تنقیدِ حدیث میں عقل و درایت: مودودی و اصلاحی کے منہج کا جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس حکیم اجمل خان صاحب کی مرتب کردہ کتاب "جماعت اسلامی کو پہچانیے” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

تنقیدِ حدیث میں عقل و درایت: منہجِ محدثین کی روشنی میں تحقیقی جائزہ

درایت اور تفقہ:

مولانا شبلی رحمۃ اللہ علیہ نے ”سیرۃ النعمان” میں محدثین کے طریقِ فکر پر کڑی تنقید فرمائی، فقہائے کوفہ رحمۃ اللہ علیہ کے طریقِ فکر کی اس عنوان سے حمایت فرمائی کہ اگر وہ آج زندہ ہوتے تو شاید اس جدید انداز کی وکالت کو بھی پسند نہ فرماتے۔ مولانا نے حدیث کا انکار نہیں فرمایا لیکن عقل کو درایت اور تفقہ کے نام سے اس قدر اہمیت دی جس سے حدیث اور ائمہ حدیث کے مسلک کو انکار کے قریب قریب نقصان پہنچا، اور باستثناء چند ایک اہل علم کے تمام ندوہ کے متعلقین میں یہ مرض پایا جاتا ہے۔ اس حلقے میں یہ غلطی عام ہے کہ ائمہ حدیث فقیہ نہ تھے، تنقیدِ حدیث کے لیے جو اصول وضع کیے گئے ہیں ان میں درایت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے، اصولِ درایت کے مطابق تنقید فقہاء نے فرمائی، اور اب بھی ہر ایک کو حق ہے کہ اس نقطۂ نظر سے حدیث پر تنقید کرے، جسے چاہے رکھ لے اور جسے چاہے ردی کی ٹوکری میں ڈال دے۔ انا للہ۔
پھر درایت کا مفہوم ایسا عام بیان فرمایا جس سے حدیث کا قتلِ عام ہو سکتا ہے۔ "سیرۃ النعمان” میں مولانا فرماتے ہیں:
"درایت سے یہ مطلب ہے کہ جب کوئی واقعہ بیان کیا جائے تو اس پر غور کیا جائے، وہ طبیعتِ انسانی کے اقتضاء، زمانہ کی خصوصیتیں، منسوب الیہ کے حالات اور دیگر قرائنِ عقلی کے ساتھ کیا نسبت رکھتا ہے۔”
"اقتضائے طبیعت” وہی نیچر کا ترجمہ ہے۔ سرسید کا بھی یہی خیال تھا کہ نیچر کے خلاف کوئی چیز مقبول نہیں ہو سکتی۔
اس میں درایت کا مفہوم اس قدر آزاد کر دیا گیا ہے کہ اس پر کوئی پابندی نہیں رہی۔ اقتضائے طبیعت کی حد؟ اور اس اقتضاء کا معیار کیا ہے؟ اور عقلی قرائن کی تعیین کون کرے، کیسے کرے؟ زمانہ کی خصوصیات نصوص کی راہ میں حائل ہو سکتی ہوں تو پرویز کے جرم پر بھی نظرِ ثانی ہو جانی چاہیے۔
عقل کو اس قدر وسیع اختیارات نہ قاضی عیسیٰ بن ابان نے دیئے تھے نہ معتزلہ کو یہ حوصلہ ہوا تھا۔ یہ گنوار کے ہاتھ کسوٹی اور پاگل کے قبضے میں تلوار دے دی گئی ہے، جو ان کے جی میں آئے کریں، دین کا اللہ حافظ۔
❀ آگے بڑھنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ درایت کا مفہوم اہل علم کی زبان سے بھی سن لیا جائے تا کہ آج کی درایت اور پرانی درایت میں فرق ظاہر ہو سکے۔
["العلم بدراية الحديث هو علم باحث عن المعنى المفهوم من الفاظ الحديث وعن المراد منها مبنيا على قواعد العربية وضوابط الشريعة ومطابقا لاحوال النبي ﷺ”]
مفتاح السعادة اور مصباح السيادة تاشکبریٰ زادہ صاحب کشف الظنون، اصولِ حدیث اور درایتِ حدیث کو ایک ہی فن تصور فرماتے ہیں (ص366 ج1)۔ درایتِ حدیث میں حدیث کے مطلب اور مراد سے عربی قواعد اور شریعت کے ضوابط اور آنحضرت ﷺ کے حالات کے مطابق بحث کی جاتی ہے۔ [ابجد العلوم: ص436 ج2، ايضاً]
❀ اس درایت میں، اور جو درایت آج کل ہمارے بازار میں بک رہی ہے بڑا فرق ہے۔ مصطلح درایت میں علم ہے، بصیرت ہے۔ ہمارے بازار کی درایت میں ذہنی آوارگی ہے اور پریشان خیالی ہے۔ شریعت میں عموماً اور حدیث میں خصوصاً اس قسم کی بے قاعدگی اور آوارگی کو جگہ نہیں دی جانی چاہیے۔ سرسید احمد خاں مرحوم نے اسی درایت کے حوصلہ پر جھٹکے اور حلال کو برابر کر دیا تھا۔ وہ دونوں کو حلال سمجھتے تھے۔

مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی:

مولانا اصلاحی اور مولانا مودودی کا سکولِ فکر مولانا شبلی اور سرسید کے سکولِ فکر سے ملتا جلتا ہے۔ یہ حضرات بھی تفقہ اور درایت کے غائبانہ عاشق ہیں، مگر یہ ظاہر نہیں فرماتے کہ ان کے ہاں درایت کا کیا مفہوم ہے۔ مولانا شبلی نے جب درایت کی بحث چھیڑی تو اہلِ حدیث علماء نے ان کا اس طرح تعاقب فرمایا کہ اس بحث کا کوئی پہلو تشنہ نہ رہا۔ فقہاء اور محدثین کی خدمات کو پوری طرح واضح فرمایا۔ مولانا عبدالعزیز اسلم آبادی کی حسن البیان، مولانا ابو یحییٰ شاہجہان پوری کی الارشاد، اور مولانا عبدالسلام مبارکپوری کی سیرۃ البخاری میں یہ موضوع اس طرح چھان پھٹک کر رکھ دیا گیا کہ آئندہ اس پر تفصیلاً لکھنے کی کسی کو جرأت نہ ہو سکی۔
❀ مودودی صاحب نے "دانشمندی” سے کام لیا، درایت کو گول مول کر دیا، کچھ نہیں فرمایا کہ درایت سے ان کی کیا مراد ہے اور وہ کون سے اصول ہیں جو فقہاء نے اس کے متعلق وضع فرمائے، البتہ محدثین پر تنقید فرماتے ہوئے ارشاد ہے:
"وہ (محدثین) بھی زیادہ سے زیادہ یہی کہتے تھے کہ اس حدیث کی صحت کا ظنِ غالب ہے، مزید برآں یہ ظنِ غالب جس بنا پر ان کو حاصل ہوتا تھا وہ بلحاظِ روایت تھا نہ بلحاظِ درایت، ان کا نقطۂ نظر زیادہ تر اخباری ہوتا ہے، فقہ ان کا اصل موضوع نہ تھا۔ الخ” [مسلکِ اعتدال: ص319]
❀ مولانا اصلاحی مدظلہ تنقیدِ حدیث کے منصب کو اور بھی کھلا رکھنے کی کوشش فرماتے ہیں، ملاحظہ ہو:
"وہ (نقادِ حدیث) اخلاقی، اعتبار سے بھی اتنا بلند ہو کہ اس نے دین داری کو اپنا مشغلہ نہ بنا رکھا ہو، وہ حدیث پر نقد و تبصرہ کا اہل ہے۔ یہ منصب نہ ہر ملا کے مکتبی کا ہو سکتا ہے نہ دفتر کے کلرکوں کا۔ [ترجمان: جلد45 عدد2 ص148]
❀ پھر فرماتے ہیں مشائخ کی اسانید، رسمی علوم کی تحصیل، مدارس کی تعلیم سے بھی یہ اہمیت حاصل نہیں ہوتی کہ حدیث پر تنقید کر سکے بلکہ:
"میرے نزدیک آدمی کے علم و فضل کی بہترین اور بہترین شہادت اس کے اپنے کارنامے اور اس کی دینی خدمات ہیں۔”
اصولاً کارناموں کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اس معیار کے خطرات کو مولانا نے محسوس نہیں فرمایا۔ مرزا غلام احمد، عنایت اللہ خاں المشرقی اور پرویز وغیرہ حضرات تنقید کا حق اور حدیث کے رد و قبول میں حکم کی حیثیت کارناموں ہی کی بنا پر اپنا حق سمجھتے ہیں۔ آپ رسمی علوم اور مشائخ کی اسانید کو نظر انداز فرما کر بعض اعتراضات سے بچ گئے ہیں مگر کارناموں اور خدمات کے عموم سے ایک دوسری مصیبت کی ذمہ داری آپ نے اپنے سر لے لی ہے۔ یہ آوارہ مزاج حضرات "کارناموں اور خدمات” کو اس طرح پھیلائیں گے کہ عوام کو ان کی گرفت سے بچنا مشکل ہوگا۔ مودودی صاحب کو بچا کر پورے فن کو مصیبت میں ڈالنا مناسب نہ ہوگا۔ [حفظت شيئاً وغابت عنك اشياء] معیار "کارنامے اور خدمات” ٹھہرا۔ ان کی نوعیت تو دس پانچ سال میں ہمیشہ بدلتی رہتی ہے۔

خدمات اور کارنامے:

خدمات اور کارنامے اگر حدیث پر تنقید کا معیار قرار دیئے جائیں تو ان کے لیے کوئی پابندی ہونی چاہیے۔ ہمارے آخری دور میں نواب صدیق حسن خاں رحمۃ اللہ علیہ، مولانا عبدالحی لکھنوی، مرزا غلام احمد، مولوی احمد رضا صاحب تصنیف و تالیف کے لحاظ سے مشہور ہیں، کیا ان سب کو حدیث پر تنقید کا حق دیا جائے گا۔ درس و تدریس کے مشاغل میں سید احمد خاں مرحوم، مولانا سید نذیر حسین صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے کارنامے اور خدمات دنیا کو معلوم ہیں لیکن تنقید کا حق کون سی خدمات اور کارناموں کے بعد دیا جائے گا؟
درایت اور کارناموں کو اگر کھلا اور آزاد کر دیا گیا تو یہ انکارِ حدیث کا پیش خیمہ ہوگا۔ مولانا مودودی اور آپ کی روشنی سے حدیث پر نقد میں ایسی فوضویت اور آوارگی کا راستہ کھول دے گی جس کی مضرت انکارِ حدیث سے کم نہیں ہوگی۔ اس آوارگی کا اندازہ چند پڑھے لکھے حضرات سے نہیں لگانا چاہیے جو آپ کے آگے پیچھے پھرتے پھراتے رہتے ہیں اور نہ ان چند اہلِ حدیث رفقاء سے جو جماعتی پابندیوں کی وجہ سے منقار زیر پر رکھنے پر مجبور ہیں، جماعتی مصالح کی بنا پر وہ اپنا عندیہ کھل کر نہیں کہہ سکتے۔ اس کا اندازہ ان عوام سے لگانا چاہیے جو ملک کے اطراف و اکناف میں آپ کا لٹریچر پڑھتے ہیں۔ جب وہ حریمِ قیادت سے یہ سنیں گے کہ ائمہ حدیث اصولِ درایت سے محروم تھے، ان کا نقطۂ نظر اخباری تھا، فقہی نہ تھا، جب انہیں معلوم ہوگا کہ مشائخ کی اسانید، مدارس کی تعلیم سے تنقیدِ حدیث کی اہلیت نہیں پیدا ہوتی، تو وہ اپنے ذہن میں ائمہ اور دینی تعلیم کے متعلق کیا رائے قائم کریں گے؟ وہ جب آپ کی زبان سے سنّت کی محتاط اور سکڑی ہوئی تعریف سنیں گے، اخبارِ آحاد کی ظنیت کا وظیفہ سنیں گے تو اس ماخذ کے متعلق ان کے حسنِ ظن کو کس قدر ٹھیس لگے گی۔ حریمِ قیادت میں آنے کے بعد آپ کی ذمہ داریاں "مکتبی ملا” سے کہیں زیادہ ہو گئی ہیں جو فرمانا ہو اسے بہت سونچے۔
یہ ہر درایت سے فنِ حدیث میں مہارت حاصل ہوتی ہے نہ ہر کارنامے اور خدمت سے انسان رسول کا مزاج شناس بن سکتا ہے۔ اس کے لیے وہی لوگ موزوں ہو سکتے ہیں، حدیث جن کا سب و روز کا مشغلہ ہے جن کے عزیز اوقات [قال اللہ و قال الرسول] کے شغل میں بسر ہوتے ہیں۔ قیادت پیشہ حضرات نہ ہیرا پہچانتے ہیں نہ جوت۔

مزاج شناسی اور جوت:

مولانا مودودی نے مسلکِ اعتدال میں اصولِ حدیث اور ان کے قواعد کو ظنی اور انسانی مساعی کا نتیجہ کہہ کر اس کے مقام کو ہلکا کر کے ”دین کے سسٹم“ ”مزاج شناسی“ اور ”ہیرے کی جوت“ پر نقدِ حدیث کا انحصار فرمایا اور پھر اسے ذوقی کہہ کر حدیث اور اس کی تنقید کو اس قدر بے اصول کر دیا کہ اس مسکین فن پر ہر منچلا زبان درازی کر سکے اور مولانا اصلاحی نے کارناموں اور خدمات کو معیار قرار دے کر اسے اور بھی کھلا کر دیا۔ یہ کشادگی نہ قاضی عیسیٰ بن ابان کے مسلک میں تھی نہ متأخرین فقہاء میں اس کی ’جوت‘ کچھ تو معتزلہ سے ملتی ہے اور کچھ سرسید کی نیچر پرستی سے۔ بیچارے اہل حدیث جو متأخرین فقہاء اور قاضی عیسیٰ بن ابان سے شاکی تھے وہ آپ کے ان تنقیدی جود و سخا پر کیسے مطمئن ہوتے۔ آپ حضرات کی یہ ساری کوششیں اس لیے تھیں کہ آپ ظن سے محفوظ رہ سکیں، لیکن جہاں اس وقت تشریف فرما ہیں وہاں ظن ہی ظن ہے۔ درایت ظنی، قیاس ظنی، علت ظنی، اس کا طرد وعکس ظنی، مزاج شناسی ظن محض اور ہیرے کی جوت ظنی، محدثین کا با اصول فن آپ کی نظر میں اس لیے نہ بچ سکا کہ یہ انسانی کوشش ہے جو اپنی فطری حدود سے آگے نہیں جا سکتی، لیکن ’درایت‘ اور ’دین کا سسٹم‘ اور ’شریعت کا مزاج‘ قیاس اور اس کی علل، یہ بھی تو انسانی مساعی کے نتائج ہونگے، باقاعدہ ظن سے بھاگ کر آپ ذوقی اور بے قاعدہ ظن کے زیرِ سایہ آ گئے۔ مسلکِ اعتدال کی تلاش میں بے اعتدالی کا شکار ہو گئے۔ [ولتنظر نفس ما قدمت لغد]

احادیث میں یقین اور ظن:

ائمہ حدیث کی نظر میں قرآن عزیز اور متواتر احادیث سے یقین حاصل ہوتا ہے اور متواتر احادیث کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے، تواتر لفظی، تواتر معنوی، تواتر عملی کی تعداد سنت کے دفاتر میں کثرت سے موجود ہے لیکن دین کے تمام شعبوں میں تواتر نہیں پایا جاتا بلکہ اس کے لیے آحاد ہی کی طرف رجوع کرنا ہو گا۔ آحاد سے جو علم حاصل ہوتا ہے اسے بعض اہل علم نے ظن سے تعبیر کیا۔ گویا تواتر سے دوسرے مرتبہ پر جو علم حاصل ہوتا ہے اسے اصطلاحاً ظن کہا جاتا ہے ظن زندگی کے تمام شعبوں میں پایا جاتا ہے۔ دینی اعمال کا فائدہ ظنی ہے، دنیا کے کاروبار اور ان کے نتائج ظنی ہیں، لعنت ظنی ہے، الفاظ کی دلالت ظنی ہے، کعبہ کی سمت کا فیصلہ بعض اوقات ظن سے کیا جاتا ہے، جس ظن پر پوری زندگی کا انحصار ہے اسے نہ شرع نظر انداز کر سکتی ہے نہ عرف اور رواج۔ قرآن مجید نے اس ظن کو مستند سمجھا اور اس پر احکام مرتب فرمائے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے ایک ظنی اطلاع پر مصر سے ہجرت کی، ایک لڑکی کی اطلاع پر مصر میں اسی جگہ پہنچے جہاں مدت تک قیام فرمایا، واپسی پر طور کا نظارہ ایک ظن کی بنا پر دیکھا اور نبوت سے سرفراز ہوئے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے محض امید کی بنا پر فلسطین میں قیام فرمایا اور ایسے ہی گمان کے پیشِ نظر سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو مع سیدہ ہاجرہ حجاز رضی اللہ عنہا کے ویرانہ میں اقامت کا حکم دیا۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کو خواب کی تعبیر کے صلہ میں جیل سے رہائی ملی اور اس کے ظنی عواقب کے پیشِ نظر حکومت سے سرفراز ہوئے۔ کنعان سے سیدنا یعقوب علیہ السلام نے خبرِ واحد کی بنا پر مصر کے سفر کی تیاری فرمائی۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے تیہہ کی زندگی اس گمان پر اختیار فرمائی کہ بنی اسرائیل کو کسی وقت آرام ملے گا۔ غرض قرآنِ حکیم نے اخبارِ آحاد اور ظنی اطلاعات کو اس استناد کے ساتھ بیان فرمایا گویا اس میں وثوق اور یقین پایا جاتا ہے۔
❀ عز بن عبدالسلام نے القواعد الکبریٰ کے شروع میں وضاحت سے لکھا ہے کہ دنیا اور آخرت کے معاملات کا بہت حد تک ظن پر انحصار ہے، اس لیے امت نے ظن کی اصطلاح استعمال فرمانے کے باوجود آحاد اور ظنیات کو دین میں اسی قدر اہمیت دی ہے جس طرح ایک مستند چیز کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ ظن کے اس اصطلاحی مطلب کو سمجھ لینے کے بعد یہ خیال کرنا کہ شریعت میں ظن کے لیے کوئی گنجائش نہیں، غلط ہے اور محض ایک وہم۔ بلکہ مظنونات کو ”غیر ثابت شدہ“ کہنا یا سمجھنا بھی غلط ہے، اس میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ظنیات کا مقام تواتر کے بعد ہے یا ظنونِ مصطلحہ تواتر سے متعارض نہیں ہو سکتے۔

فن حدیث اور عقل:

یہ بھی صحیح نہیں کہ احادیث کی تنقید میں درایت کو اہمیت نہیں دی گئی، یا محدثین کا نقطۂ نظر اخباری تھا فقہی نہ تھا، بلکہ جہاں تک عقل اور درایت کا مقام ہے اس کا پورا پورا احترام فرمایا گیا ہے۔ اہل حدیث اور فقہاء کے طریقِ فکر میں اختلاف کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ ائمہ حدیث تفقہ سے بے خبر تھے، اختلاف تو خود فقہائے عراق میں بھی موجود ہے۔ علامہ دبوسی کی تاسیس النظر سے ظاہر ہے کہ فقہاء رحمہم اللہ میں اصولی اختلافات موجود ہیں۔ یہ سب طریقِ فکر کا نتیجہ ہے، نہ فقہاء حدیث سے بے بہرہ ہیں نہ ائمہ حدیث فقہ سے بے خبر۔ اختلاف کی وجہ صرف طریقِ فکر میں اختلاف ہے، اور نہ درایت اور ہیرے کی جوت سے یہ جوہری کوئی بھی بے خبر نہ تھا، رحمہم اللہ رحمۃ واسعۃ۔

❀ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اپنے شیخ حافظ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ سے نقل فرماتے ہیں:

[قال وقد تدبرت ما امكنني من ادلة الشرع فما رأيت قياساً صحيحاً يخالف حديثاً صحيحاً كما ان المعقول الصحيح لا يخالف المنقول الصحيح بل متى رأيت قياساً يخالف اثرا فلا بد من ضعف احدهما الخ]
حسبِ امکان میں نے شرعی دلائل پر غور کیا ہے۔ میں نے صحیح قیاس کو صحیح حدیث کے خلاف نہیں پایا، جس طرح عقلِ صحیح، نقلِ صحیح کے کبھی خلاف نہیں ہوتا۔ جب قیاس کسی اثر کے خلاف ہوتا ہے ان میں ایک ضرور ضعیف ہوتا ہے، لیکن قیاسِ صحیح اور فاسد میں تمیز کرنا آسان نہیں۔ [اعلام الموقعین: ص4 ج2]
اسی قسم کی صراحت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے بھی منقول ہے جسے طوالت کی وجہ سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قیاس اور عقل ایک چیز نہیں ہے، قیاس بھی عقل کے خلاف ہو سکتا ہے، اس لیے اصولِ فقہ کے قواعد کو عقلی اصول سمجھنا قطعاً غلط ہے۔ یہ اصول ایک خاص طریقِ فکر کی ترجمانی کرتے ہیں جس کی وضاحت شاہ صاحب نے حجۃ اللہ، انصاف، عقد الجید، وغیرہ میں فرمائی ہے۔ اس لیے اصولِ فقہ کو اصولِ عقلیہ سمجھنا کم فہمی اور سادگی ہے۔

❀ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

[ما احسن قول القائل اذا رأيت الحديث يباين المعقول او يخالف المنقول او يناقض الاصول فاعلم انه موضوع] اس شخص کا قول کیا ہی عمدہ ہے کہ جب تم کسی حدیث کو عقلِ صحیح کے خلاف، منقولاتِ ثابتہ کے مخالف، یا مسلمہ اصولوں سے متصادم پاؤ تو جان لو کہ وہ موضوع ہے۔
[تدریب شرح تقریب: ص100]

❀ ابو بکر طیب نے فرمایا:

وضع کی یہ بھی نشانی ہے کہ وہ عقل کے خلاف ہو اور اس کی کوئی توجیہ نہ ہو سکے اور جو حدیث حس اور مشاہدہ کے خلاف ہو وہ بھی موضوع ہو گی، قرآن مجید اور سنتِ متواتر کے خلاف ہو، یہ بھی موضوع ہو گی، اجماع کے خلاف ہو اس کا بھی یہی حکم ہے۔ [تدریب الراوی: ص99]
سخاوی نے فتح المغیث میں اس کے قریب قریب فرمایا ہے۔
❀ مولانا اصلاحی اور مودودی صاحب کے مضامین میں نقدِ حدیث کے متعلق جن نکات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے محدثین کی نظر اس سے بہت آگے ہے۔ یہ کس مسخرے نے آپ حضرات کو بتایا کہ محدثین نے اصولِ درایت کو نظر انداز فرمایا، یا ان کا نقطۂ نظر صرف اخباری تھا۔ پوری وثوق سے عرض کروں گا کہ نقدِ حدیث کے متعلق فقہائے عراق نے عقل کی روشنی میں آج تک کوئی اصل وضع نہیں فرمایا۔ یہ مولانا شبلی مرحوم اور مولانا مودودی کا ایک خواب ہے جس کی کوئی تعبیر نہیں۔ یہ ایک ایسا تخیل ہے جس کا نفس الامر سے کوئی تعلق نہیں۔ تنقیدِ حدیث کے متعلق آج تک جو کچھ ہے عقلی ہو یا نقلی، روایت کے نقطۂ نظر سے ہو یا درایت کے لحاظ سے، سب ائمہ حدیث کی مساعی کا مرہونِ منت ہے، یہ میرا خیال نہیں، آج سے چند سال قبل مولانا عبدالجبار عمر پوری، مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی، مولانا عبدالعزیز رحیم آبادی، مولانا عبدالسلام مبارک پوری، نے پوری آواز سے اس کا اعلان کیا۔ یہ ہماری بد نصیبی ہے کہ ان کے اتباع اور احقاد یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہیں لیکن خاموشی پر مجبور ہیں۔ [انا للہ وانا الیہ راجعون]
اصول اور قیاس میں ائمہ عراق کی کوششیں قابلِ صد ہزار تحسین ہیں، ان کی موشگافیاں علمی حلقوں سے داد حاصل کر چکی ہیں، لیکن معلوم ہے کہ وہ عقل کے اصول نہیں بلکہ وہ ایک خاص طریقِ فکر کی تخریجات ہیں جن کی غیر معقولیت جماعتِ اسلامی کے حلقوں میں بھی مسلم ہے۔ حال ہی میں مولانا اصلاحی کا ایک پرمغز مقالہ زکوٰۃ کی تملیک کے متعلق شائع ہوا جس میں احناف کے مسلک پر کھلی اور کڑی تنقید فرمائی گئی تھی، مولانا مودودی نے اپنے رسالہ پردہ میں بعض فقہی مسائل پر بڑی بے لاگ تنقید فرمائی تھی۔ یہ خیال ہمارے اور آپ کے حلقوں میں مسلم ہے، اس لیے اس بحث میں آپ حضرات کا وقت ضائع کرنا مناسب نہیں۔

اصل نزاع:

بحث اس میں نہیں کہ فہم اور تنقیدِ حدیث میں محدثین کے نزدیک عقل اور درایت کو دخل ہے یا نہیں، پورے دین کا خطاب عقلمندوں سے ہے۔ بحث اس میں ہے کہ آیا ہر مدعیِ عقل کو یہ اجازت دے دی جائے کہ وہ کتاب وسنت کو اپنی عقل کی سان پر رکھ کر پرکھنا شروع کر دے اور جو حکم اس معیار پر پورا نہ اتر سکے اس کا انکار کر دیا جائے یا اسے مآخذ کے لیے تعصب سے تعبیر فرما کر حقارت کی نگاہ سے ٹھکرا دیا جائے، آیا عقل اور درایت کو احادیث اور سنت کے اس قتلِ عام کی اجازت ہونی چاہیے؟ ائمہ اور حفاظِ حدیث اور آج کے گنہگارِ اہل حدیث اس کے مخالف ہیں اور ان شاء اللہ رہیں گے، الفاظ کی تعبیر میں تنوع اور اسالیبِ کلام میں ہیرا پھیری سے حقائق نہیں بدل سکتے۔ جدید قیادتوں کے طریقِ فکر اور اہل حدیث کے طریقِ فکر میں بین اور کھلا اختلاف ہے، قدم اٹھانے سے پہلے پوری طرح سوچنا چاہیے اور جدید نظریات کے احتساب سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ مسائل چھان پھٹک اور بحث و نظر سے حل ہوتے ہیں، زبان درازی سے نہیں۔ میری رائے میں مولانا مودودی اور مولانا اصلاحی کے نظریات نہ صرف مسلکِ اہل حدیث کے خلاف ہیں، بلکہ یہ نظریات تمام ائمہ حدیث کے خلاف ہیں۔ ان میں آج کے جدید اعتزال اور تجہم کے جراثیم مخفی ہیں۔

آخری گزارش:

مولانا نے سائل کا جواب نمبروار دیا ہے، میں نے ضروری مباحث کو لے لیا ہے اور اپنے مسلک کی حسبِ ضرورت وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ نمبر 6-7 کے متعلق بعض چیزیں کہی جا سکتی تھیں، لیکن میں نے اسے نظر انداز کر دیا۔ اس میں جماعتِ اسلامی کی تعریف میں مبالغہ آمیزی ہے جماعتی پروپیگنڈا اور رعایت ہے، اس کا مولانا کو حق حاصل ہے۔ حضرتی دعوت اور رعایت کا یہی طریق ہے اور بعض حصوں میں مولانا مودودی صاحب سے عشق اور ان کے محاسن کا تذکرہ، ان کے علم، طریقِ کار اور جرأت کا اشتہار ہے۔ گو اس میں کتنا ہی مبالغہ اور تمازج ہو مگر کسی نظم کے ساتھ وابستگی کا یہ لازمی نتیجہ ہے، اس کا مولانا کو پورا حق ہے۔ اصل موضوع پر بقدرِ ضرورت گزارش کرنے کے بعد یہ چیزیں میرے موضوع سے باہر ہیں۔ [اللهم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعه وارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابه]
ان گزارشات کو یہاں ختم کرتے ہوئے طویل سمع خراشی کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ انتہائی اختصار کے باوجود گزارشات خاصی طویل ہو گئی ہیں اور مکرر گزارش کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں، میرے دل میں دونوں بزرگوں کے لیے پورا احترام ہے۔ لیکن میں نے اپنے مسلک کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے اگر کوئی لفظ آپ حضرات کی شان کے خلاف ہو تو صمیمِ قلب سے اس کے لیے معافی چاہتا ہوں۔ لیکن اپنے مسلک کو کسی مصلحت پر قربان کرنا میرے لیے مشکل ہے۔ واما حب ليلى فلا توب۔
ہندوستان کے مسلمانوں پر!
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی کے جو احسانات ہیں ان کو رہتی دنیا کبھی نہ بھولے گی:
انہوں نے سب سے پہلے قرآن مجید کا ترجمہ شائع کیا۔
انہوں نے اس تاریک دور میں حدیث کو رواج دیا جب کہ کوئی حدیث کا نام تک نہ جانتا تھا۔
ان کے زہد اور اتقا کی بدولت ہزار ہا انسان اسلام لائے۔
بلا شبہ وہ ایک عالم باعمل شخصیت کا بہترین نمونہ تھے۔
حیاتِ ولی
مقدس ہستی کی مفصل حیات ہے جس میں آپ کے آباؤ اجداد آپ کے اساتذہ حرمین اور بعد کی زندگی کے مکمل حالات مندرج ہیں۔ یہ کتاب آپ میں بھی اتقا پیدا کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔