شیطان اذان سن کر کیوں بھاگتا ہے؟ حدیث کی حقیقت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 24: شیطان کا اذان سن کر ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگنا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر ریح خارج کرتا ہوا بھاگ جاتا ہے اور اتنی دور چلا جاتا ہے جہاں سے اسے اذان کی آواز سنائی نہیں دیتی، پھر جب مؤذن خاموش ہو جاتا ہے تو وہ سامنے آ جاتا ہے، پھر جب اقامت کہی جاتی ہے تو وہ پھر پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتا ہے۔ جب اقامت ہو جاتی ہے تو پھر سامنے آ جاتا ہے اور وہ نمازی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور اسے کہتا ہے، فلاں بات یاد کر، فلاں بات یاد کر، اور اسے ایسی باتیں یاد کراتا ہے جو اسے یاد نہیں تھیں، یہاں تک کہ وہ نمازی بھول جاتا ہے کہ اس نے کس قدر نماز پڑھی۔“
صحيح البخاري ، الأذان، باب فضل التأذين، حديث : 608
حدیث صحیح ہے اور حدیث کی تمام کتابوں میں مذکور ہے۔ طلوع اسلام والے منکرین حدیث اس حدیث پر اس لیے اعتراض کرتے اور اس کا استہزا کرتے ہیں کہ وہ شیطان کے ذاتی تشخص کے قائل نہیں۔ وہ اسے انسان کی اندرونی سرکش قوتیں قرار دیتے ہیں۔ جب کوئی شخص شیطان کے وجود ہی کا منکر ہو وہ بھلا یہ کیسے تصور کر سکتا ہے کہ شیطان ریح خارج کرتا اور آتا جاتا ہے۔
قرآن کریم سے ثابت ہے کہ شیطان کا ذاتی تشخص ہے، اس کی اولاد اور قبیلہ ہے اور اس کے دیگر اعمال اور اوصاف بھی ثابت ہیں۔ ارشاد ہوا:
خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ
”تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے پیدا کیا۔“
(7-الأعراف:12)
اس آیت میں شیطان اور انسان کے الگ الگ مادہ تخلیق بیان کرنے سے شیطان کا ذاتی تشخص ثابت ہوتا ہے۔ مزید ارشاد ہوا:
كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِ ۚ أَفَتَتَّخِذُونَهُ وَذُرِّيَّتَهُ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِي وَهُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ
”وہ (ابلیس) جنوں میں سے تھا، پس اس نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی تو کیا تم میرے سوا اس کو اور اس کی اولاد کو دوست قرار دیتے ہو، حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔“
(18-الكهف:50)
اس آیت میں شیطان کا سلسلہ نسب بیان کیا گیا ہے کہ وہ جنوں میں سے تھا اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اس کی اولاد بھی ہے۔
مزید فرمایا:
قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَإِنَّكَ رَجِيمٌ ‎﴿٣٤﴾‏ وَإِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ إِلَىٰ يَوْمِ الدِّينِ ‎﴿٣٥﴾
”فرمایا: تو یہاں سے نکل جا کیونکہ تو مردود ہے اور تجھ پر قیامت تک کے لیے لعنت ہے۔“
(15-الحجر:34-35)
ان آیات میں آدم علیہ السلام اور ابلیس کا قصہ بیان کیا گیا ہے کہ شیطان نے آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مردود قرار دیا اور اس پر لعنت کی، اس سے ثابت ہوا کہ ابلیس کا ذاتی تشخص ہے۔ مزید ارشاد ہوا:
إِنَّهُ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيلُهُ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ
”بے شک وہ (ابلیس) اور اس کا قبیل تمہیں اس جانب سے دیکھ رہا ہے کہ تم ان کو نہیں دیکھتے ہو۔“
(7-الأعراف:27)
اس آیت میں شیطان کی کیفیت، وجود اور اس کے قبیلے کا ذکر فرمایا۔ اس کے وجود ذاتی کی یہ کیفیت ہے کہ تم انہیں نہیں دیکھ سکتے جبکہ وہ تمہیں دیکھتے ہیں اور یہ ان کے جن ہونے کا ثبوت ہے اور جن کے وجود کے لیے بھی صریح دلیل ہے۔ منکرین حدیث جو کہتے ہیں کہ جن سے کوہستانی انسان مراد ہے تو اس نظریے کی اس آیت کریمہ میں صریح تردید موجود ہے۔ جب قرآن کریم سے شیطان کا ذاتی تشخص صریح طور پر ثابت ہوتا ہے تو پھر اس کا کھانا پینا، دھوکا دینا، وسوسہ ڈالنا، دینی دعوت سے مرعوب ہونا اور ہیبت کی وجہ سے ریح خارج کرنا عقل سے بعید نہیں۔ منکرین حدیث کا سرسید احمد کی تقلید میں قصہ آدم و ابلیس اور ابلیس کے متعلق صریح آیات کی غیر معقول تاویلیں کرنا کسی عقل مند کے نزدیک قابل تسلیم نہیں ہیں۔