عید میلاد کی شرعی حیثیت اور ائمہ سلف کے اقوال

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب آمد مصطفےٰﷺ سے ماخوذ ہے۔

عید میلاد

عید میلاد کا قرآن وحدیث اور اجماع امت میں کوئی ثبوت نہیں، اگر اس کی دلیل ہوتی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین رحمہ اللہ کو اس کا علم ہوتا اور وہ ضرور اس پر عمل کرتے۔
◈ علامہ فاکہانی رحمہ اللہ (م: 734ھ) فرماتے ہیں :
إن عمل المولد بدعة مذمومة .
”عید میلاد مذموم بدعت ہے۔“
(الحاوي للفتاوي للسيوطي: 190/1، 24)
◈ نیز فرماتے ہیں:
لا أعلم لهذا المولد أصلا فى كتاب ولا سنة، ولا ينقل عمله عن أحد من علماء الأمة الذين هم القدوة فى الدين المتمسكون بآثار المتقدمين، بل هو بدعة أحدثها البطالون وشهوة نفس اعتنى بها الأكالون .
”مجھے کتاب وسنت میں میلاد کی کوئی دلیل نہیں ملی، یہ عمل میں ہمارے پیشوا اور فہم سلف کے امین علماء سے منقول نہیں ہے۔ بلکہ یہ بدعت ہے، اسے باطل پرستوں نے ایجاد کیا ہے، یہ نفسانی خواہش کا نتیجہ ہے، جسے شکم پرور لوگوں نے گھیر لیا ہے۔“
(الحاوي للسيوطي: 190/1ـ 191)
◈ علامہ شاطبی رحمہ اللہ (م: 790ھ) نے بھی عید میلاد کو بدعت قرار دیا ہے۔
(الاعتصام: 39/1)
◈ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (م: 728ھ) فرماتے ہیں:
كذلك ما يحدثه بعض الناس إما مضاهاة للنصارى فى ميلاد عيسى عليه السلام وإما محبة للنبي صلى الله عليه وسلم وتعظيما، والله قد يثيبهم على هذه المحبة والإجتهاد لا على البدع من اتخاذ مولد النبى صلى الله عليه وسلم عيدا، مع اختلاف الناس فى مولده، فإن هذا لم يفعله السلف، مع قيام المقتضي له وعدم المانع منه لو كان خيرا، ولو كان هذا خيرا محضا، أو راجحا لكان السلف رضي الله عنهم أحق به منا، فإنهم كانوا أشد محبة لرسول الله صلى الله عليه وسلم وتعظيما له منا، وهم على الخير أحرص .
”اسی طرح بعض لوگوں نے عید میلاد عیسی علیہ السلام کی مشابہت میں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تعظیم میں عید میلاد ایجاد کر لی ہے، اللہ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و اجتہاد کا اجر تو دے گا، لیکن عید میلاد پر اجر نہیں ملے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت میں اختلاف بھی ہے۔
یہ کام سلف صالحین رحمہ اللہ نے نہیں کیا، حالانکہ اس کا تقاضا (تعظیم رسول ) موجود تھا اور کوئی رکاوٹ بھی نہ تھی۔ اگر یہ کام بالکل خیر والا یا زیادہ خیر والا ہوتا، تو اسلاف رضی اللہ عنہم اس پر عمل کے ہم سے زیادہ حقدار تھے، کیونکہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کی تعظیم میں ہم سے بڑھ کر تھے اور وہ نیکی کے زیادہ طلب گار تھے۔“
(اقتضاء الصراط المستقيم ص: 295 ، وفي نسخة: 123/2)

شیخ الاسلام اور عید میلاد:

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی یہ عبارت بعض لوگ سمجھ نہیں پائے اور شیخ رحمہ اللہ سے عید میلادالنبی کے جواز کو منسوب کر دیا، حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ، وہ تو واضح طور پر اسے بدعت قرار دے رہے ہیں، ان کی مراد صرف یہ تھی کہ جو لوگ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آکر ایسا کرتے ہیں، انہیں اس محبت کا ثواب تو ملے گا، جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روا رکھی ، مگر جب انہوں نے اس محبت کو جشن عید میلاد کی شکل دے دی، تو بدعت بن گئی۔
◈ شیخ الاسلام رحمہ اللہ کی اس عبارت کا بھی بالکل یہی مطلب ہے:
تعظيم المولد، واتخاذه موسما، قد يفعله بعض الناس، ويكون له فيه أجر عظيم لحسن قصده، وتعظيمه لرسول الله صلى الله عليه وسلم .
”نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی یوم ولادت کی تعظیم میں بعض لوگوں نے اسے عید بنا لیا ہے، انہیں حسن نیت اور تعظیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے اجر عظیم ملے گا۔“
(اقتضاء الصراط المستقيم لمُخالفة أصحاب الجحيم: 126/2)
رہا شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ انہیں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ثواب ملے گا، تو یہ ان کی خطا ہے، دنیا کی ہر بدعت کا محرک حسن نیت یا تعظیم رسول ہی ہوتا ہے، تو کیا ہر بدعت پر گناہ کے ساتھ ساتھ اجر بھی ہے؟
سلف صالحین رحمہ اللہ نے آج تک ایسی بات نہیں کی، بلکہ وہ بدعت کو صرف وبال جان سمجھتے تھے، بدعت اور بدعتی ہر دو کی مذمت کرتے تھے، ایسا شاذ نظریہ کسی نے پیش نہیں کیا کہ ایک ہی کام بیک وقت بدعت بھی ہو اور باعث اجر بھی، اللہ ان کی خطا معاف فرمائے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (م: 852ھ) فرماتے ہیں:
أصل عمل المولد بدعة لم تنقل عن أحد من السلف الصالح من القرون الثلاثة .
”میلاد کی اصل بدعت ہے۔ یہ عمل تین (مشہود لہا بالخیر) زمانوں کے سلف صالحین رحمہ اللہ میں سے کسی سے منقول نہیں۔“
(الحاوي للفتاوي للسيوطي: 196/1)
◈ علامہ ابن الحاج رحمہ اللہ (م: 737ھ) فرماتے ہیں:
فإن خلا منه وعمل طعاما فقط ونوى به المولد ودعا إليه الإخوان، وسلم من كل ما تقدم ذكره، فهو بدعة بنفس نيته فقط؛ لأن ذلك زيادة فى الدين وليس من عمل السلف الماضين، واتباع السلف أولى، ولم ينقل عن أحد منهم أنه نوى المولد، ونحن تبع فيسعنا ما وسعهم .
”اگر میلاد گانے سے خالی ہو، صرف کھانا تیار کیا جائے ، نیت میلاد کی ہو اور کھانے پر دوست احباب کو مدعو کیا جائے۔ یہ کام اگر مذکورہ قباحتوں سے خالی بھی ہو، تو یہ صرف میلاد کی نیت کی وجہ سے بدعت بن جائے گا، کیونکہ یہ دین میں زیادت ہے۔ سلف صالحین رحمہ اللہ کا اس پر عمل نہیں۔ سلف کا اتباع ہی لائق عمل ہے۔ سلف صالحین رحمہ اللہ میں سے کسی سے یہ منقول نہیں کہ اس نے میلاد کی نیت سے کوئی کام کیا ہو۔ ہم سلف صالحین رحمہ اللہ کے پیروکار ہیں ۔ ہمیں وہی عمل کافی ہو جائے گا، جو سلف کو کافی ہوا تھا۔“
(الحاوي للفتاوي للسيوطي: 195/1)
◈ حافظ سخاوی رحمہ اللہ (م: 902ھ) لکھتے ہیں:
لم يفعله أحد من القرون الثلاثة، إنما حدث بعد .
”یہ کام تینوں زمانوں (صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمہ اللہ اور تبع تابعین رحمہ اللہ) میں سے کسی نے نہیں کیا۔ یہ تو بعد میں ایجاد ہوا۔“
(جاء الحق از نعیمی: 1/ 236)
◈ حافظ سیوطی رحمہ اللہ (م: 911ھ) فرماتے ہیں:
أول من أحدث فعل ذلك صاحب إربل الملك المظفر أبو سعيد كوكبري بن زين الدين على بن بكتكين .
”سب سے پہلے (موصل میں) جس نے اسے ایجاد کیا، وہ اربل کا بادشاہ مظفر ابوسعید کوکبری بن زین الدین علی بن بکتکین تھا۔“
(الحاوي للفتاوي: 189/1، 24)
◈ علامہ ابو العباس احمد بن یحیی ونشریسی رحمہ اللہ (م: 914ھ) لکھتے ہیں:
سئل سيدي أحمد القباب عما يفعله المعلمون من وقد الشمع فى مولد النبى صلى الله عليه وسلم واجتماع الأولاد للصلاة على النبى صلى الله عليه وسلم ويقرأ بعض الأولاد من هو حسن الصوت عشرا من القرآن وينشد قصيدة فى مدح النبى صلى الله عليه وسلم ويجتمع الرجال والنساء بهذا السبب فأجاب بأن قال: جميع ما وصفت من محدثات البدع التى يجب قطعها ومن قام بها أو أعان عليها أو سعى فى دوامها فهو ساع فى بدعة وضلالة، ويظن بجهله أنه بذلك معظم لرسول الله صلى الله عليه وسلم قائم بمولدم، وهو مخالف سنته مرتكب لمنهيات نهى عنها صلى الله عليه وسلم، متظاهر بذلك محدث فى الدين ما ليس منه، ولو كان معظما له حق التعظيم لاطاع أوامره فلم يحدث فى دينه ما ليس منه، ولم يتعرض لما حذر الله تعالى منه حيث قال: فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ .
میرے شیخ احمد قباب رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ولادت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر شمعیں جلانا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کے لیے بچوں کو جمع کرنا، اچھی آواز والے بچوں سے قرآن کی دس آیات پڑھوانا، مدحت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں قصیدہ کہنا اور اس غرض سے مرد و زن کا جمع ہونا کیسا ہے؟
انہوں نے جواب دیا: یہ تمام چیزیں بدعات ہیں، جن کا خاتمہ ضروری ہے، جو یہ کام کرتا یا اس میں تعاون کرتا ہے یا اس کے دوام میں کوشش کرتا ہے، تو اس کی سعی بدعت اور گمراہی ہے، وہ اپنی جہالت کی بنا پر میلاد منانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم سمجھتا ہے، حالانکہ وہ سنت کا مخالف اور ممنوع کاموں کا مرتکب ہے، وہ دین میں ایسے کام فروغ دے رہا ہے، جو اس میں شامل نہیں ہیں، اگر یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی تعظیم کرنے والا ہوتا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوامر ونواہی پر عمل پیرا ہوتا، دین میں بدعات ایجاد نہ کرتا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی اس وعید کا مصداق بنتا:
فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
”جو لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں ڈر جانا چاہئے کہ کہیں اُن پر کوئی مصیبت نہ آن پہنچے اور وہ درد ناک عذاب کے گھیرے میں نہ آجائیں۔“
(المعيار المعرب: 48/12)
اہل علم کی تصریحات سے معلوم ہوا کہ عید میلاد سلف صالحین رحمہ اللہ سے ثابت نہیں بلکہ بعد کی ایجاد ہے۔
◈ ابن الحاج رحمہ اللہ (م: 737ھ) نے کیا خوب کہا ہے:
السعيد السعيد من شد يده على امتثال الكتاب والسنة والطريق الموصلة إلى ذلك وهى اتباع السلف الماضين رضوان الله عليهم أجمعين، لأنهم أعلم بالسنة منا إذ هم أعرف بالمقال وأفقه بالحال .
”کتنا خوش بخت ہے وہ شخص، جو کتاب وسنت پر عمل اور کتاب وسنت کی طرف پہنچانے والے راستے کو مضبوطی سے پکڑ لیتا ہے۔ کتاب وسنت کی طرف پہنچانے والا راستہ سلف صالحین رحمہ اللہ کا راستہ ہے، کیونکہ وہ سنت کو ہم سے بڑھ کر جاننے والے تھے۔ وہ قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ عالم، دین کے متعلق باتوں کو بخوبی جاننے والے اور اس وقت کے حالات زیادہ سمجھنے والے تھے۔“
(الحاوي للفتاوي للسيوطي: 195/1)
◈ علامہ ابن رجب رحمہ اللہ (م: 795ھ) نے بھی بجا لکھا ہے:
أما ما اتفق على تركه فلا يجوز العمل به لأنهم ما تركوه إلا على علم أنه لا يعمل به .
”جس کام کو چھوڑنے پر سلف نے اتفاق کیا ہو، اس پر عمل جائز نہیں، کیونکہ انہوں نے یہ جان کر ہی اسے چھوڑا ہے کہ اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔“
(فضل علم السلف على علم الخَلَف ص: 31)
معلوم ہوا کہ سلف نے جس کام کو چھوڑنے پر اتفاق کرلیا ہو، وہ کام کرنا جائز نہیں، جشن عید میلاد اور ذکر ولادت پر کھڑا ہونا اور اس طرح کی دیگر بدعات وخرافات سلف صالحین رحمہ اللہ ، ائمہ اہل سنت رحمہ اللہ اور متقدمین رحمہ اللہ سے قطعاً ثابت نہیں ہیں، لہذا یہ امور بدعات سیئہ اور افعال شنیعہ ہیں۔

علامہ ابن الجزری رحمہ اللہ اور عید میلاد

◈ علامہ سخاوی رحمہ اللہ (م: 902ھ) ابن الجزری رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں:
إذا كان أهل الصليب اتخذوا ليلة مولد نبيهم عيدا أكبر فأهل الإسلام أولى بالتكريم وأجدر .
”جب اہل کتاب نے عیسی علیہ السلام کے یوم ولادت کو بڑی عید بنایا ہے، تو اہل اسلام اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت کو عید بنائیں۔“
(الأجوبة المرضية فيما سئل السخاوي عنه من الأحاديث النبوية: 1117/3)
◈ ملا علی قاری حنفی (م: 1014ھ) ان کے تعاقب میں لکھتے ہیں:
قلت: مما يرد عليه إنا مأمورون بمخالفة أهل الكتاب .
”میں کہتا ہوں کہ ان کے رد کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ہمیں اہل کتاب کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے۔“
(المورد الروي في المولد النبوي: 30، 29)