قیامت کی نشانی : موت کی تمنا کی جائیگی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : موت کی تمنا کی جائیگی

عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرجل فيقول : يا ليتني كنت مكانه
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ ایک آدمی دوسرے کی قبر سے گزرے گا تو کہے گا: کاش ! اس کی جگہ میں قبر میں ہوتا۔
بخاري : كتاب الفتن : باب لا تقوم الساعة حتى يغبط أهل القبور (7115) مسلم (7301) احمد (311/2) المؤطا (53) عبد الرزاق (378/11)
وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والذي نفسي بيده ! لا تذهب الدنيا حتى يمر الرجل على القبر فيتمرغ عليه ويقول : يا ليتنى كنت مكان صاحب هذا القبر وليس به الدين إلا البلاء
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہو گی حتی کہ آدمی قبر سے گزرے گا اور اس پر لیٹ کر کہے گا : کاش ! میں اس قبر میں ہوتا اور اس وقت دین کی وجہ سے نہیں بلکہ آزمائش کی وجہ سے یہ کہے گا۔
مسلم : کتاب الفتن : باب لا تقوم الساعة حتى يمر الرجل بقبر الرحل فيتمنى ان يكون مكان الميت من البلاء (157) احمد (702/2) عبد الرزاق (378/11)
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں :
فيقول : يا ليتني مكانه ما به حب لقاء الله عز و جل
آدمی کہے گا۔ کاش ! میں اس قبر کی جگہ ہوتا اس لئے کہ اسے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی شدید محبت ہوگی۔
احمد (702/2)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ دجال کے خروج کی تمنا کریں گے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ، وہ کیوں؟ فرمایا: اس لئے کہ انہیں اس وقت شدید مصائب و آلام کا سامنا ہوگا۔ ( اس لئے وہ تمنا کریں گے کہ دجال نکلے پھر عیسیٰ علیہ السلام آکر اسے قتل کریں اور آزمائشوں سے جان خلاصی ہو)
مجمع الزوائد (5/7) – 284) سندہ صحیح

فوائد  :

➊ لوگوں کا موت کی تمنا کرنا قیامت کی ایک نشانی ہے۔ 
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کی تمنا سے منع کیا ہے۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
لا يتمنى أحدكم الموت إما محسنا فلعله أن يزداد خيرا…
”تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو شاید وہ مزید اچھے عمل انجام دے گا اور اگر وہ برا ہے تو شاید توبہ کرلے۔“
بخاری: کتاب المرضى : باب تمنى المريض الموت (5673)
ایک روایت میں ہے :
لا يتمنى احدكم الموت ولا يدع به من قبل أن ياتيه
تم میں سے کوئی شخص موت آنے سے پہلے اس کی تمنا نہ کرے اور نہ ہی موت کی دعا مانگے۔
مسلم : كتاب الذكر والدعا : باب كراهة تمنى الموت لضر نزل به (2682)
ایک روایت میں ہے : 
تم میں سے کوئی شخص اگر کسی تکلیف میں مبتلا ہوتو (پھر بھی) موت کی تمنا ہر گز نہ کرے اگر مجبورا کرنا ہی چاہتا ہے تو اس طرح کہہ لے۔
اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي
الہی ! جب تک زندگی میرے لئے بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب موت میرے لئے بہتر ہو تو مجھے موت دے دے۔
بخاری : كتاب المرضى (5671) مسلم (2680)
➌ خودکشی حرام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَلَا تَقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ
اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔
سورۃ النساء : 29
➍ موجودہ دور میں بے شمار ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں جو قصداً یا بلا قصد و ارادہ موت کی تمنا کرتے ہیں، موت کے لئے دعائیں مانگتے ہیں۔ احادیث کی روشنی میں موت کی تمنا منع ہے مگر قبل از قیامت لوگ بڑی سنجیدگی سے موت کی تمنا کریں گے ۔ اس کا ایک مفہوم تو واضح ہے کہ جس طرح جھوٹ، قتل، فحاشی اور دوسری برائیوں سے روکا گیا ہے مگر قیامت سے پہلے ان کا وقوع عام ہو جائے گا اسی طرح موت کی تمنا و خواہش سے روکا گیا ہے مگر قرب قیامت کے وقت لا محالہ اس کا وقوع عام ہوگا۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ فتنے اس قدر تیزی سے حملہ آور ہوں گے کہ موت کے سوا بچاؤ کی صورت نہیں ہوگی۔ 
➎ شہادت کی دعا یا دین و ایمان میں کسی فتنے سے بچاؤ کی وجہ سے موت کی دعا اس سے مستثنیٰ ہے۔ 
اللهم ارزقنا شهادة فى سبيلك
اے اللہ ! ہمیں اپنی راہ میں شہادت نصیب فرما۔ آمين