زندہ سے مدد، قبروں سے تبرک، نذر اور تعویذ کے مسائل

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد اللہ مان کی کتاب حق کی تلاش سے ماخوذ ہے۔

عقائد اہل السنۃ والجماعۃ

سوال: کیا ہم زندہ اور موجود لوگوں سے تعاون طلب کر سکتے ہیں؟

جواب: جس چیز میں اللہ تعالیٰ نے زندہ لوگوں کو قدرت دی ہے اس میں ہم ان سے معاونت طلب کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: [وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی] نیکی اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔ (المائدة:2)

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

اللہ اپنے بندے کی مدد اس وقت تک کرتا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے۔

[مسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب فضل الإجتماع على تلاوة القرآن، وعلى الذكر:2699]

یہ اسباب سے مشروط امداد اس بات کی قطعاً دلیل نہیں بن سکتی کہ فوت شدہ انبیاء و اولیاء کو پکارا جائے۔ مافوق الاسباب امداد کے لیے پکارنا قرآنِ مجید کی کئی آیات کے مطابق شرک ہے۔

سوال: کیا کسی قبر سے تبرک حاصل کیا جا سکتا ہے؟

جواب: صالحین کی قبروں پر جا کر ان کی قبر کے پتھر یا درخت سے برکت حاصل کرنا شرک ہے۔ واقد اللیثی بیان کرتے ہیں: کہ ہم جنگِ حنین کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے، ہمارا زمانۂ کفر ابھی قریب ہی گزرا تھا کہ راستے میں ایک جگہ بیری کا درخت آیا جس کو ذاتِ انواط کہا جاتا تھا۔ مشرکین اس درخت کے پاس بیٹھنا باعثِ برکت خیال کرتے تھے اور اپنے ہتھیار برکت کے لیے اس درخت پر لٹکایا کرتے تھے۔ جب ہم اس درخت کے پاس سے گزرے تو ہم نے آپ ﷺ سے عرض کی کہ: جیسے ان مشرکوں کے لیے ذاتِ انواط ہے آپ ﷺ ہمارے لیے بھی ایک ذاتِ انواط مقرر فرما دیجیے۔ آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا: قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم نے وہی بات کہی جو بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہی تھی کہ اے موسیٰ (علیہ السلام)! ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تم لوگ بڑے جاہل ہو۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم بھی اگلی امتوں کے طریقوں پر چلو گے۔

[ترمذی، كتاب الفتن، باب ما جاء لترکبن سنن من کان قبلکم: 2180]

معلوم ہوا کہ برکت کے حصول کے لیے ایسی جگہیں مقرر کرنا جائز نہیں۔

سوال: کیا کسی قبر پر، جہاں دوسرے لوگ غیراللہ کے لیے جانور ذبح کرتے ہوں، کوئی موحد خالص اللہ تعالیٰ کے لیے جانور ذبح کر سکتا ہے؟

جواب: وہ مقام جہاں غیراللہ کے لیے جانور ذبح کیے جاتے ہیں وہاں خالص اللہ کے لیےبھی جانور ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔ ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ نامی مقام پر جا کر چند اونٹ ذبح کرے گا۔ اس نذر کے ماننے والے نے رسول اکرم ﷺ سے پوچھا: کیا ایسا کرنا صحیح ہے؟ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: کیا وہاں کوئی بت تھا جس کی مشرک پوجا کرتے تھے؟ صحابہ نے عرض کی: نہیں۔ آپ ﷺ نے پھر پوچھا: کیا وہاں مشرکین کا میلا لگتا تھا؟ صحابہ نے عرض کی: نہیں۔ آپ ﷺ نے اس صحابی کو نذر پوری کرنے کی اجازت دی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں نذر پوری کرنا درست نہیں اور نہ وہ نذر پوری کرنا صحیح ہے جو انسان کی ملکیت میں نہ ہو۔

[أبو داؤد، كتاب الأيمان والنذور، باب ما يؤمر به من وفاء النذور: 3313]

سوال: کیا قرآنی آیات یا مسنون دعاؤں سے تعویذ لکھ کر لٹکانا اچھا عمل ہے؟

جواب: قرآن و سنت میں وارد دعاؤں کا استعمال وہی صحیح ہے جو اللہ کے نبی محمدﷺ نے سکھایا۔ یوں آیات و احادیث کو لکھ کر گھونگے و سیپی کی سی شکل بنا کر کالے یا سفید دھاگوں میں باندھنا یا گرہ دار دھاگوں میں لٹکانا ہرگز ہرگز سنت سے ثابت نہیں ہے، بلکہ یہ انداز تو التمائم کے ساتھ مشابہ ہے۔ جب کہ تمائم سے مراد گھونگے و سیپیاں وغیرہ ہیں جو مشرکین بلاؤں سے بچنے کے لیے لٹکایا کرتے تھے، ان تمام کو اللہ کے نبیﷺ نے شرک کہا ہے۔ پھر تعویذ تو اچھا خاصا کاروبار بن چکا ہے اور شاید ہی کوئی تعویذ لکھنے والا لوگوں کو یہ بتاتا ہو کہ اس میں لکھا کیا ہے۔ جب کہ بعض تعویذوں میں یا جبرائیل یا اسرافیل وغیرہ (ندا لغیراللہ) تک لکھا ہوتا ہے۔