اہلِ ایمان سے محبت اور انبیائے کرام کے عملی نمونے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

حـــــکم الـــولاء للمؤمنیـن

اہل ایمان کے ساتھ محبت کا حکم

اہل ایمان پر اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تمام اہل ایمان کے ساتھ محبت اور دوستی کرنا واجب ہے۔

[اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمۡ رٰکِعُوۡنَ]،[وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَاِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ]
[تمھارے دوست تو صرف اللہ اور اس کا رسول اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے، وہ جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ جھکنے والے ہیں]،[اور جو کوئی اللہ کو اور اس کے رسول کو اور ان لوگوں کو دوست بنائے جو ایمان لائے ہیں تو یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو غالب ہیں] [سورۃ المائدۃ:55-56]

انصار سے محبت کرنا تمام اہل ایمان پر واجب ہے۔

[عن البراء رضي الله عنه، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم, أو قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: الأنصار لا يحبهم إلا مؤمن، ولا يبغضهم إلا منافق، فمن أحبهم أحبه الله، ومن أبغضهم أبغضه الله]
سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے، انصار سے وہی محبت کرے گا جو مومن ہوگا اور ان سے وہی بغض رکھے گا جو منافق ہوگا پس جس نے انصار سے محبت کی اللہ اس سے محبت کرے گا اور جس نے انصار سے بغض رکھا اللہ اس سے بغض رکھے گا۔ [صحیح البخاری:3783]

تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت کرنا اور ان کا احترام کرنا اہل ایمان پر واجب ہے۔

[عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تسبوا أصحابي، لا تسبوا أصحابي، فوالذي نفسي بيده، لو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبا ما أدرك مد أحدهم ولا نصيفه]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے اصحاب کو برا مت کہو، میرے اصحاب کو برا مت کہو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو میرے صحابہ کے ایک مُد (تقریباً ایک کلو) یا آدھے مُد کے (ثواب کے) برابر بھی نہیں پا سکتا۔ [صحیح المسلم:2540]

تمام اہل ایمان کو آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنی چاہئے۔

[عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تدخلون الجنة حتى تؤمنوا، ولا تؤمنوا حتى تحابوا أولا، أدلكم على شيء إذا فعلتموه تحاببتم، أفشوا السلام بينكم]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان نہ لاؤ گے اور اس وقت تک ایمان والے نہیں بنو گے جب تک آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے، کیا میں تمہیں وہ بات نہ بتاؤں جس سے تم ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو وہ یہ ہے کہ آپس میں کثرت سے ایک دوسرے کو سلام کہا کرو۔
[صحیح المسلم:54]

اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں۔

[کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ ؕ]
(اے مسلمانو!) تم بہترین جماعت ہو لوگوں (کی بھلائی) کے لئے پیدا کئے گئے ہو نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پرایمان رکھتے ہو۔ [سورۃ آل عمران:110]
[اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ صَفًّا کَاَنَّہُمۡ بُنۡیَانٌ مَّرۡصُوۡصٌ]
اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی دیوار کی طرح (مضبوط) صف باندھ کر لڑتے ہیں۔ (سورۃ صف:4)
[لَیۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیۡمَا طَعِمُوۡۤا اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ]
جو لوگ ایمان لائے، نیک عمل کئے ان پر کوئی گناہ نہیں جو کچھ وہ (حرمت شراب کے حکم سے پہلے) کھا پی چکے جب وہ (شرک سے) بچیں ایمان پر ثابت قدم رہیں، نیک عمل کرتے رہیں (حرام چیزوں سے) بچیں اور (ان کے حرام ہونے کا) یقین رکھیں، تقویٰ اختیار کریں اور (دوسروں پر) احسان کریں۔ (تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ) اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں۔ (سورۃ المائدۃ:93)

سیدنا نوح علیہ السلام کی اہل ایمان سے محبت اور دوستی۔

[رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِمَنۡ دَخَلَ بَیۡتِیَ مُؤۡمِنًا وَّ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ ؕ وَ لَا تَزِدِ الظّٰلِمِیۡنَ اِلَّا تَبَارًا]
اے میرے رب! مجھے، میرے والدین اور ہر شخص کو جو مومن کی حیثیت سے میرے گھر میں داخل ہو سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرما دے اور ظالموں کی ہلاکت میں اور اضافہ فرما۔ (سورۃ نوح:28)

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اہل ایمان سے محبت اور دوستی۔

[رَبِّ اجۡعَلۡنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلۡ دُعَآءِ]،[ رَبَّنَا اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡحِسَابُ]
اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنے والا بنا، اے ہمارے رب! میری دعا قبول فرما اے ہمارے رب! مجھے، میرے والدین اور سارے ایماندار لوگوں کو اس روز معاف فرمانا جس روز حساب لیا جائے گا۔ (سورۃ ابراہیم:40-41)

سیدنا سلیمان علیہ السلام کی صالح اور نیک لوگوں سے محبت۔

[فَتَبَسَّمَ ضَاحِکًا مِّنۡ قَوۡلِہَا وَ قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡۤ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡۤ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَ عَلٰی وَالِدَیَّ وَ اَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰىہُ وَ اَدۡخِلۡنِیۡ بِرَحۡمَتِکَ فِیۡ عِبَادِکَ الصّٰلِحِیۡنَ]
سلیمان چیونٹی کی بات سن کر مسکرا دیئے اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اے میرے رب! مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کر سکوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کی ہیں اور توفیق عطا فرما کہ ایسے نیک عمل کروں جن سے تو راضی ہو، اور اپنی رحمت سے مجھے نیک بندوں میں شامل فرما دے۔ (سورۃ النمل:19)

سیدنا یوسف علیہ السلام کی نیک اور صالح لوگوں سے محبت۔

[رَبِّ قَدۡ اٰتَیۡتَنِیۡ مِنَ الۡمُلۡکِ وَ عَلَّمۡتَنِیۡ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۟ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ]
اے میرے رب! تو نے مجھے حکومت بھی عطا فرمائی اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی دیا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور مجھے نیک لوگوں میں شامل فرما دے۔ (سورۃ یوسف:101)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انصار اور مہاجرین سے محبت۔

[عن سهل بن سعد، قال: جاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نحفر الخندق، وننقل التراب على أكتافنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: اللهم لا عيش إلا عيش الآخرة، فاغفر للمهاجرين، والأنصار]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، اس وقت ہم خندق کھود کر مٹی اپنے کاندھوں پر ڈھو رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا اللہ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے، یا اللہ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرمادے۔ [صحیح المسلم:1804]

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اہل ایمان سے محبت۔

[عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أن النبي صلى الله عليه وسلم: تلا قول الله عز وجل في إبراهيم: رب إنهن أضللن كثيرا من الناس فمن تبعني فإنه مني سورة إبراهيم آية 36 الآية، وقال عيسى عليه السلام: إن تعذبهم فإنهم عبادك وإن تغفر لهم فإنك أنت العزيز الحكيم سورة المائدة آية 118، فرفع يديه، وقال: اللهم، أمتي، أمتي، وبكى، فقال الله عز وجل: يا جبريل، اذهب إلى محمد وربك أعلم، فسله ما يبكيك؟ فأتاه جبريل عليه السلام، فسأله، فأخبره رسول الله صلى الله عليه وسلم بما قال، وهو أعلم، فقال الله: يا جبريل، اذهب إلى محمد، فقل: إنا سنرضيك في أمتك ولا نسوؤك]
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آیت پڑھی، جس میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول ہے، اے میرے رب! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا پس جو میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی سو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ (سورۃ ابراہیم:36) اور پھر یہ آیت پڑھی جس میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا قول ہے، اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر معاف فرما دے تو بے شک تو غالب حکمت والا ہے۔ (سورۃ المائدۃ:118) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: یا اللہ! میری امت، یا اللہ! میری امت۔ اور رونے لگے۔ اللہ تعالیٰ عزوجل نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا: اے جبرائیل! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور پوچھ آپ کیوں رو رہے ہیں؟ اور تیرا رب تو جانتا ہی ہے وہ کیوں رو رہے ہیں۔ چنانچہ جبرائیل علیہ السلام آئے اور پوچھا: آپ کیوں رو رہے ہیں؟ پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے (واپس جا کر) اللہ تعالیٰ کو بتایا حالانکہ اللہ تعالیٰ (پہلے ہی خوب جانتا ہے) تب اللہ عزو جل نے ارشاد فرمایا: اے جبرائیل! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور کہہ ہم تمہیں تمہاری امت کے بارے میں خوش کردیں گے اور ناراض نہیں کریں گے۔ [صحیح المسلم:202]