آیت کی روشنی میں تخلیق انسانیت کی حکمت ان کا امتحان و آزمائش معلوم ہوتی ہے، تاکہ نیکی کرنے والوں کو اس کی جزاء اور برائی کرنے والوں کو اس کی سزا مل سکے، پس ہر کلمہ گو کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے خالق حقیقی کے حقوق و واجبات کو پہچانے، سمجھے اور پھر ان پر قولی و عملی اعتقاد رکھے، لیکن افسوس! کہ اکثر لوگ اس بارے میں جہالت کا شکار ہیں اور جن لوگوں کو ان حقوق و واجبات کی معرفت و پہچان ہے، وہ بھی ان کی ادائیگی میں کوشاں نظر نہیں آتے۔ الا من رحم ربي
وہ حقوق و واجبات یہ ہیں:
① اللہ پر ایمان لانا۔
② اللہ کی اطاعت کرنا۔
③ اللہ کی عبادت کرنا۔
④ اختلافی امور میں اللہ کی طرف رجوع کرنا۔
⑤ اللہ تعالیٰ کی کسی معاملہ میں نافرمانی نہ کی جائے۔
⑥ بدعات کو ترک کرنا۔
⑦ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔
⑧ اللہ تعالیٰ سے خیر خواہی۔
⑨ اللہ تعالیٰ سے محبت۔
⑩ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا۔
⑪ اللہ تعالیٰ کے دین کی حفاظت کرنا۔
⑫ طاغوت کی اطاعت سے بچنا وغیرہ۔
پس جو آدمی حقوق اللہ کا پاس رکھے گا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، وہاں انہیں موت لاحق ہو گی، اور نہ ہی وہاں سے نکالے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾
”اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، تو وہ اسے جنتوں میں داخل کرے گا، جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی۔“
(4-النساء:13)
حرف آخر کے طور پر یہ یاد رکھیں کہ جو آدمی حقوق اللہ کی پاسداری رکھے گا، اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا ہے۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ:
كنت خلف رسول الله ﷺ ، يوما فقال: "يا غلام إني أعلمك كلمات: احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده تجاهك، إذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله ، واعلم أن الأمة لو اجتمعت ينفعوك إلا لم ينفعوك بشيء قد كتبه الله لك ، ولو اجتمعوا على أن يضروك بشيء ، لم يضروك إلا بشيء قد كتبه الله عليك، رفعت الأقلام، وجفت الصحف
”میں ایک دن (سواری پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے( بیٹھا ہوا) تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، اے بیٹے! میں تجھے چند اہم باتیں بتلاتا ہوں (انہیں یاد رکھو): تو اللہ (کے حقوق )کی حفاظت کر! اللہ تیری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ (کے حقوق) کا خیال رکھ، تو اس کو اپنے سامنے پائے گا یعنی اس کی حفاظت اور مدد تیرے ہم رکاب رہے گی، جب تو سوال کرے تو صرف اللہ سے کر، جب تو مدد چاہے تو صرف اللہ سے مدد طلب کر اور یہ بات جان لے کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تجھے کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تجھے اس سے زیادہ کچھ نفع نہیں پہنچا سکتی، جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تجھے کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی، جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے۔“
سنن الترمذي، كتاب صفة القيامة، رقم: 2516 – مشكوة ، رقم: 5302 ـ ظلال الجنة ، رقم: 316، 318۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔