کسبِ حلال، محنت کی فضیلت اور بلا ضرورت سوال کرنے کی مذمت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

کسب اور پیشہ

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ
”وہی ہے جس نے زمین کو تمہارے تابع کر رکھا ہے تاکہ تم اس کے کندھوں پر چلو اور اللہ کا رزق کھاؤ۔“
(الملك : 15)
یہ ہے اسلام کا اصول۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی خدمت کے لیے مسخر کیا ہے لہذا اس نعمت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس کے پہلوؤں میں اللہ کریم سے فضل کے طالب بن کر دوڑ دھوپ کرنی چاہیے۔

جو شخص کام کی قدرت رکھتا ہو، اُس کا بیٹھے رہنا حرام ہے :

مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ عبادت کے لیے یکسوئی یا اللہ عز وجل پر توکل کے نام سے طلب رزق سے بے پروا ہو جائے، کیونکہ آسمان سے سونے چاندی کی بارش ہونے والی نہیں نہ ہی من وسلویٰ اترنے والا ہے۔
اسی طرح یہ بھی جائز نہیں ہے کہ وہ صدقات کے بھروسہ پر بیٹھ جائے جبکہ اسے ایسے ذرائع میسر ہوں، جن کو اختیار کر کے وہ اپنے معاش کے لیے دوڑ دھوپ کر سکتا ہے نیز اپنے زیر کفالت افراد کی ضرورتیں پوری کر سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي
”صدقہ کسی غنی کے لیے جائز نہیں ہے اور نہ کسی ایسے شخص کے لیے جو توانا اور تندرست ہو۔“
ابو داود كتاب الزكوة : باب من يعطى من الصدقة ح : 1634 – ترمذی : کتاب الزكوة : باب ماجاء من لا تحل له الصدقة، ح : 652
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی سخت مذمت فرمائی اور اسے حرام ٹھہرایا ہے کہ ایک مسلمان لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے ، جس کے نتیجہ میں اس کے چہرہ کی رونق غائب ہو جائے اور اپنی انسانیت و شرافت کو بلا ضرورت مجروح کر کے رکھ دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
الذي يسأل من غير حاجة كمثل الذى يلتقط الجمر
”جو شخص بلا ضرورت مانگتا ہے وہ گویا اپنے ہاتھ میں انگارے چنتا ہے۔“
بيهقي في شعب الایمان (271/3 ح : 3517) واللفظ له ، ومسند احمد (4 / 165) شرح معانی الآثار (306/1)
اور فرمایا :
من سأل الناس يكثر به ماله كان خموشا فى وجهه إلى يوم القيامة و رضفا يأكله من جهنم فمن شاء فليقلل ومن شاء فليكثر
جس نے لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کیا تاکہ وہ مالدار ہو جائے ، وہ اپنے چہرہ کو قیامت تک کے لیے مجروح کر دیتا ہے اور جہنم کے گرم پتھر کھائے گا۔ اب جو شخص چاہے اپنے لیے یہ چیزیں زیادہ مقدار میں فراہم کرے یا کم مقدار میں۔
ترمذی كتاب الزكوة باب ما جاء من لا تحل لہ الصدقہ : 653
نیز فرمایا :
لا تزال المسأله بأحدكم حتى يلقى الله وليست فى وجهه مزعة لحم
”جو شخص اپنے کو مانگنے کا عادی بنالے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرہ پر گوشت کی کوئی بوٹی نہ ہوگی۔“
بخارى كتاب الزكوة باب من سأل الناس تكثرا ح : 1474 ، مسلم كتاب الزكوة : باب كراهة المسألة للناس ح : 1040
اس انجام بد سے بچانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان کی عزت کا تحفظ فرمایا ہے اور اس کے اندر استعفاف خود اعتمادی اور مانگنے سے احتراز جیسے اوصاف کی پرورش کا سامان کیا ہے۔

سوال کرنا کب جائز ہے :

لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی مجبوریوں اور ضرورتوں کا پورا پورا لحاظ فرماتے تھے۔ اگر کوئی شخص سوال کرنے اور حکومت یا افراد سماج سے اعانت طلب کرنے کے لیے مجبور ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
إنما المسائل كدوح يكدح الرجل بها وجهه فمن شاء أبقى على وجهه ومن شاء ترك إلا أن يسأل ذا سلطان أو فى أمر لا يجد منه بدا
”سوال کرنا خراش کے ہم معنی ہے۔ جو شخص سوال کرتا ہے وہ اپنے چہرہ کو نوچتا ہے۔ لہذا جو شخص چاہے سوال نہ کر کے اپنے چہرہ کو صحیح حالت میں رکھے اور چاہے تو سوال کر کے اپنے چہرے کو کھرچ لے۔ البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ کسی صاحب اقتدار سے مانگنا پڑے یا کسی ایسے معاملہ میں سوال کرنا پڑے جو بالکل ناگزیر ہو۔“
ابو داود كتاب الزكوة باب ما تجوز فيه المسألة ح : 1639 – ترمذی کتاب الزكوة باب ما جاء في النهي عن المسألة ح : 681 – نسائی کتاب الزكوة باب مسألة الرجل ذا سلطان ح : 2600
ابو بشیر قبیصہ بن المخارق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
تحملت حمالة فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أسأله فيها فقال: أقم حتى تأتينا الصدقة فنأمر لك بها ثم قال: يا قبيصة إن المسائل لا تحل إلا لأحد ثلاثة رجل تحمل حمالة فحلت له المسألة حتى يصيبها ثم يمسك، ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش، ورجل أصابته فاقة حتى يقوم ثلاثة من ذوي الحجا من قومه لقد أصابت فلانا فاقة فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو سدادا من عيش فما سواهن من المسألة يا قبيصة سحت يأكلها صاحبها سحتا
میں نے ایک معاملہ میں ضمانت (کسی کا ضامن بن گیا) کی ذمہ داری قبول کر لی تھی اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھہرو! صدقہ کا مال آجائے گا تو ہم تمہیں دلوادیں گے۔ پھر فرمایا: اے قبیصہ ! سوال کرنا جائز نہیں بجز تین اشخاص کے۔ ایک وہ شخص جو کسی کے لیے ضمانت کی ذمہ داری قبول کر لے۔ ایسے شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے جب تک کہ اسے مطلوبہ مال حاصل نہ ہو جائے۔ اس کے بعد اسے رک جانا چاہیے دوسرا وہ شخص جس کا مال کسی مصیبت یا حادثہ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے تباہ ہو جائے۔ ایسے شخص کے لیے سوال کرنا جائز ہے جب تک کہ اسے گزر بسر کی چیزیں حاصل نہ ہو جائیں، اور تیسرا وہ شخص جو فاقہ میں مبتلا ہو یہاں تک کہ اس کے محلہ کے تین سمجھ دار لوگ یہ کہہ دیں کہ فلاں شخص فاقہ زدہ ہے۔ ایسی صورت میں اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے جب تک کہ گزر بسر کی چیزیں اسے فراہم نہ ہو جائیں۔ ان کے ماسوا جو شخص سوال کرتا ہے تو یہ حرام کا مال ہے جسے وہ کھاتا ہے۔
مسلم كتاب الزكوة باب من تحل له المسألة ح : 1044 ، ابو داود حواله سابق ح : 1640

کام کرنا، باعث عزت ہے :

بعض لوگ کچھ کاموں کو معیوب خیال کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو غلط قرار دیا ہے اور اپنے اصحاب کو اس بات کی تعلیم دی ہے کہ عزت اور کامل عزت صرف کام کرنے میں ہے خواہ وہ کوئی سا کام ہو اور ذلت و خست لوگوں کی اعانت پر تکیہ کرنے میں ہے۔ فرمایا ہے :
لأن يأخذ أحدكم حبله فيأتي حزمة حطب على ظهره فيبيعها فيكف الله بها وجهه خير له من أن يسأل الناس أعطوه أو منعوه
”کسی شخص کا رسی لے کر جانا اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لانا اور اسے بیچ دینا کہ اللہ اس کے ذریعہ اس کی آبرو کو بچائے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے اور پھر لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔“
بخاري كتاب الزكوة باب الاستعفاف عن المسألة ح : 1470 – 1471 ، مسلم كتاب الزكوة باب كراهة المسألة للناس ح : 1042/107
لہذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ روزی کمائے خواہ زراعت، تجارت، صنعت، ملازمت کسی بھی ذریعہ سے ہو بشر طیکہ وہ ذریعہ حرام نہ ہو اور نہ اس سے حرام کی معاونت ہوتی ہو اور نہ ہی وہ حرام سے ملوث ہو۔