کیا میت کی طرف سے حج جائز ہے؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
تحریر : شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

میت کی طرف سے حج

میت کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے، خواہ وہ حج نذر کا ہو، یا فرض حج، جس کی وہ اپنی زندگی میں ادائیگی نہ کر سکا ہو، یا نفلی حج ہو۔ اس پر صحیح احادیث اور فقہا کا اجماع ہے۔ عمرہ کا بھی یہی حکم ہے۔
لہٰذا جس شخص پر حج فرض تھا، مگر وہ ادائیگی کیے بغیر فوت ہو گیا، تو اس کے ورثاء پر واجب ہے کہ اس کی طرف سے حج کریں، خواہ میت کے مال سے ہو یا اپنے مال سے۔
✿ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض گزار ہوئی:
إنها لم تحج قط، أفأحج عنها؟ قال: حجي عنها.
”میری ماں نے کبھی حج نہیں کیا، کیا (وفات کے بعد) میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ فرمایا: جی ہاں، اس کی طرف سے حج کریں۔“
(صحیح مسلم: 1149)
❀ اس حدیث کے تحت امام ترمذی رحمہ اللہ (279ھ) فرماتے ہیں:
العمل على هذا عند أهل العلم من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم وغيرهم، وبه يقول الثوري، وابن المبارك، والشافعي، وأحمد، وإسحاق يرون أن يحج عن الميت.
”اس حدیث کے موافق اہل علم صحابہ اور دیگر کا عمل ہے۔ سفیان ثوری، عبد اللہ بن مبارک، شافعی، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ میت کی طرف سے حج (اور عمرہ) کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔“
(سنن الترمذي، تحت الرقم: 928)
❀ امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ) فرماتے ہیں:
لا أعلم أحدا نسب إلى علم ببلد يعرف أهله بالعلم خالفنا فى أن يحج عن المرء إذا مات الحجة الواجبة عنه إلا بعض من أدركنا بالمدينة، وأعلام أهل المدينة والأكابر من ماضي فقهائهم تأمر به مع سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم.
”میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا، جسے کسی شہر میں علم کی طرف منسوب کیا جاتا ہو اور وہاں کے لوگ اہل علم کے طور پر پہچانے جاتے ہوں، جو اس بات میں ہم سے اختلاف کرے کہ میت کی طرف سے فرض حج ادا کیا جائے، سوائے مدینہ کے ایک شخص کے، حالانکہ مدینہ میں چوٹی کے علما اور ان کے سابقہ کبار فقہا بھی اسی (میت کی طرف سے حج) کا حکم دیتے ہیں۔ نیز یہ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی مطابق ہے۔“
(الام: 125/2)
❀ امام عبد اللہ بن زبیر حمیدی رحمہ اللہ (219ھ) فرماتے ہیں:
”جس پر حج واجب ہو جائے اور وہ حج پر جانے کی طاقت رکھتا ہو، تو اس پر واجب ہے۔ اگر وہ استطاعت رکھنے کے باوجود حج کیے بغیر فوت ہو جاتا ہے، تو اس کے اہل خانہ کے لیے واجب ہو جاتا ہے کہ اس کی طرف سے حج کریں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے اس بندے کا حج ادا ہو جائے گا، جیسے کسی مقروض کی موت کے بعد اس کا قرض ادا کرنے سے ادائیگی ہو جاتی ہے۔“
(أصول السنة، مندرج في آخر مسنده)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
يجوز أن تحج عن الميت بمال يؤخذ على وجه النيابة بالاتفاق.
”بطور نیابت مال لے کر میت کی طرف سے حج کرنا بالاتفاق جائز ہے۔“
(مجموع الفتاوى: 18/26)
❀ نیز فرماتے ہیں:
أما الحج فيجزي عند عامتهم ليس فيه إلا اختلاف شاذ.
”جہاں تک تعلق ہے میت کی طرف سے حج کرنے کا، تو تمام فقہا کے نزدیک حج ادا ہو جائے گا، اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں، سوائے شاذ قول کے۔“
(مجموع الفتاوى: 310/24)
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:
لا خلاف بينهم فى مشروعية قضاء الحج والزكاة.
”فقہا کے مابین اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ میت کی طرف سے حج اور زکوۃ کی ادائیگی مشروع ہے۔“
(التنبيه على مشكلات الهداية: 943/2)

فائدہ:

حج میں مرد میت کی طرف سے عورت اور عورت میت کی طرف سے مرد بھی نیابت کر سکتا ہے۔
❀ علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) فرماتے ہیں:
لا خلاف فى حج الرجل عن المرأة، والمرأة عن الرجل.
”اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ مرد کی طرف سے عورت اور عورت کی طرف سے مرد حج کر سکتے ہیں۔“
(شرح صحيح البخاري: 525/4)

تنبیہ :

✿ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لا يصم أحد عن أحد ولا يحج أحد عن أحد.
”کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھے نہ حج کرے۔“
(جزء أبي الجهم: 24، وسنده صحيح)
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
هذا إنما أراد به – والله أعلم – فى حال الحياة.
”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مراد یہ ہے کہ زندگی میں روزہ اور حج کی نیابت نہیں، واللہ اعلم!“
(الخلافیات: 72/5)
البتہ جس کے پاس حج و عمرہ کی مالی استطاعت ہو، مگر جسمانی استطاعت نہ ہو اور نہ کسی کے سہارے حج و عمرہ ادا کر سکتا ہو، تو ایسی صورت میں وہ اپنی جگہ کسی شخص کو حج یا عمرہ کے لیے بھیج سکتا ہے، جسے حج بدل کہتے ہیں، بشرطیکہ حج بدل کرنے والے نے اپنا حج کیا ہو۔

ملاحظہ:

پہلے میرا یہ موقف تھا کہ میت کی طرف سے نذر کے علاوہ کوئی حج یا عمرہ جائز نہیں، اب تحقیق مزید کے بعد ثابت ہوا کہ میت کی طرف سے مطلقاً حج و عمرہ مشروع ہے۔ لہٰذا گزشتہ موقف کو منسوخ سمجھا جائے۔
میں اپنے رب تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوں اور اس کا شکر بھی ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ ناچیز کو حق کی طرف رجوع کی توفیق بخشی، کیونکہ حق کی طرف رجوع کرنا اہل حق کا وطیرہ ہے۔