کیا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد نہ تھے؟ حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ کی روشنی میں
محمد علی مرزا صاحب اپنے ریسرچ پیپر المعروف ہائیڈروجن بم ”واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر“ میں پہلے باب کے ذیل میں، ص 2 پر، سنن ابی داؤد کی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ جس میں یہ ہے کہ حضرت سفینہ، مولیٰ ام سلمہ رضی اللہ عنہا یہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبوت کی طرز پر خلافت تیس سال رہے گی، پھر اللہ جسے چاہے گا، حکومت دے گا۔ یہ روایت مرزا صاحب کے اس کتابچے کی بنیادی ترین روایت ہے۔ مرزا صاحب کا کل مقدمہ صرف اس ایک روایت کے سہارے کھڑا ہے اور اگر اس ایک روایت کو نکال دیا جائے تو مرزا صاحب کے مقدمے کی کل عمارت ریت کے ڈھیر کی طرح زمین بوس ہو جاتی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ مرزا صاحب کے پاس اس روایت کے علاوہ اپنے موقف کے حق میں کوئی ایک بھی صریح دلیل نہیں ہے۔
مرزا صاحب کا مقدمہ یہ ہے کہ اس امت میں ”خلافت علیٰ منہاج النبوۃ“ یعنی نبوی طرز کی خلافت تیس سال تک رہی ہے، اس کے بعد امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور سے ملوکیت شروع ہو گئی۔ یہی مقدمہ مولانا مودودی رحمہ اللہ کا تھا جو انہوں نے اپنی کتاب ”خلافت و ملوکیت“ میں پیش کیا لیکن فرق یہ ہے کہ مولانا مودودی رحمہ اللہ نے جو مقدمہ تاریخ کی کتابوں سے ثابت کرنا چاہا، مرزا صاحب نے وہی مقدمہ احادیث کی کتب سے دکھانا چاہا۔ اس موقف پر سب سے بڑا اعتراض تو یہ لازم آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی جماعت کے ذریعے اسلام کا جو نظام اور عمارت کھڑی کی تھی، وہ تمہارے بقول تیس سال ہی بمشکل قائم رہ سکی۔ اور اب تمہارا زعم اور گمان یہ ہے کہ تمہاری تحریک خلافت اور انقلابی جدوجہد کے نتیجے میں تمہاری جماعت کے کارکنان کے ہاتھوں جو اسلامی نظام قائم ہو گا، وہ تیس سال سے زائد کا عرصہ گزار جائے گا۔ تو گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن میں اتنے کامیاب نہیں رہے جتنی کامیابی تم حاصل کر لو گے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ ذرا اپنے بیانیے پر غور کریں کہ یہ کیا نتائج پیدا کر رہا ہے۔ مطلب، اس دعوے کے بعد غیر مسلموں کو تم کس منہ سے اسلامی نظام کے اختیار کرنے کی دعوت دے سکتے ہو کہ جو تیس سال بھی نہ کھڑا رہ سکا، اسے تم کہہ رہے ہو کہ پوری دنیا پر نافذ کر دو۔ اس سے بڑھ کر اس نظام کی ناکامی کی کیا دلیل ہو گی کہ ستر سال تو کمیونزم جیسا نظام بھی گزار گیا۔ تو یہ اس دین پر بھی اور خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت پر بھی بہت بڑا طعن ہے کہ جو اسلامی نظام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قائم کر کے گئے تھے، وہ تیس سال میں زمین بوس ہو چکا تھا، اسلام کا جو قلعہ اور عمارت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کی جماعت کے ساتھ مل کر تعمیر کیا تھا، وہ تیس سال میں مٹی کا ڈھیر بن چکا تھا۔ اب اس سے بڑھ کر اس نظام اور دین کی ناکامی کی کیا دلیل ہے جو تم اپنے دشمنوں کو دے سکتے ہو؟ ساتھ میں یہ بڑھک مار کر کہ اب دوسری دفعہ جب ہم اسے قائم کریں گے تو یہ تیس سال سے زیادہ چل جائے گا! اور پھر اگر اس نظام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت یافتہ جماعت تیس سال سے زائد نہیں چلا سکی تو بعد والوں کا کیا حال ہو گا! اگر بعد والوں کی تربیت یافتہ جماعت نے یہ نظام تیس سال سے زائد عرصہ کے لیے چلا لیا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر مربی ثابت ہوئے! یہ بیانیہ بہت ہی سطحی بیانیہ ہے۔ خیر مولانا مودودی رحمہ اللہ کے موقف کی کچھ خیر خبر ہم نے اپنی کتاب ”مکالمہ“ میں لی ہے، اسے گوگل کیا جا سکتا ہے۔
جہاں تک روایت سفینہ کی بات ہے تو ہماری نظر میں یہ روایت ثابت نہیں ہے۔ اس روایت کو حشرج نے سعید بن جمہان سے، اور سعید بن جمہان نے سفینہ سے بیان کیا ہے۔ اس روایت کا مرکزی راوی سعید بن جمہان ہے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ حشرج نے سعید بن جمہان سے سوال کیا کہ تم سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہاں ملے ہو؟ تو سعید بن جمہان نے جواب دیا:
لقيته ببطن نخلة فى زمن الحجاج، فأقمت عنده ثمان ليال أسأله عن أحاديث رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: قلت له: ما اسمك؟ قال: ما أنا بمخبرك، سماني رسول الله صلى الله عليه وسلم سفينة
”سفینہ سے وادی نخلہ میں، حجاج کے زمانے میں ملا ہوں۔ اور میں اس کے پاس آٹھ راتیں رہا ہوں اور اس سے احادیث رسول کے بارے سوال کرتا رہا ہوں۔ میں (سعید بن جمہان) نے اس (سفینہ) سے یہ بھی سوال کیا کہ تمہارا نام کیا ہے؟ تو اس نے کہا کہ میں تمہیں اپنا نام نہیں بتلاؤں گا، میرا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفینہ یعنی کشتی رکھا ہے۔ “
(مسند احمد بن حنبل: 36/256)
مسند احمد کی اس روایت کو شعیب ارنؤوط نے ”حسن“ کہا ہے۔ ( أيضاً ) اب یہاں اس روایت میں دو باتیں اہم ہیں کہ سعید بن جمہان نے سفینہ سے ملاقات کا وقت اور جگہ دونوں بتلائی ہیں۔ جگہ تو وادی نخلہ ہے جو مکہ اور طائف کے مابین ہے اور زمانہ، حجاج کا ہے۔ تو حجاج کو عبد الملک بن مروان نے یکم ذی الحجہ 72ھ کو حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے محاصرہ کے لیے مکہ المکرمہ کی طرف امیر لشکر بنا کر بھیجا تھا۔ یہ محاصرہ 17 جمادی الاولیٰ 73ھ تک یعنی تقریباً پانچ چھ ماہ تک جاری رہا۔ ثم دخلت سنة ثلاث وسبعين فِيهَا كَانَ مَقْتَلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى يَدَيِ الْحَجَّاجِ بْنِ يُوسُفَ الثَّقَفِي الْمُبِيرِ قَبَّحَهُ اللَّهُ وَأَخْزَاهُ ، قَال الواقدي: حدثني مصعب بن نائب عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى بَنِي أَسَدٍ – وَكَانَ عَالِماً بِفِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: حُصِرَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ليلة هلال الْحِجَّةِ سِنَةَ ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ وَقُتِلَ لِسَبْعَ عَشْرَةَ ليلة خلت من جمادى الأول سَنَةَ ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ، فَكَانَ حَصْرُ الْحَجَّاجِ لَهُ خَمْسَةَ أَشْهُرٍ وَسَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً (ابن كثير، إسماعيل بن عمر، البداية والنهاية، دار الفكر، 1407هـ، 329/8) پھر حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے خاتمے کے بعد حجاج کو عبد الملک بن مروان کی طرف سے یہاں یعنی حجاز کا گورنر بنایا گیا اور حجاج بن یوسف دو سال یعنی 73-75ھ میں حجاز کا گورنر رہا۔ اس کے بعد کثرت شکایات کی وجہ سے اسے حجاز کی گورنری سے معزول کر کے عراق کا گورنر لگا دیا گیا تھا۔
ثُمَّ دَخَلَتْ سَنَةُ خمس وسبعين فَفِيهَا غَزَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ – أَخُو عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ وَهُوَ وَالِدُ مَرْوَانَ الْحِمَارِ صَائِفَةَ الرُّومِ حِينَ خَرَجُوا مِنْ عِنْدِ مَرْعَشٍ، وفيها ولى عبد الملك نيابة المدينة ليحيى بْنِ أَبِي الْعَاصِ ، وَهُوَ عَمُّهُ، وَعَزَلَ عَنْهَا الْحَجَّاجَ وَفِيهَا وَلَّى عَبْدُ الْمَلِكِ الْحَجاج بن يوسف نيابة العراق والبصرة وَالْكُوفَةِ وَمَا يَتْبَعُ ذَلِكَ مِنَ الْأَقَالِيمِ الْكِبَارِ، وذلك بعد موت أخيه بشر، فَرَأَى عَبْدَ الْمَلِكِ أَنَّهُ لَا يَسُدُّ عَنْهُ أَهْلَ الْعِرَاقِ غَيْرُ الْحَجَّاجِ لِسَطوَتِهِ وَقَهْرِهِ وَقَسْوَتِهِ وشهامته، فكتب إليه وهو بالمدينة ولاية الْعِرَاقِ، فَسَارَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْعِرَاقِ (البداية والنهاية: 7/9)
تو وادی نخلہ یعنی حجاز میں حجاج کی گورنری کا زمانہ 73-75ھ ہے۔ اور سفینہ کی وفات 71ھ میں ہو چکی تھی تو سعید بن جمہان کی ملاقات، وادی نخلہ میں اور حجاج کے زمانے میں، سفینہ سے کیسے ممکن ہے جبکہ وہ اس سے دو سال پہلے فوت ہو چکے تھے!
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اپنی تاریخ ”البداية والنهاية“ میں 71ھ میں فوت ہونے والوں میں سفینہ مولیٰ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
ثم دخلت سنة إحدى وسبعين ففيها كان مقتل مصعب بن الزبير ومن توفي فيها من الأعيان إبراهيم بن الأشتر سفينة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم أبو عبد الرحمن كان عبدا لأم سلمة
” پھر سن 71ھ شروع ہوا اور اس میں مصعب بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوئی اور اسی سن میں جن بڑے لوگوں کی وفات ہوئی ان میں ابراہیم بن اشتر ہیں اور سفینہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کہ جن کی کنیت ابو عبد الرحمن تھی اور وہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے غلام تھے۔“
(البداية والنهاية: 314/8، 323 )
علامہ مجیر الدین العلیمی اپنی کتاب ”التاريخ المعتبر فى أنباء من غبر“ میں سفینہ رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات 71ھ ذکر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:
أبو عبد الرحمن سفينة: مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، توفي سنة إحدى وسبعين من الهجرة
”ابو عبد الرحمن سفینہ، مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 71ھ میں فوت ہوئے۔“
(مجير الدين العليمي التاريخ المعتبر في أنباء من غبر ، دار النوادر سوريا، الطبعة الأولى، 1431هـ، 376/3 )
بعض اہل علم نے اگرچہ اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ سفینہ رضی اللہ عنہ کی وفات حجاج کے زمانے میں ہوئی ہے لیکن یہی بات ابن کثیر رحمہ اللہ بھی اپنی تاریخ میں نقل کرتے ہیں کہ سفینہ رضی اللہ عنہ کی وفات حجاج کے زمانے میں ہوئی ہے لیکن جب وہ اس کی تاریخ وفات متعین طور پر بیان کرتے ہیں تو 71ھ میں بیان کرتے ہیں جیسا کہ اوپر حوالہ گزر چکا ہے۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ حجاج کے زمانے میں سفینہ رضی اللہ عنہ کی وفات ایک غلط فہمی پر مبنی قول تھا کہ جسے بعض مورخین نے نقل کر دیا اور مورخین نے یہ قول سعید بن جمہان کی روایت کی بنیاد پر نقل کیا اور اس کی روایت تو خود محل نزاع ہے۔ تو جو محل نزاع ہے، وہ دلیل کیسے بن سکتا ہے! یہی وجہ ہے کہ جو مورخین یہ کہتے ہیں کہ حجاج کے زمانے میں سفینہ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ہے تو انہوں نے ان کے سن وفات کا ذکر نہیں کیا ہے تو گویا انہوں نے یہ بات سعید بن جمہان کی روایت سے اخذ کی ہے۔ تو ہماری نظر میں مورخین کا یہ قول راجح معلوم ہوتا ہے کہ سفینہ رضی اللہ عنہ کی وفات 71ھ میں ہو گئی تھی کیونکہ اس میں تعین اور تفصیل زیادہ ہے اور اس قول کے الفاظ بتلا رہے ہیں کہ یہ قول سعید بن جمہان کی روایت سے متاثر ہو کر نہیں نقل کیا گیا۔
لہذا سعید بن جمہان اور سفینہ کی ملاقات ثابت نہیں ہے۔ تو جب ملاقات ثابت نہیں ہے اور سعید بن جمہان کے بقول زندگی میں ملاقات بھی ایک ہی ہوئی ہے اور وہ بھی ثابت نہ ہو سکی تو پھر یہ روایت کیسے ثابت ہو سکتی ہے! البتہ یہ امکان ہے کہ سعید بن جمہان کی کسی سے ملاقات ہوئی ہو، وادی نخلہ میں، حجاج کے زمانے میں، 73-75ھ میں، لیکن وہ سفینہ نہیں تھے بلکہ کوئی اور صاحب تھے، جنہوں نے اپنے آپ کو سفینہ بنا کر پیش کیا ہو کہ وہ کوئی معروف صحابہ میں سے تو تھے نہیں۔ اور یہ زمانہ بھی یعنی ملاقات کا زمانہ، فتنوں کا تھا تو بہت غالب امکان ہے کہ کسی شخص نے سعید بن جمہان کو دھوکا دیا ہو کہ وہ سفینہ ہے۔ اس احتمال کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ وہ شخص اپنا نام بتلانے سے کترا رہا ہے اور سعید بن جمہان کے سوال کے جواب میں یہی کہہ رہا ہے کہ میں اپنا اصلی نام نہیں بتلاؤں گا اور میرا نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفینہ رکھا ہے۔
بہرحال سعید بن جمہان پر شک کیا جا سکتا ہے کہ اس کا بیان درست نہیں ہے اور اس کی بھی گنجائش موجود ہے کہ بعض ائمہ جرح و تعدیل نے سعید بن جمہان پر نقد کی ہے جیسا کہ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں کہا ہے کہ يكتب حديثه، ولا يحتج به کہ اس کی حدیث لکھی جائے گی۔ لیکن اس سے حجت نہیں پکڑی جائے گی۔( المزي، يوسف بن عبد الرحمن، تهذيب الكمال في أسماء الرجال، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الأولى، 1400هـ، 377/10) اور ایسے راوی کی وہ روایات کہ جن میں وہ منفرد ہو، قابل حجت نہیں ہوتیں اور یہ راوی اس روایت کے سفینہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرنے میں منفرد ہے لہذا اس کی یہ روایت حجت نہیں ہے۔
اب کوئی شخص اگر یہ اعتراض کرے کہ امام احمد، امام ابو داؤد اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے سعید بن جمہان کو ثقہ کہا ہے ( أيضاً ) تو آپ ان کے بارے میں ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کا ہی قول کیوں لے رہے ہیں، ان محدثین کا کیوں نہیں لے رہے۔ تو اس کا جواب اوپر گزر چکا کہ ہماری نظر میں سعید بن جمہان اپنے بیان میں مشکوک ہے کہ اس کی ملاقات سفینہ رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہو رہی ہے یا کم از کم مشکوک ہو رہی ہے لہذا احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی روایت لکھ لی جائے لیکن اس کو حجت نہ بنایا جائے۔ پھر ابن عدی رحمہ اللہ نے بھی سعید بن جمہان پر یہ اعتراض کیا ہے کہ سفینہ رضی اللہ عنہ سے ایسی روایات نقل کرتا ہے جو اس کے علاوہ کسی نے نقل نہیں کی ہیں تو یہ بھی اس کو مشکوک بنا دیتا ہے بلکہ یہی اعتراض اس راوی پر امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی ”في حديثه غرائب“ کہہ کر کیا ہے۔ (ابن الوزير، محمد بن إبراهيم بن علي العواصم والقواصم في الذب عن سنة أبي القاسم، مؤسسة الرسالة، بيروت، الطبعة الثالثة، 1415هـ، 385/2 ) وہ یہی وجہ ہے کہ ابن عدی رحمہ اللہ نے اس کے بارے میں ”وأرجو أنه لا بأس به“ کے الفاظ کہے ہیں۔ بلکہ امام نسائی رحمہ اللہ نے بھی ”ليس به بأس“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ (تهذيب الكمال في أسماء الرجال: 377/10 ) اور علامہ الساجی نے بھی ”لا يتابع على حديثه“ کے الفاظ کہے ہیں۔ (العواصم والقواصم: 385/2 ) اور ان دونوں الفاظ کا تعلق ”تعدیل“ کے اس مرتبے سے ہے کہ جس میں حدیث محض لکھی جاتی ہے، حجت نہیں ہوتی۔
(السخاوي، محمد بن عبد الرحمن فتح المغيث بشرح الفية الحديث للعراقي، مكتبة السنة، مصر، الطبعة الأولى، 1424هـ، 121/2 )
اس نقد کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ سعید بن جمہان کی روایت کا ایک شاہد بھی ہے جو کہ امام بیہقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ”دلائل النبوة“ میں نقل کیا ہے لیکن امام بیہقی رحمہ اللہ کی روایت میں بھی علی بن زید بن جدعان راوی ضعیف ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ ایک ضعیف روایت، دوسری ضعیف روایت سے مل کر قوی ہو جاتی ہے اور حسن لغیرہ بن جاتی ہے لہذا یہ دونوں مل کر قوی ہو گئی ہیں۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ایک ضعیف روایت اس وقت دوسری ضعیف روایت کے ساتھ مل کر قوی ہو جاتی ہے جبکہ ان کا ضعف خفیف یعنی کم ہو اور اگر ان کا ضعف زیادہ ہو تو وہ حسن لغیرہ نہیں بنتی ہے۔ تو علی بن زید بن جدعان راوی پر شیعہ بلکہ رافضی ہونے کی تہمت بھی ہے لہذا یہ ضعف قوی ہے۔ پھر اہم بحث یہ بھی ہے کہ اگر کوئی ضعیف روایت حسن لغیرہ کے درجہ کو پہنچ جائے تو اس سے لفظ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ وہ دونوں روایات میں ضعیف ہی رہے گا بلکہ صرف معنی ثابت ہوتا ہے یعنی مجموعی معنی اور اس بارے میں ہم اپنے پی۔ ایچ۔ ڈی کے مقالہ میں بحث کر چکے ہیں۔
تیسری بات یہ کہ علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں تیس سالہ خلافت والی روایت کے بارے میں کہا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی خلفاء میں سے تھے۔ وقد كان ينبغي أن تلحق دولة معاوية وأخباره بدول الخلفاء وأخبارهم فهو تاليهم في الفضل والعدالة والصحبة، ولا ينظر في ذلك إلى حديث الخلافة بعدي ثلاثون سنة فإنه لم يصح، والحق أنّ معاوية في عداد الخلفاء (ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد بن محمد، ديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر، دار الفكر ، بيروت، الطبعة الثانية1408ھ،650/2) اسی طرح امام ابن العربی رحمہ اللہ نے العواصم من القواصم میں لکھا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ وہ اس کے صحیح نہ ہونے کی دلیل نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:
حديث الخلافة ثلاثون سنة ينقضه حديث اثنا عشر خليفة فإن قيل: فقد روي عن سفينة أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: الخلافة ثلاثون سنة، ثم تعود ملكا فإذا عددنا من ولاية أبى بكر إلى تسليم الحسن كانت ثلاثين سنة لا تزيد ولا تنقص يوما … وهذا حديث لا يصح. ولو صح فهو معارض لهذا الصلح المتفق عليه، فوجب الرجوع إليه
”تیس سالہ خلافت والی روایت بارہ خلفاء والی روایت کے خلاف ہے لہذا قابل قبول نہیں ہے۔ پس اگر یہ کہا جائے کہ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تیس سالہ خلافت والی روایت نقل کی ہے کہ جس میں یہ ہے کہ تیس سال کے بعد ملوکیت آ جائے گی۔ اور جب ہم حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے دن سے لے کر حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے خلافت کو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کرنے کے دن تک شمار کرتے ہیں تو یہ مکمل تیس سال بنتے ہیں، نہ ایک دن کم اور نہ ایک دن زیادہ … تو یہ روایت یعنی حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ صحیح نہیں ہے (کیونکہ سفینہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ابو بکر، عمر، عثمان اور علی کو شمار کیا گیا ہے لیکن حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو نہیں۔) اور اگر صحیح ہو بھی جائے تو بھی وہ اس صلح کے خلاف جا رہی ہے جو حضرت حسن اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین ہوئی اور اس صلح والی روایت کی صحت پر اتفاق ہے، پس دونوں میں تعارض کی صورت میں صلح والی روایت کی طرف رجوع لازم ہے کیونکہ وہ متفق علیہ ہے۔ “
(ابن العربي المالكي، العواصم من القواصم في تحقيق مواقف الصحابة بعد وفاة النبي صلى عليه وسلم، وزارة الشؤون الإسلامية والأوقاف والدعوة والإرشاد المملكة العربية السعودية الطبعة الأولى، 1419هـ، 200/1-202)
چوتھی بات یہ کہ حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ کے متنوع طرق میں بھی اضطراب ہے۔ مسند احمد کی روایت میں ہے کہ ”خلافت“ تیس سال تک رہے گی۔ السنن الکبریٰ للنسائی کی روایت میں بھی ”خلافت“ ہی کا تذکرہ ہے۔ اسی طرح سنن الترمذی اور مسند ابی داؤد الطیالسی کی روایت میں بھی محض ”خلافت“ کے الفاظ کا ذکر ہے جبکہ سنن ابی داؤد کی روایت میں ”خلافت علیٰ منہاج النبوۃ“ کا ذکر ہے۔ تو حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ میں اصل الفاظ محض ”خلافت“ کے ہیں جیسا کہ اکثر مصادر میں ہے یا ”خلافت علیٰ منہاج النبوۃ“ کے ہیں جیسا کہ سنن ابی داؤد کی روایت میں ہے؟ یہ کیسے طے ہو گا؟ اس کا کوئی اصول، ضابطہ؟ کہ ان الفاظ کو چھوڑ دیا اور ان کو لے لیا۔ راوی ایک ہی ہے، لہذا یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ایک روایت نے دوسری کی شرح کر دی۔
ایک ہی راوی جب ایک ہی روایت کو نقل کرے اور اس میں الفاظ کا اختلاف لائے تو اسے اصطلاح میں اضطراب (self-contradiction) کہتے ہیں جو حدیث یا کم از کم ان الفاظ کے ضعیف یا متوقف فیہ ہونے کی دلیل ہوتا ہے کہ جن میں اضطراب واقع ہوا ہو۔ اس اضطراب کو اگر رفع بھی کیا جائے تو ترجیح کے اصول کے مطابق حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ میں مراد ”خلافت“ ہو گی نہ کہ ”خلافت علیٰ منہاج النبوۃ“۔ اور محض خلافت تو کسی کے نزدیک بھی تیس سال نہیں ہے۔ پانچویں بات یہ کہ حدیث سفینہ، صحیح مسلم کی صحیح روایت سے متعارض ہے جیسا کہ استاذ محب الدین الخطیب رحمہ اللہ نے بھی ذکر کیا ہے۔ (العواصم من القواصم: 201/1) صحیح مسلم کی روایت میں بارہ خلفاء کا ذکر ہے جبکہ حدیث سفینہ میں چار کا ہے۔
علامہ البانی رحمہ اللہ نے استاذ الخطیب رحمہ اللہ کو یوں جواب دیا کہ دونوں روایات میں جمع ممکن ہے لہذا تعارض رفع ہو گیا۔ اور جمع یہ ہے کہ حدیث سفینہ میں ”خلافتِ نبوت“ کا ذکر ہے اور صحیح مسلم کی روایت میں محض ”خلافت“ کا تذکرہ ہے۔ لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ نے ”سلسلة الأحاديث الصحيحة“ میں یہ جواب نقل کرتے وقت صحیح مسلم کے اس طریق کو نقل نہیں کیا کہ جس میں یہ موجود ہے کہ صحیح مسلم کی روایت میں بھی ”خلافتِ نبوت“ ہی کی بات ہو رہی ہے لہذا تعارض باقی رہا۔ (الألباني، محمد ناصر الدين سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها، مكتبة المعارف للنشر والتوزيع، الرياض، 1415هـ ، 827/1) جب تعارض باقی ہے تو صحیح مسلم کی روایت کو ترجیح حاصل ہو گی کیونکہ دوسری روایت ضعیف ہے یا کم از کم اس کی صحت میں اختلاف ہے۔
صحیح مسلم کی ایک روایت میں الفاظ ہیں:
لا يزال الدين قائما حتى تقوم الساعة، أو يكون عليكم اثنا عشر خليفة، كلهم من قريش
”دین اسلام اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ قیامت قائم نہ ہو جائے یا بارہ خلفاء نہ گزر جائیں۔ اور وہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے۔“
(صحيح مسلم، كِتَابُ الْإِمَارَةِ، بَابُ النَّاسُ تَبَعْ لِقُرَيْشٍ، وَالْخِلَافَةُ فِي قُرَيْشٍ، 1453/3 )
تو دین قائم رہے گا، یہ الفاظ اس معنی میں صریح ہیں کہ بارہ خلفاء کی خلافت سے مراد نبوی خلافت ہے کہ جس میں دین اسلام قائم رہے گا۔ صحیح مسلم ہی کے ایک دوسرے طریق میں الفاظ کچھ یوں ہیں:
لا يزال هذا الدين عزيزا منيعا إلى اثني عشر خليفة
”یہ دین بارہ خلفاء تک غالب اور محفوظ رہے گا۔“
(أيضاً )
یہ دین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وہ دین ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قائم ہے۔ اس دین کے بارے میں آپ نے خبر دی ہے کہ وہ دین بارہ خلفاء تک ”عزيزا“ یعنی اپنی پوری شان و شوکت اور ”منيعا“ یعنی مکمل حفاظت کے ساتھ موجود رہے گا۔
اب یہ کہنا کہ فلاں فلاں محدث نے حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ کو صحیح کہا ہے تو یہ بات درست ہے کہ محدثین کی ایک جماعت نے اس روایت کو صحیح کہا ہے لیکن بعض اہل علم نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے اور انہوں نے صحیح نہ ہونے کے دلائل بھی بیان کر دیے ہیں تو اب اس پر زور لگا کر منوانا کہ فلاں نے صحیح کہا ہے تو تم بھی مان لو کہ صحیح ہے، علمی طرز عمل نہیں ہے۔ بس اس روایت کے صحیح نہ ہونے کے بارے میں جو تفصیلی بحث ہم نے کر دی ہے، آپ اس کے ہر نکتے کا کوئی معقول جواب عنایت فرما دیں تو اتنا کافی ہے۔ اور ہمارے خیال میں ہم ایک ایسے شخص سے مخاطب ہیں جو ”بابی“ نہیں ہے۔ جس کا نعرہ ہی یہ ہے کہ ”نہ میں بابی نہ میں وہابی، میں ہوں مسلم علمی کتابی“۔ تو اب مسلم علمی کتابی کو دلیل کے مقابلے میں دلیل سے بحث کرنی چاہیے۔
اور ہماری دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیث سفینہ کے مرکزی راوی سعید بن جمہان کی سفینہ مولیٰ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات ثابت نہیں ہے، دوسرا سعید بن جمہان کی روایت اس قابل نہیں ہے کہ اس سے حجت پکڑی جائے، تیسرا حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ متفق علیہ صحیح احادیث کے خلاف ہے، چوتھا حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ کا متن خود اپنے متن کے خلاف ہے، پانچواں اس حدیث کے مختلف طرق میں بھی متن کا تضاد موجود ہے، چھٹا حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ سے خلافت و ملوکیت کا جو بیانیہ جنم لیتا ہے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر طعن لازم آتا ہے لہذا یہ روایت مبادیات دین کے بھی خلاف ہے، لہذا یہ روایت ثابت نہیں ہے۔