رسول اللہ پر سلام اور اس کا جواب
زیارت قبر مکرم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے کے لیے ائمہ اسلام نے اتباع رسول کا ارادہ کیا تو انہوں نے سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جستجو کی۔ چنانچہ امام احمد رحمہ اللہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث پر اعتماد کیا جو کتب سنن میں موجود ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
ما من أحد يسلم على إلا رد الله على روحى حتى أرد عليه السلام
”اگر کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ میرے جسم میں روح کو واپس کر دے گا یہاں تک میں اس کے سلام کا جواب دوں گا۔“
(سنن ابى داؤد كتاب المناسك: باب زيارة القبور، حديث: 2041، فضل الصلاة على النبى: 3020)
هذا خبر باطل لا يتعلق به فإن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم هالك جدا ضعفه أحمد وابن المدينى وابن معين وأبو زرعة وأبو حاتم والنسائى وغيرهم وقال الساجى منكر الحديث وقال الطحاوى حديثه عند أهل العلم بالحديث فى النهاية من الضعف وقال الحاكم روى عن أبيه أحاديث موضوعة وقال ابن الجوزى أجمعوا على ضعفه كذا فى التهذيب لابن حجر العسقلانى (ص 178 – 179 جلد 1)
”یہ روایت باطل ہے اور یہ توجہ کے قابل نہیں۔ کیونکہ عبد الرحمن بن زید بن اسلم بہت زیادہ کمزور حتی کہ اسے حدیث کے معاملہ میں تباہ کن قرار دیا گیا ہے۔ احمد، ابن المدینی، ابن معین، ابو زرعة، ابو حاتم اور نسائی وغیرہم رحمہم اللہ جیسے ائمہ جرح و تعدیل نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ علامہ ساجی فرماتے ہیں: یہ منکر حدیث ہے۔ علامہ طحاوی فرماتے ہیں: اس کی حدیث اہل علم بالحدیث کے نزدیک حد درجہ کمزور ہے۔ حاکم فرماتے ہیں: یہ اپنے باپ سے موضوع احادیث بیان کرتا ہے۔ ابن جوزی فرماتے ہیں: اس کے ضعف پر اجماع ہے۔ اس طرح تہذیب التہذیب (ص 178 – 179 جلد 1) میں ابن حجر عسقلانی رحمہم اللہ نے بھی تحریر فرمایا ہے۔“
وقال شيخ الإسلام ابن تيمية فى كتاب التوسل والوسيلة ص 89 عبد الرحمن بن زيد بن أسلم ضعيف باتفاقهم يغلط كثيرا وضعفه أحمد بن حنبل وأبو زرعة وأبو حاتم والنسائى والدارقطنى وغيرهم وقال أبو حاتم وابن حبان كان يقلب الأخبار وهو لا يعلم حتى كثر ذلك فى روايته من رفع المراسيل وإسناد الموقوف فاستحق الترك فلا شك فى كون الخبر موضوعا لاسيما وقد رواه عن أبيه على ما نص عليه الحاكم وقد ذكر الذهبى فى ميزان الاعتدال ص 535 جلد 1 فى ترجمة عبد الرحمن بن زيد بن أسلم هذا الحديث فى منكراته
”شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب التوسل والوسیلہ صفحہ 89 پر رقمطراز ہیں: عبدالرحمن بن زید بن اسلم بالاتفاق ضعیف ہے، بہت سی غلطیاں کرتا ہے۔ اسے احمد بن حنبل، ابوزرعہ، ابو حاتم، نسائی، دارقطنی وغیرہم ائمہ حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے۔ ابو حاتم اور ابن حبان فرماتے ہیں: یہ روایت کو پلٹ دیتا تھا اور اسے معلوم بھی نہیں ہوتا تھا اس لیے اس کی بیان کردہ روایات میں مرسل کو مرفوع اور موقوف صحابہ کے قول کو مسند (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملا دینے) کا عیب تھا۔ اس لیے متروک (چھوڑنے) کے لائق ہے۔ اس روایت کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں، خصوصاً اس نے اپنے باپ سے اسے روایت کیا ہے جیسا کہ حاکم نے واضح بیان کیا ہے۔ اور ذہبی نے ميزان الاعتدال جلد 1 صفحہ 535 میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے ترجمہ میں اس حدیث کو اس کی منکرات میں ذکر کیا ہے۔“
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 525 میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم کے حالات زندگی بیان کرنے کے دوران اس حدیث کو منکر قرار دیا ہے۔
وهذه الرواية أيضا فى صحتها نظر فقال الحافظ ابن القيم فى جلاء الأفهام ص 44 طبع منيرية سألت شيخنا يعنى ابن تيمية عن سماع زيد بن عبد الله عن أبى هريرة قال ما كان أدركه وهو ضعيف ففى سماعه منه نظر انتهى
”اس روایت کی صحت اس لیے بھی محل نظر ہے کہ حافظ ابن قیم نے جلاء الافہام صفحہ 44 طبع مکتبہ منیریہ میں فرمایا ہے: اس روایت کے بارے میں میں نے اپنے شیخ ابن تيمية رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ کیا زید بن عبد اللہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس نے انہیں پایا ہی نہیں، سنتا کہاں سے تھا۔ یہ ضعیف ہے اور اس کا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع محل نظر ہے۔“ (انتہی)
مرعاة المفاتیح میں اس کی سند کو حسن کہا گیا ہے، یہ روایت ابو داؤد اور بیہقی کے حوالہ سے مشکوۃ میں باب الصلاة على النبى میں آئی ہے۔ اس میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم راوی نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ راویوں سے مروی ہے۔ اور جو اس حدیث کے معنی میں اشکال پیش کیا گیا ہے کہ روح کا نکلنا اور داخل ہونا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے باعث تشویش رہتا ہے، تو اس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ یہ برزخ کا معاملہ ہے جو کہ آنکھوں سے پردہ خفا میں ہے۔ اسے دنیاوی موت و حیات پر قیاس کرنا درست نہیں، اس پر ایمان لانا بھی ہمارے لیے بہتر ہے۔ عقلی گھوڑے اس میدان میں درماندہ و عاجز آجاتے ہیں۔
(جلد 3 صفحہ 512 از محمد عباس انجم گوندلوی)
ثم فى المتن إشكال من حيث المعنى بل إعضال لأن الرد يستلزم خروج الروح والذهاب عن الجسد والرد معلق بسلام مسلم عليه صلى الله عليه وسلم
”پھر متن میں معنی کے اعتبار سے ایک اشکال ہے بلکہ بہت پیچیدگی ہے۔ وہ یہ ہے کہ روح کو لوٹانا روح کے نکلنے کا تقاضا کرتا ہے۔ روح کا جسم سے جدا ہونا اور لوٹانا یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنے والے کے سلام کے ساتھ وابستہ ہے۔“
والحال أن المسلمين يسلمون عليه صلى الله عليه وسلم فى جميع ساعات الليل والنهار فمتى يخرج الروح ومتى يرجع أو يرد اللهم إلا أن يكون ضبط متن هذه الرواية بلفظ إلا رد الله إلى روحى أى بحرف الجار ومجروره قوله روحى فلا إشكال أصلا وأما القراءة بإلى بالياء المشددة المجرورة بحرف إلى فلا يستقيم المعنى ولا يصلح انتسابه إلى النبى المعصوم صلى الله عليه وسلم وشأنه أجل من ذلك وبطل تعلق المخالفين بهذه الرواية والله أعلم
”اور صورت حال یہ ہے کہ شب و روز میں کوئی ایسی گھڑی نہیں، کوئی ایسا لمحہ نہیں جب کوئی نہ کوئی مسلمان سلام نہ کہہ رہا ہو۔ اب بتائیں ان ہی کیفیت میں کب روح نکلی؟ کب لوٹی؟ اور کب واپس آئی؟ تاہم یہ معنی ایک صورت میں ہو سکتا ہے کہ اس روایت کے الفاظ یوں ہوں ”إلا رد الله إلى روحى“ یعنی اللہ تعالیٰ اسے لوٹاتے ہیں میری روح کی طرف، یعنی الی حرف جر (زیر والے) کے ساتھ روح کو مجرور (زیر والا) لاتے تو یہ اشکال اور پیچیدگی ختم ہو جاتی ہے۔ اور اگر اس کی قرات اِلَیَّ (یائے مشدد کے ساتھ) پڑھیں تو پھر معنی درست نہیں بیٹھتا۔ نیز سلام کے لوٹانے کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی کی جانب کرنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اس سے بالا تر ہے۔ نتیجتاً اس روایت سے جو مخالفین نے وابستگی کا اظہار کر کے جو دلیل لی ہے وہ باطل ہو جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔“ (انتہی)
ابو داؤد رحمہ اللہ نے امام احمد رحمہ اللہ سے یہی حدیث ذکر کی ہے لیکن انہوں نے قبر مکرم کی زیارت کے لیے اس حدیث کے علاوہ کوئی دوسری حدیث ذکر نہیں کی۔ اور اسی حدیث پر عنوان قائم کیا ہے ”باب زيارة القبور“۔
بایں ہمہ اس حدیث کے مفہوم میں ائمہ حدیث کا اختلاف ہے۔ ائمہ اسلام کا اس پر اتفاق ہے کہ عرف عام میں جسے زیارت قبور کہا جاتا ہے، اس پر یہ حدیث منطبق نہیں ہوتی۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس سے حجرہ مبارک کے باہر سے سلام پیش کرنا مقصود ہے؟
جن علماء نے اس حدیث کو محل بحث بنایا ہے وہ اس حدیث کو دونوں صورتوں میں شامل کرتے ہیں اور یہ حدیث ان کی آخری دلیل ہے۔ اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریب سے سلام سن لیتے ہیں اور جو شخص دور ہو اس کا درود و سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک بذریعہ ملائکہ پہنچا دیا جاتا ہے۔ سنن نسائی میں مروی حدیث اس کی تائید کرتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
إن لله ملائكة سياحين يبلغونى عن أمتى السلام
”اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں گھومتے پھرتے رہتے ہیں، جو میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔“
(سنن نسائى كتاب السهو: باب التسليم على النبى صلی اللہ علیہ وسلم ، حديث: 1383)
کتب سنن میں اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
أكثروا على من الصلاة يوم الجمعة وليلة الجمعة فإن صلاتكم معروضة على قالوا وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت فقال إن الله حرم على الأرض أن تأكل لحوم الأنبياء
”جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات کو مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہمارا درود آپ کے سامنے کیسے پیش کیا جائے گا حالانکہ آپ مٹی ہو چکے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام کو نگل سکے۔“
(سنن أبى داؤد كتاب الصلاة: باب فضل يوم الجمعة وليلة الجمعة، حديث: 1047، سنن نسائى كتاب الجمعة: باب إكثار الصلاة على النبى يوم الجمعة، حديث: 1373، سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلوات: باب فى فضل يوم الجمعة، حديث: 1085)