قبر مبارک پر سلام کہنے کا طریقہ
موطا مالک میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک اثر منقول ہے کہ وہ جب قبر مکرم کے پاس آتے تو یوں کہہ کر لوٹ جاتے:
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَتِ
”اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو! اے ابو بکر! آپ پر سلام ہو! اے ابا جان! آپ پر سلام ہو!“
(موطا امام مالك 166/1 كتاب قصر الصلاة فى السفر)
ایک روایت میں یہ تصریح موجود ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی سفر سے واپس آتے تو قبر مکرم کے پاس جا کر سلام عرض کرتے تھے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اسی اثر پر اعتماد کرتے ہوئے امام مالک رحمہ اللہ بھی کہتے ہیں کہ انسان حجرہ مبارک کے قریب جا سکتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک قبر مکرم کے پاس دیر تک کھڑے ہو کر دعا اور درود و سلام پڑھتے رہنا مکروہ اور بدعت ہے۔ سلف امت میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا۔ نیز امت کی اصلاح اسی طرح ممکن ہے جس طرح قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی اصلاح ہوئی تھی۔
انبیاء کرام علیہم السلام اور صالحین امت کی قبروں کی طرف رخت سفر باندھنا، امام مالک رحمہ اللہ کے دور تک اس عمل کا وجود نہ تھا۔ بلکہ صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین اور تبع تابعین کے دور کے بعد اس بدعت کا رواج ہوا۔ کیونکہ ان تین ادوار کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تعریفی کلمات موجود ہیں۔ ان تین ادوار کے بعد اس بدعت، جھوٹ اور شرک کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ: ”ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ قبر مکرم کے پاس جائے گا۔“
اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ امام موصوف نے جواب دیا کہ: ”اگر اس نے مسجد کا ارادہ کیا تھا تو اسے اپنی نذر پوری کرنی چاہئے اور مسجد میں جا کر نماز اداکرے۔“
اور اگر اس کا ارادہ فقط قبر مکرم کی زیارت کرنا تھا تو اسے اپنا ارادہ ترک کر دینا چاہئے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
لا تعمل المطى إلا إلى ثلاثة مساجد
”ان تین مساجد کے سوا کسی اور مسجد کے لیے سواریوں کو نہ چلایا جائے۔“
جو شخص انبیاء علیہم السلام اور صالحین کی قبروں کی زیارت کے لیے جاتا ہے تاکہ انہیں پکارے یا ان سے دعا کا طالب ہو، یا یہ عقیدہ رکھے کہ ان کی قبر کے پاس دعا جلدی قبول ہوتی ہے، تو اس قسم کے عقائد و اعمال امام مالک رحمہ اللہ کے دور میں معروف نہ تھے۔ حتیٰ کہ قبر مکرم کے پاس بھی اس قسم کے اعمال کا وجود نہ تھا۔ قبر مکرم کے پاس دیر تک دعا اور درود و سلام کے لیے کھڑے رہنا جب مکروہ اور بدعت ٹھہرا تو اس شخص کے بارے میں کیا کہا جائے گا جو نہ تو درود و سلام کہنے کا ارادہ رکھتا ہے، نہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہے بلکہ اس کے برعکس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا کا طالب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشکلات سے نجات کا خواہاں ہے، قبر مکرم کے نزدیک اپنی آواز کو بلند کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف پہنچاتا ہے اور اللہ کے ساتھ شرک کر کے اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے؟