مضمون کے اہم نکات
عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: کیا غیراللہ کو پکارنا شرک ہے؟
جواب: غیراللہ کو پکارنا کفر و شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ اِذَا رَاَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا شُرَکَآءَہُمۡ قَالُوۡا رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ شُرَکَآؤُنَا الَّذِیۡنَ کُنَّا نَدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِکَ] اور جب شرک کرنے والے اپنے شرکاء کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے رب! یہ ہمارے شرکاء ہیں جن کو ہم تیرے سوا پکارتے تھے۔ (النحل:86)
معلوم ہوا کہ غیراللہ کو پکارنا شرک ہے۔
سوال: کیا غیراللہ کو پکارنا کفر ہے؟
جواب: غیراللہ کو پکارنا کفر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ مَنۡ یَّدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۙ لَا بُرۡہَانَ لَہٗ بِہٖ ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنۡدَ رَبِّہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡکٰفِرُوۡنَ] اور جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود کو پکارتا ہے، اس کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں، اس کا حساب اللہ کے ذمے ہے، تحقیق کافر فلاح نہیں پاتے۔ (المؤمنون:117)
غیراللہ کو پکارنے والے خود مرتے وقت اپنے کافر ہونے کا اقرار کریں گے: [حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوۡنَہُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ] یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے فرشتے جان لینے کو آئیں گے تو وہ کہیں گے وہ کہاں ہیں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے تھے؟ وہ کہیں گے آج ہم سے گم ہو گئے ہیں اور اقرار کریں گے کہ بے شک وہ کافر تھے۔ (الأعراف:37)
سوال: غیراللہ کو پکارنے کا کیا نقصان ہے؟
جواب: غیراللہ کو مدد کے لیے پکارنا عذاب کا باعث ہے۔ فرمایا: [فَلَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُعَذَّبِیۡنَ] اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارو، ورنہ تم عذاب دیے جانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔ (الشعراء:213)
یہ بھی فرمایا: [وَ بُرِّزَتِ الۡجَحِیۡمُ لِلۡغٰوِیۡنَ]،[وَ قِیۡلَ لَہُمۡ اَیۡنَمَا کُنۡتُمۡ تَعۡبُدُوۡنَ]،[مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ ہَلۡ یَنۡصُرُوۡنَکُمۡ اَوۡ یَنۡتَصِرُوۡنَ]،[فَکُبۡکِبُوۡا فِیۡہَا ہُمۡ وَ الۡغَاوٗنَ]
[اور گمراہ لوگوں کے لیے بھڑکتی آگ ظاہر کر دی جائے گی]،[اور ان سے کہا جائے گا کہاں ہیں وہ جنھیں تم پوجتے تھے؟ ]،[اللہ کے سوا۔ کیا وہ تمھاری مدد کرتے ہیں، یا اپنا بچاؤ کرتے ہیں؟]،[پھر وہ اور تمام گمراہ لوگ اس میں اوندھے منہ پھینک دیے جائیں گے]۔ (الشعراء:91تا94)
یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مشرکین اگرچہ انبیاء اور اولیاءاللہ کو پکارتے ہیں مگر وہ چونکہ مشرکین کے دشمن تھے اس لیے وہ ان کے معبود نہیں، ان کا معبود شیطان ہے۔ جیسا کہ المائدة (116، 117) اور النساء (117) میں ہے۔
یہ بھی فرمایا: [وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ] اللہ کے سوا ایسے کو نہ پکارنا جو تجھے نہ نفع دے سکتا ہے نہ تیرا نقصان کر سکتا ہے۔ اگر تو نے ایسا کیا تو اسی وقت ظالموں میں سے ہو جائے گا۔ (يونس:106)
سوال: کیا غیراللہ کو پکارنا شیطان کی عبادت ہے؟
جواب: غیراللہ کو پکارنا شیطان کی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسانوں سے فرمائے گا: [اَلَمۡ اَعۡہَدۡ اِلَیۡکُمۡ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوا الشَّیۡطٰنَ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ]،[ وَّ اَنِ اعۡبُدُوۡنِیۡ ؕؔ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ]
[کیا میں نے تمھیں تاکیدنہ کی تھی اے اولاد آدم! کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، یقینا وہ تمھارا کھلا دشمن ہے]،[اور یہ کہ میری عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے]۔ (يس:60، 61)
آج شیطان کو کوئی سجدہ اور رکوع نہیں کرتا، کوئی شیطان کو نہیں پکارتا مگر چونکہ اللہ کے سوا کسی کو بھی پکارا جائے وہ شیطان ہی کی اطاعت ہے اور اطاعت ہی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ اذۡکُرۡ فِی الۡکِتٰبِ اِبۡرٰہِیۡمَ ۬ؕ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا]،[اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا یَسۡمَعُ وَ لَا یُبۡصِرُ وَ لَا یُغۡنِیۡ عَنۡکَ شَیۡئًا]،[یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ قَدۡ جَآءَنِیۡ مِنَ الۡعِلۡمِ مَا لَمۡ یَاۡتِکَ فَاتَّبِعۡنِیۡۤ اَہۡدِکَ صِرَاطًا سَوِیًّا]،[یٰۤاَبَتِ لَا تَعۡبُدِ الشَّیۡطٰنَ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ عَصِیًّا]
[اور اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کر، بے شک وہ بہت سچا تھا، نبی تھا]،[ جب اس نے اپنے باپ سے کہا اے میرے باپ! تو اس چیز کی عبادت کیوں کرتا ہے جو نہ سنتی ہے اور نہ دیکھتی ہے اور نہ تیرے کسی کام آتی ہے؟]،[اے میرے باپ! بے شک میں، یقینا میرے پاس کچھ وہ علم آیا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا، اس لیے میرے پیچھے چل، میں تجھے سیدھے راستے پر لے جاؤں گا]،[ اے میرے باپ! شیطان کی عبادت نہ کر، بے شک شیطان ہمیشہ سے رحمان کا سخت نافرمان ہے] (مريم:41تا44)
ان آیات سے ثابت ہوا کہ بتوں کی پوجا بھی دراصل شیطان کی عبادت ہے۔ درج ذیل آیات پر بھی غور کیجیے: [وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ]،[ قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ]
[اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟]،[وہ کہیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا دوست ہے نہ کہ وہ، بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کے اکثر انھی پر ایمان رکھنے والے تھے] (سبا:40، 41)
مشرکینِ مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے اور ان کی عبادت کرتے تھے مگر فرشتے صاف انکار کر دیں گے اور کہیں گے کہ یہ شیطان جنات کی عبادت کرتے تھے۔ بعض تعویذات پر یا جبرئیل، یا میکائیل، یا اسرافیل، یا عزرائیل لکھا جاتا ہے، بعض چوروں کو پکڑنے کے لیے مٹی کا لوٹا لے کر اس پر یہ نام لکھتے ہیں اور پھر مشکوک لوگوں کے نام کاغذی پر لکھ کر اس میں ڈالتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ چور کے نام پر لوٹا گھومے گا، یہ سب شیطان کی عبادت ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ اِنۡ یَّدۡعُوۡنَ اِلَّا شَیۡطٰنًا مَّرِیۡدًا] اور یہ لوگ شیطان سرکش ہی کو پکارتے ہیں۔ (النساء:117)
سوال: کیا غیراللہ کسی کی پکار کا جواب دے سکتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [لَہٗ دَعۡوَۃُ الۡحَقِّ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسۡتَجِیۡبُوۡنَ لَہُمۡ بِشَیۡءٍ اِلَّا کَبَاسِطِ کَفَّیۡہِ اِلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُغَ فَاہُ وَ مَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ ؕ وَ مَا دُعَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ اِلَّا فِیۡ ضَلٰلٍ] اسی کو پکارنا سود مند ہے اور جو اس کے سوا اوروں کو پکارتے ہیں وہ ان کو کوئی جواب نہیں دے سکتے۔اس کی مثال پانی کی طرف ہاتھ پھیلانے والے کی مانند ہے (جو چاہتا ہے کہ) پانی اس کے منہ میں آ جائے، حالانکہ وہ نہیں آ سکتا اور کافروں کی پکار بے کار ہے۔ (الرعد:14)
معلوم ہوا اللہ کے سوا دوسروں کو پکارنا ایسا ہی ہے کہ آدمی کنویں کے پانی کو کہے کہ وہ اس کے منہ میں آ جائے۔
یہ بھی فرمایا: [وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مَا یَمۡلِکُوۡنَ مِنۡ قِطۡمِیۡرٍ]،[اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡا دُعَآءَکُمۡ ۚ وَ لَوۡ سَمِعُوۡا مَا اسۡتَجَابُوۡا لَکُمۡ ؕ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکۡفُرُوۡنَ بِشِرۡکِکُمۡ]
[اور جن کو تم اس کے سوا پکارتے ہو وہ کھجور کی گٹھلی کے ایک چھلکے کے مالک نہیں]،[اگر تم انھیں پکارو تو وہ تمھاری پکار نہیں سنیں گے اور اگر وہ سن لیں تو تمھاری درخواست قبول نہیں کریںگے اور قیامت کے دن تمھارے شرک کا انکا ر کر دیں گے] (فاطر:13، 14)
معلوم ہوا کہ غیراللہ کسی کو نفع دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔
یہ بھی فرمایا: [وَ مَنۡ اَضَلُّ مِمَّنۡ یَّدۡعُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَنۡ لَّا یَسۡتَجِیۡبُ لَہٗۤ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ وَ ہُمۡ عَنۡ دُعَآئِہِمۡ غٰفِلُوۡنَ]،[وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ]
[اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا انھیں پکارتا ہے جو قیامت کے دن تک اس کی دعا قبول نہیں کریں گے اور وہ ان کے پکارنے سے بے خبر ہیں]،[ اور جب سب لوگ اکٹھے کیے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی عبادت سے منکر ہوں گے] (الأحقاف:5، 6)
اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ غیراللہ قیامت تک ان پکارنے والوں کو جواب نہیں دے سکتے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مشرکین نیک لوگوں کو پکارتے تھے، اسی لیے وہ ان کے دشمن ہوں گے۔