مجاہد فی سبیل اللہ کے لیے جنت میں سو درجے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن أبى سعيد الخدري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يا أبا سعيد من رضي بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا وجبت له الجنة، فعجب لها أبو سعيد فقال أعدها على يا رسول الله! ففعل ثم قال وأخرى يرفع بها العبد مائة درجة فى الجنة ما بين كل درجتين كما بين السماء والأرض قال وما هي يا رسول الله؟ قال الجهاد فى سبيل الله الجهاد فى سبيل الله.
”ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ تعالیٰ کے رب، اسلام کے دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہو گیا اس کے لیے جنت واجب ہے، “ ابو سعید رضی اللہ عنہ کو اس بات سے خوشی ہوئی، انہوں نے کہا: ”یا رسول اللہ! اس بات کو دوبارہ بیان کریں، “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ دہرایا، پھر فرمایا: ”ایک اور عمل ہے جس کے باعث بندے کو اس جنت میں سو درجے ملیں گے، ہر درجے کا دوسرے درجے سے اتنا فاصلہ ہو گا جتنا کہ آسمان و زمین کے مابین ہے، “ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! وہ کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد، اللہ کی راہ میں جہاد۔ “
( صحیح مسلم) (رواہ مسلم، کتاب الإمارة، باب بیان ما أعدہ اللہ تعالیٰ للمجاہد فی الجنة من الدرجات، الرقم: 1884)

فوائد

➊ اللہ تعالیٰ نے ہر اس شخص کے لیے قیامت کے دن جنت کو واجب کر دیا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کو اپنا پروردگار جانتا ہے، اور اسلام کو ہی اپنا دین مانتا ہے، اور اس بات پر اس کا پختہ عقیدہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے نبی ہیں۔
➋ جہاد اتنا عظیم عمل ہے کہ اس کو کرنے والے شخص کے لیے نہ صرف جنت واجب ہے بلکہ جنت میں اس کو سو درجات حاصل ہوں گے۔
➌ اچھی بات پر خوش ہونے کا جواز: حدیث مذکور سے کسی اچھی بات پر خوش ہونے کا جواز ملتا ہے جیسا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خوش خبری پر ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کتنی خوشی کا اظہار کیا۔
➍ منازل و درجات کا ثبوت: حدیث مذکور سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اہل جنت کے لیے حسبِ اعمال جنت میں مختلف انداز میں منازل و درجات ہیں۔
➎ اچھی بات کے دہرانے کے مطالبے کا جواز: حدیث مذکور سے کسی اچھی بات کے دہرانے کا مطالبہ کرنے کا ثبوت بھی ملتا ہے جیسا کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: (أعدہا علی)۔