کیا ظنی ہونے کی وجہ سے احادیث دین میں حجت نہیں؟

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

دسواں شبہ: احادیث ظنی ہیں

طلوع اسلام نے اس بات پر بہت زور دیا ہے کہ دین یقینی چیز ہوتی ہے اور یقینی چیز صرف قرآن ہے جبکہ احادیث ظنی ہیں، لہذا ظن دین نہیں ہو سکتا۔ پرویز صاحب کی متعدد تحریروں میں سے ایک درج ذیل ہے:
”دین کے متعلق ایک چیز سے متعلق تو یقیناً آپ متفق ہوں گے، یعنی کہ دین وہی ہو سکتا ہے جو یقینی ہو ظنی اور قیاسی نہ ہو۔“
مقام حدیث ، ص : 3
طلوع اسلام والے لفظ ظن کو صرف وہم اور شک کے معنی میں استعمال کرکے عام مسلمانوں کو مغالطہ دیتے ہیں کہ احادیث ظن ہیں اور ظن دین نہیں ہو سکتا، لہذا احادیث حجت نہیں۔ اس میں چند ضروری امور توجہ طلب ہیں:
1۔ ظن اور یقین کا لغوی معنی
2۔ قرآن میں لفظ ظن کا استعمال
3۔ ظن غالب پر دین کی بنیاد
ہم ان تینوں امور پر الگ الگ مختصر بات کریں گے جس سے یہ شبہ دور ہو جائے گا۔

ظن اور یقین کا لغوی معنی

❀ یقین: یہ وہ عقیدہ ہے جو استدلال کے ذریعے سے شک زائل ہو جانے کے بعد حاصل ہو۔ اسی لیے یہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں مستعمل نہیں ہوتا۔ امام راغب فرماتے ہیں: یقین علم کی صفت ہے جو معرفت و درایت سے بڑھ کر ہے۔ اور کہا: ”سكون الفهم مع ثبات الحكم “ حکم کی مضبوطی اور پختگی کے ساتھ فہم کا سکون
مفردات القرآن : 1180/2 ، وتفسير الخازن : 4/3
قرآن کریم میں عقیدے کے حوالے سے یقین کا ایجاباً اور سلبا ذ کر کیا گیا ہے اور ظن کے مقابلے میں یہ دو مرتبہ مذکور ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا
”ان کے پاس اس معاملے میں ظن کی پیروی کے سوا کوئی یقینی علم نہیں اور انہوں نے یقیناً اسے (عیسیٰ علیہ السلام کو) قتل نہیں کیا۔“
(4-النساء:157)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
إِن نَّظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ‎﴿٣٢﴾‏
”ہم تو اسے صرف معمولی سا گمان کرتے ہیں اور ہمیں اس پر ہرگز یقین نہیں۔“
(45-الجاثية:32)
❀ ظن امام راغب اللہ نے ظن کے متعلق لکھا ہے: ”ظن اس چیز کا نام ہے جو علامات سے حاصل ہو اور جب یہ علامات قوی ہوں تو اس سے علم (یقین) حاصل ہوتا ہے اور جب یہ علامات بہت کمزور ہوں تو وہ نتیجہ وہم کی حد سے تجاوز نہیں کرتا، یعنی اس صورت میں ظن وہم کے معنی میں ہوتا ہے اور جب ظن قوی ہو یا قوی کی طرح متصور ہو تو اس کے بعد أَنَّ یا أن مخففة من المثقلة استعمال ہوتا ہے اور جب وہ کمزور ہو تو اس کے بعد أَنْ استعمال ہوتا ہے جو معدوم چیزوں کے ساتھ خاص ہے، خواہ قول ہو یا فعل۔“
مفردات القرآن : 657/2
امام راغب نے اس کے بعد مختلف قرآنی آیات بطور مثال پیش کی ہیں اس بحث سے یہ ثابت ہوا کہ ظن کبھی وہم کے معنی میں آتا ہے اور کبھی یقین کے معنی میں اور محدثین نے جو فرمایا ہے کہ احادیث ظنی ہیں تو اس سے بھی یقین مراد ہے، وہم نہیں۔

قرآن کریم میں لفظ ظن کا استعمال

لفظ ظن، قرآن کریم میں مختلف معانی میں اور مختلف صیغوں کے ساتھ 69 مرتبہ مذکور ہے۔ چند معانی اور ان کا استعمال درج ذیل ہے:
❀ ظن بمعنی یقین: اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
”وہ جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور بلاشبہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اس کے حضور لوٹ کر جانے والے ہیں۔“
(2-البقرة:46)
إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ
”مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب سے ملنے والا ہوں۔“
(69-الحاقة:20)
اور اسی طرح وہ ساری آیات جن میں ظن کے مادے کے بعد أن مشدده یا أن مخففه من المشدده استعمال ہوا ہے، کیونکہ ان تاکید کے لیے آتا ہے۔ تو یہ دلیل ہے کہ ظن، یقین کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
❀ ظن بمعنی گمان: جب کسی چیز کے متعلق کوئی فیصلہ نہ کیا جا سکتا ہو تو اس کو شک کا مرتبہ کہا جاتا ہے اور جب دل میں ایسی کیفیت پیدا ہو جائے کہ ایک جانب کو ترجیح دے تو اس صورت میں راجح جانب کو ظن اور مرجوح جانب کو وہم کہا جاتا ہے۔ عرف عام میں اسے غالب گمان کہا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا:
إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ
”اگر وہ دونوں (میاں بیوی) گمان کریں کہ وہ اللہ کی حدود قائم کریں گے۔“
(2-البقرة:230)
یہاں ظن یقین کے معنی میں نہیں کیونکہ انسان اپنے مستقبل کے بارے میں یقینی علم نہیں رکھتا اور اس غالب گمان پر علم کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کا کلام نقل کرتے ہوئے فرمایا:
وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ
”ہم نے تو اپنے علم کے مطابق گواہی دی تھی اور ہمیں غیب کی کچھ خبر نہیں تھی۔“
(12-يوسف:81)
یعنی علامات کے ذریعے سے ہمیں علم حاصل ہوا اور علامات کے ذریعے سے حقیقت میں ظن غالب حاصل ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے علم (ظن غالب) کے مطابق گواہی دی تھی جبکہ اصل حقیقت سے ہم واقف نہیں تھے۔
❀ ظن بمعنی غیر اختیاری خیال:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ
”پس انہوں (یونس علیہ السلام) نے (غیر اختیاری طور پر) خیال کیا کہ ہم اس پر قادر نہیں۔“
(21-الأنبياء:87)
وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوا
”اور انہوں نے (غیر اختیاری طور پر) خیال کیا کہ ان کی تکذیب کی گئی ہے۔“
(12-يوسف:110)
❀ ظن بمعنی جھوٹ:ظن، جھوٹ بولنے کے معنی میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب وہ حق کے مقابلے میں ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ
”اور وہ محض اٹکل پچو باتیں (جھوٹ) بنایا کرتے ہیں۔“
(10-يونس:24)
وَمَا يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا ۚ إِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا
”اور ان میں سے اکثر تو ظن (جھوٹی دلیل) کی پیروی کرتے ہیں جبکہ ظن (جھوٹ) حق سے بے نیاز نہیں کر سکتا۔“
(10-يونس:36)
❀ ظن بمعنی اجتہاد:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ
”اور داود علیہ السلام نے ظن (اجتہاد) کیا کہ ہم نے اسے آزمایا ہے۔“
(38-ص:24)
❀ ظن بمعنی تہمت:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ
”اے ایمان والو! بہت زیادہ ظن سے اجتناب کرو کیونکہ بعض ظن گناہ ہیں۔“
(49-الحجرات:12)
مفسر قرآن امام قرطبی رحمہ اللہ نے یہاں ظن سے کسی پر تہمت لگانا مراد لیا ہے۔

ظن غالب پر دین کی بنیاد کی

اکثر دینی مسائل ظن کی بنیاد پر ہیں۔ اس دعوے کے اثبات کے لیے ہم چند نقلی اور عقلی دلائل پیش کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے بہت سے احکام کی بنیاد گواہی پر رکھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ
”پس ان پر اپنے آدمیوں میں سے چار کو گواہ بنا لو۔“
(4-النساء:15)
وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ
”اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لیا کرو۔“
(2-البقرة:282)
وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ۚ وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ
”اور گواہی کو نہ چھپاؤ اور جو گواہی کو چھپاتا ہے تو اس کا دل گناہ گار ہے۔“
(2-البقرة:283)
وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ
”اور اپنے میں سے دو عادل شخصوں کو گواہ بنا لو اور اللہ کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دو۔“
(65-الطلاق:2)
مندرجہ بالا آیات میں اللہ تعالیٰ نے زنا کے اثبات، مالی معاملات اور نکاح و طلاق کے بارے میں گواہ مقرر کرنے اور گواہی لینے کا حکم دیا ہے۔ یہ شہادت ظن کا فائدہ دیتی ہے اور یہ ظن غالب ہوتا ہے کہ گواہ نے صحیح گواہی دی ہے لیکن اس ظن غالب کو بھی شرعی حکم کی حیثیت حاصل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ
”جو شخص حرم میں جان بوجھ کر شکار کرے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اس نے جس طرح کا جانور شکار میں مارا ہے، اس کے معاوضے میں چوپایوں میں سے اس سے ملتا جلتا جانور، جس کے متعلق تم میں سے دو منصف فیصلہ کر دیں، بطور قربانی کعبہ تک پہنچایا جائے۔“
(5-المائدة:95)
یہاں شہادت نہیں بلکہ کسی جانور کے متعلق فیصلہ کرنا ہے کہ یہ جانور اس شکار میں مارے گئے جانور کے مماثل ہے۔ اس کے لیے دو عادل آدمیوں کا فیصلہ کافی ہے۔ یہ بھی ظنی مسئلہ ہے جس میں عادل آدمیوں سے بھی غلطی ہو سکتی ہے لیکن ان کے فیصلے کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے استدلال

➊ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنكم تختصمون إلى ولعل بعضكم أن يكون ألحن بحجته من بعض فأقضي على نحو ما أسمع فمن قضيت له بحق أخيه شيئا فلا يأخذه فإنما أقطع له قطعة من النار
”تم تنازعات و مقدمات لے کر میرے پاس آتے ہو، ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی اپنا موقف پیش کرنے میں زیادہ فصاحت رکھتا ہو اور میں اس کی سنی ہوئی گفتگو کے مطابق فیصلہ کر دوں (اور وہ فیصلہ مطابق حقیقت نہ ہو) تو میں جس شخص کو اس کے کسی بھائی کا کوئی حق دے دوں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں تو اس کے لیے صرف آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں۔“
صحيح البخاري، الأحكام، باب موعظة الإمام للخصوم، حديث: 7169
اس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ گواہوں کے بیانات میں جھوٹ کا امکان ہوتا ہے اور اس وجہ سے قاضی کے فیصلے میں غلطی ممکن ہے۔ ان امکانات کے باوجود عدالت کسی شخص کے حق میں غلط فیصلہ بھی دے دیتی ہے اور وہ فیصلہ نافذ بھی ہو جاتا ہے اور یہ سارا عمل شرعی قضا کی اطاعت کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی دین ہے اور یہ ظن پر مبنی ہے۔ پرویزی بھی یہ حدیث مانتے ہیں کیونکہ وہ بھی عدالتوں اور ان کے فیصلوں کو اسی بنیاد پر مانتے ہیں اگرچہ وہ بھی ظنیات ہیں۔
➋ قبلہ کے متعلق شرعی حکم یہ ہے کہ جب کسی شخص پر قبلہ رخ کا تعین کرنا مشتبہ ہو جائے اور اس کی راہنمائی کرنے والا بھی کوئی نہ ہو تو پھر اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ ظن غالب کی بنا پر کسی طرف قبلے کا تعین کر لے اور اس طرف رخ کر کے نماز پڑھ لے۔ اگر بعد میں اسے پتا چلے کہ اس نے قبلے کے علاوہ کسی اور سمت رخ کر کے نماز پڑھ لی ہے تو اب اس پر لازم نہیں کہ وہ نماز دہرائے، حالانکہ یہ حکم اور یہ عمل بھی ظن کی بنیاد پر ہوا تھا۔

نمازی کو دوران نماز شک واقع ہو جائے کہ آیا اس نے دو رکعتیں پڑھی ہیں یا تین تو پھر وہ ظن غالب کی بنیاد پر رکعتوں کا تعین کرے اور پھر اسی تعین کی بنا پر نماز مکمل کرے اور آخر پر سجدہ سہو کر لے۔ یہ بھی ظن کا مسئلہ ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ان تمام معاملات یا عبادات میں اطاعت الہی اور اخلاص نیت مقصود ہے۔ اگر اس میں اجتہاد یا نسیان کی وجہ سے کوئی غلطی بھی ہو جائے تو اس سے دین میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ احادیث اگر ظنی ہیں اور محدثین نے اس پر ظن کا اطلاق کیا ہے تو اس ظن سے مراد یقینی علم یا ظن غالب ہے اور اس درجے میں ظن دین کی بنیاد بنتا ہے۔ اسماء الرجال میں اصحاب نقد و جرح سے غلطی یا بشری کمزوری کا احتمال ہو سکتا ہے لیکن ان امکانات کے باوجود ان احادیث کی دین میں حجیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔