اللہ کی راہ میں شہادت سے افضل کوئی عمل نہیں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن ابن عباس عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه قال: ما العمل فى أيام أفضل منها فى هذه العشر قالوا ولا الجهاد قال ولا الجهاد إلا رجل خرج يخاطر بنفسه وماله فلم يرجع بشيء.
”ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان دس دنوں (ذی الحجہ کے پہلے دس دن) کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں۔“ لوگوں نے پوچھا: اور جہاد میں بھی نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں جہاد میں بھی نہیں، سوائے اس شخص کے جو اپنی جان و مال خطرے میں ڈال کر نکلا اور واپس کچھ بھی نہ لایا (یعنی سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا)۔“
( صحیح بخاری) (رواہ البخاری، کتاب العیدین، باب فضل العمل فی ایام التشریق، الرقم: 969)

فوائد

➊ دس دن سے مراد ماہِ ذی الحجہ کا پہلا عشرہ ہے، جو کہ افضل ایام شمار ہوتے ہیں۔
➋ اس حدیث میں جہاد کی عظمت عیاں ہے، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جہاد کے مختلف درجات ہیں، سب سے اونچا درجہ یہ ہے کہ بندہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جان تک کو قربان کر دے۔
➌ اس حدیث سے عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت بھی واضح ہوتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس میں کیے جانے والے اعمالِ صالحہ کی کتنی اہمیت ہے۔
➍ شہادت کی فضیلت: حدیث مذکور سے ثابت ہوا کہ ذی الحجہ کے دس دنوں کے عمل سے کوئی بھی عمل افضل و بہتر نہیں، ہاں البتہ وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنی جان و مال کے ساتھ نکل کر کچھ بھی واپس نہیں لایا، یعنی شہید ہو گیا، تو اس کا یہ شہادت والا عمل ایامِ ذی الحجہ کے اعمال سے بھی افضل ہے۔