مضمون کے اہم نکات
قیامت کی نشانی : خروج دجال
عن حذيفة بن أسيد الغفاري رضى الله عنه قال : اطلع النبى صلى الله عليه وسلم علينا ونحن نتذاكر فقال : ما تذكرون ؟ قالوا : نذكر الساعة ، قال : إنها لن تقوم حتى تروا قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال والدابة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسى بن مريم ويأجوج ومأجوج وثلاثة خسوف ، خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب وآخر ذلك نار تخرج من اليمن تطرد الناس إلى محشرهم
حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ ہم آپس میں گفتگو کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا گفتگو کر رہے ہو؟ لوگوں نے کہا: ہم قیامت کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت ہرگز قائم نہیں ہوگی جب تک تم قیامت سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (انہیں) بیان کیا :
➊ دھواں
➋ دجال
➌ دابة الارض
➍ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا
➎ حضرت عیسی بن مریم کا نزول
➏ یاجوج وماجوج، تین جگہ لوگوں کو زمین میں دھنسایا جائے گا
➐ مشرق میں
➑ مغرب میں
➒ جزيرة العرب میں
➓ اور سب سے آخر میں یمن کی طرف سے ایک آگ نکلے گی جو لوگوں کو (میدان) محشر میں اکٹھا کر دے گی۔
(مسلم : کتاب الفتن : باب في الآيات التي تكون قبل الساعة 2901، ابو داؤد: 4311، ابن ماجہ: 4055، ترمذی: 2183)
مسیح دجال تمام دجالوں اور کذابوں کا سردار ہوگا :
عن سمرة بن جندب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الأعور الدجال ممسوح العين اليسرى
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم! قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ 30 کذاب نکلیں گے سب سے آخری کانا دجال ہوگا جس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی۔
(احمد : 22/5، السنن الكبرى : كتاب الصلاة : باب صلاة الكسوف 339/3، المعجم الكبير : 227/7، مجمع الزوائد : 448/2، فتح البارى : 706/6، الاصابة : 26/4 حافظ ابن حجر نے اسے صحیح کہا ہے)
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ليكونن قبل المسيح الدجال كذابون ثلاثون أو أكثر قبل يوم القيامة
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد سنا کہ مسیح دجال سے پہلے تیس (30) یا اس سے زیادہ جھوٹے ظاہر ہوں گے (اور یہ سب کچھ) قیامت سے پہلے ہوگا۔
(احمد: 139/2 – 128، مجمع الزوائد : كتاب الفتن 642/7، ابو يعلى: 5706، السلسلة الصحيحة: 251/4)
عن عمران بن حصين رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ما بين خلق آدم إلى قيام الساعة خلق أكبر من الدجال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ پیدائش آدم سے تا قیامت دجال سے بڑا کوئی امر (فتنہ) نہیں۔
(مسلم : كتاب الفتن : باب في بقية من أحاديث الدجال 2946 ، احمد: 27/4 – 29، جامع الصغير: 489/2)
دجال بڑے غصے سے خروج کرے گا :
عن نافع قال : لقي ابن عمر رضي الله عنهما ابن صياد فى بعض طرق المدينة ، فقال له قولا أغضبه فانتفخ حتى ملأ السكة فدخل ابن عمر على حفصة وقد بلغها فقالت له : رحمك الله ما أردت من ابن صياد ؟ أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إنما يخرج من غضبة يغضبها
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ابن صیاد سے مدینے کے کسی راستے میں ملے تو اسے کوئی ایسی بات کہہ بیٹھے کہ وہ غضبناک ہو کر پھول گیا حتی کہ پوری گلی کو (پھول کر) بھر دیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے جبکہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو اس کی خبر پہنچ چکی تھی اور وہ کہنے لگیں : اللہ تم پر رحم کرے تمہیں ابن صیاد سے کیا غرض تھی؟ کیا تم جانتے نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا وہ (دجال) کسی غصے کی وجہ سے نکلے گا۔ (اور شاید ابن صیاد ہی دجال ہو جو اس طرح غصے میں خروج کر دے)۔
(مسلم : کتاب الفتن : باب ذكر ابن صياد 7359، احمد: 322/6، عبد الرزاق: 396/11)
ایک روایت میں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال اس غصے کے ساتھ خروج کرے گا جس میں وہ مبتلا ہوگا۔
(احمد : 322/6، مسلم: کتاب الفتن : باب ذكر ابن صياد 2932، عبد الرزاق: 396/11)
دجال کی شکل وصورت :
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: بينا أنا نائم أطوف بالكعبة فإذا رجل آدم سبط الشعر ينطف أو يهراق رأسه ماءا قلت : من هذا ؟ قالوا : ابن مريم، ثم ذهبت ألتفت فإذا رجل جسيم أحمر جعد الرأس أعور العين كأن عينه عنبة طافية قالوا : هذا الدجال ، أقرب الناس به شبها ابن قطن ، رجل من خزاعة
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں سویا ہوا (خواب میں) کعبہ کا طواف کر رہا تھا کہ ایک صاحب جو گندم گوں تھے اور ان کے سر کے بال سیدھے تھے گویا ان سے پانی ٹپک رہا ہے (ان پر میری نظر پڑی) میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عیسی بن مریم ہیں۔ پھر میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک موٹے شخص پر نظر پڑی جو سرخ (رنگت) تھا، بال اس کے گھنگھریالے تھے، ایک آنکھ سے کانا تھا گویا اس کی آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبد العزی بن قطن سے بہت ملتی تھی، یہ بنو خزاعہ کا ایک شخص تھا (جو عہد جاہلیت میں فوت ہوا)۔
(بخارى : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 7128، مسلم : 169، احمد: 31/2 – 54)
عن أنس رضى الله عنه قال قال النبى صلى الله عليه وسلم : ما بعث نبي إلا أنذر أمته الأعور الكذاب ، ألا إنه أعور وإن ربكم ليس بأعور وإن بين عينيه مكتوب كافر
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نبی نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے (دجال) سے ڈرایا ہے، خبردار! وہ کانا ہے حالانکہ تمہارا رب کانا نہیں۔ اس (دجال) کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔
(بخاری: کتاب الفتن : باب ذكر الدجال 7131، مسلم: 2933، ابو داؤد: 4316، ترمذی: 2245، ابن خزیمہ: 105/1، احمد: 129/3 – 145 – 217 – 260 – 288 – 294 – 314، شرح السنة: 2082، مصنف عبد الرزاق: 20820)
ایک روایت میں ہے کہ میں تمہیں ایسی بات بتاتا ہوں جو دوسرے انبیاء نے نہیں بتائی وہ کانا ہوگا جبکہ تمہارا رب کانا نہیں۔
(بخاری: 7127)
عن أنس بن مالك رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ممسوح العين مكتوب بين عينيه كافر ثم تهجاها (ك ، ف ، ر) يقرأه كل مسلم
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دجال کانا ہے، اس کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجے کر کے بتایا (ک،ف،ر) جسے ہر مسلمان پڑھ سکے گا۔
(مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 7365 – 2933)
➎ ایک روایت میں ہے کہ اسے ہر مسلمان پڑھ سکے گا خواہ وہ پڑھا لکھا ہو یا ان پڑھ ہو۔
(احمد: 261/3 – 288 – 289)
عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : أعور العين اليمنى كأنها عنبة طافية
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال کی دائیں آنکھ کانی اور انگور کے دانے کی طرح ابھری ہوئی ہوگی۔
(بخاری : کتاب الفتن : باب ذكر الدجال 7123)
ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا رنگ انتہائی سفید، جسم بہت بڑا، آنکھ چمکدار ستارے کی طرح کھڑی اور سر کے بال درخت کی ہری شاخوں کی مانند ہیں۔
(احمد : 467/1، طبری : 103/8، ابو یعلی: 2720، ابن كثير: 25/3، مجمع الزوائد: 235/1، احمد شاکر نے اسے صحیح کہا ہے : احمد 812/5)
ایک روایت میں ہے کہ دجال کی آنکھ شیشے کی طرح (سبزی مائل) ہے۔
(احمد: 164/5 – 165، ابن حبان: 206/15، الحلية: 363/4، مجمع الزوائد: 650/7، مسند طیالسی: 544)
عن حذيفة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الدجال أعور العين اليسرى جفال الشعر معه جنة ونار فناره جنة وجنته نار
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا، گھنے بالوں والا ہوگا اور اس کے ساتھ جنت (باغ) اور آگ ہوگی۔ اس کی آگ (در حقیقت) جنت ہے اور اس کی جنت (دراصل) آگ ہے۔
(مسلم : کتاب الفتن باب ذكر الدجال 2934)
عن ابن عباس رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال فى الدجال : أعور هجان أزهر كأن رأسه أصلة أشبه الناس بعبد العزى بن قطن
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دجال کانا اور انتہائی سفید اور چمکدار (رنگت) ہوگا۔ اس کا سر افعی سانپ جیسا (چھوٹا مگر خوب متحرک) ہوگا۔ وہ لوگوں میں سے عبد العزی بن قطن (کافر) کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوگا۔
(احمد : 299/1 – 388، البزار: 1108، ابو يعلى : 725، ابن أبي شيبة : 246/8)
عن سفينة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : وهو أعور عينه اليسرى بعينه اليمنى ظفرة غليظة مكتوب بين عينيهما كافر
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ جو اللہ کے رسول کے غلام تھے، بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور دائیں آنکھ گوشت کے ٹکڑے کی طرح ابھری ہوئی (عیب دار) ہوگی جبکہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر تحریر ہوگا۔
(احمد : 281/5، المعجم الكبير : 6445، مجمع الزوائد : 654/7)
عن هشام بن عامر رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن رأس الدجال من ورائه حبك حبك فمن قال : أنت ربي افتتن ومن قال : كذبت ، ربي الله عليه توكلت فلا يضره
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال کا سر پچھلی جانب سے گنجا گنجا سا ہوگا۔ جس نے کہا کہ تو میرا رب ہے وہ تو فتنے میں مبتلا ہوا اور جس نے کہا : تو جھوٹا ہے میرا رب تو اللہ ہے جس پر میں بھروسہ کرتا ہوں تو وہ اسے کچھ نقصان نہ دے سکے گا۔
(احمد : 28/4، حاكم : كتاب الفتن 554/4، مجمع الزوائد : 658/7)
کیا دجال آدمی ہوگا ؟
عن عبادة بن الصامت رضى الله عنه أنه حدثهم أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إنى قد حدثتكم عن الدجال حتى خشيت أن لا تعقلوا أن مسيح الدجال رجل قصير أفحج جعد أعور مطموس العين ليس بناتئة ولا جحراء فإن ألبس عليكم فاعلموا أن ربكم ليس بأعور
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں دجال کے بارے میں خبر دی ہے اور مجھے خدشہ ہے کہ تم اسے پہچان نہ سکو گے مسیح دجال ایک پستہ قد آدمی ہوگا، گھنگھریالے بال ہوں گے، آنکھ کانی اور مٹی ہوئی نہ بہت اونچی ابھری ہوئی اور نہ بہت دھنسی ہوئی ہوگی پھر بھی اگر تمہیں اس کے بارے میں شک وشبہ ہو تو خوب جان رکھو کہ تمہارا رب تو کانا نہیں ہے۔
(ابو داؤد کتاب الملاحم : باب خروج الدجال 4312 ، صحيح الجامع الصغير 8/2 – 317)
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا (ایک طویل حدیث میں جو متصل بعد مذکور ہے) فرماتی ہیں کہ : میں (دجال کا) جاسوس ہوں تم اس سنسان جگہ کی طرف چلو جہاں ایک آدمی تمہاری خبر کا مشتاق ہے تو وہ سب وہاں گئے اور کہتے ہیں کہ وہاں ہم نے اتنا بڑا آدمی دیکھا کہ ویسا قد آور مگر (لوہے کی زنجیروں سے) جکڑا ہوا آدمی پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
(مسلم : كتاب الفتن : باب قصة الجساسة 2942)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابن صیاد نے کہا کہ میں دجال، اس کی جائے پیدائش اور رہائش اور اس کے والدین سے متعلق اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ سب کچھ کہاں ہے۔
(مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد 2927، احمد 23/3 – 54 – 99، ترمذی 2246)
کیا دجال زندہ ہے ؟
عن فاطمة بنت قيس رضي الله عنها … فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاته جلس على المنبر وهو يضحك فقال : ليلزم كل إنسان مصلاه ثم قال : أتدرون لم جمعتكم ؟ قالوا الله ورسوله أعلم ، قال : إنى والله ما جمعتكم لرغبة ولا لرهبة ولكن جمعتكم لأن تميما الداري كان رجلا نصرانيا فجاء فبايع وأسلم وحدثنى حديثا وافق الذى كنت أحدثكم عن مسيح الدجال ، حدثنى أنه ركب فى سفينة بحرية مع ثلاثين رجلا من لخم وجذام فلعب بهم الموج شهرا فى البحر ثم أرفؤوا إلى جزيرة فى البحر حين مغرب الشمس فجلسوا فى أقرب السفينة فدخلوا الجزيرة فلقيتهم دابة أهلب كثير الشعر لا يدرون ما قبله من دبره من كثرة الشعر فقالوا : ويلك ما أنت ؟ قالت : أنا الجساسة ، قالوا وما الجساسة ؟ قالت : أيها القوم انطلقوا إلى هذا الرجل فى الدير فإنه إلى خبركم بالأشواق ، قال : لما سمت لنا رجلا فرقنا منها أن تكون شيطانة ، قال : فانطلقنا سراعا حتى دخلنا الدير فإذا فيه أعظم إنسان رأيناه قط خلقا ، وأشده وثاقا مجموعة يداه إلى عنقه ما بين ركبتيه إلى كعبيه بالحديد قلنا : ويلك ما أنت ؟ قال : قد قدرتم على خبرى فأخبرونى ما أنتم ؟ قالوا : نحن أناس من العرب ، ركبنا فى سفينة بحرية فصادفنا البحر حين اغتلم فلعب بنا الموج شهرا ثم أرفأنا إلى جزيرتك هذه ، فجلسنا فى أقربها فدخلنا الجزيرة فلقيتنا دابة أهلب كثير الشعر لا ندرى ما قبله من دبره من كثرة الشعر فقلنا : ويلك ما أنت ؟ فقالت : أنا الجساسة ، قلنا : وما الجساسة ؟ قالت : اعمدوا إلى هذا الرجل فى الدير فإنه إلى خبركم بالأشواق فأقبلنا إليك سراعا وفزعنا منها ولم نأمن أن تكون شيطانة فقال : أخبروني عن نخل بيسان ؟ قلنا : عن أى شأنها تستخبر ؟ قال : أسألكم عن نخلها ، هل يثمر ؟ قلنا له : نعم ، قال : أما إنها يوشك أن لا تثمر ، قال : أخبروني عن بحيرة طبرية ؟ قلنا : عن أى شأنها تستخبر ؟ قال : هل فيها ماء ؟ قالوا : هي كثيرة الماء ، قال : أما إن ماءها يوشك أن يذهب ، قال : أخبروني عن عين زغر ؟ قالوا : عن أى شأنها تستخبر ؟ قال : هل فى العين ماء ؟ وهل يزرع أهلها بماء العين ؟ قلنا له : نعم ، هي كثيرة الماء وأهلها يزرعون من مائها ، قال : أخبرونى عن نبي الأميين ما فعل ؟ قالوا : قد خرج من مكة ونزل يثرب ، قال : أقاتله العرب ؟ قلنا : نعم ، قال : كيف صنع بهم ؟ فأخبرناه أنه قد ظهر على من يليه من العرب وأطاعوه ، قال ، قال لهم : قد كان ذاك ؟ قلنا : نعم قال : أما إن ذاك خير لهم أن يطيعوه وإنى مخبركم عنى ، إني أنا المسيح الدجال وإني يوشك أن يؤذن لى فى الخروج فأخرج فأسير فى الأرض فلا أدع قرية إلا هبطتها فى أربعين ليلة غير مكة وطيبة فهما محرمتان على كلتاهما ، كلما أردت أن أدخل واحدة أو واحدا منهما استقبلني ملك بيده السيف صلتا يصدنى عنها وإن على كل نقب منها ملائكة يحرسونها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وطعن بمخصرته فى المنبر : هذه طيبة ، هذه طيبة ، هذه طيبة ، يعني المدينة ، ألا هل كنت حدثتكم ذلك ؟ فقال الناس : نعم ، فإنه أعجبنى حديث تميم أنه وافق الذى كنت أحدثكم عنه ، وعن المدينة ومكة ، ألا إنه فى بحر الشام أو بحر اليمن ، لا بل من قبل المشرق ، ما هو، من قبل المشرق ، ما هو وأومأ بيده إلى المشرق
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر منبر پر تشریف لائے اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ہر بندہ اپنی جائے نماز پر بیٹھا رہے پھر کہا ، کیا تمہیں علم ہے کہ میں نے تمہیں کیوں جمع کیا ہے؟ لوگوں نے کہا، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم خدا کی میں نے تمہیں ترغیب و ترہیب (وعظ و نصیحت) کے لئے اکٹھا نہیں کیا بلکہ اس لئے جمع کیا ہے کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ جو عیسائی تھا وہ میری بیعت کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو چکا ہے اس نے مجھے مسیح دجال کے بارے میں ویسی ہی خبر دی ہے جیسی میں تمہیں دیا کرتا ہوں، اس نے کہا کہ وہ لخم اور جذام قبیلے کے تیس (30) آدمیوں کے ساتھ بحری جہاز میں سوار تھا کہ مہینہ بھر بحری موجیں ان کی کشتی سے کھیلتی رہیں حتی کہ ان کی کشتی (جہاز) مغرب کی طرف ایک جزیرے پر جا لگی پھر وہ ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہو کر جزیرے میں جا اترے جہاں انہیں گھنے بالوں والا ایسا جانور ملا جس کے منہ یا دم کی شناخت ناممکن تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ تو کون ہے؟ جانور نے کہا کہ میں جاسوس ہوں، انہوں نے کہا کس کا جاسوس؟ اس نے کہا کہ اس شخص کی طرف چلو جو دیر میں ہے اور تمہاری خبر کا مشتاق ہے۔ تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب جانور نے اس شخص کا نام لیا تو ہم ڈرے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو، تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر ہم تیز تیز چلتے ہوئے دیر (سنسان جگہ) میں داخل ہوئے تو وہاں ہم نے اتنا بڑا انسان دیکھا کہ ویسا قد آور مگر جکڑا ہوا آدمی کبھی نہ دیکھا تھا! اس کے دونوں ہاتھ گردن کے پیچھے اور پاؤں ٹخنوں کے ساتھ مضبوط لوہے سے بندھے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا، کمبخت! تو کون ہے؟ اس نے کہا کہ میری خبر تو حاصل کر ہی لو گے یہ بتاؤ کہ تم کون ہو؟ لوگوں نے کہا کہ ہم اہل عرب ہیں اور ایک سمندری جہاز میں محو سفر تھے کہ سمندر میں طغیانی آگئی جس کی وجہ سے مہینہ بھر ہمارا جہاز موجوں کا شکار رہا پھر ہم اس جزیرے کے قریب پہنچے تو ایک چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر اس جزیرے میں داخل ہوئے تو ہمیں (یہ) جانور ملا جس کے بالوں کی کثرت کی وجہ سے منہ یا پشت معلوم نہیں ہوتی تھی ہم نے اس سے پوچھا کمبخت! تو کون ہے؟ تو اس نے کہا: میں جاسوس ہوں تم اس ویرانے میں موجود آدمی کی طرف چلو، وہ تمہاری خبر کا بڑا مشتاق ہے تو ہم جلدی سے تمہاری طرف چلے آئے اور ہم تو اس (جانور) کو شیطان سمجھتے ہیں۔ دجال نے کہا کہ مجھے بیسان (شام) کے نخلستان کی خبر دو؟ ہم نے کہا، اس کی کونسی خبر مطلوب ہے؟ اس نے کہا کیا وہ پھل لاتا ہے؟ ہم نے کہا ہاں! اس نے کہا عنقریب وہ پھلدار نہیں رہے گا۔ اچھا مجھے بحیرہ طبریہ کی خبر دو؟ کیا اس میں پانی رواں دواں ہے؟ ہم نے کہا: ہاں! خوب رواں دواں ہے۔ اس نے کہا کہ عنقریب وہ خشک ہو جائے گا۔ اس نے کہا، مجھے زغر (شام) کے چشمے کے متعلق بتاؤ کیا اس میں پانی موجود ہے اور کیا لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کرتے ہیں؟ ہم نے کہا ، ہاں! اس میں پانی بھی ہے اور لوگ اس کے پانی سے کھیتی باڑی کر رہے ہیں۔ اس نے کہا کہ مجھے عرب کے نبی کی خبر دو؟ ہم نے کہا کہ وہ مکہ سے ہجرت کر کے یثرب (مدینہ) جا پہنچا ہے۔ اس نے کہا کیا اہل عرب نے اس سے لڑائی کی ہے؟ ہم نے کہا، ہاں! اس نے کہا پھر نتیجہ کیا رہا؟ ہم نے کہا کہ وہ نبی اپنے گرد و پیش میں غالب آچکا ہے۔ اس نے کہا کیا واقعی ایسے ہو چکا ہے؟ ہم نے کہا، ہاں! اس نے کہا کہ لوگوں کے لئے اس کی اطاعت ہی بہتر ہے۔ اور میرے متعلق سنو : میں مسیح دجال ہوں، اب عنقریب مجھے خروج کی اجازت دی جائے گی اور میں چالیس (40) دنوں میں پوری روئے زمین کو فتح کرلوں گا البتہ مکہ اور طیبہ (مدینے) مجھ پر حرام کر دیئے گئے ہیں اگر میں اس طرف (کسی بھی شہر مکہ یا مدینے) کا رخ کروں گا تو وہاں تلوار لہراتے فرشتے مجھے روک دیں گے جو وہاں پہرے پر مقرر ہوں گے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا عصا منبر پر تین مرتبہ ٹکراتے ہوئے فرمایا: یہی طیبہ (مدینہ) ہے۔ (اور وہ دجال ہے) کیا میں تمہیں اس (دجال) کے بارے میں بتایا نہیں کرتا تھا ؟ لوگوں نے کہا ، کیوں نہیں! پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ مجھے تمیم کی بات اس لئے اچھی لگی کہ یہ میری اس خبر کے مشابہہ ہے جو میں تمہیں دجال اور مکہ و مدینہ کے بارے میں بتایا کرتا تھا۔ خبر دار وہ (دجال) دریائے شام میں یا دریائے یمن میں ہے؟ نہیں بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے، وہ مشرق کی طرف ہے، وہ مشرق کی طرف ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اپنے ہاتھ سے بھی اشارہ فرمایا۔
(مسلم : كتاب الفتن : باب قصة الحسّاسة 119 – 2942، ابوداؤد 4325، ترمذی 2253، نسائی 3547، ابن ماجة 2045، حمیدی 177/1، احمد 419/6 – 420 – 461 – 464 – 465، طبرانی کبیر 956/24، دلائل النبوة 416/5، مشكل الآثار 389/7)
بعض روایات میں دجال کے مذکورہ سوالات کے علاوہ مزید سوالات بھی ذکر ہوئے ہیں علامہ ازیں اپنے مطلوبہ جوابات پر دجال خوشی سے اچھلنا کودنا اور چیخنا چلانا شروع کر دیتا ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے ابن صیاد نے کہا : اللہ کی قسم! میں دجال کی جائے پیدائش، وقت پیدائش، رہائش اور والدین کے متعلق بخوبی آگاہ ہوں۔
(مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد 2927)
كيا نبي كريم صلى الله عليه وسلم نے دجال كو ديكها تها ؟
عن ابن عباس رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : رأيت ليلة أسري بى موسى رجلا آدم طوالا جعدا كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى رجلا مربوعا ، مربوع الخلق إلى الحمرة والبياض سبط الرأس ورأيت مالكا خازن النار والدجال فى آيات أراهن الله إياه فلا تكن فى مرية من لقائه
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شب معراج میں میں نے موسی علیہ السلام کو دیکھا وہ گندمی رنگت، دراز قد، اور گھنگھریالے بالوں والے تھے ایسے لگتا تھا جیسے قبیلہ شنوہ کا کوئی شخص ہو اور میں نے عیسی علیہ السلام کو بھی دیکھا جو درمیانے قد، میانے جسم، سرخ و سفید رنگت اور سیدھے بالوں والے تھے۔ میں نے جہنم کے داروغے کو بھی دیکھا اور دجال کو بھی دیکھا۔ منجملہ ان آیات کو (دیکھا) جو اللہ تعالیٰ نے مجھے دکھائی تھیں (سورہ السجدہ آیت 23 میں اس کا ذکر ہے کہ) لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ملاقات کے بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ کریں۔
(بخاری : کتاب بدء الخلق : باب اذا قال احدكم آمين… 3639، مسلم 266، احمد 426/1، دلائل النبوة 495/5)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں سویا ہوا (خواب میں) کعبہ کا طواف کر رہا تھا کہ ایک صاحب جو گندم گوں تھے اور ان کے سر کے بال سیدھے تھے گویا ان سے پانی ٹپک رہا ہے (ان پر میری نظر پڑی) میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عیسی بن مریم ہیں، پھر میں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک موٹے شخص پر نظر پڑی جو سرخ (رنگت) تھا، اس کے بال گھنگھریالے تھے، ایک آنکھ سے کانا تھا گویا اس کی آنکھ انگور کی طرح ابھری ہوئی تھی۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے۔ اس کی صورت عبد العزی بن قطن خزاعی سے بہت مشابہت رکھتی تھی۔
بخاری : کتاب الفتن : باب ذکر الدجال (7128) مسلم (169) ابو داؤد (920/2)
دجال کی شعبدہ بازیاں :
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة فخفض فيه ورفع حتى ظنناه فى طائفة النخل فلما رحنا إليه عرف ذلك فينا فقال ما شأنكم ؟ قلنا : يا رسول الله ذكرت الدجال غداة فخفضت فيه ورفعت حتى ظنناه فى طائفة النخل فقال : غير الدجال أخوفني عليكم إن يخرج وأنا فيكم فأنا حجيجه دونكم وإن يخرج ولست فيكم فامرؤ حجيج نفسه والله خليفتي على كل مسلم ، إنه شاب قطط ، عينه طافئة كأني أشبهه بعبد العزى بن قطن فمن أدركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف إنه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا ، يا عباد الله ! فاثبتوا ، قلنا : يا رسول الله ! وما لبثه فى الأرض ؟ قال : أربعون يوما ، يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر أيامه كأيامكم ، قلنا : يا رسول الله فذلك اليوم الذى كسنة أتكفينا فيه صلاة يوم ؟ قال : لا ، اقدروا له قدره ، قلنا : يا رسول الله ! وما إسراعه فى الأرض ؟ قال كالغيث استدبرته الريح فيأتي على القوم فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له فيأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت فتروح عليهم سارحتهم أطول ما كانت ذرى وأسبغه ضروعا وأمده حواصر ثم يأتى القوم فيدعوهم فيردون عليه قوله فينصرف عنهم فيصبحون ممحلين ليس بأيديهم شيء من أموالهم ويمر بالخربة فيقول لها : أخرجي كنوزك فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذلك إذ بعث الله المسيح ابن مريم عليه السلام فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهروذتين
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صبح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کیا تو اسے حقیر اور اس کے فتنے کو عظیم کہا (یا کبھی اونچی اور کبھی آہستہ بات کی) حتی کہ ہمیں گمان ہوا کہ شاید دجال ان درختوں کے جھنڈ میں آگیا ہو پھر ہم بوقت شام آپ کی طرف گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا ماجرا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ آپ نے دجال کے بارے میں اچھی طرح آگاہ کیا تھا اور ہم سمجھے کہ شاید وہ اسی نخلستان میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے دجال سے بڑھ کر فتنوں کا تم پر اندیشہ ہوسکتا ہے؟ اگر دجال میرے جیتے جی نکلا تو میں اس کے درمیان رکاوٹ بن کر تمہیں اس کے شر سے بچالوں گا اور اگر وہ میرے بعد ظاہر ہوا تو تم میں سے ہر ایک شخص بذات خود اس کے خلاف حجت ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہر مسلمان پر میرا خلیفہ اور نگہبان ہوگا۔ دجال ایک گھنگھریالے بالوں والا نوجوان ہے جس کی ایک آنکھ ابھری ہوگی اور وہ عبد العزی (کافر) کے مشابہہ ہو گا لہذا جو شخص بھی تم میں سے دجال کو دیکھے وہ سورت کہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے۔ دجال شام اور عراق کے درمیان ریگستانی راستے سے خارج ہوگا اور دائیں بائیں فتنہ و فساد برپا کرے گا۔ اللہ کے بندو ! ایمان پر ثابت قدم رہنا۔ صحابہ نے پوچھا کہ دجال کتنا عرصہ زمین پر قیام کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چالیس (40) دن جن میں سے ایک دن ایک سال برابر، ایک دن ماہ برابر، ایک دن ہفتے کے برابر ہوگا۔ پھر باقی دن عام دنوں جیسے ہوں گے۔ (یعنی ایک سال، دو ماہ اور دو ہفتے) صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! جو دن سال برابر ہو گا اس میں ہم نمازیں کیسے ادا کریں گے؟ کیا ایک ہی دن کی نمازیں ہمیں کافی ہوں گی؟ آپ نے فرمایا نہیں ! بلکہ تم اس (سال) کا (عام دنوں کے ساتھ) اندازہ کر لینا۔ صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! اس کی چال ڈھال کیسی ہوگی ؟ فرمایا : اس بارش کی طرح جسے ہوا پیچھے سے دھکیلتی ہے۔ پھر وہ ایک قوم کے پاس جا کر انہیں کفر کی دعوت دے گا جسے وہ قبول کر لیں گے تو وہ آسمان کو حکم دے گا اور آسمان بارش برسائے گا پھر وہ زمین کو حکم دے گا تو زمین اناج اگائے گی جن پر ان کے جانور چریں گے جن کے کوہان پہلے سے اونچے تھن پہلے سے کشادہ اور کوکھیں خوب پھولی ہوں گی۔ پھر دجال ایک قوم کے پاس آکر اسے کفر کی دعوت دے گا مگر وہ انکار کر دیں گے تو دجال ان سے پلٹ جائے گا اور وہ لوگ قحط اور خشک سالی کا شکار ہو جائیں گے حتی کہ ان کے ہاتھ میں مال و دولت میں سے کچھ نہ رہے گا جبکہ دجال بنجر اور ویران زمین پر نکلے گا اور اسے حکم دے گا ، اے زمین! اپنے خزانے نکال دے تو زمین کے خزانے اس کے پاس اس طرح جمع ہو جائیں گے جس طرح شہد کی مکھیاں ملکہ مکھی کے پاس ہجوم کرتی ہیں پھر دجال ایک جوان کو بلا کر اس کے دو ٹکڑے کر ڈالے گا جس طرح نشانہ دو ٹوک ہو جاتا ہے پھر اسے (زندہ کر کے) پکارے گا تو وہ جوان چمکتے ، دمکتے اور ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ اس کی طرف چلا آئے گا۔ دریں اثنا اللہ تعالی مشرق کی طرف شہر دمشق میں سفید منارے کے پاس زرد کپڑوں میں ملبوس حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو نازل کر دیں گے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر الدجال (110 – 2937) احمد (248/4) ترمذی (2240) حاکم (537/4) طبری (95/9)
عن حذيفة رضى الله عنه قال : إني سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن مع الدجال إذا خرج ماء ونارا فأما الذى يرى الناس أنها النار فماء بارد وأما الذى يرى الناس أنه ماء بارد فنار تحرق فمن أدرك منكم فليقع فى الذى يرى أنها نار فإنه عذب بارد
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ جب دجال خروج کرے گا تو اس کے ساتھ پانی (جنت) اور آگ (جہنم) ہوگی جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ ٹھنڈا پانی ہے اور جسے لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ درحقیقت جلانے والی آگ ہے اگر تم میں سے کسی کو اس (فتنے) کا سامنا ہو تو وہ اس میں داخل ہو جو آگ دکھائی دیتی ہے کیونکہ وہ دراصل ٹھنڈا پانی ہے۔
بخاری : کتاب احادیث الانبیاء : باب ماذکر عن بنی اسرائیل (3450) مسلم (2934) ابو داؤد (3415) ابن ماجة (4122) ابن حبان (6799) طبرانی کبیر (642/17) ابن ابی شیبة (648/8)
عن المغيرة بن شعبة رضى الله عنه قال : ما سأل أحد النبى صلى الله عليه وسلم عن الدجال ما سألته وإنه قال لي : ما يضرك منه ؟ قلت : لأنهم يقولون إن معه جبل خبز ونهر ماء قال : بل هو أهون على الله من ذلك
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دجال کے بارے میں جس قدر سوالات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھے ہیں اور کسی سے نہیں پوچھے (تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا تمہیں اس (دجال) سے کیا خطرہ ہے؟ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہوگی۔ فرمایا کہ وہ اللہ تعالی پر اس سے بھی (کئی درجہ) آسان ہے۔
بخاری : کتاب الفتن : باب ذکر الدجال (7122) مسلم (2152) احمد (338/4) ابن ماجة (4124) ابن ابی شیبة (647/8)
عن أبى سعيد رضى الله عنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما حديثا طويلا عن الدجال فكان فيما يحدثنا به أنه قال : يأتى الدجال وهو محرم عليه أن يدخل نقاب المدينة فينزل بعض السباخ التى تلي المدينة فيخرج إليه يومئذ رجل هو خير الناس ، فيقول الدجال : أرأيتم إن قتلت هذا ثم أحييته هل تشكون فى الأمر ؟ فيقولون : لا ، فيقتله ثم يحييه فيقول : والله ما كنت فيك أشد بصيرة مني اليوم فيريد الدجال أن يقتله فلا يسلط عليه
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دجال کے متعلق ایک طویل حدیث سنائی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں یہ بھی تھا کہ دجال آئے گا اور اس کے لئے ناممکن ہوگا کہ وہ مدینہ کی گھاٹیوں (راستوں) میں داخل ہو سکے چنانچہ وہ مدینہ منورہ کے قریب کسی شور زدہ زمین پر قیام کرے گا۔ پھر اس دن اس کے پاس ایک مرد مومن جائے گا جو افضل ترین لوگوں میں سے ہوگا اور وہ دجال سے کہے گا کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث بیان فرمائی تھی۔ دجال (لوگوں) سے کہے گا کہ اگر میں اس شخص کو قتل کر دوں اور پھر زندہ کر دکھاؤں تو کیا پھر بھی تمہیں میرے (رب ہونے کے) معاملے میں شک ہو گا؟ لوگ کہیں گے نہیں ! چنانچہ وہ اس شخص کو قتل کر دے گا اور پھر زندہ کر دے گا۔ اب وہ شخص کہے گا کہ واللہ ! (خدا کی قسم) مجھے تیرے بارے میں پہلے اتنی بصیرت نہ تھی یعنی اب آچکی ہے (کہ تو واقعی دجال ہے) اس پر دجال پھر اسے قتل کرنا چاہے گا مگر اس مرتبہ وہ اسے مار نہیں سکے گا۔
بخاری: کتاب الفتن : باب لا یدحل الدجال المدینة (7132) مسلم (2938) احمد (46/3) مصنف عبد الرزاق (300/11) کتاب السنة لابن ابی عاصم (390) ابن مندة (1028)
دجال دنیا کا سب سے بڑا فتنہ !
عن عمران بن حصين رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : ما بين خلق آدم إلى قيام الساعة أمر أكبر من الدجال
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا کہ پیدائش آدم سے تا قیامت دجال سے بڑا کوئی معاملہ (فتنہ) نہیں ہے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب في بقية من احاديث الدجال (2946) احمد (27/4 – 29) جامع الصغير (489/2)
ایک روایت میں ہے :
ما بين خلق آدم إلى أن تقوم الساعة فتنة أكبر من فتنة الدجال
پیدائش آدم سے وقوع قیامت تک فتنہ دجال سے بڑا کوئی فتنہ نہیں۔
(احمد (29/4)
وعن حذيفة رضى الله عنه قال ذكر الدجال عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : لأنا لفتنة بعضكم أخوف عندي من فتنة الدجال ولن ينجو أحد مما قبلها إلا نجا منها وما صنعت فتنة منذ كانت الدنيا صغيرة ولا كبيرة إلا لفتنة الدجال
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دجال کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فتنہ دجال کی بنسبت تمہارے باہمی فتنہ فساد کا مجھے زیادہ خوف ہے (کہ تم ضرور باہمی فتنہ و فساد برپا کرو گے) گذشتہ لوگوں میں سے جو کوئی اس فتنے سے محفوظ رہا وہ در اصل محفوظ ہے اور آج تک دنیا میں جو کوئی چھوٹا یا بڑا فتنہ رونما ہوتا ہے وہ دجال کے فتنے کی وجہ سے ہے۔
احمد (482/5) البزار (3391) مجمع الزوائد (646/7) وصححه
عن أنس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما بعث نبي إلا أنذر أمته الأعور الكذاب ألا إنه أعور وإن ربكم ليس بأعور وإن بين عينيه مكتوب كافر
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو نبی بھی مبعوث ہوا اس نے اپنی امت کو کانے کذاب (دجال) سے ضرور ڈرایا ہے۔ خبردار ! وہ کانا ہے اور تمہارا رب کانا نہیں ہے اور اس کی آنکھوں کے درمیان کافر (ک۔ ف۔ر) لکھا ہوگا۔
بخاری : کتاب الفتن : باب ذكر الدجال (7131) مسلم (2933) ابو داؤد (4316) ترمذی (2245) شرح السنة (2082)
وعن عبد الله بن حوالة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : من نجا من ثلاث فقد نجا ثلاث مرات ، موتي ، والدجال ، وقتل خليفة مصطبر بالحق معطيه
حضرت عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص تین (حادثات کے) مواقعوں پر محفوظ رہا وہ نجات پا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار یہ بات دھرائی۔ پھر فرمایا :
(1) میری موت
(2) دجال
(3) اور دین حق پر قائم فیاض خلیفہ کا قتل۔
احمد (153/4) ابن ابي شيبة (649/8) دلائل النبوة (392/6) كتاب السنة لابن أبي عاصم (1177) وصححه الالبانی ، حاکم (108/3)
عن سمرة بن جندب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الأعور الدجال ممسوح العين اليسرى
حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ تیس جھوٹے نکلیں گے اور سب سے آخر میں (ان کا سردار) کانا دجال نکلے گا جس کی بائیں آنکھ عیب دار ہوگی۔
احمد (22/5) السنن الكبرى : کتاب صلاة الخسوف (339/3) المعجم الكبير (227/7) مجمع الزوائد (448/2) الاصابة (26/4) فتح البارى (706/6) وقال الحافظ اسنادہ حسن
عن سفينة مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال : ألا إنه لم يكن نبي قبلي إلا حذر الدجال أمته … معه ملكان من الملائكة يشبهان نبيين من الأنبياء لو شئت سميتهما بأسمائهما وأسماء آبائهما واحد منهما عن يمينه والآخر عن شماله وذلك فتنة ، فيقول الدجال : ألست بربكم ؟ ألست أحيي وأميت ؟ فيقول له أحدهما : كذبت ، فلا يسمعه أحد من الناس إلا صاحبه فيقول له : صدقت ، فيسمعه الناس ، فيظنون إنما يصدق الدجال وذلك فتنة ثم يسير حتى يأتى المدينة فلا يؤذن له فيها فيقول : هذه قرية ذلك الرجل ثم يسير حتى يأتى الشام فيهلكه الله عزوجل عند عقبة أفيق
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا تو فرمایا : خبر دار ! مجھ سے پہلے ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے وہ بائیں آنکھ سے کانا ہوگا جبکہ دائیں آنکھ پر گوشت ابھرا ہوگا اور دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔ جب وہ خروج کرے گا تو اس کے ساتھ دو وادیاں ہوں گی ایک جنت اور دوسری آگ ہو گی اس کی آگ تو جنت ہو گی مگر اس کی جنت آگ ہوگی ، اس کے ساتھ دو فرشتے ہوں گے جو دو نبیوں کے روپ میں ہوں گے اگر میں چاہوں تو ان کے اور ان کے آباء کے نام بھی بتا سکتا ہوں۔ ایک اس دجال کے دائیں طرف اور دوسرا بائیں جانب ہوگا اور یہ آزمائش کے لئے ہوں گے۔ دجال کہے گا : لوگو ! کیا میں تمہارا رب نہیں ؟ کیا میں تمہیں زندہ نہیں کرتا ، موت نہیں دیتا ؟ تو ایک فرشتہ کہے گا تو جھوٹ بولتا ہے مگر اس فرشتے کی بات دوسرے فرشتے کے سوا اور کوئی نہیں سنے گا اور اس کا ساتھی فرشتہ جواب میں کہے گا : ہاں ! تیری بات سچی ہے (کہ یہ جھوٹا ہے رب نہیں) لوگ اس فرشتے کی بات سنیں گے تو یہ سمجھیں گے کہ شاید یہ دجال کو سچا کہہ رہا ہے حالانکہ دوسرا فرشتہ پہلے فرشتے کی اس بات، کہ دجال جھوٹا ہے، کی تصدیق کر رہا تھا اور یہ آزمائش ہوگی۔ پھر دجال مدینے کی طرف بڑھے گا مگر اسے مدینے میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی تو وہ کہے گا : یہ فلاں آدمی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کی بستی ہے پھر وہ شام کی طرف چلا جائے گا اور اللہ تعالیٰ آفیق کی گھاٹی کے پاس (باب لد پر) اسے عیسی علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک کریں گے۔
الحاکم (281/5) المعجم الکبیر (6445)
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال نکلنے والا ہے ، اس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اس پر سخت لوتھڑا ہوگا اور وہ کوڑھ اور برص کے مریض کو تندرست کر دے گا ، مردے کو زندہ کر دکھائے گا اور لوگوں سے کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں۔ جس شخص نے اقرار کیا کہ تو میرا رب ہے وہ تو فتنے میں مبتلا ہوا اور جس شخص نے کہا کہ میرا رب اللہ ہے حتی کہ اس پر جان قربان کر گیا تو وہ دجال کے فتنے سے بچالیا گیا اور اب اس پر کوئی فتنہ ہے نہ کوئی عذاب ہے۔ جب تک اللہ کی مرضی ہوگی دجال زمین پر رہے گا پھر حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے جو مغرب کی طرف سے آئیں گے ، محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کریں گے اور انہی کے دین (اسلام) پر قائم ہوں گے وہ دجال کو قتل کریں گے اور پھر قیامت قائم ہوگی۔
أحمد (19/5) المعجم الكبير (6918) البزار (3389) مجمع الزوائد (648/7) وصححه
دجال کی جنت اور جہنم :
عن حذيفة رضى الله عنه قال : إني سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : إن مع الدجال إذا خرج ماء ونارا فأما الذى يرى الناس أنها النار فماء بارد ، وأما الذى يرى الناس أنه ماء بارد فنار تحرق فمن أدرك منكم فليقع فى الذى يرى أنها نار فإنه عذب بارد
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ دجال جب خارج ہو گا تو اس کے پاس پانی اور آگ ہو گی جسے لوگ آگ خیال کریں گے وہ دراصل ٹھنڈا پانی ہوگا اور جسے لوگ ٹھنڈا پانی سمجھیں گے وہ دراصل جلانے والی آگ ہوگی۔ تم میں سے اگر کسی شخص کو اس (فتنے) سے پالا پڑے تو وہ اس کی آگ میں داخل ہو جائے کیونکہ وہ (دراصل) شیریں اور ٹھنڈا (پانی) ہے۔
بخاری : کتاب الفتن : باب ذكر عن بني اسرائیل (3450) مسلم (2934) ابو داود (3415) ابن ماجة (4122) ابن حبان (6799)
عن حذيفة رضى الله عنه قال : إن الناس كانوا يسألون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير وكنت أسأله عن الشر … قال : يخرج الدجال بعد ذلك معه نهر ونار من وقع فى ناره وجب أجره وحط وزره ومن وقع فى نهره وجب وزره وحط أجره
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں سوال کیا کرتے تھے جبکہ میں شر کے متعلق پوچھا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر دجال نکلے گا اس کے ساتھ ایک نہر اور ایک آگ ہو گی۔ جو شخص اس کی آگ میں داخل ہوا اس کے لئے اجر و ثواب واجب ہو گیا اور اس کے گناہ معاف کر دیئے گئے اور جو شخص اس کی نہر میں داخل ہوا اس پر گناہ لاد دیئے گئے اور اس کا اجر مٹادیا گیا۔
احمد (9/5 – 498) مشكل الآثار (377/14) حاکم (479/4) ابن حبان (209/15) واصله في الصحيحين
وعن حذيفة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الدجال أعور العين اليسرى جفال الشعر معه جنة ونار فناره جنة وجنته نار
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال بائیں آنکھ سے کانا ہے ، گھنے بالوں والا ہے۔ اس کے ساتھ ایک جنت اور ایک آگ (جہنم) ہوگی پس اس کی آگ تو (دراصل) جنت ہے اور اس کی جنت (فی الحقیقت) آگ ہے۔
مسلم : کتاب الفتن باب ذکر الدجال (2934)
دجال سے بچنے کے لئے لوگ پہاڑوں پر پناہ لیں گے :
عن أم شريك رضي الله عنها أنها سمعت النبى صلى الله عليه وسلم يقول : ليفرن الناس من الدجال فى الجبال ، قالت أم شريك رضي الله عنها : يا رسول الله ! فأين العرب يومئذ ؟ قال : هم قليل
حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ لوگ دجال سے بچنے کے لئے پہاڑوں میں چھپ جائیں گے۔ ام شریک رضی اللہ عنہا کہنے لگیں : یا رسول اللہ ! اس دن اہل عرب کہاں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اس دن بہت کم ہوں گے۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في بقية احاديث الدجال (2945) احمد (511/6) ترمذی (3930)
دجال مشرق کی طرف خراسان سے نکلے گا :
عن فاطمة بنت قيس رضي الله عنها قالت أن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ألا إنه فى بحر الشام أو بحر اليمن ، لا بل من قبل المشرق ما هو من قبل المشرق ما هو ، من قبل المشرق ما هو وأومأ بيده إلى المشرق
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : خبردار ! وہ (دجال) شام یا یمن کے سمندر میں ہے۔ نہیں ! بلکہ وہ مشرق کی طرف ہے ، وہ تو مشرق کی طرف ہے ، وہ تو مشرق کی طرف ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ بھی کیا۔
مسلم : كتاب الفتن : باب قصة الجساسة (2942) ابو داود (4325) ترمذی (2253) نسانی (3547) ابن ماجة (2045) حمیدی (177/1) احمد (419/6 – 461) المعجم الكبير (956/24) دلائل النبوة (416/5)
وعن أبى بكر الصديق رضى الله عنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : الدجال يخرج من أرض بالمشرق يقال لها خراسان يتبعه أقوام كأن وجوههم المجان المطرقة
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث بیان فرمائی کہ دجال مشرق کی طرف سے ایک ایسی زمین سے نمودار ہوگا جسے خراسان کہا جاتا ہے۔ اس (دجال) کی پیروی کرنے والی کچھ ایسی قومیں ہوں گی جن کے چہرے کوٹی ہوئی (یا موٹی) ڈھالوں کی طرح (چپٹے) ہوں گے۔
ترمذى : كتاب الفتن : باب ماجاء من أين يخرج الدجال (2237) صحيح الجامع الصغير (150/3) احمد (5/1) ابن ماجة (4123) السلسلة الصحيحة (122/4) النهاية (117/1)
عن أنس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يخرج الدجال من يهودية أصبهان معه سبعون ألفا من اليهود
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال اصبہان کے علاقے ”یہودیہ“ سے خروج کرے گا اور اس کے ساتھ ستر (70) ہزار یہودی ہوں گے۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في بقية احاديث من الدجال (2944) فتح الباری (238/13)
عن أنس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يتبع الدجال من يهود أصبهان سبعون ألفا عليهم الطيالسة
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال کی پیروی اصفہان اصبہان کے ستر ہزار یہودی دجال کی فرمانبرداری کریں گے جن پر سبز یا سیاہ چادریں ہوں گی۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في بقية احاديث من الدجال (2944) احمد (283/3) (295/4) حاكم (524/4) ابن ابي شيبة (650/8) الدر المنثور (243/2)
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة … إنه خارج خلة بين الشام والعراق فعاث يمينا وعاث شمالا
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صبح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا۔ پھر فرمایا کہ وہ شام اور عراق کے درمیان ریگستانی راستے سے نکلے گا۔ مذکورہ روایات میں بظاہر اختلاف و تضاد معلوم ہوتا ہے کہ دجال شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا یا مشرق سے یا خراسان وغیرہ سے اس شبہ کا تفصیلی جواب فوائد میں ملاحظہ فرمائیں۔
مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 2937 احمد 248/4 ابو داؤد 4321 ترمذی 2240 ابن ماجة 4126 حاكم 537/4 طبری 95/9
جن لوگوں کا پسندیدہ لیڈر دجال ہوگا !
عن أنس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يتبع الدجال من يهود أصبهان سبعون ألفا عليهم الطيالسة
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اصبہان (اصفہان) کے ستر ہزار یہودی دجال کی پیروی کریں گے جن پر سیاہ یا سبز چادریں ہوں گی۔
مسلم : كتاب الفتن باب في بقية أحاديث الدجال 2944 احمد 283/3 حاکم 524/4 ابن أبي شيبة 65/8 الدر المنثور 243/2
عن أبى بكر الصديق رضى الله عنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : الدجال يخرج من أرض بالمشرق يقال لها خراسان يتبعه أقوام كأن وجوههم المجان المطرقة
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث سنائی کہ دجال ایک مشرقی علاقے سے خروج کرے گا جسے خراسان موجودہ افغانستان اور اس کا گرد و پیش کہتے ہیں۔ اس دجال کی پیروی کچھ ایسی قومیں کریں گی جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح چوڑے یا تہہ بہ تہہ ڈھالوں جیسے موٹے ہوں گے۔
ترمذی : كتاب الفتن : باب ما جاء من أين يخرج الدجال 2237 صحيح الجامع الصغير 150/3 احمد 5/1 ابن ماجة 4123 السلسلة الصحيحة 122/4
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد ترک ترکمانستانی لوگ ہیں۔
النهاية : 117/1
عن أنس رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ليس من بلد إلا سيطؤه الدجال إلا مكة والمدينة ليس له من نقابها نقب إلا عليه الملائكة صافين يحرسونها ثم ترجف المدينة بأهلها ثلاث رجفات فيخرج الله إليه كل كافر ومنافق
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مکہ اور مدینہ کے سوا ہر شہر کو دجال روند ڈالے گا۔ ان مکہ ومدینہ کی ہر گھاٹی پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر نکال کر دجال کی طرف بھیج دے گا۔
بخاری : کتاب فضائل المدينة : باب لا يدخل المدينة الدجال 1881 ، 7134 مسلم 2942 احمد 300/2
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ينزل الدجال فى هذه السبخة بمرقناة فيكون أكثر من يخرج إليه النساء حتى أن الرجل يرجع إلى حميمه وإلى أمه وابنته وأخته وعمته فيوثقها رباطا مخافة أن تخرج إليه
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال مرقناة مدینہ کے قریب ایک وادی کی دلدلی زمین پر پڑاؤ کرے گا تو سب سے زیادہ عورتیں اس کی طرف نکلیں گی یہاں تک کہ آدمی اپنی بیوی، ماں، بیٹی، بہن، اور پھوپھی وغیرہ کے پاس جائے گا اور انہیں رسیوں سے باندھ دے گا مبادا کہ وہ دجال سے نہ ملیں۔
احمد 19/7 بتحقيق احمد شاكر وقال : اسناده صحیح مجمع الزوائد 664/7 واصله في البخاري : كتاب الجهاد : باب قتل اليهود 2925 والمسلم 2921 المعجم الكبير 307/2
دجال خدائی کا دعوی کریگا ؟
عن سمرة بن جندب رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا آخرهم الأعور الدجال ممسوح العين اليسرى ….. فإنه سوف يزعم أنه الله، فمن آمن به وصدقه واتبعه لم ينفعه صالح من عمله سلف ومن كفر به وكذبه لم يعذب بشيء من عمله
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تیس 30 کذاب نکلیں گے، سب سے آخر میں کانا دجال نکلے گا جس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی وہ اس زعم باطل میں مبتلا ہوگا کہ وہ اللہ ہے نعوذ باللہ من ذلک لہذا جس شخص نے اس پر ایمان لا کر اس کی تصدیق اور تابعداری کی اسے اس کے سابقہ اعمال صالحہ کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور جس شخص نے اس کا کفر کیا اور اسے جھٹلایا تو اس سے اس کے اعمال کا بالکل مواخذہ نہیں ہوگا۔
احمد 22/5 مجمع الزوائد 448/2 المعجم الكبير 227/7 السنن الكبرى 339/3 الاصابة 26/4 فتح البارى 706/6 ، وسنده صحيح
عن أبى قلابة رحمه الله عن رجل من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن من بعدكم الكذاب المضل وإن رأسه من ورائه حبك حبك وإنه سيقول : أنا ربكم فمن قال : كذبت لست ربنا ولكن الله ربنا وعليه توكلنا وإليه أنبنا ونعوذ بالله منك قال : فلا سبيل له عليه
ابوقلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے صحابہ ! تمہارے بعد جھوٹا گمراہ کرنے والا دجال نکلے گا اس کا سر پچھلی جانب سے گنج پن کا شکار ہوگا وہ کہے گا کہ میں تمہارا رب ہوں ! جس شخص نے کہا کہ تو جھوٹا ہے ہمارا رب نہیں بلکہ ہمارا رب تو اللہ ہے اسی پر ہم توکل کرتے ہیں، اس کی طرف ہم رجوع کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے تیری پناہ مانگتے ہیں تو وہ دجال اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
احمد 509/5 – 461 حاكم : كتاب الفتن 554/4 مجمع الزوائد : كتاب الفتن 658/7 السلسلة الصحيحة 727/6
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة … فيأتي على القوم فيدعوهم فيؤمنون به ويستجيبون له فيأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح دجال کا ذکر کیا … دجال ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں اپنی ربوبیت پر ایمان لانے کی دعوت دے گا تو وہ لوگ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کے مطیع فرمان ہو جائیں گے۔ دجال آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا تو وہ نباتات اگائے گی۔
مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 2937 ترمذی 2240 ابن ماجة 4126 حاکم 537/4 طبری 95/9
عن أبى سعيد رضى الله عنه قال حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما حديثا طويلا عن الدجال فكان فيما ….. أشهد أنك الدجال الذى حدثنا رسول الله حديثه فيقول الدجال : أرأيتم إن قتلت هذا ثم أحييته هل تشكون فى الأمر ؟ فيقولون : لا ، فيقتله ثم يحييه فيقول حين يحييه : والله ما كنت فيك قط أشد بصيرة مني الآن قال : فيريد الدجال أن يقتله فلا يسلط عليه
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دجال کے بارے میں طویل حدیث سنائی۔ جس میں یہ تھا کہ ایک آدمی کو دجال کے فوجی پکڑ کر کہیں گے کیا تو ہمارے رب کو مانتا ہے؟ وہ انکار کرے گا تو وہ فوجی اس آدمی کو دجال کے پاس لے جائیں گے اور دجال اس سے کہے گا کہ تو مجھے مانتا ہے؟ تو وہ آدمی جواب دے گا میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال کذاب ہے جس کے بارے میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حدیث سنائی تھی۔ دجال لوگوں سے کہے گا، کیا خیال ہے اگر میں اس کو قتل کر کے زندہ کر دوں تو میرے رب ہونے کے متعلق کوئی شک رہے گا؟ لوگ کہیں گے، نہیں۔ تو دجال اسے قتل کرے گا پھر زندہ کریگا۔ تو وہ زندہ ہو کر کہے گا، اللہ کی قسم! مجھے تو پہلے سے زیادہ یقین ہو گیا کہ تو ہی دجال ہے۔ دجال دوبارہ اسے قتل کرنا چاہے گا مگر قتل نہ کر سکے گا۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في صفة الدجال 2938 بخاری کتاب الفتن 7132 احمد 46/3 عبد الرزاق 393/11
دجال سے بچاؤ کے طریقے :
عن عمران بن حصين رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من سمع بالدجال فلينأ منه فإن الرجل يأتيه وهو يحسب أنه مؤمن فلا يزال به لما معه من الشبهات حتى يتبعه
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص دجال کے خروج کے متعلق سنے وہ اس سے دور رہے بلاشبہ آدمی اپنے ایمان پر وثوق کامل کے ساتھ اس کے پاس جائے گا تو اس کے عجیب و غریب شعبدے دیکھتے دیکھتے اس کا پیروکار بن جائے گا۔
احمد 577/4 ابو داود : کتاب الملاحم : باب خروج الدجال 4319 حاكم 576/4 كنز العمال 204/14
ایک روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی قسم کھا کر مذکورہ حدیث بیان فرمائی۔
ابو داود : كتاب الملاحم : باب خروج الدجال 4319
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا : فلينأ منه دجال سے دور رہنا کیونکہ جب آدمی اس کے پاس آئے گا تو اس کے شعبدے دیکھ کر اس کی تصدیق کر دے گا۔
احمد 589/4
عن أبى الدرداء رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال : من حفظ عشر آيات من أول سورة الكهف عصم من فتنة الدجال
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات حفظ کر لیں تاکہ ان کی تلاوت کرے تو وہ دجال کے فتنے سے بچا لیا گیا۔
مسلم : کتاب صلاة المسافرين : باب فضل سورة الكهف 809 احمد 250/6 ابو داود 4323
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة إنه شاب قطط عينه طافئة كأني أشبهه بعبد العزى فمن أدركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف إنه خارج خلة بين الشام والعراق
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صبح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا وہ گھنگھریالے بالوں والا نوجوان شخص ہے گویا میں اسے عبد العزی بن قطن کافر سے مشابہت دے سکتا ہوں اور جو شخص تم میں سے دجال کا سامنا کرے وہ سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات کی تلاوت کرے۔
مسلم کتاب الفتن : باب ذكر الدجال 2937 احمد 248/4 حاکم 537/4 طبری 95/9
عن أبى الدرداء رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال : من قرأ عشر آيات من آخر الكهف عصم من فتنة الدجال
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے سورۃ الکہف کی آخری دس آیات کی تلاوت کی وہ دجال کے فتنے سے بچا لیا گیا۔
ابو داؤد : كتاب الملاحم : باب خروج دجال 4323 احمد 496/6 عمل اليوم والليلة 676
عن أبى الدرداء رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال : من حفظ عشر آيات من سورة الكهف عصم من فتنة الدجال
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے سورۃ الکہف کی کوئی بھی دس آیات یاد کر لیں وہ فتنہ دجال سے محفوظ کر لیا گیا۔
احمد 499/6
(مذکورہ روایات باہم متعارض معلوم ہوتی ہیں کہ پہلی دس آیات پڑھی یا حفظ کی جائیں یا آخری یا کوئی بھی دس آیات۔ اس کا جواب فوائد میں ملاحظہ کریں۔)
عن هشام بن عامر رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : … فمن قال : أنت ربي افتتن ومن قال : كذبت ، ربي الله عليه توكلت ، فلا يضره أو قال فلا فتنة عليه
حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے دجال سے کہا، تو میرا رب ہے وہ تو فتنے سے دو چار ہوا اور جس شخص نے کہا : تو جھوٹا ہے میرا رب تو اللہ ہے اور میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں تو دجال اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے فتنہ نقصان نہیں دے گا۔
احمد 28/4 حاكم : كتاب الفتن والملاحم : 554/4 8551 عبد الرزاق 395/11 المعجم الكبير 175/22
ایک روایت میں ہے کہ دجال کہے گا میں تمہارا رب ہوں۔ جس شخص نے یہ کہا کہ تو ہمارا رب نہیں ہمارا رب تو اللہ وحدہ لاشریک ہے اور اسی پر ہم توکل اور بھروسہ کرتے ہیں اور تیرے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، اس شخص پر دجال کا زور نہیں چل سکتا۔
حاکم : كتاب الفتن و الملاحم 554/4 احمد 461/5 – 509 مجمع الزوائد 658/7 مصنف عبد الرزاق 395/11 المعجم الكبير 175/22
دجال کی بے بسی کا نظارہ :
اپنے ماتھے پر لکھا کافر (ک۔ف۔ر) نہ مٹا سکے گا :
عن أنس رضى الله عنه قال قال النبى صلى الله عليه وسلم : ما بعث نبي إلا أنذر أمته الأعور الكذاب ، ألا إنه أعور وإن ربكم ليس بأعور وإن بين عينيه مكتوب كافر
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر نبی نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے دجال سے ڈرایا ہے، خبر دار! وہ کانا ہے حالانکہ تمہارا رب کانا نہیں۔ اس دجال کی آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا۔
بخاری: کتاب الفتن : باب ذكر الدجال 7131 مسلم 2933 ابو داؤد 4316 ترمذی 2245
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا پھر آپ نے ہجے کر کے بتایا (ک۔ف۔ر) جسے ہر مسلمان پڑھ سکے گا۔
مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال 2933 ۔ 7365
دجال کی دونوں آنکھیں عیب دار ہوں گی :
عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : أعور العين اليمنى كأنها عنبة طافية
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال کی داہنی آنکھ کانی ہوگی گویا وہ انگور کا ابھرا ہوا دانہ ہے۔
بخاری كتاب الفتن باب ذكر الدجال 7123
عن حذيفة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : الدجال أعور العين اليسرى
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال بائیں آنکھ سے کانا ہے۔
مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 2934
مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہوسکے گا :
عن فاطمة بنت قيس رضي الله عنها … فلا أدع قرية إلا هبطتها فى أربعين ليلة غير مكة وطيبة فهما محرمتان على كلتیهما
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دجال کے بارے میں طویل حدیث ہے جس میں دجال کہتا ہے کہ میں چالیس 40 دنوں میں ساری زمین کو روند ڈالوں گا البتہ مکہ اور مدینہ طیبہ یہ دونوں مجھ پر حرام کر دیئے گئے ہیں جب کبھی میں ان میں سے کسی ایک کی طرف داخل ہونے کا ارادہ لے کر نکلوں گا تو تلوار لہراتا ہوا فرشتہ میرا استقبال کرے گا جو مجھے ان میں داخل ہونے سے مانع ہوگا اور ان دونوں شہروں کے ہر راستے پر محافظ فرشتے کھڑے ہوں گے۔
مسلم : كتاب الفتن : باب قصة الجساسة 2942 ابو داؤد 4325 ترمذی 2253 نسائی 3547 احمد 419/6
قتل نہیں کرپائے گا
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال کے خروج کے وقت ایک مؤمن شخص اس کی طرف نکلے گا جسے دجال کے فوجی پکڑ کر پوچھیں گے کہ تو ہمارے رب پر ایمان لاتا ہے؟ مگر اس کے انکار کرنے پر وہ اسے قتل کرنا چاہیں گے تو ان میں سے بعض کہیں گے، کیا تمہارے رب (دجال) نے کسی کو قتل کرنے سے منع نہیں کیا! تو وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے۔ جب وہ مؤمن دجال کو دیکھے گا تو کہے گا لوگو! یہی وہ دجال ہے جس کے فتنے سے ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے متنبہ فرمایا تھا۔ دجال اس کا پیٹ اور پشت لمبی کر کے اپنے فوجیوں سے اس کی خوب پٹائی کروائے گا اور کہے گا، اب ایمان لاتا ہے؟ تو وہ مؤمن کہے گا کہ تو جھوٹا کذاب ہے۔ دجال اس کے سر سے پاؤں تک آرے سے دو ٹکڑے کروا دے گا اور ان کے درمیان ٹہلے گا پھر کہے گا: اٹھ! تو وہ مؤمن (زندہ) اٹھ کھڑا ہوگا۔ دجال پھر پوچھے گا ہاں! اب مجھ پر ایمان لاتا ہے؟ تو وہ مؤمن کہے گا کہ اب تو مجھے پختہ یقین ہو گیا کہ تو دجال ہے اور لوگوں سے کہے گا، لوگو! یہ میرے بعد کسی پر مسلط نہیں ہو پائے گا تو دجال اسے ذبح کرنے کے لئے پکڑے گا مگر اس مؤمن کا گلا ہنسلی کی ہڈی تک تانبے کا بن جائے گا اور دجال اسے ذبح نہ کر سکے گا تو اس کے ہاتھ پاؤں پکڑ کر اسے پھینکے گا۔ لوگ سمجھیں گے کہ اس نے آگ میں پھینک دیا ہے حالانکہ اسے جنت میں ڈالا جائے گا۔ اللہ رب العالمین کی نگاہ میں یہ مؤمن سب سے بڑا شہید (گواہ) ہوگا۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في صفة الدجال 2938
دجال سچے اور مخلص مسلمان كو نقصان نهيں پہنچا سكے گا :
حضرت ہشام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے دجال (کی ربوبیت سے انکار کرتے ہوئے اس) سے کہا کہ تو جھوٹا ہے میرا رب تو اللہ ہے جس پر میں توکل کرتا ہوں (ربی اللہ علیہ توکلت) تو دجال اسے کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔
حاکم : كتاب الفتن و الملاحم 554/4 احمد 461/5 مجمع الزوائد 658/7 عبد الرزاق 395/11 السلسلة الصحيحة 727/6
دجال کے فتنے سے پناہ مانگنی چاہیے :
عن عائشة رضي الله عنها قالت : إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يستعيذ فى صلاته من فتنة الدجال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں دجال کے فتنے سے پناہ مانگا کرتے تھے۔
بخاری : كتاب الأذان : باب الدعاء قبل السلام 833
عن عائشة رضي الله عنها قالت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو (يتعوذ) فى صلاته: اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر ، وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا وفتنة الممات اللهم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے (بعض روایات میں ہے کہ اس طرح پناہ مانگا کرتے تھے) : یا اللہ! میں عذاب قبر سے، اندھے کانے اور جھوٹے مسیح دجال سے، زندگی اور موت کے فتنوں سے اور گناہ اور قرض سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
بخاری : كتاب الاذان : باب الدعاء قبل السلام 832 ، 6375 مسلم 590 ترمذی 3424 احمد 301/1 ، 363 ، 370 نسائی 2062 المؤطا 715/1 ابن حبان 280/3 ابن ماجة 3885 المعجم الكبير 12159
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا فرغ أحدكم من التشهد الآخر فليتعوذ بالله من أربع : من عذاب جهنم ، ومن عذاب القبر ، ومن فتنة المحيا والممات ، ومن شر المسيح الدجال
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ جب تم آخری تشہد (پڑھ کر) فارغ ہو جاؤ تو چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرو :
➊ قبر کے عذاب سے
➋ جہنم کے عذاب سے
➌ زندگی اور موت کے فتنوں سے
➍ اور مسیح دجال کے شر (فتنے) سے۔
مسلم : كتاب المساجد : باب استحباب التعوذ من عذاب القبر 588
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے آخر میں (بعض روایات کے مطابق تشہد کے آخر میں) چار چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے :
➊ الہی ! میں عذاب قبر سے
➋ عذاب جہنم سے
➌ ظاہری و باطنی (زندگی اور موت کے) فتنوں سے
➍ اور اندھے، کانے، جھوٹے (مسیح دجال) سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
احمد 201/1 ، 313 ، 370 ، 386
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (اکثر اوقات) یہ دعا مانگا کرتے تھے : یا اللہ! میں آگ کے فتنے اور عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ الہی! قبر کے فتنے اور عذاب سے، امیری اور فقیری کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ یا اللہ ! میں مسیح دجال کے بدترین فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
بخاری : كتاب الدعوات : باب التعوذ من فتنة الفقر 6377
بارگاہ الہی میں دجال کی حیثیت ”پرِ کاہ“ کے برابر بھی نہیں
عن المغيرة بن شعبة رضى الله عنه قال ما سأل أحد النبى صلى الله عليه وسلم عن الدجال ما سألته وإنه قال لي : ما يضرك منه ؟ قلت لأنهم يقولون إن معه جبل خبز ونهر ماء ، قال بل هو أهون على الله من ذلك
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دجال کے بارے میں جتنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے پوچھا ہے اتنا کسی نے نہیں پوچھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اس سے تمہیں کیا نقصان پہنچے گا؟ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا! فرمایا : کہ وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔ (یعنی قدرت الہی کے مقابلے میں دجال کی کیا حیثیت ؟ اور دجال کو بھی اللہ تعالیٰ ہی نے یہ ڈھیل دی ہوگی تاکہ لوگوں کی آزمائش ہو۔)
بخاری : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 7122 احمد 338/4 ، 343 مسلم 2152 ابن ابی شیبہ 647/8 ابن ماجة 4124 ابن مندہ 184/3
دجال كتنے دن زمين پر دندناتا پهرے گا :
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال : ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة .. قلنا : يا رسول الله وما لبثه ؟ قال : أربعون يوما يوم كسنة ويوم كشهر ويوم كجمعة وسائر أيامه كأيامكم ، قلنا يا رسول الله : فذلك اليوم الذى كسنة، أتكفينا فيه صلاة يوم ؟ قال : لا ، اقدروا له قدره
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ کیا۔ ہم نے کہا : یا رسول اللہ! دجال کتنا عرصہ ٹھہرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : چالیس دن ایک دن سال کے برابر ہوگا، دوسرا ماہ کے برابر، تیسرا ہفتہ کے برابر ہوگا اور پھر باقی ایام عام دنوں کے برابر ہوں گے (یعنی ایک سال دو ماہ اور دو ہفتے)۔ ہم نے کہا یا رسول اللہ! جو دن سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمیں ایک دن کی (پانی) نمازیں کافی ہوں گی؟ (یا پورے سال کی پڑھنا ہوں گی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں (پانچ نہیں) بلکہ اس دن کا (سال کے برابر) اندازہ کر لینا (اور سال بھر کی نمازیں اندازے کے ساتھ ادا کرتے رہنا)۔
مسلم : كتاب الفتن : باب ذكر الدجال 2937 احمد 248/4 ابو داؤد 4321 حاکم 537/4 ابن ماجة 4075
عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يخرج الدجال فى أمتي فيمكث فيهم أربعين لا أدري أربعين يوما أو أربعين سنة أو أربعين ليلة أو أربعين شهرا فيبعث الله عز وجل عيسى بن مريم
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں دجال نکلے گا اور چالیس (تک) رہے گا۔ عبد اللہ راوی فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ چالیس دن ہیں یا چالیس سال ہیں یا چالیس راتیں ہیں یا چالیس مہینے ہیں۔
مسلم : كتاب الفتن : باب في خروج الدجال 6940 احمد 221/2 حاکم 503/4 تفسير ابن كثير 97/4
ایک روایت میں ہے کہ :
وأنه يمكث فى الأرض أربعين صباحا
دجال چالیس دن تک زمین پر دندناتا پھرے گا۔
احمد 541/5 مجمع الزوائد 659/7 فتح الباري 112/13
مذکورہ احادیث باہم متعارض معلوم ہوتی ہیں ان میں تطبیق کے لئے فوائد کی طرف مراجعت فرمائیں۔
دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتا :
عن فاطمة بنت قيس رضي الله عنها …. وإني مخبركم عني ، إني أنا المسيح الدجال وإني يوشك أن يؤذن لي فى الخروج فأخرج فأسير فى الأرض فلا أدع قرية إلا هبطتها فى أربعين ليلة غير مكة وطيبة فهما محرمتان على كلتاهما ، كلما أردت أن أدخل واحدة منهما استقبلني ملك بيده السيف صلتا يصدني عنها وإن على كل نقب منها ملائكة يحرسونها
حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ : میں تمہیں اپنے متعلق آگاہ کرتا ہوں، میں مسیح دجال ہوں اور عنقریب مجھے خروج کی اجازت دے دی جائے گی تو میں نکلوں گا اور زمین پر پھروں گا اور میں مکہ و مدینہ کے سوا ہر بستی (شہر) کو چالیس راتوں میں روند ڈالوں گا کیونکہ یہ (مکہ و مدینہ) دونوں مجھ پر حرام ہیں۔ جب کبھی میں ان میں سے کسی ایک کی طرف داخل ہونے کے ارادے سے نکلوں گا تو تلوار لہراتا ہوا فرشتہ میرا استقبال کرے گا جو مجھے ان میں داخل ہونے سے مانع ہوگا اور ان دونوں شہروں کے ہر راستے پر فرشتے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے۔
مسلم : كتاب الفتن باب قصة الجساسة 2942 ابو داؤد 4325 ترمذی 253 نسائی 3547 ابن ماجة 2045 حمیدی 177/1 احمد 419/6 ، 420 ، 461 ، 464 دلائل النبوة 416/5
عن أنس بن مالك رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : المدينة يأتيها الدجال فيجد الملائكة يحرسونها فلا يقربها الدجال قال ولا الطاعون إن شاء الله
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مدینے میں دجال آئے گا تو یہاں فرشتوں کو اس کی حفاظت پر مامور پائے گا چنانچہ نہ دجال اس کے قریب آسکتا ہے اور نہ ہی طاعون۔ ان شاء الله
بخاری : کتاب الفتن : باب لا يدخل الدجال المدينة 7134 مسلم 1387 احمد 493 ، 312/2
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال مشرق کی طرف سے خارج ہوگا اور مدینے کا رخ کرے گا۔ یہاں تک کہ جب وہ احد پہاڑ کے پاس پہنچے گا تو فرشتے اس کا رخ ملک شام کی طرف پھیر دیں گے اور شام میں ہی یہ دجال ہلاک ہوگا۔
مسلم : كتاب الحج : باب صيانة المدينة من دخول الطاعون والدجال اليها 1380 احمد 537/2 ترمذی 2234
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : خلاصی والا دن، تمہیں کیا معلوم خلاصی والا دن کون سا ہے؟ تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا پھر فرمایا : دجال نکلے گا اور احد پہاڑ پر چڑھ کر مدینے کی طرف دیکھے گا تو اپنے ساتھیوں (لشکر والوں) سے پوچھے گا کیا تم یہ سفید محل دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مسجد ہے۔ پھر وہ مدینے کی طرف آئے گا تو ہر راستے پر تلوار سونتے ہوئے فرشتے کو پائے گا پھر وہ (مدینے کے قریب) دلدلی زمین پر پڑاؤ کرے گا۔ مدینہ تین مرتبہ حرکت (زلزلہ) پیدا کرے گا جس کے نتیجے میں ہر منافق، منافقہ، فاسق اور فاسقہ دجال کی طرف نکل جائے گا۔ پس یہ ہے (یوم الخلاص) خلاصی والا دن۔
احمد 455/4 حاکم : كتاب الفتن 474/4 حلية الأولياء 214/6 المعجم الكبير 230/18 مجمع الزوائد 661/3 ابن حبان 5838 كنز العمال 248/12
دجال كے ليے سب سے سخت لوگ كون سے ثابت هوں گے؟
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال : ما زلت أحب بني تميم منذ ثلاث سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول فيهم سمعته يقول : هم أشد أمتي على الدجال ، قال : وجاءت صدقاتهم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : هذه صدقات قومنا ، وكانت سبية منهم عند عائشة فقال : أعتقيها فإنها من ولد إسماعيل
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین باتوں کی وجہ سے جو میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں، میں بنو تمیم سے ہمیشہ محبت کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا تھا : کہ یہ لوگ دجال کے مقابلے میں میری امت میں سب سے زیادہ سخت مخالف ثابت ہوں گے۔ پھر (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ بنو تمیم کے ہاں سے زکوٰۃ کا مال آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کہ یہ ہماری قوم کی زکوٰۃ ہے۔ بنو تمیم کی ایک عورت قید ہو کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس (غلام) تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اسے آزاد کر دو یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔
بخاری : كتاب العتق : باب من ملك من العرب 2543 احمد 514/2 مسلم 2525 السنن الكبرى 11/7
ایک روایت میں ہے کہ (ایک مرتبہ) بنو تمیم والوں کی زکوٰۃ میں تاخیر ہوئی تو ایک آدمی نے (طنزاً) کہا کہ یہ بنو تمیم والے تو زکوٰۃ بھیجنے میں سستی کر دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات سنی تو فرمایا : بنو تمیم تو میری بڑی پیاری قوم ہے اس کے بارے میں ہمیشہ اچھی بات ہی کیا کرو یہ لوگ دجال کے لئے سب لوگوں سے بڑھ کر لمبے لمبے نیزوں سے (حملہ کرنے) والے ثابت ہوں گے۔
احمد 230/4 مجمع الزوائد 16/10 کنز العمال 61/12
دجال بیت اللہ اور بیت المقدس میں داخل نہیں ہو سکتا :
عن سمرة بن جندب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والله لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابون آخرهم الأعور الدجال ممسوح العين اليسرى … إنه سيظهر على الأرض كلها إلا الحرم وبيت المقدس وإنه يحصر المؤمنين فى بيت المقدس فيزلزلون زلزالا شديدا ثم يهلكه الله تبارك وتعالى وجنوده
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتی کہ تیس جھوٹے ظاہر ہوں گے جن میں سب سے آخر میں کانا دجال ہوگا جس کی بائیں آنکھ مٹی ہوئی ہوگی۔ وہ ساری زمین پر قبضہ جمالے گا مگر بیت اللہ اور بیت المقدس تک رسائی نہ پاسکے گا۔ بیت المقدس میں (موجود) مسلمانوں کا محاصرہ کرے گا تو ان (مسلمانوں) کو شدید زلزلوں کا سامنا ہوگا بالآخر اللہ تعالیٰ دجال اور اس کے لشکروں کو تباہ و برباد کر دیں گے۔
احمد 22/5 مجمع الزوائد 448/2 المعجم الكبير 227/7 الاصابة 26/4 فتح الباری 706/6
دجال اور اس کے لشکر کی ہلاکت :
عن نافع بن عتبة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : تغرون جزيرة العرب فيفتحها الله ، ثم فارس فيفتحها الله ثم تغزون الروم فيفتحها الله ثم تغرون الدجال فيفتحه الله، قال نافع : يا جابر لا نرى الدجال يخرج حتى تفتح الروم
حضرت نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم (مسلمان) اہل عرب سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں فتح سے نوازیں گے پھر تم فارس (ایران) سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطا فرمائیں گے پھر تم اہل روم سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں فتح سے ہمکنار کریں گے پھر تم دجال سے لڑو گے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر فتح عطا کریں گے۔ حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے جابر! ہمارے خیال میں دجال روم کی فتح سے پہلے نہیں نکل سکتا۔
مسلم کتاب الفتن باب ما يكون من فتوحات المسلمين قبل الدجال 2900 احمد 220/1 ابن ابي شيبة 655/8 ابن ماجة 4091 التاريخ الكبير 2254 الأحاد و المثاني 642
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ينزل الدجال فى هذه السبخة بمرقناة فيكون أكثر من يخرج إليه النساء حتى إن الرجل ليرجع إلى حميمه وإلى أمه وابنته وأخته وعمته فيوثقها رباطا مخافة أن تخرج إليه ثم يسلط الله المسلمين عليه فيقتلونه ويقتلون شيعته حتى إن اليهودي ليختبئ تحت الشجرة أو الحجر فيقول الحجر أو الشجرة للمسلم : هذا يهودي تحتي فاقتله
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دجال ، مرقناۃ (مدینے کے قریب ایک وادی) کی دلدلی زمین پر پڑاؤ کرے گا تو اس کی طرف سب سے زیادہ عورتیں جائیں گی حتی کہ آدمی اپنے قریبی رشتہ دار، ماں، بیٹی، بہن، اور پھوپھی کے پاس جائے گا اور انہیں رسی کے ساتھ باندھ دے گا مبادا کہ وہ دجال کے پاس نہ جا پہنچیں، پھر اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دجال پر مسلط کردیں گے اور مسلمان دجال اور اس کے لشکر کو قتل کریں گے یہاں تک کہ اگر کوئی یہودی درخت یا پتھر کی اوٹ میں چھپے گا تو وہ شجر و حجر پکار کر مسلمان سے کہے گا ، یہ یہودی میری اوٹ میں ہے اسے قتل کرو۔
احمد 91/2 – 163 وقال احمد شاکر اسناده صحیح 190/7 واصله في البخاري 2925 ومسلم 2922 المعجم الكبير 307/2 مجمع الزوائد 664/7
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى يقاتل المسلمون اليهود فيقتلهم المسلمون حتى يختبئ اليهودي من وراء الحجر أو الشجر فيقول الحجر أو الشجر : يا مسلم ! يا عبد الله هذا يهودي خلفي فتعال فاقتله إلا الغرقد فإنه من شجر اليهود
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ مسلمان یہودیوں سے قتال کریں گے اور انہیں قتل کریں گے حتی کہ کوئی یہودی شجر و حجر کے پیچھے چھپے گا تو وہ پکار اٹھے گا اے مسلمان ! اے اللہ کے بندے ! ادھر آ یہ یہودی میری اوٹ میں ہے اسے قتل کر دے سوائے غرقد کے کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔
بخاری کتاب الجهاد والسير باب قتال اليهود 2925 مسلم كتاب الفتن باب لا تقوم الساعة حتى 2922 احمد 91/2 – 163 – 175 المعجم الكبير 307/2 مجمع زوائد 664/7
عن ابن مسعود رضى الله عنه جاءهم الصريخ أن الدجال قد خلف فى ذراريهم فيرفضون ما فى أيديهم ويقبلون فيبعثون عشرة فوارس طليعة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إني لأعلم أسماءهم وأسماء آبائهم وألوان خيولهم وهم خير فوارس على ظهر الأرض يومئذ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مسلمان رومیوں کے ساتھ خونریز جنگ کریں گے اور فتح حاصل کریں گے ابھی مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ ایک فریاد رس (زور سے چیخنے والا) آئے گا اور کہے گا کہ دجال ان کے اہل وعیال میں ظاہر ہو چکا ہے تو وہ سب کچھ وہیں پھینک کر اس کی طرف متوجہ ہوں گے اور دس شہسواروں کو خبر لینے کے لئے روانہ کر دیں گے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ان شہسواروں کے نام، ان کے آباؤ اجداد کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ سے بخوبی آگاہ ہوں اور یہ اس دن روئے زمین پر سب سے بہترین شہسوار ہوں گے۔
مسلم کتاب الفتن باب اقبال الروم عند خروج الدجال 2899 احمد 544/1 حاکم 524/4
عن ابن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : لقيت ليلة أسري بي إبراهيم وموسى وعيسى ، قال : فتذاكروا أمر الساعة فردوا أمرهم إلى إبراهيم ، فقال : لا علم لي بها ، فردوا الأمر إلى موسى فقال : لا علم لي بها فردوا الأمر إلى عيسى فقال : أما وجبتها فلا يعلمها أحد إلا الله ، ذلك فيما عهد إلى ربي عز وجل ، أن الدجال خارج، قال : ومعي قضيبان فإذا رآني ذاب كما يذوب الرصاص قال : فيهلكه الله عز وجل حتى إن الحجر والشجر ليقول : يا مسلم ! إن تحتي كافرا فتعال فاقتله قال : فيهلكهم الله
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : معراج کی رات میری ملاقات حضرت ابراہیم، موسی اور عیسیٰ علیہم السلام سے ہوئی تو قیامت کی بات چل نکلی سب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف معاملہ کیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس (قیامت کے وقوع) کا علم نہیں، پھر بات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف پہنچی تو انہوں نے بھی لاعلمی کا مظاہرہ کیا، پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بات پہنچی تو انہوں نے کہا کہ قیامت کے وقوع کا حتمی علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں البتہ اللہ تعالٰی نے جو میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ دجال نکلے گا اور میرے پاس دو چھڑیاں ہوں گی تو جب وہ مجھے دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ہلاک فرما دیں گے یہاں تک کہ شجر و حجر پکار اٹھیں گے کہ میرے نیچے کافر ہے ادھر آؤ اور اسے مار ڈالو۔ اس طرح اللہ تعالی ان سب کو ہلاک کردیں گے۔
احمد 469/1 قال احمد شاکر اسناده صحیح 1905 ابن ماجة كتاب الفتن باب فتنة الدجال 4132 حاکم 534/4 طبری 86/9
دجال ملعون کی جائے قتل
عن النواس بن سمعان رضى الله عنه قال ذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم الدجال ذات غداة إنه شاب قطط ، عينه طافئة، كأني أشبهه بعبد العزى بن قطن ، فمن أدركه منكم فليقرأ عليه فواتح سورة الكهف فيأتي على القوم فيدعوهم فيؤمنون به فيستجيبون له فيأمر السماء فتمطر والأرض فتنبت وتخرج كنوزها فتتبعه كنوزها كيعاسيب النحل ثم يدعو رجلا ممتلئا شبابا فيضربه بالسيف فيقطعه جزلتين رمية الغرض ثم يدعوه فيقبل ويتهلل وجهه ويضحك فبينما هو كذلك إذ بعث الله المسيح ابن مريم عليه السلام …. فلا يحل لكافر يجد ريح نفسه إلا مات ونفسه ينتهي حيث ينتهي طرفه فيطلبه حتى يدركه بباب لد فيقتله
حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک صبح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا تذکرہ فرمایا۔ وہ گھنگھریالے بالوں والا نوجوان ہے، اس کی آنکھ پھوٹی ہوئی ہے گویا میں اسے عبد العزی بن قطن کے مشابہ کہہ سکتا ہوں۔ تم میں سے جس شخص کا اس سے سامنا ہو وہ اس پر سورۃ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔ دجال ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں ایمان لانے کی دعوت دے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے تو دجال آسمان کو حکم دے گا اور آسمان بارش نازل کرے گا پھر وہ زمین کو حکم دے گا تو زمین نباتات اگائے گی۔ وہ ایک بنجر زمین کو حکم دے گا کہ وہ اپنے خزانے نکال دے تو وہ خزانے نکل کر اس طرح دجال کے پیچھے جائیں گے جس طرح شہد کی مکھیاں اپنے مالک کے پیچھے جاتی ہیں۔ پھر وہ ایک تنومند نوجوان کو بلائے گا اور تلوار کے ساتھ اس کے دو ٹکڑے کر کے قتل کر دے گا پھر اسے آواز دے گا تو وہ زندہ ہو کر ہشاش بشاش چہرے کے ساتھ اس کی طرف پلٹے گا اور مسکرا رہا ہوگا۔ اسی اثنا اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نازل فرما دیں گے، جس کافر تک حضرت عیسیٰ کا سانس پہنچے گا وہ ہلاک ہو جائے گا اور ان کا سانس وہاں تک پہنچے گا جہاں تک ان کی نظر پہنچے گی اور وہ دجال کو تلاش کرتے ہوئے مقام لدّہ (Lydda) پر اسے قتل کر دیں گے۔
مسلم كتاب الفتن باب ذكر الدجال 2937 احمد 19/5 88/6 مجمع الزوائد 651/7
فوائد :
➊ خروج دجال علامات قیامت میں سے ایک بہت بڑی علامت ہے جس کا ظہور تا حال واقع نہیں ہوا۔
➋ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح دجال کو بھی مسیح کہا گیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو اس لیے مسیح ہیں کہ آپ کے ہاتھ پھیرنے سے بیمار تندرست ہو جاتے تھے البتہ دجال کو اس لیے مسیح کہا گیا کہ اس کی ایک آنکھ کانی (ممسوح مٹی ہوئی ) ہوگی یا دجال کو اس لیے مسیح کہا جاتا ہے کہ وہ چالیس دنوں تک زمین پر دندناتا پھرے گا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح الہدیٰ اور دجال کو مسیح الضلالہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کو اپنے شعبدوں سے گمراہ کرے گا۔
دجال دجل سے ہے جس کا معنی ہے خلط ملط کرنا اور دجال کو دجال اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کر کے لوگوں کو دھوکہ دے گا، اسی بنا پر ہر دھوکے باز کو دجال کہہ دیا جاتا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے : التذکرہ 658 تا 679، النہایہ فی غریب الحدیث 326/4، ترکیب القاموس 239/4 لسان العرب 236/11
➌ قیامت سے پہلے کم و بیش تیس (30) دجال اور کذاب ظاہر ہوں گے جن میں سے کچھ تو تاریخ میں دجل و فریب کے سہرے سجا کر رقم ہو چکے ہیں جبکہ کچھ لامحالہ ابھی ظاہر ہوں گے نیز سب سے آخر میں ”دجال اکبر“ کا خروج ہوگا۔
➍ دجال بڑے غصے سے خروج کرے گا مگر اذن الہی کے بغیر اس کا خروج ممکن نہیں۔
➎ دجال زندہ ہے جس کی جائے وقوع اللہ عالم الغیب کے سوا کوئی نہیں جانتا گو جغرافیہ کے ماہرین نے کرہ ارضی کا چپہ چپہ چھان کر، شہروں ملکوں اور براعظموں کی صورت میں اس کی حدود (Boundaries) متعین کر رکھی ہیں مگر ان کے علم و نظر میں کہیں دجال نہیں جبکہ صحیح احادیث اس پر مؤید ہیں کہ دجال ایک شخص ہے جو زندہ ہونے کے ساتھ کرہ ارضی پر کسی جزیرے میں لوہے کی زنجیروں سے قید ہے جیسا کہ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے اور دیگر لوگوں نے کسی جزیرے میں اس سے ملاقات کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دجال سے ملاقات کی نہ صرف تصدیق فرمائی بلکہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جمع کر کے اس ملاقات کا عجیب و غریب واقعہ خود ان کے گوش گزار فرمایا۔ بہر صورت اللہ تعالیٰ کے علم و قدرت کے مقابلے میں ہم انسانوں کے علم و مطالعے کو ترجیح نہیں دے سکتے جس سے قدرت الہی کا ابطال و انکار لازم آئے۔ اعاذنا الله منه وهو على كل شئي قدير
➏ دجال ایک آدمی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج اور خواب میں دکھلایا گیا تاکہ آپ اس کی علامات اور خدو خال سے لوگوں کو آگاہ فرمائیں بعض اہل علم نے اسے جن قرار دیا ہے۔
➐ دجال کی پیشانی پر کافر لکھا ہوگا جسے ہر شخص بآسانی پڑھ سکے گا خواہ وہ ان پڑھ ہی کیوں نہ ہو۔
➑ بعض احادیث میں دجال کو پست قد، اور بعض میں عظیم الجثہ کہا گیا ہے اسی طرح بعض احادیث میں دجال کی رنگت سرخ اور بعض میں سفید ذکر ہے، بعض احادیث میں اس کی دائیں آنکھ کو کانا اور بعض میں بائیں کو کانا کہا گیا ہے۔ بظاہر یہ تمام روایات آپس میں متضاد و متعارض معلوم ہوتی ہیں مگر ان میں تطبیق ممکن ہے جس کی صورت یہ ہے کہ دجال (اللہ تعالیٰ کی ڈھیل کے ساتھ) بہت سے خرق عادت امور کا ظہور کرے گا جن میں سے اس کی اپنی ذات بھی شامل ہے یعنی کبھی وہ اپنا قد پست اور کبھی انتہائی طویل ظاہر کرے گا مگر بالعموم وہ عظیم الجثہ کے ساتھ موجود رہے گا تبھی تو وہ چالیس دنوں میں روئے ارضی روند ڈالنے میں کامیاب ہو سکے گا۔
اسی طرح اس کی دونوں آنکھیں عیب دار ہوں گی کبھی وہ دائیں آنکھ سے کانا معلوم ہوگا کبھی بائیں سے مگر بہر صورت اس کی آنکھوں سے عیب دور نہیں ہو سکے گا اسی طرح کبھی اس کی آنکھ سفید اور کبھی شیشے کی طرح سبزی مائل معلوم ہوگی۔
اسی طرح دجال کبھی سرخ رنگت غالب کرے گا اور کبھی سفید رنگت یا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ انتہائی سفید رنگت میں چونکہ خون کی گردش واضح ہو رہی ہوتی ہے جس کی وجہ سے سفیدی مائل سرخی ہو جائے گی۔
تفصیل کے لیے دیکھیے : شرح مسلم للنووی 235/2 ، التذکرہ للقرطبی ص 552، فتح الباری 105/13
➒ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے انبیاء کی تصدیق و تائید کے لیے انہیں مختلف خرق عادت امور (معجزات) سے نوازتے ہیں اسی طرح لوگوں کے ایمان و توحید کے امتحان کے لیے دجال سے بہت سے خوارق کا ظہور کروا دیں گے مثلا دجال کے کہنے پر آسمان سے بارش برسنا، زمین کا نباتات اور خزانے اگلنا، مردے کا زندہ کر دینا وغیرہ مگر اس میں شک نہ رہے کہ یہ خوارق بھی اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوں گے کیونکہ بلا حکم الہی ایک پتہ بھی حرکت نہیں کر سکتا تو بلا حکم الہی دجال کیسے اتنے بڑے بڑے خوارق ظاہر کر سکتا ہے ! بلکہ وہ تو اتنا عاجز ہوگا کہ اپنے ماتھے پہ لکھے کافر کو بھی نہ مٹا سکے گا نہ مکہ و مدینہ میں داخل ہو سکے گا اور نہ اپنی کانی آنکھیں صحیح کر سکے گا جو بین دلیل ہے کہ یہ کافر ہے دجال ہے، جھوٹا ہے اور اللہ کی طرف سے باعث آزمائش ہے۔
➓ دجال دنیا کا سب سے بڑا فتنہ ہے اس کا اندازہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان مبارک سے آسانی سے کیا جا سکتا ہے کہ ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی دجال کے فتنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے اور لوگوں کو بھی فتنہ دجال سے پناہ مانگنے کی تلقین کرتے۔
⓫ دجال کا آسمان سے بارش برسانا، زمین کو حکم دے کر دیگر نباتات اگانا، خزانے نمودار کروانا اور اسی طرح کے دیگر خوارق حقیقت پر مبنی ہوں گے مگر اس کی بتائی ہوئی جنت اور جہنم آنکھوں کا دھوکہ ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو حکم دیا کہ اگر تم میں سے کسی کو دجال سے واسطہ پڑے تو وہ اس کی جہنم کو ترجیح دے کیونکہ وہ دراصل جنت ہے اور اس کی جنت فی الحقیقت آگ ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے : شرح مسلم للنووی 235/2 ، التذکرہ للقرطبی ص 553 ، فتح الباری 105/13
یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی آگ واقعی آگ ہو اور جسے اس آگ میں پھینکا جائے وہ جل کر راکھ ہو جائے لیکن ایمان پر ثابت قدمی کی وجہ سے دجال کی سزا برداشت کرنے والا فی الحقیقت اللہ کی آگ (جہنم) سے محفوظ ہو جائے گا لیکن دجال پر ایمان لا کر اس کی جعلی جنت میں داخل ہونے والا اللہ کی تیار کردہ اصلی جنت سے محروم ہو جائے گا۔
⓬ بعض احادیث میں خروج دجال کا مقام خراسان، بعض میں مشرق، بعض میں اصبہان، بعض میں شام اور عراق کا درمیانی راستہ ذکر کیا گیا ہے۔ کئی لوگ ان احادیث کو متعارض سمجھ کر قصہ ہی تمام کر ڈالتے ہیں کہ یہ تمام احادیث ضعیف ہیں حالانکہ احادیث صحیح ہیں اور غور کیا جائے تو ان میں ادنیٰ سا تعارض نہیں۔
امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
قد جاء انه من خراسان ومن اصبهان ووجه الجمع أن مبدأ خروجه من خراسان من ناحية اصبهان ثم يخرج الى الحجاز فيما بين الشام والعراق
تحقیق یہ بات آئی ہے کہ وہ خراسان سے اور اصفہان سے نکلے گا اور ان میں مطابقت کی صورت یہ ہے کہ اس کے خروج کی ابتدا خراسان کے علاقے اصبہان (اصفہان) سے ہوگی پھر وہ حجاز کی طرف رخ کرے گا جس کے لیے شام اور عراق کا درمیانی (ریگستانی) علاقہ استعمال کرے گا۔
حاشیہ سندھی ابن ماجہ 509/2
اور یہ علاقے مشرق کی طرف واقع ہیں۔ ثابت ہوا کہ دجال مشرق کی طرف خراسان کے علاقے اصبہان (اصفہان) کے محلے یہوداہ سے خارج ہوگا اور حجاز کی طرف شام اور عراق کا درمیانی ریگستانی علاقے کا سفر کرے گا۔
⓭ دجال کے فتنے سے محفوظ رہنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے۔ یعنی :
1۔ دجال سے دور رہنا۔
2۔ فتنہ دجال سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنا۔
3۔ سورۃ الکہف کی ابتدائی یا آخری آیات کی تلاوت کرنا۔
⓮ بعض احادیث میں ہے کہ سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیات کی تلاوت (دجال سے حفاظت کے لیے) کی جائے بعض میں آخری آیات کا ذکر ہے جبکہ بعض میں کوئی بھی دس آیات ہیں اور بعض میں تلاوت کی بجائے یاد کرنے (حفظ) کا ذکر ہے۔
ان میں جمع (تطبیق) کی صورت یہ ہے کہ کوئی بھی دس آیات تلاوت کی جائیں یہ روایت عام ہے جبکہ پہلی یا آخری دس آیات کی روایات خاص ہیں اور اصول فقہ کے قاعدے کے مطابق خاص کو عام پر مقدم رکھا جائے گا یعنی پہلی یا آخری دس آیات کی تلاوت کی جائے۔
جن روایات میں آیات کے حفظ کا ذکر ہے اس کا معنی بھی یہی ہے کہ انہیں حفظ کر کے پڑھا جائے کیونکہ اللہ نہ کرے اگر دجال کا سامنا ہو جائے تو قرآن کی عدم موجودگی میں بھی انہیں پڑھا جا سکے۔
⓯ دجال ربوبیت (خدائی) کا دعویٰ کرے گا اور لوگوں کو اپنی عبادت کی دعوت دے گا جو لوگ اس کی پر فریب دعوت کا شکار ہوں گے وہ ان کے لیے بارشیں برسائے گا خزانے دے گا اور اپنی جنت میں داخل کرے گا جو در حقیقت آگ (جہنم) ہوگی۔
⓰ جو شخص دجال کے سامنے اس کی تکذیب کرے گا اور یہ پڑھے گا :
حسبى الله عليه توكلت
”مجھے اللہ کافی ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا۔“
نیز فرمایا :
ربنا الله لا اله الا هو نعوذ بالله منك
”ہمارا رب اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور ہم اللہ کے ذریعے تیری پناہ مانگتے ہیں۔ “
اور سورۃ الکہف کی ابتدائی یا آخری آیات کی تلاوت کرے گا دجال اسے اپنے فتنے کا شکار نہیں کر سکے گا اور اگر دجال اسے اپنی آگ میں ڈال دے گا تو وہ کامیاب ہو جائے گا کیونکہ دجال کی آگ اللہ تعالیٰ کی جنت ہے یعنی وہ شخص فتنہ دجال سے بچ کر جنت کو پا چکا ہے۔
⓱ دجال چالیس (40) دن زمین پر ٹھہرے گا جن میں سے ایک دن سال کے برابر، دوسرا ماہ کے برابر، تیسرا ہفتہ کے برابر ہوگا جبکہ باقی دن عام دنوں کے مساوی ہوں گے یہ کل مدت ایک سال، دو مہینے اور دو ہفتے بنتی ہے البتہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو چالیس کے بعد کی تعین کا علم نہ ہوسکا۔
جیسے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا وہ چالیس دن ہیں یا راتیں ہیں یا چالیس مہینے یا چالیس سال ہیں لیکن دوسری صحیح احادیث میں انہیں چالیس دن کہہ کر تفصیل سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔
⓲ دجال چالیس دنوں میں ساری روئے اراضی پر غلبہ حاصل کر لے گا مگر مکہ اور مدینہ اس کے شر سے محفوظ رہیں گے اس لیے اگر ہو سکے تو ایسے وقت میں مکہ یا مدینہ کی سکونت حاصل کی جائے۔ آمين
⓳ فتنہ دجال کی لپیٹ میں آنے والے سب سے زیادہ یہودی ہوں گے پھر عجمی، ترکی، جاہل گنوار عورتیں اور سب منافق و کافر ہوں گے۔
(20) دجال اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مچھر کے پر برابر بھی حیثیت نہیں رکھتا۔
(21) حضرت عیسیٰ علیہ السلام (جو دوبارہ نازل ہو چکے ہوں گے) اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ مل کر دجال اور اس کے لشکر سے جنگ کریں گے۔ اس جنگ عظیم میں دجال مقام لدّہ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہوگا اور تمام یہودیوں اور کافروں کا قلع قمع ہو جائے گا حتیٰ کہ شجر و حجر بھی پکار پکار کر مسلمانوں سے کہیں گے کہ اے مسلمان یہ یہودی (یا کافر) میری اوٹ میں ہے اسے قتل کر دو۔