پہلی صف میں کھڑے ہونے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

پہلی صف میں کھڑے ہونے کی فضیلت

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ . فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ .﴾
”اے ایمان والو! جمعہ کے دن جب نماز کے لیے اذان دی جائے، تو تم اللہ کو یاد کرنے کے لیے تیزی کے ساتھ چلو، اور خرید وفروخت چھوڑ دو، اگر تم سمجھتے ہو تو ایسا کرنا تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔ جب نماز پڑھ لی جائے تو تم لوگ زمین میں پھیل جاؤ، اور اللہ کے فضل (یعنی روزی) کی تلاش میں لگ جاؤ، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو، تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔“
(62-الجمعة:9,10)
‏ ﴿إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا﴾
”بے شک منافقین اللہ کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ اور وہ انہیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے، اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو کاہل بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ لوگوں سے ریا کاری کرتے ہیں، اور اللہ کو برائے نام یاد کرتے ہیں۔“
(4-النساء:142)
ان آیات مقدسہ سے معلوم ہوا کہ نماز کی ادائیگی کی طرف جلدی کرنی چاہیے۔ اور اس میں سستی و تفاعل سے کام لینا درست نہیں۔ کیونکہ یہ شیوہ منافقین ہے۔ لامحالہ جب نماز کی ادائیگی میں بندہ جلدی کرے گا۔ تو وہ ان شاء اللہ امام کے پیچھے پہلی صف میں ہی جگہ پائے گا۔ اور پہلی صف کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لو يعلم الناس ما فى النداء والصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لاستهموا، ولو يعلمون ما فى التهجير لاستبقوا إليه، ولو يعلمون ما فى العتمة والصبح لأتوهما ولو حبوا.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگ اس فضیلت کو جان لیں جو اذان دینے اور پہلی صف میں ہے، پھر وہ اس پر قرعہ اندازی کے بغیر کوئی چارہ نہ پائیں، تو یقیناً وہ اس پر قرعہ اندازی کریں اور اگر وہ جان لیں کہ اول وقت آنے میں کیا فضیلت ہے، تو وہ ضرور اس کی طرف دوڑ دوڑ کر آئیں۔ اور اگر جان لیں کہ عشاء اور فجر کی نماز کی کتنی فضیلت ہے تو وہ ضرور اس میں شریک ہوں اگر چہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر آنا پڑے۔“
صحیح بخاري، کتاب الأذان، باب الاستهام في الأذان، رقم: 615۔ صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب تسوية الصفوف، رقم: 437۔
اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ پہلی صف کا ثواب بہت ہی زیادہ ہے۔ لیکن مسلمان اس ثواب سے محروم ہیں۔ اور دیر سے آکر آخری صفوں میں کھڑے ہوتے ہیں حالانکہ حدیث میں آتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
خير صفوف الرجال أولها، وشرها آخرها، وخير صفوف النساء آخرها، وشرها أولها.
”مردوں کی بہترین صف پہلی، اور بری صف آخری ہے، جبکہ عورتوں کی بہترین صف آخری اور بری صف پہلی ہے یعنی جو مردوں کی صف سے پیچھے ہو۔“
سنن النسائي، کتاب الإمامة، باب ذكر خير صفوف النساء وشر صفوف الرجال، رقم: 820۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔