حلال و حرام کی پہچان اور اسلام میں حلال و حرام کتاب کا تحقیقی تعارف

فونٹ سائز:
یہ اقتباس ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب اسلام میں حلال و حرام سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد طاھر نقاش صاحب نے کیا ہے۔

گیارہ سال بعد حلال اور حرام دونوں واضح ہیں

آج امت مسلمہ پر اغیار کے افکار کی یلغار ہے۔ ان کی معاشرت اور معیشت پر یہودیوں، صلیبیوں اور ہندوؤں کا قبضہ ہو چکا ہے۔ کافروں کی ایک مکروہ گناؤنی اور خفیہ سازش کے نتیجہ میں ہم اس قدر مجبور و بے بس ہو چکے ہیں کہ اپنی روز مرہ کھانے پینے اور استعمال کی اشیاء کے لیے بھی ان کے محتاج بن چکے ہیں۔ عالمی معاشی مارکیٹ پر یہودیوں نے اس طرح قبضہ کر رکھا ہے کہ کوئی مسلمان وہاں دم مارنے اور امت مسلمہ کو کوئی مفید چیز فراہم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
آج ہمارے گھروں میں کھانے پینے سے لے کر دھونے اور نہانے تک کی تمام مصنوعات یہود و نصاریٰ کی تیار کردہ ہیں۔ ان چیزوں میں کون سی حلال ہے اور کون سی حرام کس میں خنزیر کی کھال، بال اور چربی یا الکوحل شامل کی گئی ہے کون سی چیز میں دیگر ممنوع اور حرام اشیا و عناصر کی ملاوٹ اور شمولیت ہے۔ امت میں کسی کو کچھ علم نہیں، سب آنکھیں بند کر کے استعمال کیے جارہے ہیں۔ کسی کو فکر نہیں کہ اللہ کریم کی حرام کردہ اشیا اور امور کے استعمال و ارتکاب سے نہ صرف یہ کہ انسانی صحت و اولاد پر اس کے مضر و تباہ کن اثرات مرتب ہوتے ہیں، بلکہ سرمایہ و دولت کا ضیاع اور اللہ کی نافرمانی کی بنا پر دنیا ناکام آخرت برباد اور جہنم واجب ہو جاتی ہے اور حضرت انسان دہکتی جہنم کا ایندھن بن جانا مقدر ٹھہرتا ہے۔إلا من رحم ربي اللہ کے چند برگزیدہ بندے ایسے بھی ہیں کہ جن کو اپنے کھانے پینے، اوڑھنے اور اپنے استعمال کی چیزوں میں حلال و حرام سے بچنے کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ ایسے صالح افراد کی چاہیے تو یہ کہ حوصلہ افزائی کی جائے لیکن شومئی قسمت ان کو کلمہ گو مسلمانوں سے ہی طرح طرح کے طنز، کڑوی کسیلی اور تضحیک آمیز باتیں سننا پڑتی ہیں۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود وہ اللہ کریم کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کسی کی باتوں کی پروا نہیں کرتے۔ اللہ کریم ہمیں بھی ایسا ہی بنائے، کیونکہ ہر کام میں حرام سے بچ کر حلال کو اپنا کر اللہ کریم کی رضا حاصل کرنا ہی مومن کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔
حلال اور حرام کی تمیز اور پہچان کے متعلق رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک قاعدہ کلیہ بتا دیا :
الحلال بين والحرام بين وبينهما مشتبهات
حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح کر دیا گیا ہے اور ان دونوں کے درمیان جو چیزیں آتی ہیں وہ متشابہات میں شامل ہیں۔
پھر فرما دیا :
اتقوا الشبهات
اور تم مشتبہ (ومشکوک) چیزوں سے بچ جاؤ۔
آج امت مسلمہ کی کامیابی و کامرانی مشتبہ چیزوں سے بچ جانے میں ہی ہے۔ جس چیز کے بارے میں تردد پیدا ہو، کسی قرینے کی بنا پر شک پیدا ہو کوئی دلیل سامنے آجائے اس سے فوری بچ جانا چاہیے، تا کہ حرام کاموں اور چیزوں کو اختیار کر کے کہیں ہم اپنی عبادات ہی ضائع نہ کر بیٹھیں۔ بعض لوگوں کو جب یہ سرزنش کی جاتی ہے کہ اس چیز کے استعمال سے بچ جاؤ یا یوں نہ کرو یا اس میں حرام اشیاء کی آمیزش ہے، یہ اللہ تعالیٰ اور رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کے مطابق حرام ہے، تو وہ دنیا میں کسی اعلیٰ مرتبہ پر فائز شخصیت کے عمل کو دلیل بناتے ہوئے کہتے ہیں : اسے تو فلاں مولانا صاحب، امیر صاحب، علامہ صاحب اور مفتی صاحب بھی استعمال کرتے ہیں۔ یاد رکھیں! یوں کسی دنیاوی طور پر اونچے مرتبے و عہدے والے کے کسی قول و فعل اور پسندیدگی کو اپنا لینے سے وہ حرام چیز حلال نہیں ہو جاتی۔
اس معاشرے میں رہتے ہوئے ہماری کچھ عادات، لین دین کے طریقے، شکل و صورت اور ہیئت کذائی، لباس، غذا، مجالس، خرید وفروخت کے مسائل، تجارت، حتیٰ کہ عبادات پر بھی حرام کا حکم لگ جاتا ہے۔ ہمارے کتنے ہی رویے اور معاملات و عادات ایسے ہیں جو احکامات رب العالمین اور فرامین رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے سراسر خلاف ہیں۔ کتنے ہی ایسے امور ہیں جن سے قرآن نے کھلے لفظوں میں منع کر دیا ہے کہ یہ حرام ہیں، ان کے قریب بھی نہ جاؤ لیکن افسوس صد افسوس ! ہماری دینی حمیت کی حس بالکل مردہ ہو چکی ہے۔ ہمیں اپنے خالق و مالک کے احکامات کی ذرہ بھر پروا نہیں اور ہم بلا روک ٹوک اپنے رب کریم کی نافرمانی اور بغاوت کا ارتکاب کرتے چلے جارہے ہیں۔ لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہیں کہ ہم کانٹوں کی راہ گزر پر دوڑتے ہوئے آگ کے کنویں میں گرتے چلے جارہے ہیں۔
یہ کتاب مسلمانوں کو حرام سے بچانے کے لیے لکھی گئی۔ اس میں مسلمانوں کے معاشرے میں رہتے ہوئے حرام سے بچنے کے لیے ایسے اصول وضوابط بتائے گئے ہیں کہ جن کی بنیاد پر مسلمان حرام امور سے اپنے آپ کو بچا سکتا ہے۔ یہ کتاب بظاہر روشن خیال اور آزادی رائے کے علمبردار مغرب بالخصوص برطانیہ میں بہت مقبول ہوئی۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کارٹون بنانے والوں، شیطانی آیات جیسی کتاب لکھنے والوں، اس کے علاوہ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے بد بختوں کو آزادی اظہار اور انسانی حقوق کی پاسداری کے نام پر پناہ دینے والوں کا یورپ، اس کتاب سے اس قدر خائف ہوا کہ اس نے وہاں اس کتاب پر پابندی لگا دی۔ یہ کتاب پابندی لگنے کے بعد اور بھی مقبول ہوئی اور اس کے مختلف زبانوں میں تراجم ہو کر شائع ہوئے۔ کسی بھی انسان کے اس کتاب کو اپنے پاس رکھنے کو جرم قرار دیا اور اسے سزا کا مستحق ٹھہرایا۔ اللہ کریم کی توفیق سے اب اس کا اردو ترجمہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
کتاب وسنت کی اشاعت کے مثالی ادارے ”دار الابلاغ“ نے آج سے گیارہ سال قبل اسے شائع کرنے کا پروگرام بنایا۔ لہذا ایک تحقیقاتی ٹیم نے اس پر ریسرچ ورک مکمل کیا اور راقم یہ کتاب بھائی سمیع اللہ مالک حدیبیہ پبلی کیشنز کو ساتھ لے کر نظر ثانی کے لیے فاضل نوجوان عالم با عمل مولانا مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ کے پاس سکیم موڑ لاہور پہنچا۔ ان کی بے پناہ مصروفیات کی بنا پر نظر ثانی درمیان میں ادھوری رہ گئی اور وہ کتاب کا مسودہ کہیں رکھ کر بھول گئے۔ اور ہم بھی اس انتظار میں بیٹھ گئے کہ کبھی تو مسودہ ملے گا۔ گزشتہ ماہ انہوں نے اپنی لائبریری کی ترتیب نو کی تو اس میں ”اسلام میں حلال وحرام“ کا مسودہ بھی مل گیا، لہذا انہوں نے گیارہ سال بعد نظر ثانی مکمل کر کے مجھے پہنچایا تو میں نے فوری آپ حضرات کی خدمت میں پیش کر دیا۔
یہ کتاب مصنف شہیر علامہ یوسف قرضاوی رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق عربی تصنیف ہے۔ مصنف نے مسلم معاشرے کو یورپ میں اور اسلامی ممالک میں رہتے ہوئے حلال و حرام کی تمیز کرنے کے متعلق اور اسلام کے احکامات کے مطابق کامیاب پاکیزہ زندگی گزارنے کے متعلق جامع رہنمائی فراہم کی ہے۔ یہ کتاب بلا شک و شبہ امت مسلمہ کے لیے ایک بیش بہا تحفہ ہے۔ کتاب میں بعض مقامات پر مصنف سے کچھ اجتہادی لغزشیں بھی سرزد ہوئی ہیں۔ ان اجتہادی غلطیوں کی مقتدر علمائے امت نے گرفت بھی کی، ان پر رد بھی لکھا اور تصحیح بھی کی اور قیاس فاسد اور اجتہاد ناقص کو ترک کر کے قرآن و حدیث کی روشنی میں امت مسلمہ کی صحیح راہنمائی بھی کی ہے۔ مصنف کی غلطیوں کی تصحیح کرنے والوں میں محدث عصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب ”غایۃ المرام“ بھی لکھی۔ ادارہ ”دار الابلاغ“ کی ریسرچ ٹیم نے اس کتاب میں مصنف کی غلطیوں کی نشاندہی بھی کی ہے اور قرآن وسنت کی روشنی میں ان مذکورہ مسائل کا صحیح حل جاننے کے لیے علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تعلیقات و توضیحات کو فٹ نوٹ میں درج کر کے کتاب کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ بعض مقامات پر نظر ثانی کے بعد مولانا ابوالحسن مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ نے بھی اپنی تعلیقات درج کر دی ہیں۔ یوں یہ کتاب علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی فٹ نوٹ میں تصحیح طلب مسائل میں وضاحتوں اور مولانا مبشر احمد ربانی حفظہ اللہ کے حواشی اور بعض مقامات پر فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان کی تشریحات کے بعد اپنی جگہ ایک مکمل و مبسوط اور شافی رہنمائی بن گئی ہے۔ دین اسلام کا کوئی قاری و طالب علم اور عام مسلمان کسی بھی مسئلہ میں مکمل جامع غیر مشکوک و صحیح و درست رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اسے اپنا راہبر و رہنما بنا سکتا ہے۔ یہ سب اللہ کریم کی توفیق و رحمت کی بنا پر ہوا ورنہ ہم تو اس قابل نہیں۔ اور ادارہ ”دار الابلاغ“ پر اللہ کریم کا خاص احسان و کرم ہے کہ وہ اس کی ٹیم کو امت کی راہنمائی کے لیے اعلیٰ معیار کا تحقیق شدہ مواد فراہم کرنے کے مواقع و وسائل اور رجال صالح بخش رہا ہے۔
اس کتاب پر تحقیق، تخریج، تسہیل، حواشی وتعلیقات البانیہ، توضیحات ربانیہ کے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے میں مولانا مبشر احمد ربانی، جناب نصیر احمد کاشف، تلمیذ رشید علامہ زبیر علی زئی رحمہ اللہ، مولانا مطیع اللہ الفردوس، جناب امان اللہ عاصم اور تنویر الاسلام رحمہ اللہ کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اپنی گوناگوں مصروفیات سے اس کتاب پر تحقیقی کاوشوں اور مغز ماری و جانفشانی کے لیے وقت نکالا۔جزاهم الله احسن الجزاء فى الدنيا و الآخرة
آخر میں میں اللہ رب العالمین سے دعا گو ہوں کہ وہ اس کتاب پر ہماری کاوشوں کو قبول فرما کر اسے ہمارے لیے، ہمارے اساتذہ اور والدین کے لیے اجر و ثواب کا باعث بنائے اور امت کو اس پر عمل کر کے اخروی کامیابی کا مستحق بننے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمين يا رب المستضعفين