نبی کریم ﷺ سے محبت کرنے کی فضیلت
حافظ حامد محمود الخضری اپنی کتاب ”ہم پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقوق، ص: 51-52“ پر رقم طراز ہیں: ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقوق سے آٹھواں حق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت ہے، یاد رہے کہ محبت ایک جذبہ ہے کوئی مادی شے نہیں کہ اسے ماپ تول سکیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر کس پیمانے سے ماپیں اور کس کسوٹی سے جانچیں کہ محبت کس سے زیادہ ہے یا کس سے کم؟ اس بات کو قرآن پاک نے بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ ۗ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ﴾
آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ، اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں، اور تمہارا خاندان، اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور وہ تجارت جس کی کساد بازاری سے تم ڈرتے ہو، اور وہ مکانات جنہیں تم پسند کرتے ہو، تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا عذاب لے آئے، اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
(9-التوبة:24)
اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ اپنے گھرانے اور قبیلے کے افراد کو تم عزیز کیوں رکھتے ہو؟ نہ ہی یہ کہا گیا ہے کہ اپنی دولت اور اپنے مکانوں سے تمہیں محبت کیوں ہے؟ بلکہ کہا یہ گیا ہے کہ اگر یہ مال و دولت اور رشتے ناطے تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے راستے میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو تم حلقہ اطاعت سے باہر ہو جاتے ہو۔ یہ ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ ضروری ہیں اور ان کی اہمیت و افادیت بھی ناگزیر ہے، اور قبول انسانی میں ان سب کی محبت بھی طبعی ہے، لیکن جب بھی اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور غیر اللہ کی محبت میں تصادم ہو تو غیر اللہ کو خیر باد کہہ دیا جائے۔
جب تک تمام کائنات اور تمام موجودات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات عزیز تر نہ ہو جائے ایمان ناقص اور ادھورا ہے۔انتہی !
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
لا يؤمن عبد حتى أكون أحب إليه من أهله وماله والناس أجمعين
”کوئی بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک اس کو میری محبت، گھر والوں، مال و دولت اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو۔“
صحیح مسلم، کتاب الايمان، رقم: 168.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان روز قیامت آپ علیہ الصلاۃ و السلام کی معیت میں ہو گا، چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
المرء مع من أحب
”آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے اس کی محبت ہو گی۔“
صحيح بخاري، كتاب الأدب، باب علامة الحب في الله، رقم: 6168 تا 6181 ـ صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، باب المرء مع من أحب، رقم: 6710 تا 6718 .
امام مسلم نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: قیامت کب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے قیامت کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے؟ اس نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تو اس کے ساتھ ہے جس سے تو نے محبت کی۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہمیں اسلام لانے کے بعد کسی بات سے اتنی زیادہ مسرت نہ ہوئی جتنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد گرامی:
فإنك مع من أحببت
”بے شک تو اس کے ساتھ ہے جس کے ساتھ تو نے محبت کی ۔“
سے ہوئی ۔سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: میں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے محبت کرتا ہوں، اور مجھے امید ہے کہ (آخرت میں) انہی کے ساتھ ہوں گا اگر چہ میں نے ان کے برابر اعمال نہیں کیے۔
صحيح مسلم، كتاب البر والصلة، رقم: 2639/163.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے محبت بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کی دلیل ہے جس کا لازمی نتیجہ جنت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”جس نے میری سنت سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ کل روز قیامت جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔“
تاریخ ابن عساکر : 145/3.
ہر کسی کو یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ محب صادق کی سب سے بڑی تمنا اور آرزو اپنے محبوب کا دیدار و وصال ہوتی ہے۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دیدار و وصال کے لیے بے چین رہتے تھے۔ اپنے محبوب کے سوز و ساز میں ہر وقت ترساں رہتے تھے۔ جب محبت کی اس علامت کو محبین مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں دیکھتے ہیں تو ہم ان کے ایمان کی داد دیئے بغیر نہیں رہتے۔ آئیے ایسے ہی ایک مشتاق دیدار مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے محبوب سے قلبی لگاؤ دیکھئے۔
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یقیناً آپ مجھے میری جان سے زیادہ عزیز تر ہیں۔ بلاشبہ آپ مجھے میری اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں، اور سچی بات ہے کہ گھر بیٹھے آپ کی یاد آتی ہے تو مجھے اس وقت چین نصیب نہیں ہوتا جب تک آپ کی خدمت عالیہ میں حاضری دے کر آپ کا دیدار نہ کر لوں۔ اور جب میں آپ کی وفات کا تصور کرتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ آپ جنت میں داخل ہونے کے بعد انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بلند مقام پر ہوں گے اور اگر میں جنت میں داخل ہو بھی گیا تو مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کا دیدار نہ کر پاؤں گا۔
جبریل علیہ السلام کے مندرجہ ذیل آیت کریمہ کے ساتھ تشریف لانے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے جواب میں کچھ نہ فرمایا:
﴿وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا﴾
اور جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے، وہ (جنت میں) ان کے ساتھ ہوں گے، جن پر اللہ نے انعام کیا ہے، یعنی انبیاء اور صدیقین، اور شہداء اور صالحین کے ساتھ۔“(4-النساء:69)
مجمع الزوائد : 2/2۔ علامہ ہیثمی نے اس حدیث کے رایوں کو ثقہ قرار دیا ہے۔
وہ بھی کیا مقام تھا، اس میں کتنی روح پر ور لذت تھی کہ جب محبان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہادت کے درجہ پر فائز ہو رہے ہوں گے، سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک ہوگا، دید ہوتی رہی ہوگی اور جان نکلتی رہی ہوگی۔ اور بچے محبت کرنے والوں کا یہی مقصد حیات ہے۔
جنگ احد کی افراتفری میں جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کفار نے گھیر لیا اور اس وقت فخر موجودات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آواز دی کہ کون مجھ پر جان دیتا ہے؟ تو زیاد بن السکن رضی اللہ عنہ چند انصاریوں کو لے کر یہ خدمت ادا کرنے کے لیے بڑھے۔ ہر ایک نے جان بازی سے لڑتے ہوئے اپنی جان فدا کر دی مگر ایک زخم بھی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لگنے نہیں دیا۔ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم صادر کیا کہ ان کا لاشہ میرے قریب لاؤ۔ لوگ اٹھا کر لائے۔ ابھی کچھ کچھ جان باقی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر گھسٹ کر اپنا رخسار محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں پر رکھ دیا اور اس حالت میں آپ کی روح پرواز کر گئی۔
سیرت ابن هشام : 29/3 ـ السيرة النبوية لابن حبان، ص : 223 – 2224 ـ تاريخ الاسلام (المغازی) للذهبي، ص: 174 .
اس پر کیف لمحے کو بڑے خوبصورت انداز میں نظم کیا گیا۔
؎ نکل جائے جاں تیرے قدموں کے نیچے
یہی دل کی خواہش یہی آرزو ہے