قبر پرستوں اور نصاری کو شیطان خوب جھلکیاں دکھاتا ہے
کبھی کبھی نصاری کو بھی یہ شبہ ہوتا ہے کہ یہ ان کا وہی نبی یا حواری ہے جس کی وہ تعظیم و توقیر کرتے ہیں۔
● بعض اوقات اہل قبلہ میں سے گمراہ اور بدعتی لوگ اچانک دیکھتے ہیں کہ ان کے سامنے نبی یا کوئی ولی کھڑا گفتگو کر رہا ہے، اور یہ سوالات پوچھ رہے ہیں یا احادیث کے بارے میں گفتگو ہے اور وہ ان کو جواب دے رہا ہے۔
● بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کو یہ وہم ہوتا ہے کہ حجرہ مبارک اچانک پھٹ گیا اور اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھی نکلے اور ان سے معانقہ کیا۔
● بعض کو یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے دور دراز سے بلند آواز سے سلام کہا اور اس کی آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ گئی۔
یہ اور اسی قسم کی دوسری بے شمار خرافات میں عوام کی اکثریت گرفتار ہے۔ اس سلسلے میں مجھے بعض لوگوں نے چشم دید واقعات بھی بیان کیے۔ بعض اوقات اس قسم کی خرافات بچے اور صحیح العقیدہ لوگوں کو بھی پیش آئیں جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں۔
مندرجہ بالا توہمات اکثر لوگوں میں اسی طرح پائے جاتے ہیں۔ ان میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو جھوٹ بولتے ہیں، کچھ افراد سچ بھی کہتے ہیں تو انہیں یہ وہم ہوتا ہے کہ اس کے تقویٰ اور دینداری کی وجہ سے یہ کرامت ظاہر ہوتی ہے، حالانکہ یہ شیطانی وسوسہ تھا جو اس کے علم و حکمت کی دولت سے کورا ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا تھا، جسے معمولی علم ہو اسے شیطان ایسے ایسے اعمال بتاتا ہے جو کھلم کھلا شریعت سے متصادم ہوتے ہیں۔ اور جسے شریعت کا علم ہو اسے ایسے اعمال بتاتا ہے جو بظاہر شریعت کے مخالف تو نہیں ہوتے لیکن ان میں دینی فائدہ بھی کچھ نہیں ہوتا۔ خصوصاً ایسے شخص کو اس کی معلومات کے مطابق گمراہ کرتا ہے۔ انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے کچھ نہ کچھ فائدہ ضرور ہوا، لیکن اس فائدہ سے اس کے دین کا نقصان زیادہ ہوتا ہے۔
لہذا شیطان نے کبھی بھی کسی صحابی سے یہ نہیں کہا کہ اس کے پاس خضر، موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام میں سے کوئی آیا تھا اور نہ ہی یہ کہا کہ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا معمول تھا کہ وہ جب بھی کسی سفر سے واپس مدینہ طیبہ پہنچتے تو قبر مکرم کے پاس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہتے۔
(مصنف عبد الرزاق 576/3، مصنف ابن أبى شيبة 151/1)
لیکن انہوں نے کبھی بھی یہ نہیں کہا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا ہے۔ تابعین و تبع تابعین کا بھی یہی حال تھا، البتہ بعض متاخرین میں بدعات و خرافات رواج پا گئی تھیں۔
صحابہ کرام کے مقابلہ میں ابلیس بے بس رہا
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خصوصاً خلفاء اربعہ کے درمیان بعض مسائل میں اختلاف رائے بھی ہوا، لیکن کسی ایک صحابی سے ثابت نہیں کہ اس نے قبر مکرم کے پاس جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا حل دریافت کیا ہو۔ حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لخت جگر فاطمہ رضی اللہ عنہا کے دل میں بھی شیطان یہ وسوسہ نہ ڈال سکا کہ وہ قبر مکرم کے پاس جا کر اپنے بارے میں یہ سوال کریں کہ آیا اسے ورثہ ملے گا یا نہیں؟
صحابہ رضی اللہ عنہم کے دل میں یہ خیال بھی پیدا نہ کر سکا کہ وہ قحط سالی کے دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بارش کی دعا کرائیں یا امداد طلب کریں یا استغفار کریں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں امداد اور بارش کی دعا کرایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات سے لے کر قرون ثلاثہ کے اختتام تک اس قسم کے وساوس اور توہمات کا بالکل وجود نہ تھا۔ یہ گمراہی اس وقت ظہور پذیر ہوئی جب کتاب و سنت اور توحید خالص کا علم لوگوں کے دلوں میں کمزور پڑ گیا۔ شیطان مسلمانوں کو گمراہ کرنے میں اسی طرح کامیاب ہوا جس طرح اس نے نصاریٰ کو گمراہ کیا تھا، جب نصاریٰ نے سیدنا مسیح علیہ السلام اور ان سے پہلے انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات کو فراموش کر دیا۔
شیطان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی میں یہ وسوسہ بھی پیدا نہ کر سکا کہ وہ ان میں سے کسی کو ہوا میں اڑا کر لے گیا ہو اور نہ ہی یہ کہ اس نے طویل مسافت چند لمحوں میں طے کرا دی ہو، جیسا کہ متاخرین کے ساتھ کئی دفعہ ایسا ہو چکا ہے۔
صحابہ رضی اللہ عنہم یہ سمجھتے تھے کہ حج، عمرہ اور جہاد کے لیے ہم جو دور دراز کا سفر کرتے ہیں تو ہر قدم پر ثواب ملتا ہے، جتنی مسافت زیادہ ہو گی اس قدر اجر و ثواب بھی زیادہ ہو گا۔ جیسے کوئی شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے مسجد کی طرف چلتا ہے تو ہر قدم پر ایک درجہ بلند اور دوسرے پر گناہ معاف ہوتا ہے۔ پس شیطان کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو اس اجر سے بایں طور پر محروم کر سکے کہ انہیں ہوا میں اڑا کر لے جائے یا اتنی تیزی سے لے چلے کہ سینکڑوں میل کی مسافت چند لمحوں میں طے کرا دے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو معلوم تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس لیے معراج کرائی گئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے بڑے بڑے نشانات دکھلائے، واقعہ معراج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاصہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے اور بعد اس قسم کی معراج کسی کو نصیب نہیں ہوئی۔ بعض اوقات شیطان شعبدہ بازی دکھلاتا ہے جس سے جاہل انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ انتہائی بلندیوں پر جا پہنچا ہے۔ رہا بڑے سے بڑے دریا کو بغیر کشتی عبور کر جانا جیسے زمین پر چل رہا ہو، تو اس قسم کی ضروریات بعض اوقات مومنین کو بھی پیش آئیں۔ اس لیے کہ اگر وہ اس دریا کو عبور نہ کرتے تو دشمن سے مقابلہ اور جہاد کی فضیلت حاصل نہ ہوتی۔ لہذا ایسے اہم موقع پر رب کریم نے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین کی عزت و تکریم کی خاطر ان مشکلات سے بھی عہدہ برآ ہونے کا شرف بخشا، جیسے العلاء بن الحضرمی، ابو مسلم خولانی رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھی وغیرہ۔
مطلب یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا دور خیر القرون تھا اور وہ انبیاء علیہم السلام کے بعد امت میں افضل ترین افراد تھے۔ ان کے بعد آنے والے بعض افراد سے بھی اس قسم کی کرامات کا ظہور ہوا، اس سے یہ گمان کرنا کہ یہ فضیلت صرف متاخرین کو حاصل ہے پہلے لوگ اس سے خالی تھے، سراسر شیطانی دھوکہ ہے جو کرامت کی نقیض ہے فضیلت نہیں۔ خواہ اس کا تعلق روز مرہ کے امور زندگی سے ہو یا عبادات سے، خرق عادت سے تعلق ہو یا ملکی سیاست سے، بہترین لوگ وہ تھے جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے متبع تھے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مشہور قول ہے:
من كان منكم مستنا فليستن بمن قد مات فإن الحى لا تؤمن عليه الفتنة أولئك أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم أبر هذه الأمة قلوبا وأعمقها علما وأقلها تكلفا قوم اختارهم الله لصحبة نبيه وإقامة دينه فاعرفوا لهم حقهم وتمسكوا بهديهم فإنهم كانوا على الهدى المستقيم
”تمہیں اپنے گزرے ہوئے سلف کا طریق زندگی اختیار کرنا چاہئے، کیونکہ زندہ شخص فتنہ سے بے خوف نہیں ہو سکتا۔ یہ تھے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم، ان کے دل ساری امت سے پاکیزہ، ان کا علم بہت ہی گہرا اور ان میں تکلف نہ تھا، یہ ایسے افراد تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی صحبت اور اقامت دین کے لیے چن لیا تھا۔ ان کے حقوق کو پہچانو، ان کے نقش قدم پر چلو کیونکہ یہ ہدایت اور صراط مستقیم پر تھے۔“
(ابن عبد البر فى جامع بيان العلم 97/2، والهروى فى ذم الكلام 1/86، ورواه أبو نعيم فى الحلية 305/1 عن ابن عمر رضی اللہ عنہ )
خلاصہ کلام یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے قبور سے متعلق تمام بدعات کو ترک کر دیا تھا جو کام قبور پر کی جاتی ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے منع فرما دیا تھا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت اہل کتاب کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کر لے، کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء علیہم السلام کی قبروں کو وثن اور بت بنا لیا تھا۔