سیدنا آدمؑ اور سیدنا نوحؑ کے فضائل و مناقب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

کتاب المناقب

انبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل و مناقب

تمام انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور گداز دلوں کے حامل بندے تھے۔ مصائب و شدائد میں اپنے خالق اور مالک حقیقی کی طرف التفات کرتے ، اس سے التجائیں کرتے اور اس کے سامنے گریہ و زاری کر کے اپنا رشتہ اور تعلق مضبوط کرتے اور اس میں دین و دنیا کی سعادت سمجھتے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا ۚ إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا﴾
” یہی وہ انبیاء ہیں جن پر اللہ نے خاص انعام کیا تھا، جو آدم کی اولاد سے تھے اور ان کی اولاد سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، اور جو ابراہیم اور یعقوب کی اولاد سے تھے، اور وہ ان میں سے تھے ، جنہیں ہم نے ہدایت دی تھی اور جنہیں ہم نے چن لیا تھا، جب ان کے سامنے رحمن کی آیتوں کی تلاوت ہوتی تھی تو سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے زمین پر گر جاتے تھے۔“
(19-مريم:58)
سوره مریم میں زکریا، یحییٰ، عیسیٰ، ابراہیم، موسیٰ، اسماعیل اور ادریس علیہم السلام کا ذکر خیر کرنے کے بعد مذکورہ بالا آیت کریمہ میں انہی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سی دنیوی اور دینی نعمتیں دی تھیں ، ان انبیاء کرام علیہم السلام کو اللہ نے راہ حق کی طرف ہدایت دی تھی ، اور نبوت جیسے عظیم ترین مقام و مرتبہ کے لیے چن لیا تھا، اور یہ لوگ جب کلام اللہ سنتے تھے، جس میں توحید کے دلائل و براہین اور نصیحت کی دیگر باتیں ہوتی تھیں، تو اللہ کے سامنے سر بسجود ہو جاتے تھے اور خشوع و خضوع کی وجہ سے روتے اور گریہ زاری کرتے تھے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”اسی لیے اس آیت پر سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے، تاکہ ان پیغمبروں کی اتباع اور اقتدا ہو جائے۔“ (تفسیر ابن کثیر: 3/367)
امیر المؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سورہ مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا، پھر فرمایا: ”سجدہ تو کیا ہے لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں؟“
تفسیر طبری: 1/354 – تفسیر ابن أبی حاتم: 7/2412۔

 سیدنا آدم علیہ السلام

سیدنا آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بہت سے اعزازات سے نوازا ہے، آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا۔ آپ علیہ السلام کو فرشتوں سے سجدہ کرایا، اور آپ کو جنت میں ٹھہرایا اور جنت میں جو بھی داخل ہو گا وہ انہی کی شکل و صورت لے کر جائے گا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ عالی شان ہے:
خلق الله آدم وطوله ستون ذراعا فلما خلقه قال اذهب فسلم على اولئك من الملائكة فاستمع ما يحيونك تحيتك وتحية ذريتك فقال السلام عليكم فقالوا السلام عليك ورحمة الله فزادوه ورحمة الله فكل من يدخل الجنة على صورة آدم فلم يزل الخلق ينقص حتى الآن
اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کو ساٹھ ہاتھ لمبا بنایا، پھر فرمایا: جا اور ملائکہ کو سلام کر، دیکھنا کہ وہ کن لفظوں میں آپ کے سلام کا جواب دیتے ہیں کیونکہ وہاں تمہارا، اور تمہاری اولاد کا طریقہ سلام ہو گا۔ سیدنا آدم علیہ السلام گئے، اور کہا: «السلام عليكم» فرشتوں نے جواب دیا: «وعليكم السلام ورحمة الله» انہوں نے «ورحمة الله وبركاته» کا جملہ بڑھا دیا۔ پس جو بھی جنت میں داخل ہوگا، وہ آدم کی شکل و صورت وقد وقامت پر داخل ہوگا۔
صحیح بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، رقم: 3326۔

◈ سیدنا آدم علیہ السلام جنت میں اور ابلیس لعین کا مکر و فریب:

اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو جنت سے نکال دیا، اور سیدنا آدم علیہ السلام اور ان کی بیوی حوا کے لیے جنت کی تمام نعمتوں اور پھلوں کو حلال بنا دیا، صرف ایک درخت کے کھانے سے انہیں روک دیا، اور تنبیہ کر دی کہ دیکھو اگر اس کے قریب جاؤ گے، تو اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ہو جاؤ گے، شیطان لعین نے جب انہیں اس حال میں دیکھا تو اس کی حسد کی آگ بھڑک اٹھی اور ان کے ساتھ مکر و فریب کی سوچ لی، تاکہ وہ جن نعمتوں سے بہرہ مند ہو رہے ہیں، اور جو خوبصورت لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں ان سے چھن جائے، چنانچہ اس نے اللہ تعالیٰ کے خلاف افترا پردازی کرتے ہوئے کہا کہ تمہارے رب نے اس درخت سے اس لیے روکا ہے کہ اگر اسے کھا لو گے تو تم فرشتے بن جاؤ گے، پھر کھانے پینے کی محتاجی نہیں رہے گی یا تمہیں موت لاحق نہیں ہوگی اور جنت میں ہمیشہ ہمیشہ رہو گے۔ اور ابلیس نے انہیں اپنی صداقت کا یقین دلانے کے لیے ذات باری تعالیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ میں تم دونوں کا انتہائی خیر خواہ ہوں۔ جبھی یہ راز تمہیں بتا دیا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ: ”ابلیس نے قسم کھا کر سیدنا آدم و حوا علیہما السلام کو دھوکا دیا، سچ ہے مومن اس وقت دھوکا کھا جاتا ہے جب کوئی ناپاک انسان اللہ کو بیچ میں دیتا ہے۔ چنانچہ سلف کا قول ہے کہ مومن اللہ کے نام کے بعد اپنے ہتھیار ڈال دیا کرتے ہیں۔“
تفسیر ابن کثیر: 2/334

◈ سیدنا آدم علیہ السلام کا جنت سے نکالا جانا:

شیطان نے انہیں ارتکاب معصیت کی ہمت دلائی، چنانچہ جب انہوں نے اس شجرہ ممنوعہ کو شیطان کے دھوکے میں آکر کھا لیا، تو اس نافرمانی کا انجام فورا ہی ان کے سامنے آگیا کہ ان کے لباس ان کے جسموں سے الگ ہو گئے، اور انہیں اپنی شرمگاہیں نظر آنے لگیں، تو جنت کے درختوں کے پتے لے لے کر اپنے جسموں پر چپکانے لگے تاکہ اپنی پردہ پوشی کریں۔ تب اللہ نے ان سے کہا: کیا میں نے تمہیں اس درخت کے کھانے سے نہیں روکا تھا، اور کہا نہیں تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے؟“ (الأعراف:20-22)

◈ اظهار ندامت:

اس وقت انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور اس پر ندامت کے آنسو بہائے۔
چنانچہ روایات میں آیا ہے:
ولو أن دموع أهل الأرض ودموع داود علیہ السلام جميع ما عدل دموع آدم علیہ السلام حين أهبط من الجنة
”جب آدم علیہ السلام کو جنت سے پستی میں اتار دیا گیا تو انہوں نے (ندامت کے) اتنے آنسو بہائے کہ اب اہل زمین کے اور سیدنا داؤد علیہ السلام کے بہائے ہوئے آنسو بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔“
کتاب الزهد، للإمام أحمد، ص: 73۔

◈ اللہ تعالیٰ کی رہنمائی:

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی کرتے ہوئے انہیں سکھایا کہ اپنی غلطی کی معافی کے لیے دعا کریں:
﴿فَتَلَقَّىٰ آدَمُ مِن رَّبِّهِ كَلِمَاتٍ فَتَابَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾ ‎
آدم علیہ السلام نے اپنے رب سے چند کلمات سیکھ لیے، اور اللہ نے اس کی توبہ قبول کر لی، بے شک وہی توبہ قبول کرنے والا، اور بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“
(2-البقرة:37)

◈ آدم و حوا علیہما السلام کی توبہ:

چنانچہ انہوں نے اپنے رب سے توبہ کی اور دعا کی کہ:
﴿رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
”اے ہمارے رب! ہم نے اپنا بڑا نقصان کیا اور اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا، ہم پر رحم نہ کیا، تو ہم یقیناً خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔“
(7-الأعراف:23)

 سیدنا نوح علیہ السلام

سیدنا نوح علیہ السلام کو اللہ رب العزت نے بہت سے اعزازات سے نوازا، وہ پہلے رسول بن کر دنیا میں مبعوث ہوئے، وہ آدم ثانی کہلائے، وہ سب سے پہلے سمندری (پانی کی) سواری تیار کرنے والے، وہ مشہود نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم ہوں گے۔
صحیح بخاری، کتاب الأحاديث، رقم: 3339۔

◈ نوح علیہ السلام کی دعوت توحید اور قوم کی جہالت:

سیدنا نوح علیہ السلام کی بعثت کے وقت کفر وشرک اور شر وفساد سے زمین بھر گئی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرانے کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔ لوگو! اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت نہ کرو، ورنہ مجھے ڈر ہے کہ اللہ کا دردناک عذاب تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔“
﴿أَن لَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ ۖ إِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ أَلِيمٍ﴾ ‎
(11-هود:26)
چنانچہ قوم نوح کے سرداروں نے ان کی دعوت کو رد کر دیا، اور ان کے نبی ہونے سے مختلف شبہات کا اظہار کیا۔ نوح علیہ السلام مسلسل تبلیغ کرتے رہے۔ دلائل و براہین کے ذریعے انہیں توحید کی دعوت دیتے رہے۔ جب قوم کے پاس کفر و عناد پر قائم رہنے کی کوئی دلیل نہیں رہی، اور نوح علیہ السلام کے دلائل و براہین کے آگے انہوں نے اپنے آپ کو یکسر عاجز پایا، تو کہنے لگے کہ اے نوح! ہم تمہارے مناظروں سے تنگ آگئے ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو جس عذاب کا وعدہ کرتے ہو اسے لا کر دکھا دو، تو نوح علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میرے اختیار میں نہیں ہے، جب اللہ چاہے گا عذاب آئے گا، اور اس وقت تم اسے عاجز نہ بنا سکو گے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو خبر دی کہ جو لوگ اب تک ایمان لا چکے ہیں، ان کے علاوہ اب کوئی ایمان نہیں لائے گا.
حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ: ”جب اللہ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو بذریعہ وحی خبر دی تو وہ ان کے ایمان لانے سے نا امید ہو گئے اور ان کے حق میں بد دعا کر دی کہ اے اللہ! اب کسی کافر کو زمین پر نہ رہنے دے۔“ (تیسیر الرحمن: 643-644)

◈ سیدنا نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم اور سواروں کی ترتیب:

جب عذاب کا آنا یقینی ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو کشتی بنانے کا حکم دیا اور اس کی تعلیم دی، تاکہ وہ ان کے ماننے والے مسلمان طوفان سے بچ سکیں، اور کافروں کی شفاعت کرنے سے منع فرما دیا، اس لیے کہ ان کے بارے میں اللہ کا فیصلہ صادر ہو چکا تھا کہ ان کو طوفان کی نذر ہو جانا ہے۔

◈ بالآخر طوفان آ گیا:

جب قوم کی ہلاکت کا حکم آ گیا، اور پانی پوری شدت کے ساتھ ابلنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ زمین پر پائے جانے والے تمام جانوروں اور چڑیوں وغیرہ کے جوڑے کشتی میں رکھ لیں اور دیگر مسلمانوں کے ساتھ صرف رشتہ داروں کو سوار کر لیں، جو ان پر ایمان لائے تھے۔ قتادہ اور ابن جریر کے قول کے مطابق ان کی تعداد آٹھ تھی، نوح علیہ السلام ان کی بیوی، ان کے تین بیٹے اور ان کی بہوئیں ان کا بیٹا کنعان اور ان کی بیوی ام کنعان مومن نہیں تھے اس لیے ان کے ساتھ کشتی میں سوار نہیں ہوئے۔ (تفسیر الطبری:12/57)

◈ عذاب کی ہولناکی اور بیٹے کی بدبختی:

جب نوح علیہ السلام اور ان کے ساتھی «بسم الله» کہہ کر سوار ہو گئے، کشتی پہاڑوں کے مانند اونچے موجوں کے درمیان چلنے لگی، اس وقت نوح علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو پکارا جو کافر ہونے کی وجہ سے کشتی میں سوار نہیں ہوا تھا، کہ اے میرے بیٹے! اب بھی موقع ہے کہ ہمارے دین میں داخل ہو جاؤ اور ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جاؤ اور کافروں کا ساتھ چھوڑ دو۔

◈ مجبور رہا محبوب تر ا کشتی میں بیٹے کو بٹھا نہ سکا:

سیدنا نوح علیہ السلام نے شفقت پدری سے متاثر ہو کر اپنے رب سے دعا کی، اور کہا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے اہل بیت میں سے ہے اور تیرا وعدہ برحق ہے، تو نے کہا کہ اپنے گھر والوں کو بھی کشتی پر سوار کر لو تاکہ سب طوفان سے بچ جائیں۔ تو آج تو اسے توفیق دے دے کہ ایمان لے آئے اور ہمارے ساتھ کشتی میں سوار ہو جائے:
﴿وَنَادَىٰ نُوحٌ رَّبَّهُ فَقَالَ رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ﴾ ‎
(11-هود:45)
اللہ تعالیٰ نے پھر نوح کو اپنا حتمی فیصلہ بتا دیا کہ اے نوح! وہ ایمان نہیں لائے گا، اس لیے کہ وہ آپ کے گھر والوں میں سے نہیں ہے، آپ کے گھر والے تو دین و شریعت کے پابند اور اہل اصلاح ہیں اور وہ صالح نہیں ہے، اس لیے وہ طوفان سے نہیں بچے گا۔
﴿يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ ۖ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾
”اے نوح! یہ تیرے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس کا عمل صالح نہیں۔“
(11-هود:46)

◈ نوح علیہ السلام کو تنبیہ:

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو تنبیہ کی کہ جس مقصد کے پورے طور پر صائب ہونے کا آپ کو علم نہ ہو اس کا اللہ سے سوال مت کیجیے، اس لیے کہ ایسا کرنا نادانوں کا شیوہ ہوتا ہے:
﴿فَلَا تَسْأَلْنِ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنِّي أَعِظُكَ أَن تَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ﴾
پس تو مجھ سے اس بات کا سوال نہ کر جس کا تجھ کو کوئی علم نہیں، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں تاکہ تو جاہلوں میں سے نہ ہو جائے۔“
(11-هود:46)

◈ طلب مغفرت:

بہر حال جب نوح علیہ السلام کو اس بات کا علم ہو گیا کہ ان کا سوال شریعت کے مطابق نہیں تھا، اور یہ محض ان کا وہم تھا کہ ممکن ہے کنعان مسلمان بن کر کشتی پر سوار ہو جائے تو اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت و رحمت طلب کی:
﴿رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُن مِّنَ الْخَاسِرِينَ﴾
”اے میرے رب! میں تیرے ذریعہ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تجھ سے کوئی ایسا سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں۔ اور اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا، اور مجھ پر رحم نہ کیا تو میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤں گا۔“
(11-هود:47)

◈ اللہ تعالیٰ کا انعام و اکرام:

سیدنا نوح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں انعام و اکرام سے کیسے نوازا۔ فرمایا:
﴿قِيلَ يَا نُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَىٰ أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ ۚ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ ‎
”کہا گیا، اے نوح! اب آپ ہماری جانب سے سلامتی کے ساتھ کشتی سے نیچے اتر آئے۔ اور آپ پر اور آپ کے ساتھ جو مومنین ہیں، ان میں سے کچھ کی نسل سے پیدا ہونے والی جماعتوں پر ہماری برکتیں نازل ہوں گی، اور کچھ قوموں کو ہم دنیا میں آرام و آسائش دیں گے، پھر آخرت میں ہمارا دردناک عذاب انہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔“
(11-هود:48)

◈ سیدنا نوح علیہ السلام اور شکر گزاری:

اللہ تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کو اپنا انتہائی شکر گزار بندہ بتلایا ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا﴾
”بے شک وہ (اللہ کا) شکر گزار بندہ تھا۔“
(17-الإسراء:3)
امام احمد نے محمد بن کعب القرظی کی روایت کو بیان کیا ہے کہ نوح علیہ السلام ہر حال میں کھانے پینے، لباس پہننے اور سواری پر بیٹھتے وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کرتے تھے۔
کتاب الزهد للإمام احمد، رقم: 281
مزید برآں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
فيأتون نوحا فيقولون يا نوح أنت أول الرسل إلى أهل الأرض وسماك الله عبدا شكورا
(جب آدم علیہ السلام سفارش و شفاعت سے انکار فرما دیں گے) تو لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں گے، اے نوح! آپ روئے زمین پر سب سے پہلے رسول ہیں، اور آپ کو اللہ تعالیٰ نے «عبد شكور» کہہ کر پکارا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب أحادیث الأنبیاء، رقم: 3340۔
شکر گزاری اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ صفت ہے۔ جو بندہ شکر گزار ہوگا، اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ و محبوب بن جائے گا۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ان الله عز وجل ليرضى عن العبد أن يأكل الأكلة أو يشرب الشربة فيحمد الله عز وجل عليها
”بے شک اللہ عزوجل اپنے بندے سے اس وقت خوش ہوتا ہے جب وہ کھانا کھا کر یا پانی پی کر اللہ عز وجل کا شکر ادا کرتا ہے۔“
مسند احمد: 3/117 ۔ صحیح مسلم، کتاب الذكر والدعاء، رقم: 2734 ۔ سنن ترمذی، کتاب الأطعمة، رقم: 1816 ۔ السنن الكبرى للنسائی، باب ثواب الحمد لله: 4/202، رقم: 6899

◈ سیدنا نوح علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو وصیت:

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک اعرابی شخص آیا، اس پر ریشم کا بنا ہوا بٹن لگا ہوا چغہ تھا۔ آپ نے فرمایا: یہ تمہارے ساتھی شاہسوار بن شاہسوار کو ذلیل کر چکا ہے، یا آپ نے فرمایا: شاہسوار بن شاہسوار کو ذلیل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور چرواہے اور چرواہے کے بیٹے کو عزت دینا چاہتا ہے۔ پھر آپ نے اس کا دامن پکڑا اور فرمایا: کیا میں تمہارے جسم پر بے وقوف لوگوں جیسا لباس نہیں دیکھ رہا؟ پھر فرمایا: جب سیدنا نوح علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹے کو کہا: میں تجھ کو وصیت کرتا ہوں: دو چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور دو چیزوں سے روکتا ہوں۔ میں تجھ کو لا إله إلا الله کا (کا ذکر کرنے کا) حکم دیتا ہوں، کیونکہ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں ایک پلڑے میں رکھ دی جائیں اور لا إله إلا الله دوسرے پلڑے میں رکھ دیا جائے تو لا إله إلا الله والا پلڑا بھاری ہو جائے۔ اگر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین ایک حلقہ بن جائیں تو «لا إله إلا الله» ان پر حاوی اور بھاری ہو جائے۔ اور سبحان الله وبحمده (پڑھنے) کا حکم دیتا ہوں، کیونکہ اللہ کی تمام مخلوق اس کے ساتھ اللہ کی تعریف بیان کرتی ہے اور اس کے ساتھ پوری مخلوق کو رزق دیا جاتا ہے۔ اور میں تجھ کو دو چیزوں سے منع کرتا ہوں: ایک شرک اور دوسرا تکبر ہے۔ راوی کا کہنا ہے کہ میں نے کہا: یا کسی طرف سے یہ سوال ہوا کہ شرک کو تو ہم جانتے ہیں، تکبر کیا ہے؟ کیا یہ تکبر ہے کہ ہم میں سے کسی کا عمدہ جوتا ہو؟ فرمایا: نہیں۔ کہا گیا: کیا تکبر یہ ہے کہ کسی کے پاس پہننے کے لیے اچھا کپڑا ہو؟ فرمایا: نہیں۔ کہا گیا: کیا اچھی سواری کا مہیا ہونا تکبر ہے؟ فرمایا: نہیں۔ کیا یہ تکبر ہے کہ اس کے پاس بیٹھنے والے ساتھی ہوں؟ کہا: نہیں۔ راوی کہتا ہے: آپ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! پھر تکبر ہے کیا؟ آپ نے جواب دیا: تکبر یہ ہے کہ حق کا انکار کیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔“
مسند احمد: 2/169، 170 ـ کتاب الزهد، للأحمد، رقم: 285 ـ الأدب المفرد للبخاری، رقم: 548 ـ سلسلة الصحيحة، رقم: 134۔