بہترین انسان وہ ہے جو اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن الزهري قال حدثني عطاء بن يزيد الليثي أن أبا سعيد الخدري رضى الله عنه حدثه قال قيل يا رسول الله أى الناس أفضل؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مؤمن يجاهد فى سبيل الله بنفسه وماله قالوا ثم من قال: مؤمن فى شعب من الشعاب يتقي الله ويدع الناس من شره.
”زہری کہتے ہیں مجھے عطاء بن یزید لیثی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ بیشک ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اسے حدیث بیان کی کہ کہا گیا: یا رسول اللہ! لوگوں میں کون سا شخص افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مؤمن جو اپنی جان اور اپنے مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے۔ “ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر کون؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مؤمن جو پہاڑ کی کسی گھائی میں رہائش اختیار کرتا ہے، اللہ سے ڈرتا ہے اور لوگوں کو چھوڑ کر اپنی برائی سے ان کو محفوظ رکھتا ہے۔ “
(صحیح بخاری و مسلم) (رواه البخاري كتاب الجهاد والسير باب افضل الناس مؤمن مجاهد بنفسه وماله في سبيل الله، الرقم: 2786 واللفظ له / مسلم كتاب الامارة باب فضل الجهاد والرباط الرقم: 1888)

تشریح

اس حدیث میں کئی قسم کے آدمیوں کو لوگوں میں افضل ترین قرار دیا گیا ہے:
➊ وہ مؤمن جو اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کرتا ہے۔
➋ وہ مؤمن جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اللہ سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارتا ہے، اور اس غرض سے لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے کہ میری ذات سے، میری زبان یا ہاتھ سے کسی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔
اول الذکر مؤمن اس لیے افضل ہے کہ وہ سب سے زیادہ محبوب چیزیں، یعنی جان اور مال اللہ کے راستے میں اللہ کی رضا کے لیے خرچ اور قربان کر رہا ہے۔ اور ثانی الذکر اس لیے افضل ہے کہ وہ اللہ سے ڈرتے ہوئے اپنے آپ کو لوگوں سے اس لیے دور رکھتا ہے کہ اس کی ذات سے کسی مسلمان کو گزند نہ پہنچے۔
➌ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی کو یہ محسوس ہو کہ اختلاط کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے بندوں کو تکلیف ہوتی ہے تو لوگوں سے الگ تھلگ رہ کر زندگی گزارنا بہتر ہے۔ واللہ اعلم۔