تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ رحمان کی عبادت کے لحاظ سے بندوں کی ایک قسم کا ذکر پچھلی آیات میں گزرا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو تو وہ جانتے بوجھتے ہوئے شوخی و شرارت اور سرکشی و تکبر کے ساتھ رحمان کو جاننے ہی سے انکار کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں رحمان ہے کیا چیز؟ اور مزید بدک جاتے ہیں، حالانکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ رحمان کون ہے۔ اب رحمان کے ان بندوں کا ذکر ہے جو واقعی رحمان کی بندگی کرتے ہیں اور رات دن کے یکے بعد دیگرے آنے جانے سے اور کائنات کی ہر چیز سے نصیحت حاصل کرتے اور مالک کا شکر ادا کرتے ہیں، فرمایا: «{ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ يَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا }» [الفرقان: ۶۲] ”اس کے لیے جو چاہے کہ نصیحت حاصل کرے، یا کچھ شکر کرنا چاہے۔“ اور ان کی ان صفات کا ذکر ہے جو رحمان کی بندگی سے پیدا ہوتی ہیں، جن سے وہ لوگ سراسر محروم رہتے ہیں جو رحمان کو سجدہ کرنے کے حکم پر سرکشی اور نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور نہ نصیحت حاصل کرتے ہیں، نہ شکر اد اکرتے ہیں۔
➌ {” عِبَادُ الرَّحْمٰنِ “} کے لفظ میں اشارہ ہے کہ ان کی یہ صفات ان پر رحمان کی رحمت کا نتیجہ ہیں۔
➍ ”عباد الرحمان“ کے سب سے پہلے مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں جو ان آیات میں ذکر کر دہ تمام صفات کے ساتھ متصف تھے۔ (دیکھیے فتح: ۲۹) اس کے بعد قیامت تک آنے والے تمام متقی مومن اس کے مصداق ہیں۔ اسی طرح ”عباد الشیطان“ کے سب سے پہلے مصداق ابو لہب، ابوجہل اور ان کے ساتھی ہیں، ان کے بعد قیامت تک آنے والے تمام کفار و فجار۔
➎ عباد الرحمان کی صفات جو اس مقام پر بیان ہوئی ہیں، چار قسم کی ہیں، پہلی قسم ان کا دینی کمالات کے ساتھ آراستہ ہونا ہے، ان کی ابتدا {” الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا “} سے ہوتی ہے۔ دوسری قسم ان کا ہر طرح کے رذائل اور کمینگیوں سے پاک ہونا ہے، یہ {” وَ الَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ “} سے شروع ہوتی ہے۔ تیسری قسم ان کا اسلام کے احکام پر کار بند ہونا ہے، ان صفات کا ذکر آیت (۶۴): «{ وَ الَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِيَامًا }» اور آیت (۶۷): «{ وَ الَّذِيْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ يُسْرِفُوْا…}» اور آیت (۶۸): «{ وَ لَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ }» سے لے کر آیت (۷۲): «وَ الَّذِيْنَ لَا يَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ» تک میں ہے اور چوتھی قسم ان کی طرف سے اس بات کی مسلسل کوشش اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ان کی دینی حالت بہتر سے بہتر ہوتی چلی جائے، اس کا ذکر آیت (۷۴): «{ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا }» میں ہے۔ (ابن عاشور)
➏ { يَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا: ” هَوْنًا “} نرمی، مصدر بمعنی اسم فاعل برائے مبالغہ ہے: {”أَيْ مَشْيًا ذَا هَوْنٍ“} یعنی بہت نرمی والی چال چلتے ہیں۔ یعنی رحمان کے محبوب بندے وہ ہیں جو تواضع اور عاجزی اختیار کرتے ہیں اور جب زمین پر چلتے ہیں تو نرمی کے ساتھ چلتے ہیں نہ کہ فساد برپا کرنے والوں اور ظلم و جبر کرنے والوں کی طرح اینٹھتے اور اکڑتے ہوئے۔ لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کو وصیت فرمائی: «{ وَ لَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرٍ }» [لقمان: ۱۸] ”اور زمین میں اکڑ کر نہ چل، بے شک اللہ کسی اکڑنے والے، فخر کرنے والے سے محبت نہیں کرتا۔“ نرمی کی چال سے مراد سکون اور وقار کی چال ہے نہ کہ دکھاوے کے لیے بناوٹ کے ساتھ مریضوں کی طرح چلنا۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مضبوط قدم رکھتے ہوئے چلتے تھے، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح چلتے تھے: {” كَأَنَّمَا يَنْحَطُّ عَنْ صَبَبٍ “} (گویا ڈھلوان کی طرف اتر رہے ہوں۔) [مسند أحمد: 96/1، ح: ۷۴۹، قال المحقق سندہ قوي] ابو طفیل رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بیان کرتے ہیں: [كَانَ أَبْيَضَ مَلِيْحًا، إِذَا مَشَی كَأَنَّمَا يَهْوِيْ فِيْ صَبُوْبٍ] [أبوداوٗد، الأدب، باب في ھدی الرجل: ۴۸۶۴، وقال الألبانی صحیح] ”آپ سفید رنگ اور انتہائی خوبصورت تھے، جب چلتے تو گویا ڈھلوان میں اتر رہے ہوں۔“ زمین پر نرمی کے ساتھ چلنے میں عام زندگی کا چال چلن بھی شامل ہے، کیونکہ آدمی کی چال اس کے چلن ہی کے مطابق ہوتی ہے۔ رحمان کے بندوں کی چال اور ان کا چلن دونوں سے تواضع اور نرمی کا اظہار ہوتا ہے، ان میں نہ تکبر ہوتا ہے نہ شدت، ہاں، کفار کے مقابلے میں وہ اکڑ کر بھی چلتے ہیں اور ان میں شدت بھی ہوتی ہے، جیسا کہ طواف کے اندر رمل کے حکم سے ظاہر ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ }» [الفتح: ۲۹] ”محمد اللہ کا رسول ہے اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر بہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“ اور فرمایا: «{اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِيْنَ }» [المائدۃ: ۵۴] ”مومنوں پر بہت نرم ہوں گے، کافروں پر بہت سخت۔“
➐ { وَ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا: ”جَهْل“} کا لفظ یہاں ”علم“ کے مقابلے میں نہیں بلکہ ”حلم“ کے مقابلے میں ہے۔{” الْجٰهِلُوْنَ “} کے لفظ سے یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے کہ عباد الرحمن لوگوں سے ہمیشہ علیحدگی اور ترکِ کلام اختیار نہیں کرتے، بلکہ صرف ان کی جہالت اور اکھڑ پن کے رویے پر انھیں ترکی بہ ترکی جواب دینے اور جھگڑنے کے بجائے سلام کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ }» [القصص: ۵۵] ”اور جب وہ لغو بات سنتے ہیں تو اس سے کنارہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے لیے تمھارے اعمال۔ سلام ہے تم پر، ہم جاہلوں کو نہیں چاہتے۔“ ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَنَا زَعِيْمٌ بِبَيْتٍ فِيْ رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، وَ بِبَيْتٍ فِيْ وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ وَإِنْ كَانَ مَازِحًا، وَ بِبَيْتٍ فِيْ أَعْلَی الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ] [أبوداوٗد، الأدب، باب في حسن الخلق: ۴۸۰۰، و حسنہ الألباني] ”میں جنت کے اطراف میں مکان کا ضامن ہوں، اس شخص کے لیے جو جھگڑا چھوڑ دے خواہ حق دار ہو اور جنت کے وسط میں مکان کا ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو جھوٹ چھوڑ دے خواہ مذاق سے ہو اور جنت کے سب سے بلند مقام پر مکان کا ضامن ہوں اس شخص کے لیے جو اپنا خلق (اخلاق) اچھا بنا لے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے لقمان رحمہ اللہ نے اپنے لڑکے سے فرمایا تھا کہ اکڑ کر نہ چلا کر۔ مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تصنع اور بناوٹ سے کمر جھکا کر مریضوں کی طرح قدم قدم چلنا۔ یہ تو ریاکاروں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو دکھانے کے لیے اور دنیا کی نگاہیں اپنی طرف اٹھانے کے لیے ایسا کرتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت اس کے بالکل برعکس تھی۔ آپ کی چال ایسی تھی کہ گویا آپ کسی اونچائی سے اتر رہے ہیں اور گویا کہ زمین آپ کے لیے لپٹی جا رہی ہے۔
سلف صالحین نے بیماروں کی سی تکلف والی چال کو مکروہ فرمایا ہے۔
چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ { جب نماز کے لیے آؤ تو دوڑ کر نہ آؤ بلکہ تسکین کے ساتھ آؤ۔ جو جماعت کے ساتھ مل جائے، ادا کر لو اور جو فوت ہو جائے، پوری کر لو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:636]
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں نہایت ہی عمدہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ مومنوں کی آنکھیں اور ان کے کان اور ان کے اعضاء جھکے ہوئے اور رکے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ گنوار اور بےوقوف لوگ انہیں بیمار سمجھ لیتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں ہوتے بلکہ خوف الٰہی سے جھکے جاتے ہیں۔ ویسے پورے تندرست ہیں لیکن دل اللہ کے خوف سے پر ہیں۔
آخرت کا علم دنیا طلبی سے اور یہاں کے ٹھاٹھ سے انہیں روکے ہوئے ہے۔ یہ قیامت کے دن کہیں گے کہ اللہ کا شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کر دیا۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کا غم لگا رہتا تھا، نہیں نہیں، اللہ کی قسم! دنیا کا کوئی غم ان کے پاس بھی نہیں پھٹکتا تھا۔ ہاں انہیں آخرت کا کھٹکا ہر وقت لگا رہتا تھا۔ جنت کے کسی کام کو وہ بھاری نہیں سمجھتے تھے، ہاں جہنم کا خوف انہیں رلاتا رہتا تھا۔
جو شخص اللہ کے خوف دلانے سے بھی خوف نہ کھائے، اس کا نفس حسرتوں کا مالک ہے۔ جو شخص کھانے پینے کو ہی اللہ کی نعمت سمجھے، وہ کم علم ہے اور عذابوں میں پھنسا ہوا ہے۔
پھر اپنے نیک بندوں کا اور وصف بیان فرمایا کہ جب جاہل لوگ ان سے جہالت کی باتیں کرتے ہیں تو یہ بھی ان کی طرح جہالت پر نہیں اتر آتے بلکہ درگزر کر لیتے ہیں، معاف فرما دیتے ہیں اور سوائے بھلی بات کے، گندی باتوں سے اپنی زبان آلودہ نہیں کرتے۔
جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جوں جوں دوسرا آپ پر تیز ہوتا، آپ اتنے ہی نرم ہوتے۔ یہی وصف قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوا ہے «وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:55] ’ مومن لوگ بے ہودہ باتیں سن کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ ‘
پس فرمان ہے کہ یہ اپنی زبان کو گندی نہیں کرتے۔ برا کہنے والوں کو برا نہیں کہتے، سوائے بھلے کلمے کے زبان سے اور کوئی لفظ نہیں نکالتے۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا ان پر ظلم کرے، یہ صلح اور برداشت کرتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ دن اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کی کڑوی کسیلی سن لیتے ہیں۔ رات کو جس حالت میں گزارتے ہیں، اس کا بیان اگلی آیت میں ہے۔
جیسے شاعر نے اللہ کی شان بتائی ہے کہ
«اِنْ یُعَذِّبْ یَکُنْ غَرَامًا وَ اِنْ یُّعْطِ جَزِیْلًا فَاِنَّہُ لَا یُبَالِی»
یعنی اس کے عذاب بھی سخت اور لازمی اور ابدی۔ اور اس کی عطا اور انعام بھی بے حد، ان گنت اور بے حساب۔ جو چیز آئے اور ہٹ جائے وہ غرام نہیں۔ غرام وہ ہے جو آنے کے بعد ہٹنے اور دور ہونے کا نام ہی نہ لے۔ یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ عذاب جہنم تاوان ہے جو کفران نعمت سے لیا جائے گا۔
انہوں نے اللہ کے دیئے کو اس کی راہ میں نہیں لگایا لہٰذا آج اس کا تاوان یہ بھرنا پڑے گا جہنم کو پر کر دیں۔ وہ بری جگہ ہے، بدمنظر ہے، تکلیف دہ ہے، مصیبت ناک ہے۔
عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہنم میں گڑھے ہیں، کنویں ہیں۔ ان میں سانپ ہیں جیسے بختی اونٹ اور بچھو ہیں جیسے خچر۔ جب کسی جہنمی کو جہنم میں ڈالا جاتا ہے تو وہ وہاں سے نکل کر آتے اور انہیں لپٹ جاتے ہیں، ہونٹوں پر، سروں پر اور جسم کے اور حصوں پر ڈستے اور ڈنک مارتے ہیں۔ جس سے ان کے سارے بدن میں زہر پھیل جاتا ہے اور پھکنے لگتے ہیں۔ سارے سر کی کھال جھلس کر گر پڑتی ہے پھر وہ سانپ چلے جاتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جہنمی ایک ہزار سال تک جہنم میں چلاتا رہے گا «یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ» تب اللہ تعالیٰ جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا: جاؤ دیکھو، یہ کیا کہہ رہا ہے؟ جبرائیل علیہ السلام آ کر دیکھیں گے کہ سب جہنمی برے حال سر جھکائے آہ و زاری کر رہے ہیں۔ جا کر جناب باری تعالیٰ میں خبر کریں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: پھر جاؤ، فلاں فلاں جگہ یہ شخص ہے، جاؤ اور اسے لے آؤ۔ یہ بحکم الٰہی جائیں گے اور اسے لا کر اللہ کے سامنے کھڑا کر دیں گے۔ اللہ تعالیٰ اس سے دریافت فرمائے گا کہ تو کیسی جگہ پر ہے؟ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! ٹھہرنے کی بری جگہ اور سونے بیٹھے کی بھی بدترین جگہ ہے۔ اللہ فرمائے گا: اچھا اب اسے اس کی جگہ واپس لے جاؤ تو یہ گڑگڑائے گا، عرض کرے گا کہ اے میرے ارحم الراحمین اللہ! جب تو نے مجھے اس سے باہر نکالا تو تیری ذات ایسی نہیں کہ پھر مجھے اس میں داخل کر دے، مجھے تو تجھ سے رحم و کرم کی ہی امید ہے۔ اے اللہ! بس اب مجھ پر کرم فرما۔ جب تو نے مجھے جہنم سے نکالا تو میں خوش ہو گیا تھا کہ اب تو اس میں نہ ڈالے گا۔ اس مالک و رحمن و رحیم اللہ کو بھی رحم آ جائے گا اور فرمائے گا: اچھا میرے بندے کو چھوڑ دو۔ } ۱؎ [مسند احمد:230/3:ضعیف]
اسی کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔ فرماتا ہے: «وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:29] یعنی ’ نہ تو اپنے ہاتھ اپنی گردن سے باندھ اور نہ انہیں بالکل ہی چھوڑ دے۔ ‘
مسند احمد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { اپنی گزران میں میانہ روی کرنا انسان کی سمجھ داری کی دلیل ہے۔ } ۱؎ [مسند احمد:194/5:ضعیف]
اور حدیث میں ہے: { جو افراط تفریط سے بچتا ہے، وہ کبھی فقیر محتاج نہیں ہوتا۔ } ۱؎ [مسند احمد:447/1:ضعیف]
بزار کی حدیث میں ہے کہ { امیری میں، فقیری میں، عبادت میں میانہ روی بڑی ہی بہتر اور احسن چیز ہے۔ } ۱؎ [مسند بزار:3604:ضعیف]
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی راہ میں کتنا ہی چاہو دو، اس کا نام اسراف نہیں ہے۔
ایاس بن معاویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جہاں کہیں تو حکم اللہ سے آگے بڑھ جائے، وہی اسراف ہے۔
اور بزرگوں کا قول ہے: اللہ کی نافرمانی کا خرچ اسراف کہلاتا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
العبوديَّةُ لله نوعان: عبوديَّةٌ لربوبيَّتِهِ؛ فهذه يشتركُ فيها سائرُ الخلق؛ مسلمهُم وكافرُهم، بَرُّهم وفاجِرُهم؛ فكلُّهم عبيدٌ لله مربوبون مدبرون، {إن كُلُّ مَنْ في السمواتِ والأرضِ إلاَّ آتي الرحمنِ عَبْداً}.
وعبوديَّةٌ لألوهيَّتِهِ وعبادتِهِ ورحمتِهِ، وهي عبوديَّةُ أنبيائِهِ وأوليائِهِ، وهي المراد هنا، ولهذا أضافها إلى اسمه الرحمن؛ إشارةً إلى أنَّهم إنَّما وصلوا إلى هذه الحال بسبب رحمته، فَذَكَرَ [أنَّ] صفاتِهِم أكملُ الصفات ونعوتَهم أفضلُ النعوتِ، فوصَفَهم بأنَّهم {يَمْشونَ على الأرضِ هَوْناً}؛ أي: ساكنين متواضعين لله وللخَلْق؛ فهذا وصفٌ لهم بالوقارِ والسَّكينةِ والتَّواضُع لله ولعبادِهِ، {وإذا خاطَبَهُمُ الجاهلونَ}؛ أي: خطابَ جهل؛ بدليل إضافةِ الفعل وإسناده لهذا الوصفِ، {قالوا سلاماً}؛ أي: خاطَبوهم خطاباً يَسْلمونَ فيه من الإثم، ويَسْلَمونَ من مقابلة الجاهل بجهلِهِ، وهذا مدحٌ لهم بالحِلْم الكثير ومقابلة المسيء بالإحسان والعفو عن الجاهل ورزانةِ العقل الذي أوصلهم إلى هذه الحال.