حدیث 30: مرغ کا فرشتے کو دیکھنا اور گدھے کا شیطان کو دیکھنا
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم مرغ کی آواز سنو تو اللہ سے اس کا فضل طلب کرو کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ طلب کرو کیونکہ جب وہ شیطان کو دیکھتا ہے تب بولتا ہے۔
صحيح البخاري، بدء الخلق، باب: خير مال المسلم ، حدیث : 3303، وترجمه از مقام حدیث ص: 233
اس حدیث میں دو باتیں ہیں جنہیں منکرین حدیث بطور اعتراض اور انکار پیش کرتے ہیں:
➊ مرغ نے فرشتے کو اور گدھے نے شیطان کو کیسے دیکھا؟
➋ اس وقت اللہ تعالیٰ کا فضل طلب کرنے اور شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنے کی کیا وجہ ہے؟
جواب :
➊ فرشتوں اور شیاطین کا وجود آیات قرآنیہ سے ثابت کیا جا چکا ہے، لہذا اس میں تاویل کرنا نہایت کج فہمی کی دلیل ہے، پھر فرشتوں کا نیک بندوں کے پاس آنا اور شیاطین کا مجرموں اور کاہنوں کے پاس آنا قرآن کریم سے ثابت ہے، چنانچہ ارشاد ہوا:
إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا
”بے شک جن لوگوں نے کہا: ہمارا رب اللہ ہے، پھر وہ اس پر جمے رہے۔ ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور کہتے ہیں) کہ تم مت ڈرو اور مت غم کھاؤ۔“
(41-حم السجدة:30)
شیاطین کے متعلق فرمایا:
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ﴿٢٢١﴾ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٢٢٢﴾
”کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترا کرتے ہیں، ہر جھوٹے گناہ گار پر اترتے ہیں۔“
(26-الشعراء:221-222)
نیز فرمایا:
أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّيَاطِينَ عَلَى الْكَافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا
”کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ انہیں ابھارتے رہتے ہیں۔“
(19-مريم:83)
کاہنوں اور کافروں میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ میں نے اپنے پاس شیطان دیکھا ہے لیکن ہمارا ایمان ہے کہ شیاطین ان پر اترتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو پھر مرغ کے پاس فرشتے کا آنا اور مرغ کا اسے دیکھنا، اسی طرح گدھے کا شیطان کو دیکھنا اور اسے دیکھ کر آواز نکالنا کوئی تعجب کی بات نہیں اگرچہ ہم نہیں دیکھ سکتے کیونکہ ہم تو ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے بعض حیوانات کو خاص قوتیں عطا کی ہیں جو ہمارے تجربات میں داخل ہیں۔ چیونٹی کی قوت شامہ (سونگھنے کی قوت) انسان سے بدرجہا زیادہ ہے۔ چیل انتہائی بلندی سے سطح زمین پر گوشت کا ٹکڑا وغیرہ دیکھ لیتی ہے، بلی اندھیرے میں دیکھ لیتی ہے۔ ان کے علاوہ بھی عجائبات الہیہ ثابت ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا تو پھر مرغ کے فرشتہ دیکھنے یا گدھے کے شیطان دیکھنے میں بھی کوئی وجہ انکار نہیں۔
➋ مرغ کی آواز (اذان) کے وقت اللہ تعالیٰ سے فضل طلب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ مرغ اس وقت فرشتے کو دیکھ رہا ہوتا ہے تو فرشتے کی موجودگی میں دعا کی قبولیت کی زیادہ امید ہوتی ہے کیونکہ فرشتے مومن کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔ اس بارے میں بھی بہت احادیث ثابت ہیں۔ شیاطین سے تو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرنی چاہیے۔
خصوصاً جب کہ وہ انسان کے پاس آئیں، چنانچہ قرآن کریم نے اس دعا کی تلقین فرمائی ہے۔
وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ ﴿٩٧﴾ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ ﴿٩٨﴾
”اور کہہ دیجیے کہ پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اور اے میرے رب! میں اس بات سے بھی تیری پناہ چاہتا ہوں کہ وہ میرے پاس آئیں۔“
(23-المؤمنون:97-98)