قربانی خود ذبح کرنا، مدد لینا اور کسی کو نائب بنانا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

قربانی کا جانور خود ذبح کرنا

اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرنا افضل ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر یہی معمول رہا ہے۔
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ضحى النبى صلى الله عليه وسلم بكبشين أملحين أقرنين ذبحهما بيده
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والے، دو چتکبرے مینڈھے ذبح کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔“
صحيح بخاری کتاب الأضاحي، باب التكبير عند الذبح: 5565۔

فوائد:

① امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
ذبحهما بيده، فيه أن يستحب أن يتولى الإنسان ذبح أضحيته بنفسه ولا يوكل فى ذبحها إلا بعذر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں مینڈھے اپنے ہاتھ سے ذبح کیے، یہ الفاظ دلیل ہیں کہ انسان کا اپنی قربانی خود ذبح کرنا اور بلا عذر کسی اور کو قربانی کا نگران مقرر نہ کرنا مستحب فعل ہے۔
شرح النووى : 120/13۔
② ابن قدامہ رحمہ اللہ کا بیان ہے، قربانی اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا افضل ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے موقع پر دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے اپنے ہاتھ سے ذبح کیے، نیز حجۃ الوداع کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کیے تھے اور یہ عمل اس لیے بھی افضل ہے کہ یہ فعل تقرب الہی کا باعث ہے اور ایسا فعل جو قربت الہی کا سبب ہو اس میں نائب مقرر کرنے کے بجائے اسے خود سرانجام دینا بہتر ہے۔
المغنى مع الشرح الكبير : 117/11۔

ذبح کرتے وقت تعاون لینا

قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت دوسرے شخص سے تعاون لینا جائز و مباح ہے۔ ابو الخیر مصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا:
أنه أضجع أضحيته ليذبحها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم للرجل: أعني على ضحيتي فأعانه
بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذبح کرنے کے لیے اپنی قربانی لٹائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا: قربانی کا جانور ذبح کرنے میں میری مدد کیجیے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی۔
صحيح : مسند احمد: 373/5۔ حافظ ابن حجر نے فتح الباری ( 25/10 ) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

ذبح کرنے میں نائب بننا اور نائب بنانا

اپنے علاوہ کسی دوسرے شخص کی قربانی کرنا اور کسی اور سے قربانی ذبح کرانا دونوں صورتیں جائز و مباح ہیں، دلائل حسب ذیل ہیں۔
① سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
وضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسائه بالبقر
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔
صحيح بخاری: 5559۔ صحیح مسلم: 1311
② سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما حج کے احوال بیان کرتے ہیں:
ثم انصرف إلى المنحر، فنحر ثلاثا وستين بيده، ثم أعطى عليا فنحر ما غبر
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربان گاہ کا رخ کیا اور اپنے ہاتھ سے تریسٹھ اونٹ نحر کیے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو چھری دی اور انھوں نے باقی ماندہ اونٹ نحر کیے۔
صحیح مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبي صلی اللہ علیہ وسلم : 1218۔ سنن أبی داؤد، کتاب المناسك، باب صفة حجة النبي : 1905۔ سنن ابن ماجه، کتاب المناسك، باب حجة الرسول: 3074۔

فوائد:

① امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اپنی قربانی خود ذبح کرنا مستحب فعل ہے اور بلا عذر کسی دوسرے شخص کو قربانی کا جانور ذبح کرنے میں نائب مقرر نہیں کرنا چاہیے، لیکن اگر کسی مسلمان سے قربانی کا جانور ذبح کرایا جائے تو بالا جماع یہ عمل جائز ہے اور اہل کتاب کے کسی شخص سے قربانی کرانا مکروہ تنزیہی ہے، لیکن اس کے ذبح کرنے سے قربانی کفایت کرتی ہے اور صاحب قربانی کی قربانی واقع ہو جاتی ہے۔ مالک رحمہ اللہ کے سوا شافعیہ اور تمام علماء کا یہی موقف ہے۔
شرح النووي: 120/13۔
② ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: قربانی ذبح کرنے میں نائب بنانا جائز ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر تریسٹھ اونٹ نحر کرنے کے بعد باقی اونٹوں کے لیے نائب طلب کیا تھا۔
المغنى مع الشرح الكبير : 117/11۔