درود و سلام کی فضیلت اور قبر نبوی پر طویل قیام کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

رسول اللہ پر صلوۃ و سلام کہنے پر اللہ کی طرف سے دس جوابی رحمتیں

جب کوئی مسلمان نماز کے اندر سلام کہتا ہے تو اگرچہ اس کا جواب نہیں دیا جاتا تاہم اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہے۔ جیسے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
من سلم على مرة سلم الله عليه عشرا
”جو شخص مجھ پر ایک بار سلام کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہے۔“
(سنن نسائى كتاب السهو: باب فضل التسليم على النبى، حديث: 1284 نحو المعنى)
سلام کہنے کا اجر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے وہ میت کے جواب سے ہزارہا درجہ افضل و اعلیٰ ہے، کیونکہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک بار درود و سلام پڑھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہے۔

قبر مبارک پر سلام کہہ کر فورا واپس آ جانا چاہیے

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول تھا کہ وہ سلام عرض کرنے کے بعد فوراً واپس چلے جاتے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اس عمل کو سامنے رکھ کر امام مالک رحمہ اللہ قبر مکرم کے پاس زیادہ عرصہ تک کھڑے رہنے کو مکروہ سمجھتے تھے، کیونکہ دیر تک کھڑے رہنا کسی صحابی سے ثابت نہیں۔ لہذا یہ بدعت کے دائرہ میں سمجھا جائے گا۔ امام مالک رحمہ اللہ کے درج ذیل اصلاحی قول کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہئے کہ:
لن يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها
”امت کے آخری دور کے لوگوں کی اصلاح اسی طرح ممکن ہے جس طرح قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی اصلاح ہوئی تھی۔“
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی دیکھا دیکھی چند ایک افراد کے علاوہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی اکثریت نے یہ عمل نہیں کیا۔ لہذا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل صرف دلیل جواز بن سکتا ہے۔
زیر نظر عمل کو مستحب، مباح یا ممنوع قرار دینے کے لیے بھی دلیل شرعی کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ استحباب، اباحت، کراہت اور تحریم اس وقت تک ثابت نہیں ہو گی جب تک کہ ادلہ شرعیہ سامنے نہ ہوں۔ اور یہ بھی یاد رکھئے کہ ادلہ شرعیہ کا مرجع صرف کتاب و سنت ہے۔
● قرآن وہ جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔
● سنت وہ جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمل کر کے دکھلایا۔
● قیاس اس وقت قابل عمل ہو گا جب معلوم ہو جائے کہ فرع اصل کے مطابق ہے اور جو علت اصل میں ہے وہی فرع میں ہے۔
دلائل سے ثابت ہو گیا کہ رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات میں تناقض نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک جیسی دو چیزوں میں بیک وقت دو حکم نہیں فرمائے۔ اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی کسی معاملہ میں ایک علت کی بنا پر حکم دیا ہو اور پھر اس مسئلے میں کسی دوسرے وقت کسی دوسری علت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس سے منع فرما دیا ہو، ہاں! دونوں صورتوں میں سے ایک تخصیص یا وجوب کی متحمل ہو تو دوسری بات ہے۔ پس شریعت وہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقرر فرما دیں، سنت وہ جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمل کر کے سمجھائیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مطلوب ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل میں کسی شخص کے قول و فعل کو نہیں ملایا جا سکتا، اگرچہ وہ شخص تمام لوگوں سے افضل ہی کیوں نہ ہو۔
اسی بنا پر تمام صحابہ رضی اللہ عنہم اور خصوصاً ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم اپنے اجتہاد سے کوئی بات کہتے تو اکثر دفعہ وہ سنت کے مطابق ہوتی لیکن بایں ہمہ وہ لوگوں کو بطور خاص آگاہ کرتے کہ: ”یہ میری ذاتی رائے ہے، اگر یہ صحیح ثابت ہو تو اللہ کی طرف سے ہے اور غلط ہو تو اسے میری اور شیطان کی طرف سے سمجھنا اور اللہ تعالیٰ کا رسول اس سے بری الذمہ ہیں۔“
ہر وہ کام جو سنت نبوی کے مخالف ہے وہ منسوخ ہو گا یا تحریف شدہ، لیکن مجتہدین کرام نے جو مسئلہ اپنی رائے سے لکھا اگر وہ صحیح نہیں تو ان کی یہ خطا معاف ہے، البتہ اس پر انہیں اجر ضرور ملے گا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب اپنے لیے دعا کرنے کا ارادہ کرتے تو مسجد نبوی میں قبلہ رخ ہو کر دعا مانگتے جس طرح وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں دعا مانگا کرتے تھے، حجرہ مبارک کے قریب یا اندر قبر مکرم کے پاس جانے کی کوشش نہ کرتے۔