مضمون کے اہم نکات
قبولیت اعمال کی دوسری شرط
② صحت عقیدہ
قبول اعمال کے لیے صحت عقیدہ از حد ضروری ہے۔ عقیدہ بھی وہ جو تمام انبیاء ورسل علیہم السلام نے پیش فرمایا، سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخر زمانہ کے پیغمبر سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کیونکہ تمام انبیاء ورسل علیہم السلام کا نصابِ تعلیم کلمہ طیبہ ”لا إله إلا الله“ تھا انبیاء ورسل دنیا بھر کے اساتذہ و مربی تھے جو بدل بدل کر تشریف لاتے رہے اور تبلیغی مراکز بھی تبدیل ہوتے رہے۔ مثلاً کبھی عراق و شام مرکز ہے تو کبھی مدینہ و مصر اور کبھی اردن انطاکیہ ہے تو کبھی مکہ و مدینہ۔ لیکن نصاب میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی نصاب تمام تبلیغی مراکز میں ایک تھا، وہ کلمہ طیبہ کی وضاحت اور تشریح۔ جو کہ صرف ہر مرکز کے مربی و مرشد (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) وحی الہی کی روشنی میں کرنے کا پابند اور ذمہ دار تھے۔
مثلاً:
لا إله إلا الله آدم صفي الله
لا إله إلا الله موسى كليم الله
لا إله إلا الله عيسى روح الله
لا إله إلا الله محمد رسول الله
نصاب کا تعین صرف اللہ تعالیٰ ہی فرماتے ہیں اور وضاحت کے لیے انبیاء ورسل کو مقرر فرماتے ہیں یعنی لا إله إلا الله کی وضاحت جو وقت کا مربی و مرشد نبی کرے گا وہی صحیح اور درست تسلیم کی جائے گی۔
پاس اور فیل کا متعین کرنے والا بھی خالق حقیقی ہی ہے۔
حاصل کلام یہ ہے کہ عقیدہ سے مراد انبیاء رسل والا عقیدہ اختیار کرنا ہوگا جس کی تعلیم انبیاء نے بذریعہ وحی الہی دی ہے۔ ن
عقیدہ اور اعمال کا باہمی تعلق :
قارئین ذی وقار کی ضیافت طبع کے لیے چند مثالیں پیش خدمت ہیں تاکہ ذہن قبول کر لے اور عقیدہ کی اصلاح ممکن ہو۔
﴿وَتِلْكَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ﴾
”یہ مثالیں ہیں جو کہ صرف لوگوں کے غور و فکر کے لیے ہم نازل کرتے ہیں۔“
(سورة الحشر: 21)
یاد رہے کہ تخلیق انسانی دو چیزوں سے مرکب ہے۔ انسانی وجود میں کل 360 جوڑ ہیں اور اندرون خانہ روح ہے۔ اور روح کا علم صرف اللہ رب العزت کے پاس ہے۔
﴿قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾
”آپ کہہ دیں کہ روح تو میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں بہت کم علم دیا گیا ہے۔“
(سورة الإسراء: 85)
روح وہ لطیف شئ ہے جو کسی کو نظر تو نہیں آتی لیکن ہر جاندار کی قوت و توانائی اسی روح کے اندر مضمر ہے۔
لہذا انسان کے وجود سے اگر روح نکل جائے تو 360 جوڑ نا کارہ اور بے کار ہو جاتے ہیں، صرف لاشہ ہمارے سامنے ہوتا ہے۔ کوئی بھی عضو حرکت نہیں کرتا، آنکھیں دیکھتی نہیں، زبان بولتی نہیں، کان سنتے نہیں، ہاتھ پکڑتے نہیں، پاؤں چلتے نہیں، کیونکہ روح پرواز کر چکی ہے۔ پس یہی مثال ہے عقیدہ کی۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور تمام اعمال صالحہ یہ اعضاء ہیں اور صحیح عقیدہ ان کی روح ہے۔ اگر عقیدہ ہی صحیح نہ ہو تو تمام اعمال ضائع اور برباد ہو جائیں گے۔
یا آپ ایسے سمجھ لیں جیسے کوئی شخص کسی کاروباری آدمی کو دو لاکھ روپے جمع کراتا ہے اب وہ اس کے نفع کا امیدوار ہے۔ بغیر رقم جمع کرائے وہ نفع کا امیدوار کیسے ہو سکتا ہے؟
یا کھجور کی گٹھلی زمین میں دبانے سے کھجور پیدا ہوگی اور اگر گٹھلی زمین میں نہ دبائی جائے تو کھجور کا درخت کیسے پیدا ہوگا۔ آپ اسی پر قیاس کریں کہ اگر بنیادی طور پر عقیدہ کی پونجی اور بیج بویا ہی نہیں تو اعمال صالحہ کا پھل کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ اعمال صالحہ کی قبولیت کے لیے دوسری شرط ہے انبیاء و رسل علیہم السلام کا عقیدہ صحیحہ، یہ اپنائے بغیر اعمال کی قبولیت کی امید بے فائدہ و بے کار ہے۔
عقیدہ کا رکن اعظم توحید کا اپنانا اور شرک سے بچنا ہے۔ اعمال میں لچک ہے لیکن عقیدہ صحیح میں کوئی لچک نہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
فرمان رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
عن معاذ قال أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم بعشر كلمات قال لا تشرك بالله شيئا وإن قتلت وحرقت ولا تعقق والديك وإن أمراك أن تخرج من أهلك ومالك ولا تتركن صلاة مكتوبة متعمدا قال من ترك صلاة مكتوبة متعمدا فقد برئت منه ذمة الله ولا تشربن خمرا فإنه رأس كل فاحشة وإياك والمعصية فإن المعصية تحل سخط الله وإياك والفرار من الرحف وإن هلك الناس وإذا أصاب الناس موت أنت فيهم فاثبت وأنفق على عيالك من طولك ولا ترفع عنهم عصاك أدبا وآخفهم فى الله
سیدنا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس باتوں کی وصیت فرمائی۔
① اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اگرچہ تو قتل کر دیا جائے یا جلا دیا جائے۔
② اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا اگرچہ وہ تجھے اپنے اہل و مال سے نکلنے کا حکم دے دیں۔
③ فرض نماز کو جان بوجھ کر نہ چھوڑنا کیونکہ جس نے فرض نماز جان بوجھ کر چھوڑ دی تو وہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ سے بری ہو گیا۔
④ شراب نہ پینا کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔
⑤ گناہ سے بچنا کیونکہ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوتا ہے۔
⑥ جہاد سے راہ فرار نہ اختیار کرنا اگرچہ لوگ قتل ہو رہے ہوں۔
⑦ جب لوگ موت کا نوالہ بن رہے ہوں تو ان میں موجود ہو تو ثابت قدم رہنا۔
⑧ اپنے اہل و عیال پر اپنی طاقت کے مطابق مال خرچ کر۔
⑨ اپنی ادب کی لاٹھی ان پر قائم رکھ۔
⑩ ان کو اللہ تعالیٰ کا خوف دلاتا رہ۔
(رواۃ احمد 238/5، مشکوٰۃ، حدیث: 61)
نوٹ: اعمال میں لچک ہے مثلاً نماز آدمی کھڑے ہو کر نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھ لے یا حج خود نہیں کر سکتا تو کوئی دوسرا اس کی جگہ کر لے جیسے حج بدل ہے۔
راوی کا تعارف : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ :
سیدنا معاذ کی کنیت ابو عبد الرحمن ہے سلسلہ نصب معاذ بن جبل بن عمرو بن اوس بن عائذ بن عدی الانصاری ہے۔ 18 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ بدر اور دوسرے غزوات میں شرکت فرمائی۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ علماء صحابہ میں شمار ہوتے ہیں۔
کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ حلال و حرام کے مسائل کو خوب جانتے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں شام کے حاکم مقرر ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف معلم بنا کر بھیجا تھا۔
ان کی کل روایات 157 ہیں جن میں 2 متفق علیہ ہیں، تین میں امام بخاری منفرد ہیں اور ایک میں امام مسلم منفرد ہیں۔
سن 18 ہجری میں 38 سال کی عمر میں اللہ کو پیارے ہوئے۔ (مرعاة المفاتیح ص 88)
فائدہ :
عقیدہ کا مادہ عقدۃ ہے جس کا معنی ہے گرہ لگانا یعنی اپنی نجات کے لیے انسان کو عقیدہ کے متعلق پختہ گرہ دل میں لگا لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات میں یکتا و واحد لاشریک ہے بلا شرکت غیرے۔
فرمان باری تعالیٰ:
﴿وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾
”اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنا۔“
(سورة الكهف: 110)
کسی وقت تنہائی میں معنی پر غور کرتے ہوئے یہ وظیفہ و ذکر دل و زبان سے جاری فرمائیں:
﴿اللَّهُ رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِرَبِّي أَحَدًا﴾
نوٹ: اس وظیفہ کے کرنے سے امکان غالب ہے۔ اگر عمل میں کم علمی کی بنا پر کمی رہ گئی ہو تو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں گے۔
یاد رہے کہ مشرک کی قطعاً نجات نہیں اگر بغیر توبہ کے شرک کی حالت میں فوت ہو جائے۔
خالق ارض و سماء کا فرمان عالی شان ہے:
﴿ إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا﴾
”یقیناً اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جسے چاہے بخش دیتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرے اس نے بہت بڑا گناہ اور بہتان باندھا یعنی بڑا سخت ترین گنہگار ہوا۔“
(سورة النساء: 48)
﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُولَٰئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ﴾
”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ الودہ نہیں کیا انہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں۔“
(سورة الأنعام: 82)
ایک حقیر مکھی کی وجہ سے ایک آدمی جنتی جبکہ دوسرا جہنمی :
عن طارق بن شهاب رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال دخل الجنة رجل فى ذباب ودخل النار رجل فى ذباب قالوا وكيف ذلك يا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال مر رجلان على قوم لهم صنم لا يجاوزه أحد حتى يقرب له شيئا فقالوا لأحدهما قرب قال ليس عندي شيء أقرب قالوا له قرب ولو ذبابا فقرب ذبابا فخلوا سبيله فدخل النار وقالوا للآخر فقرب فقال ما كنت لأقرب لأحد شيئا دون الله عز وجل فضربوا عنقه فدخل الجنة
سیدنا حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایک شخص صرف مکھی کی وجہ سے جنت میں جا پہنچا اور ایک جہنم میں چلا گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ کیسے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دو شخص چلتے چلتے ایک قبیلے کے پاس سے گزرے اور اس قبیلے کا ایک بت تھا اس کو چڑھاوا چڑھائے بغیر وہاں سے کوئی نہ گزر سکتا تھا۔ چنانچہ ان میں سے ایک کو کہا گیا کہ ہمارے بت پر چڑھاوا چڑھاؤ۔ اس نے عذر پیش کیا کہ میرے پاس چڑھاوے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ تو انہوں نے کہا چڑھاوا ضرور چڑھاؤ اگرچہ ایک مکھی ہی کیوں نہ ہو۔ اس نے ایک مکھی چڑھاوا چڑھا دی۔ انہوں نے اس کا راستہ چھوڑ دیا تو وہ آدمی جہنم رسید ہوا۔ دوسرے ساتھی سے کہنے لگے تم بھی کسی چیز کا چڑھاوا چڑھاؤ۔ وہ کہنے لگا میں غیر اللہ کے لیے کوئی چڑھاوا نہیں دے سکتا۔ تو انہوں نے اس کو شہید کر دیا اور وہ جنت میں داخل ہو گیا۔
(فتح المجید 128-129)
راوی کا تعارف : سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ :
ابو عبد اللہ طارق بن شہاب البجلی صحابی رسول ہیں۔ عالم شباب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔ کوفہ میں سکونت اختیار کی۔ سن 83 ہجری میں وفات پائی۔ سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کی ملاقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے لیکن سماع حدیث ثابت نہیں۔ سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں 33 جنگوں میں حصہ لیا ہے۔
اقسام شرک :
شرک کی بے شمار اقسام ہیں۔ مثلاً قبر پرستی، اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانا اور اس کا سانجھی بنانا ایک ایسا گناہ عظیم ہے جسے اللہ تعالیٰ کبھی معاف نہیں فرمائیں گے۔ شرک کے مرتکب کی سزا دائمی جہنم ہے جبکہ دیگر گنہگار اور خطاکار مومن اپنے اپنے گناہوں اور نافرمانیوں کی سزا بھگتنے کے بعد بالآخر جنت میں پہنچ جائیں گے اور ان کے لیے جنت کے دربان جنت کے دروازے کھول دیں گے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں نہ صرف شرک سے بچنے کی تاکید فرمائی بلکہ ایسے امور کی بھی ممانعت فرمائی جو شرک کا موجب بنتے ہیں۔ شرک کے اسباب میں ایک سبب قبریں بھی ہیں چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ کرنے اور چونا گچ کرنے سے منع فرمایا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ڈیوٹی لگائی کہ جہاں پر کوئی قبر دیگر قبروں سے اونچی نظر آئے اسے فوراً مسمار کر کے دیگر قبروں کے برابر کر دو۔
ہمارے ملک میں شرک کی بیماری پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ بڑے بڑے قبے، پکی عمارتیں اور مزارات ہیں۔ وہاں پر دن رات شرک ہوتا ہے۔ کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ یہاں تک کہ خود ارباب بست و کشاد ایسے امور میں شرکت کرتے ہیں۔ کبھی کسی بزرگ کی قبر پر کوئی وزیر چادر چڑھاتا ہے، کبھی کوئی پھول نچھاور کرتا ہے، کوئی وہاں پر شرینی تقسیم کرتا ہے اور کوئی ان کو حاجت روا سمجھ کر نہایت ادب و احترام سے ان کے سامنے فریاد رسی کی درخواست کرتا ہے۔ حتی کہ بعض اشخاص ایسی قبروں کے سامنے جبین نیاز جھکانے اور ماتھا رگڑنے سے باز نہیں آتے۔ پھر وہاں جو صندوق ہوتا ہے اس میں نذرانے کے طور پر سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں روپے ڈال کر برباد کرتے ہیں۔ مشرک کا یقین پختہ نہیں ہوتا۔ وہ وہم پرستی اور ضعیف الاعتقادی کا مریض ہوتا ہے۔ ایمانی کمزوری کے باعث وہ اپنے حقیقی خالق سے رشتہ منقطع کر کے معبودان باطلہ سے تعلقات استوار کرتا ہے اور مساجد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سر جھکانے کی بجائے پکی قبروں کی تلاش میں رہتا ہے اور جہاں اسے پکی قبر نظر آتی ہے فوراً وہاں پیشانی رگڑتا ہے، اسے بوسہ دیتا ہے، اس کا طواف کرتا ہے اور اس کے سامنے سرنگوں ہو کر مشرکین کے زمرہ میں پوری طرح داخل ہو جاتا ہے۔ ایسا شخص ضعیف الاعتقاد، وہم پرست اور ہر بات کو مسیح سمجھتا ہے۔ وہ تدبر و تفکر سے کام لیتا ہے اور نہ تحقیق کی چھلنی میں چھانتا ہے۔ چنانچہ اس ضعیف الاعتقادی سے فائدہ اٹھا کر کچھ چالاک عیار اور شیطان کے چیلوں نے اس کاروبار کو نفع بخش سمجھ کر شروع کر دیا۔ اس میں انہیں بڑی کامیابی ہوئی۔ ان کے پاس دولت کے انبار لگ گئے۔ لوگوں نے خود جا کر ان کی جیبوں اور جھولیوں کو نوٹوں سے بھرا۔
ہمارے ملک میں کئی ایک قبریں ایسی ہیں جن میں کسی انسان کی نعش نہیں بلکہ لوگوں نے کمائی کا ذریعہ بنانے کی خاطر لوگوں سے کہہ دیا کہ مجھے خواب میں تین مرتبہ اشارہ ہوا ہے کہ یہاں پر میری قبر بناؤ۔ میں مدت سے یہاں پڑا ہوا ہوں کسی نے میری قبر کی طرف توجہ ہی نہیں کی۔ چنانچہ جو شخص پختہ قبر بناتا ہے وہ لوگوں میں مشہور کرتا ہے کہ یہاں پر ایک بہت بڑے بزرگ کی قبر ہے۔ یہاں پہنچی ہوئی سرکار موجود ہے۔ اس کا کوئی فرضی نام رکھ لیتے ہیں مثلاً بابا چھتری والا بابا، کاں واں والی سرکار، بابا سگ شاہ، بابا بالے شاہ، بابا رڑی شاہ، کالا شاہ سرکار وغیرہ۔
جھوٹی قبر کی سچی کہانی :
قارئین ذی وقار کی دلچسپی اور معلومات کے لیے ایک آنکھوں دیکھا صحیح واقعہ پیش خدمت ہے۔ (فاعتبروا يا أولوا الأبصار)
تقسیم ملک سے تقریباً دو سال قبل کا واقعہ ہے۔ اس وقت میں (محمد یوسف آف راجو وال) مدرسہ تقویۃ الاسلام امرتسر المعروف غزنویہ میں زیر تعلیم تھا جو کہ جماعت کا مشہور ترین ادارہ ہے۔ اس دور میں حسب ذیل اساتذہ کرام تھے: مولانا عبد اللہ منطقی بھوجیانی رحمہ اللہ جو کہ منطق اور تاریخ کے کامیاب استاد مانے جاتے تھے اور ان کے چھوٹے بھائی مولانا عبد الرحیم رحمہ اللہ علم ادب کے ماہر تھے اور مولانا محمد حسین ہزاروی رحمہ اللہ بھی جو ہر فن نحو و صرف کے امام تھے اور مولانا نیک محمد جہلمی مسند حدیث پر رونق افروز تھے۔
امرتسر کے قریب ایک معروف گاؤں بھوجیاں ہے۔ اس گاؤں کا واقعہ ہے۔ گاؤں کے قریب ایک قبر کھودی گئی جس سے بیل کے اعضاء برآمد ہوئے۔ جس کی تفصیل قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں۔
پرانے وقتوں میں کسان پیشہ لوگ بیل بڑے شوق سے پالتے تھے کیونکہ بیلوں کے ذریعہ کھیتی باڑی کی جاتی تھی۔ ھل بھی بیلوں کے ذریعہ چلائے جاتے اور فصلوں کو سیراب کرنے کے لیے بیلوں کے ذریعے کنوؤں سے پانی نکالا جاتا۔ اسی وجہ سے بیل کی بہت قدر و قیمت تھی۔ ایک سکھ نے بڑے شوق سے بیل پالا ہوا تھا۔ اچانک بیل بیمار ہو گیا۔ علاج معالجہ کروایا لیکن بیل صحت یاب نہ ہوا بلکہ بیل مر گیا۔ اب جو بیل کا مالک تھا اس کو بہت غم لاحق ہوا۔ وہ بیل کے پاس بیٹھ کر رونے لگا اور بین کرتا (ہائے او میری سادیا) آخر اس نے گڑھا کھودا اور بیل کو اس گڑھے میں دبا دیا۔ اور کئی دن اس ڈھیر پر آ کر وہ سکھ بیل کے غم میں روتا رہا۔ کچھ مدت کے بعد بیل کا مالک وہ سکھ تو اپنے بیل کو بھول گیا۔ لیکن ایک ملنگ جو موقع کی تلاش میں تھا، اس نے موقع پا کر اس ڈھیری کو باقاعدہ قبر کی شکل دی اور صفائی وغیرہ کرنے کے بعد قبر پر مجاور بن کر بیٹھ گیا۔ اور جھنڈا گاڑ دیا اور نام رکھ دیا ”ساوے شاہ“۔ مصلی لوٹا کا انتظام کر دیا اور تشہیر کرنی شروع کر دی کہ یہ پہنچی ہوئی سرکار ہے۔ بس پھر اس پیٹ کے پجاری ملنگ کی موج لگ گئی اور لوگوں کی آمد و رفت شروع ہو گئی اور اس بیل کی خوب پوجا شروع ہو گئی۔
گاؤں بھوجیاں میں اہل حدیث افراد کی اکثریت تھی۔ انہوں نے دیکھا کہ شرک شروع ہو گیا ہے تو گاؤں کے چند اہم افراد نے مل کر تھانہ میں رپورٹ درج کروا دی کہ اس قبر میں آدمی نہیں بلکہ بیل دفن ہے۔ اور ایک شخص مدعی بن گیا اور دعویٰ کر دیا کہ اگر قبر سے آدمی کے اعضاء برآمد ہوں تو میرا قتل معاف۔ وقت کا افسر مجبور ہو گیا اور اس نے قبر کھودنے کا حکم جاری کر دیا۔ جب قبر کھودی گئی تو واقعتاً اس سے بیل کے اعضاء برآمد ہوئے۔
عرض کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ بے شمار ایسی قبریں ہیں جو فرضی بنائی گئی ہیں یا پھر ان میں جانور دبائے ہوئے ہیں۔ قبر آخر قبر ہی ہے چاہے وہ کسی بزرگ انسان کی ہو یا حیوان کی۔ اس کو پوجا گاہ بنانا شرک ہے اور شرک کسی بھی حالت میں معاف نہیں۔
مالک الملک الغفور الرحیم کا ارشاد پاک ہے:
﴿إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ﴾
”یقین مانو وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بناتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔ اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور مشرکوں کی مدد کرنے والا کوئی بھی نہیں ہوگا۔“
(سورة المائدة: 72)
ایک دوسرے مقام پر غفار قہار کا فرمان اس طرح ہے:
﴿وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾
”اور یقیناً تیری طرف بھی اور آپ سے پہلے (کے تمام نبیوں) کی طرف بھی وحی کی گئی ہے کہ اگر (بالفرض محال) آپ نے شرک کیا تو بلا شبہ تیرا عمل ضائع ہو جائے گا اور بالیقین تو زیان کاروں میں سے ہو جائے گا۔“
(سورة الزمر: 65)
یہ فرضی معبود بھی کچھ کام آتا ہے لیکن قبر؟
ہر فرضی معبود کچھ کام آتا ہے مثلاً مجوسی آگ کی پوجا کرتے ہیں تو آگ کئی فائدے دیتی ہے۔ مثلاً ہم آگ پر کھانا پکاتے ہیں، چائے بناتے ہیں، سردی میں تاپتے ہیں۔ اگر کوئی سورج کا پجاری ہے تو سورج بھی کام آتا ہے۔ سورج کی روشنی سے فصلیں تیار ہوتی ہیں، اس سے دھوپ حاصل ہوتی ہے، پھل پکتے ہیں۔ درخت کی پوجا کی جاتی ہے تو درخت سے بھی کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ پھل حاصل ہوتا ہے، سائے کا کام دیتا ہے، ایندھن حاصل ہوتا ہے۔
چاند کی پوجا کرنے والے بھی ہیں اور چاند سے متعدد فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ رات کو پر سکون روشنی مہیا کرتا ہے جس سے انسانوں کو فائدہ حاصل ہوتا ہے اور فصلوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔
ستاروں کو بھی الٰہ مانا جاتا ہے۔ ان ستاروں کے بھی کئی فائدے ہیں۔ رات کے وقت سمندری سفر کا راستہ معلوم کیا جاتا ہے۔
گائے سے بھی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ دودھ حاصل ہوتا ہے، گوشت کے کام آتی ہے، اس کی ہڈیاں بھی فائدے سے خالی نہیں ہیں۔
پانی کے بھی بے شمار فوائد ہیں۔ پینے کے کام آتا ہے، غسل کر کے اپنے جسم کو صاف اور پاک کرتے ہیں اور اپنی فصلوں کو بھی سیراب کرتے ہیں۔ ان تمام چیزوں سے فوائد حاصل ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کی پوجا کی جائے۔ یہ تمام چیزیں الٰہ العالمین نے بندوں کے فائدے کے لیے پیدا فرمائی ہیں اور انسان ان سے فوائد حاصل کر رہا ہے۔
واعجبا! افسوس در افسوس! مٹی کے ڈھیر کو پوجنے سے کیا فائدہ حاصل ہوا؟ میرے عزیز بھائی! تعصب کی پٹی اتار کر غور کریں۔ مٹی کے ڈھیر پر کتے اور بلیاں پیشاب کر جاتے ہیں۔ صاحب قبر ان کو روکنے اور ہٹانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
تعجب تو اس بات پر ہے کہ کبھی کسی حیوان نے کسی حیوان کو سجدہ نہیں کیا اور نہ ہی ایک دوسرے کی نذر و نیاز دیتے ہیں۔ انسان اشرف المخلوقات ہو کر بھی انسان انسان کو سجدہ کر رہا ہے اور نذر و نیاز دے رہا ہے۔
کھیر اور شرک اکبر :
عرش عظیم کا مالک آسمان سے بارش نازل فرماتا ہے اور زمین سے کئی فصلیں پیدا ہوتی ہیں اور گائے بھینس اس سے چارہ حاصل کرتی ہیں اور دودھ دیتی ہیں۔ چاول زمین سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایندھن بھی اس مالک ارض و سماء کی دی ہوئی نعمت ہے۔ دودھ جو اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، چاول بھی اس کی نعمت ہے اور ایندھن بھی اسی کا اب پک کر کھیر تیار ہو گئی جس میں پورا کا پورا مواد خالق کائنات کی نعمتوں سے تیار شدہ ہوتا ہے۔ اب کھیر پکانے والی برصغیر کی سب سے بڑی مشرکہ اور کافرہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا مرکب کھیر کو مٹی کے ڈھیر (قبر) پر چڑھاوا چڑھاتی ہے۔
لله در من قال:
لا الہ دے اکھن کارن ہور الہ نہ کوئی
الا اللہ دے اکھن کارن اکو صحیح کیتو ای
کلمہ پڑھ کے وقبراں پوجے
بیڑا غرق ہو یو ای
قبر پرستی، ایک دردمند دل کی پکار :
درج ذیل مضمون مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی رحمہ اللہ علیہ نے 1925ء میں ”کتاب الوسیلہ“ عربی کا اردو ترجمہ کرتے ہوئے مقدمہ میں لکھا تھا۔ ایک دردمند موحد دل کی یہ پکار عبرت کے لیے ہدیہ قارئین کی گئی ہے۔
نصف صدی سے بیشتر یہ حالات تھے۔ آج کے حالات آپ کے سامنے ہیں۔ نام نہاد مسلمان حکومت شرک کی خودسر پرستی کرتی ہے اور باقاعدہ تنظیم سے شرک کے راستے آسان کر دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جملہ اہل اسلام کو فکر، اخلاص، توحید و سنت کی نعمت سے مالا مال فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)
سیدنا حضرت انس رضی اللہ عنہ اپنے زمانہ میں رویا کرتے تھے کہ عہد اول کا دین باقی نہیں رہا اگر ہمارے اس زمانہ کو دیکھتے تو کیا فرماتے! کیا ہمیں مشرک قرار نہ دیتے اور ہم انہیں کوئی برا نام نہ دیتے۔ کیونکہ اس وقت اور اس وقت کے اسلام میں اب کوئی مشترک چیز باقی رہ گئی ہے تو وہ صرف لفظ اسلام ہے یا چند ظاہری و رسمی عبادتیں ہیں اور وہ بھی بدعت کی آمیزش سے پاک نہیں ہے۔
کتاب اللہ جیسے آسمان سے اتری تھی اب تک بے غل و غش ویسی قائم ہے۔ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مدون و محفوظ مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود ہے مگر کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ دونوں مہجور و متروک ہیں طاقوں اور الماریوں کی زینت ہیں یا گنڈوں تعویذوں میں مستعمل ہیں۔ مسلمان اپنی عملی زندگی میں ان سے بالکل آزاد ہیں اور باوجود ادعائے اتباع ان سے مخالف چل رہے ہیں۔
اجمیر کا عرس دیکھنے کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ یہ وہی مسلمان ہیں جو حامل قرآن اور علمبردار توحید تھے۔ آنجہانی پنڈت موتی لال نہرو نے اجمیر کی کیفیت دیکھ کر کہا تھا: ”اب تک مجھے شک تھا کہ ہندوستان میں اتحاد ہو سکتا ہے مگر آج یقین ہو گیا ہے کیونکہ ہمارے اور مسلمانوں کے مذہب میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف ناموں میں ہے۔ حقیقت دونوں کی ایک ہی ہے۔“ اور یہ انہوں نے سچ کہا ہے کیونکہ اس وقت ہندو اور مسلمان کے شرک میں اگر کچھ فرق ہے تو صرف ناموں اور طریقوں ہی کا ہے ورنہ حقیقتاً تقریباً ایک ہے۔ ہندو بتوں کے سامنے جھکتے ہیں تو مسلمان قبروں کے سامنے۔ ہندو رام کرشن کی پوجا کرتے ہیں تو مسلمان جیلانی اور اجمیری کی۔
یہ کہنا کہ پرستش نہیں کرتے انہیں خدا نہیں سمجھتے بے معنی ہے کیونکہ ہندو بھی اللہ واحد کے سوا کسی کو بھی خدا سمجھ کر پرستش نہیں کرتے اور نہ مشرکین عرب کرتے تھے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ تم اپنی پرستش کو پرستش اور عبادت نہیں کہتے کچھ اور نام دیتے ہو مگر ناموں کے اختلاف سے حقیقت تو بدل نہیں سکتی۔
حساس آدمی کے لیے مسلمان مشرکوں کے حالات و خیالات معلوم کرنا ایک نا قابل برداشت مصیبت ہے۔ اس فرقہ میں عقل و نقل دونوں کا کال ہے۔ ایک طرف تسلیم کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے، سمیع و بصیر ہے۔ آسمانوں اور زمینوں میں ایک ذرہ بھی اس سے اوجھل نہیں اور نہ ہی اس کی مرضی کے بغیر حرکت کر سکتا ہے۔
وہ ہم سے دور نہیں قریب ہے اور اتنا قریب کہ اس سے زیادہ نزدیکی ممکن نہیں۔ پھر رحمن و رحیم ہے، غفور و غفار ہے، بھی ہے بے حساب دیتا ہے، جبار بادشاہ یہ نہیں کہ کسی کو اپنے در پر آنے نہ دے۔ اس کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔ اس کا ہاتھ ہر وقت پھیلا ہوا ہے۔ اس کا لنگر ہر وقت جاری ہے۔ یہ سب اور اس سے زیادہ مانتے ہیں مگر مگر کے آگے عقل و دانش کی موت ہے انسانیت اور انسانی شرافت کا ماتم ہے۔ ”مگر “ کے بعد یہ ہے کہ قبروں کے سامنے جھکنا ضروری ہے، مردوں کی منتیں ماننا ضروری ہے۔ سفارش و شفاعت کے بغیر اس دربار میں رسائی ناممکن ہے۔ یہ قبر غوث اعظم کی ہے جو مر جانے کے بعد بھی غوث ہی ہے اور ملک الموت سے قبض کی ہوئی روحوں کا تھیلا چھین سکتے ہیں۔ یہ محبوب سبحانی ہیں عاشق جانثار کو ضد کر کے مجبور کر دیتے ہیں۔ یہ غریب نواز ہیں اور مرنے پر بھی مٹھائی بھر بھر دیتے ہیں۔
چنانچہ انسانیت اور اسلام کے یہ مدعی جوق در جوق قبروں پر جاتے ہیں، ماتھے گھتے ہیں، ناک رگڑتے ہیں اور وہ سب کچھ کرتے ہیں جو کوئی شریف النفس اور خود دار انسان کسی مخلوق کے سامنے کر نہیں سکتا۔
انسان کے پاس سب سے بڑی دولت اس کی اپنی انسانیت ہے۔ اس متاع عزیز کو چونے اور اینٹ کے چبوتروں پر بڑی بے دردی سے قربان کراتے ہیں۔ اگر کہا جائے دیکھو کیا کرتے ہو، شریعت نے منع کیا ہے، شرک ٹھہرایا ہے جہنم سزا بتائی ہے تو جواب میں اعراض و انکار ہے تاویل و تحریف ہے۔ شریعت و حقیقت ہے، ظاہر و باطن ہے، وھابی حنفی کا فرق ہے، قرآن کی آیت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا مقابلہ حسن بصری، شبلی، جیلانی، چشتی کے ملفوظات ہیں۔ حالانکہ ان میں سے کسی نے بھی کوئی شرک جائز نہیں رکھا مگر کس سے کہا جائے، کان ہوں تو سنیں، آنکھیں ہوں تو دیکھیں، دل ہو تو سمجھیں۔
﴿لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ﴾
”ان کے پاس دل ہیں مگر ان سے سمجھ بوجھ کا کام نہیں لیتے، آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے، کان ہیں مگر ان سے سننے کا کام نہیں لیتے۔ (وہ عقل و حواس کا استعمال کھو کر) چارپایوں کی طرح ہو گئے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ کھوئے ہوئے ہیں۔“
(سورة الأعراف: 179)
یہ صرف عوام ہی کا حال نہیں کہ جہالت کی وجہ سے معذور کہے جائیں۔ ان لوگوں کا بھی یہی حال ہے جو اپنے آپ کو منہ پھاڑ پھاڑ کے علمائے امت، وارث علوم نبوت اور انبیائے بنی اسرائیل کا مشابہ بتاتے ہیں۔ ایک طرف اسفار شریعت کے حامل، دوسری طرف حقیقت کے راز دان ہونے کے مدعی ہیں۔ دراصل یہی لوگ امت محمدیہ کے لیے اصلی فتنہ اور تمام تباہیوں اور بربادیوں کے سبب ہیں۔ یہ علماء اس وقت فقہی و فریسی و صدوقی ہیں، ہاروت و ماروت ہیں، رؤس الشیاطین ہیں۔
انہی نے شریعت کی تحریف کی ہے، انہی نے کتاب و سنت کا دروازہ مسلمانوں کے لیے بند کیا ہے، انہی نے شرک و بدعت کی تاریکی پھیلائی ہے، انہی نے اسلام کا نام لے کر اسلام مسلمانوں کے دلوں سے اکھاڑ پھینکا ہے۔ تیرہ چودہ سو برس کی پوری تاریخ ہمارے سامنے کھلی رکھی ہے۔ وہ کون سی مصیبت ہے جو ان کے ہاتھوں نہیں آئی؟ وہ کون سا گمراہی کا جھنڈا ہے جو انہوں نے اپنے کندھوں پر اٹھایا نہیں؟
سیدنا حضرت عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے یہ کہہ گئے ہیں:
وهل بدل الدين إلا الملوك وأحبار سوء ورهبانها
الفاظ کچھ سخت ضرور ہیں اور شاید قابل مواخذہ بھی ہیں مگر دل و جگر میں گھاؤ پڑے ہیں اور زیادہ ماتم پر مجبور کرتے ہیں۔ کون انسان ہے جو کروڑوں انسانوں کی بے دردانہ تباہی دیکھے اور خاموش رہے؟ کون مسلمان ہے جو امت مرحومہ پر یہ قذاقانہ تاخت اپنی آنکھوں سے دیکھے اور چپ رہے؟ کیا اس کے بعد بھی انسان دیوانہ نہ ہو جائے گا کہ دن کو رات بتاتا جاتا ہے، سورج کو کالا کہتا جاتا ہے، حق کو باطل اور باطل کو حق ٹھہرایا جاتا ہے کون مسلمان ہے جس کے دل میں ذرا بھی نور ایمان ہو اور شریعت کو ضلالت، سنت کو بدعت، ایمان کو کفر، توحید کو شرک، اور شرک کو توحید ہوتے دیکھے اور جوش سے اہل نہ پڑے لہذا اس سے دور رہو۔
اشخاص کی تقلید واجب ہے لہذا بے چون و چرا ہمارے پیچھے چلے چلو، قبریں اونچی بناؤ، قبے بناؤ، اولیاء سے منتیں مانو، خدا تک مخلوق کو وسیلہ بناؤ، جو چاہو کرو، بخشے جاؤ گے کیونکہ شفیع المذنبین کی امت ہو۔ یہی دین ہے، یہی شریعت ہے۔ کیا ہم سب سنتے رہیں اور خاموش بیٹھے رہیں؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ مصلحین امت اٹھیں اور علمائے سوء کے اس شرذمہ مشئومہ کے چہرے سے نقاب الٹ دیں تاکہ مسلمان اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ ان بڑی بڑی پگڑیوں کے نیچے شیطان کو سجدہ کرنے والے سر ہیں اور ان لمبی لمبی گھنی داڑھیوں کی اوٹ میں کفر و ریا کی سیاہی چھپی ہوئی ہے؟ کیا مسلمان اپنے علماء اور راہنماؤں کے اسلام و اصلاح کا حال سننا چاہتے ہیں؟ عبرت کے ساتھ یہ واقعہ نوٹ کر لیں۔ کہ ان کے ایک مستند عالم نے جو صوفی اور شاید پیر بھی ہیں، تحریک خلافت کے دوران میں تجویز پیش کی تھی کہ علماء و مشائخ کا ایک وفد مرتب ہو کر اجمیر شریف جائے اور خواجہ صاحب کو امت کی ایک ایک مصیبت سنا کر فریاد کرے۔ صرف تجویز ہی نہیں بلکہ سنا ہے کہ عملاً یہ مولوی صاحب اپنے ہم مشربوں کے ساتھ شد حال کر کے گئے اور مزار پر خوب روئے پیٹے بھی مگر افسوس وہاں سے کوئی جواب نہ ملا اور بے مراد لوٹے چلے آئے۔
کیا یہی وہ توحید ہے جس کی بنیاد میں قرآن نے قائم کی تھی جس کی حفاظت کے لیے علماء دین مدعی ہیں اور جس کے اتباع و تمسک پر مسلمانوں کو ناز ہے؟ اگر خواجہ صاحب امت محمدیہ کو اس کے مصائب سے نجات دلا سکتے ہیں تو رام و کرشن کی خدائی پر مسلمان کیوں منہ بناتے ہیں؟ اس اجمیری وفد کی تحریک پرائیویٹ نہ تھی، اخبارات کے کالموں میں علانیہ کی گئی تھی مگر کسی عالم نے بھی اعلان کرنے والے کی زبان نہ پکڑی کہ یہ شرک ہے بلکہ بہت سے مولویوں نے تو اس کی تحریر پر تائید کی جیسا کہ اخبارات کے پرانے فائل گواہ ہیں۔
کیا یہی وہ حفاظت دین ہے جس کا بیڑا ہمارے علماء اٹھائے ہوئے ہیں؟ اور اے کاش! ضلالت و بدعت کی حمایت علماء کے اس گروہ میں محدود ہوتی جسے بدعتی کہا جاتا ہے اور اس گروہ میں منتقل نہ ہوتی جو اصلاح و تجدد کا مدعی ہے۔
یہ المناک واقعہ انتہائی رنج و اندوہ کے ساتھ تاریخ کے حوالہ اور مسلمانوں کے گوش گذار کرتا ہوں کہ ابھی چند روز کی بات ہے کہ ایک جماعت کے ایک تعلیمی مرکز کے شیخ اعظم اور دوسرے مشائخ نے تعزیہ داری جیسی صریح بدعت بلکہ شرک کے خلاف فتویٰ دینے سے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ موجودہ حالات میں ایسا فتویٰ خلاف مصلحت ہے۔ کیا یہی طریقہ شریعت کی حفاظت کا ہے؟ کیا یہی نیابت انبیاء ہے جس کا فرض ہمارے علماء خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں؟ کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ مسلمان آنکھیں کھولیں، اپنے مذہبی پیشواؤں کی حقیقت معلوم کریں، دین کی حفاظت اور شرک و بدعت کے ازالہ کے لیے خود آگے بڑھیں؟ اسلام میں نہ پاپائیت ہے اور نہ روحانی پیشوائیت۔ وقت آ گیا ہے کہ یہ خود ساختہ پیشوائی ڈھا دی جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کا رشتہ اللہ تعالیٰ کے دین سے براہ راست استوار ہو جائے۔
(کتاب الوسیلہ اردو مطبوعہ لاہور، 1951ء، بار دوم از مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کلکتہ)
حیوان حیوان کو سجدہ نہیں کرتا لیکن!
بلکہ میں افسوس سے کہتا ہوں آپ دیکھ رہے ہیں کہ حیوان حیوان کو سجدہ نہیں کرتا اور نہ نذر و نیاز مانتا ہے اور نہ اس کی پوجا کرتا ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہو کر انسان انسان کو سجدہ کر رہا ہے اور اس کو پوج رہا ہے بلکہ اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ چومتا ہے۔ ایسے افراد جانوروں سے بھی ابتر ہیں۔
أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
من كان باكيا فليبك على الإسلام
اس کی تفاصل تو بہت زیادہ ہیں اور اسے پھیلایا جا سکتا ہے مگر اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔
حقیقی تنبیہ :
اللہ جل جلالہ، سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، پانچ فقہیں، فقہ ظاہری، فقہ مالکی، فقہ حنبلی، فقہ شافعی، فقہ حنفی متفق ہیں بلکہ امت محمدیہ کا ہر فرد بلا اختلاف مسلک مانتا ہے۔ اگر مشرک شرک کی حالت میں مر جائے بغیر توبہ کے تو قطعی جنتی نہیں ہے۔ حضرات اپنے آپ کو اور اپنے خویش و اقارب، ہر مسلم شخص کو شرک سے بچنے اور بچانے کی کوشش کریں۔ وما توفيقي الا بالله
﴿إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ﴾
”جس نے بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔ اس کا ٹھکانہ آگ ہے اور ظالموں کا کوئی بھی مددگار نہیں۔“
(سورة المائدة: 72)
اسلام اور قبر پرستی :
حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین، تابعین عظام اور اسلاف امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ قبروں اور مزاروں کا طواف کرنا، براہ راست ان سے مانگنا، ان کی وساطت سے سوال کرنا، ان کے ہاں حاضری دینا، استغاثہ کرنا، انہیں بوسہ دینا، اور متبرک سمجھ کر چھونا یہ سب کام حرام اور ناجائز ہیں۔ کیونکہ یہ بھی کام گمراہی اور شرک کا سبب بنتے ہیں۔ اسی لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں اور عیسائیوں کو ملعون ٹھہرایا۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لعن الله اليهود والنصارى اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد
”اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہودیوں اور عیسائیوں پر کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔“
(صحیح البخاری: 1330، صحیح مسلم: 1184)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر اس وجہ سے لعنت فرمائی کہ وہ انبیاء کی قبروں پر نماز ادا کیا کرتے تھے حالانکہ وہ نماز تو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے پڑھتے تھے۔ اس لیے جو شخص قبرستان میں نماز پڑھے یا اسے سجدہ گاہ بنائے وہ رحمت خداوندی سے راندھا ہوا اور ملعون ہے۔ کیونکہ یہ سجدہ ان انبیاء و اتقیاء کی بندگی کے مترادف ہے۔ یہ لعنت یہودیوں اور عیسائیوں کی کسی شخصیت یا کسی خاص زمانہ اور گروہ کی ہجرت نہیں ہے بلکہ ان کے اعمال کی وجہ سے ہے۔ اس لیے جو شخص بھی قبروں پر ان جیسا عمل کرے گا یا ان سے بڑھ کر بزعم خویش نیک عمل کرے گا وہ لعنت خداوندی کا مستحق ہوگا۔ اسی لیے تو رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ان برے اعمال سے اجتناب کی تلقین فرمائی جن کے مرتکب یہود و نصاریٰ ہوئے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک :
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اگر قبر نبوی کی پرستش کا اندیشہ نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک عام قبرستان (جنت البقیع) میں بنائی جاتی مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا اندیشہ لاحق ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی کی تدفین اسی مقام پر ہوتی ہے جہاں اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کر کے اپنے رفیق اعلیٰ سے جاملتی ہے۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دلوں میں یہ کھٹکا پیدا ہوا کہ قبر نبوی کی پرستش شروع ہو جائے گی اور لوگ تعظیم اور غلو میں وہ افعال سرانجام دینے شروع کر دیں گے کہ جن سے شریعت اسلامی نے ڈرایا اور منع کیا ہے بلکہ اس کے مرتکب کو ملعون ٹھہرایا ہے۔ اس لیے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو کھلے میدان یا عام قبرستان میں نہ بنایا۔ پھر مستزاد یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی ہیئت اور تکوین میں کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا بلکہ عام مسلمانوں کی قبروں کی طرح آپ کی قبر مبارک بنائی گئی۔
بلکہ سنن أبي داود میں ہے کہ حضرت قاسم بن محمد بن أبي بکر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کا مشاہدہ کرنے کا تقاضا کیا تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی قبروں کو دکھلائیں۔
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ وہ نہ تو بہت بلند تھیں اور نہ ہی زمین سے ملی ہوئی (یعنی بالشت بھر تھیں) اور میدان کی سرخ کنکریاں ان پر بچھی ہوئی تھیں۔
(سنن أبي داود، کتاب الجنائز، باب في تسوية القبر، حدیث: 3220)
اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی قبریں اس انداز سے بنائی گئی تھیں کہ ان میں اور دیگر قبروں میں کوئی امتیاز نہ تھا۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صاحبین کی قبروں پر نہ تو کوئی تسبیحیں لٹکائی گئیں اور نہ ہی کوئی پگڑی وغیرہ سجائی گئی تھی۔ الغرض قبروں کے متعلق جتنی بھی بدعات ایجاد کی گئی ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے دور مسعود میں ان کا کوئی وجود نہ تھا۔ اب اس وضاحت کے بعد جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے وہ یہودیوں اور عیسائیوں کے طریقہ پر چلتا ہے جو اس فعل فتح کی وجہ سے ملعون قرار دیے جا چکے ہیں۔ اس بارے میں اللہ رب العزت کا واضح بیان ہے:
﴿وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا﴾
”جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت پر کمر بستہ ہوا اور اہل ایمان کی روش کے علاوہ کسی اور روش پر چل نکلا تو ہم اس کو اسی طرف چلائیں گے جس طرف وہ پھر گیا اور ہم اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے پناہ ہے۔“
(النساء:115)
صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو صرف اسی لیے ظاہر نہیں رہنے دیا کہ کہیں لوگ فتنہ میں نہ پڑ جائیں اور کوئی ایسا کام نہ شروع کر دیں جس کے کرنے کی شریعت مطہرہ میں کوئی گنجائش نہ ہو۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قبر اطہر کے حوالے سے یہ دعا کی کہ:
اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِي وَثَنًا يُعْبَدُ
”اے اللہ! میری قبر کو بت کی طرح نہ بنانا کہ اس کی عبادت کی جائے۔“
(مسند احمد: 246/2)
واقعتاً اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازا اور اسے سجدہ گاہ بننے سے محفوظ رکھا۔ بعد میں صحابہ کرام اور تابعین عظام نے بھی بطریق احسن اس ذمہ داری کو نبھایا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں داخل ہو سکتا تھا اور نہ ہی وہاں تک پہنچ پاتا تھا۔ پھر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن کیا گیا اور آپ کا سر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں کے درمیان تھا۔ اور ان کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اجازت سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تدفین کا قصہ صحیح بخاری حدیث نمبر: 1392 میں موجود ہے۔ جس سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک لوگوں کی نظروں سے اوجھل اور پہنچ سے دور تھی۔
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ کے سابقہ بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ جب کبھی کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک دیکھنا چاہتا تو وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت طلب کرتا۔ آپ اسے اجازت دیتیں اور اس کے لیے گھر کا دروازہ کھولتیں اور اس سے پردے کو ہٹا دیتیں جو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تدفین کے بعد قبروں اور اپنے گھر کے درمیان لٹکا رکھا تھا۔ یہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ قبریں انتہائی محفوظ اور لوگوں کی پہنچ سے دور تھیں۔ لوگ صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی اجازت ہی سے وہاں تک پہنچ پاتے تھے۔ ہماری اس بات کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جسے امام بخاری نے صحیح بخاری میں ذکر کیا ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں۔
حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ جب ولید بن عبد الملک کے زمانے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی دیوار گری تو انہوں نے اس کی جلد از جلد تعمیر شروع کی اور اچانک انہیں ایک پاؤں نظر آیا تو وہ گھبرا گئے تو انہوں نے سمجھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں مبارک ہے۔ اس کی نشان دہی کرنے کے لیے انہیں کوئی آدمی نہ مل سکا یہاں تک کہ حضرت عروہ نے قسم اٹھا کر کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں مبارک نہیں بلکہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا پاؤں ہے۔
(صحیح البخاری: 1390)
جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شیخین کی قبریں یکساں تھیں اور ان میں کوئی نمایاں تمیز نہ تھی۔ اور ان پر آنے جانے کا بھی کوئی باقاعدہ عمل نہ تھا۔ ور نہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاؤں سے اشتباہ بڑا عجیب سا معاملہ ہے۔
بلکہ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
حضرت علی بن حسین رحمہ اللہ (جو کہ زین العابدین کے لقب سے معروف ہیں) نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ دیوار کے کسی شگاف کے ذریعے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تک پہنچ گیا ہے اور یہ دعا کرنے لگا تو آپ نے اسے منع کیا اور فرمایا: کیا میں تجھے وہ حدیث نہ سناؤں جسے میں اپنے باپ اور دادا سے سنا ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تم میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنانا اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبرستان بنانا اور تم مجھ پر سلام بھیجنا تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا سلام مجھے پہنچا دیا جائے گا۔“
(مصنف ابن أبي شیبہ: 2/375)
غور فرمائیں کہ قبر اطہر تک پہنچنے والا شخص دیوار کے شگاف کے ذریعے سے ہی پہنچا تھا۔ باقاعدہ کوئی دروازہ مقرر نہ تھا۔ مگر اس حرکت کو بھی حضرت زین العابدین نے درست نہیں سمجھا اور سلام کے لیے قبر اطہر پر حاضری کو قبروں پر میلہ گاہ کے مترادف قرار دیا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سیکھا کہ دنیا میں شرک پھیلنے کا سب سے بڑا سبب نیک لوگوں کی تعظیم میں غلو ہے۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی تاکید سے منع فرمایا۔
مرض الموت میں جس قدر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحتیں یا وصیتیں فرمائیں ان میں سے ایک بات یہ بھی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔
(صحیح البخاری: 1330، صحیح مسلم: 1184)
عن عائشة رضي الله عنها أن أم سلمة ذكرت لرسول الله صلى الله عليه وسلم كنيسة رأتها بأرض الحبشة يقال لها مارية فذكرت له ما رأت فيها من الصور فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أولئك قوم إذا مات فيهم العبد الصالح أو الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدا وصوروا فيه تلك الصور أولئك شرار الخلق عند الله
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک گرجے کا ذکر کیا جو انہوں نے سر زمین حبشہ میں دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس گرجے کے متعلق بیان کرتے ہوئے اس کے اندر موجود تصویروں کا ذکر بھی کیا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس قوم میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بنا لیتے ہیں اور اس میں تصاویر بناتے، یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے بری مخلوق ہیں۔“
(صحیح البخاری: 434)
صحابہ کرام اور حضرت دانیال کی قبر :
جب مسلمانوں کے لشکروں نے مختلف علاقوں کو فتح کیا تو انہوں نے شرک کی جڑیں اکھاڑ پھینکیں اور ہر وہ ذریعہ جس سے شرک نمودار ہو سکتا تھا اسے بند کر دیا۔
چنانچہ حضرت ابو موسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ کا لشکر جب ”تستر“ شہر میں گیا تو انہوں نے وہاں دیکھا کہ شہر کے لوگ ایک آدمی کی قبر کی غلو سے تعظیم کرتے ہیں اور اس کا وسیلہ دے کر اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرتے ہیں اور اس آدمی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ حضرت دانیال علیہ السلام کی قبر ہے جو بخت نصر کے دور میں بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ خدشہ لاحق ہوا کہ اگر یہ لوگوں میں اسی طرح باقی رہی تو لوگ اس میں غلو کر کے کہیں فتنہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ لہذا انہوں نے اسے چھپا کر لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کے آثار بھی ختم کر دیے اور اس میں کوئی ایسا امتیاز باقی نہ رہنے دیا کہ جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ قبر کسی نبی علیہ السلام کی ہے یا کسی نیک آدمی کی ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ابو العالیہ کے حوالے سے ایک واقعہ ذکر کیا ہے۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ جب ہم نے ”تستر“ شہر کو فتح کیا تو ہرمزان کے گھر سے ہمیں ایک چارپائی ملی جس پر ایک میت تھی اور اس کے سرہانے ایک مصحف رکھا ہوا تھا۔ ہم نے وہ مصحف اٹھا کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا۔ انہوں نے حضرت کعب کو بلوا کر اس کا عربی میں ترجمہ کروایا۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں کہ میں وہ پہلا شخص تھا جس نے اسے پڑھا اور اس طرح پڑھا جس طرح ہم قرآن پڑھتے ہیں۔ خالد بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو العالیہ سے پوچھا کہ اس میں کیا لکھا ہوا تھا؟ تو انہوں نے کہا کہ اس میں تمہاری سیرت، معاملات، کلام کا لہجہ اور جو کچھ اس کے بعد ہونے والا ہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ اس میت کے ساتھ تم نے کیا معاملہ کیا؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے دن کی روشنی میں تیرہ (13) قبریں بنائیں اور رات کی تاریکی میں (بحکم فاروقی) اسے دفن کر کے تمام قبروں کو برابر کر دیا تا کہ لوگوں سے چھپا دیا جائے اور لوگ اس کو نکال نہ سکیں۔
پھر میں نے ان سے پوچھا کہ وہ لوگ اس میت سے کیا امید رکھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ جب آسمان سے بارش نہ ہوتی تو وہ اس کی چارپائی باہر لے آتے اور بارش ہو جاتی۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ تمہارا کیا خیال ہے کہ وہ کس کی تھی؟ تو کہنے لگے ان لوگوں کا خیال تھا کہ یہ حضرت دانیال علیہ السلام کی قبر تھی۔
میں نے ابو العالیہ سے پوچھا کہ جب تمہیں وہ میت ملی تو اسے فوت ہوئے کتنا عرصہ بیت چکا تھا؟ کہنے لگے تقریباً تین سو سال۔ میں نے پوچھا کہ اتنا عرصہ بیت جانے کے بعد تم نے اس میں کوئی تبدیلی بھی دیکھی؟ کہنے لگے کہ کوئی تبدیلی نہ تھی ماسوائے گدی کے بالوں کے ان میں اس قدر تغیر واقع ہو چکا تھا اور حضرات انبیاء کرام کے جسموں کو مٹی میلا نہیں کرتی اور نہ انہیں درندے کھاتے ہیں۔
(البدایہ والنہایہ لابن کثیر: 2/40)
مسجد نبوی کی توسیع: حجرہ نبویہ اور قبر نبوی کی مسجد میں شمولیت!
خلفائے بنو امیہ میں ولید بن عبد الملک ایک مشہور و معروف خلیفہ ہے۔ ولید بن عبد الملک عمارتوں بنانے میں بے حد شوقین تھا اس بنا پر اسے ”مہندس بنو امیہ“ یعنی بنو امیہ کا انجینئر کہا جاتا ہے۔ بنو امیہ اور آل علی رضی اللہ عنہ کے مابین چشمک کا پایا جانا بھی ایک تاریخی حقیقت ہے، لہذا بنو امیہ کو یہ بات قطعاً پسند نہ تھی کہ آل علی رضی اللہ عنہ کس طرح بھی ان سے ممتاز ہو اسی دوران ولید بن عبد الملک نے مسجد نبوی کو اس کے شایان شان بنانے کا مصم ارادہ کر لیا اور وہ چاہتا تھا کہ اس مبارک مسجد کو اپنی عظیم خلافت کی طرح عظیم اور عالی شان بنائے۔ مسجد نبوی کے مشرقی جانب جو گھر آباد تھے ان گھروں میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا گھر بھی تھا جو آل علی رضی اللہ عنہ کا مسکن تھا اور یہ گھر آل علی کے لیے ایک علامت شرف بھی تھا۔ ولید یہ چاہتا تھا کہ مسجد کو چاروں طرف سے وسعت دی جائے اور اس میں امہات المؤمنین، حضرت فاطمہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھروں کو بھی مسجد میں شامل کر دیا جائے۔ نیز بعض مؤرخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ توسیع مسجد کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک بھی تھی جس کی دیوار میں مرور زمانہ کی وجہ سے کافی خستہ حال ہو چکی تھیں۔
حضرت ولید بن عبد الملک نے توسیع مسجد کے سلسلے میں اپنا حکم نامہ مدینہ کے گورنر حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو لکھ بھیجا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فقہاء اور شرفائے مدینہ کو جمع کیا اور انہیں ولید کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا تو ان تمام لوگوں نے اسے ناپسند جانتے ہوئے اس کی تردید کی اور یہ خیال ظاہر کیا کہ آپ کے گھروں کو ان کی اصلی حالت پر رکھنا ہی لوگوں کے لیے زیادہ باعث نصیحت ہے۔ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے ان حالات کی خبر خلیفہ وقت ولید بن عبد الملک کو لکھ بھیجی۔ لیکن وہ اپنی رائے پر مصر رہے اور اپنے گورنر حضرت عمر بن عبد العزیز کو حکم دیا کہ وہ اس پر عمل کریں۔ اس موقع پر سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی آڑے آئے اور یہ خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح قبر نبوی کو مسجد (یعنی سجدہ گاہ) بنالیا جائے گا۔
(البدایہ والنہایہ 74/9)
ولید کے اس اقدام کے سلسلہ میں اس سے بھی زیادہ صریح واقعہ وہ ہے جسے سمہودی نے وفاء الوفاء میں ذکر کیا ہے۔
چنانچہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو بڑی سختی سے منع کیا اور کہا کہ قبر نبوی کو مسجد نبوی میں شامل نہ کرو۔ لیکن حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ مجھے امیر المؤمنین کا حکم ہے اور اس پر عمل کرنا میرے لیے لازم ہے۔
(وفاء الوفاء: 2/548)
جس بات کی طرف حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا ہے اسے امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں ذکر کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:
جب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور حضرات تابعین رحمہم اللہ کو اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ اب لوگوں کی تعداد بڑھ چکی ہے لہذا مسجد نبوی کی توسیع کر دی جائے تو انہوں نے امہات المؤمنین رضوان اللہ عنھن اجمعین کے گھر اور حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا جس میں صاحبین مدفون ہیں کو مسجد نبوی میں شامل کر دیا اور قبر مبارک کے ارد گرد اونچی اونچی دیواریں بنادیں تا کہ نہ تو وہ مسجد نبوی میں ظاہر ہو اور نہ ہی عوام اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ سکیں۔ پھر قبر اطہر کے شمالی کناروں سے دو دیواریں بنائیں اور انہیں اس طرز پر موڑ دیا کہ پیچھے جا کر دونوں باہم مل گئیں۔ یہ سب اس لیے کہ کوئی نمازی قبر اطہر کی طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھ سکے۔
(شرح مسلم: 13/5، 12)
بلکہ صحیح مسلم میں ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: لولا ذلك لأبرز قبره غير أنه خشي أن يتخذ مسجدا
(صحیح مسلم: 1/201)
یہ ایک ایسا کام تھا جسے اہل علم اور حکمران طبقہ نے سرانجام دیا جب انہیں مجبوراً (حجرہ عائشہ اور قبر نبوی کو مسجد میں داخل کرنا پڑا) تا کہ قبر مبارک مکمل طور پر مستور اور نظروں سے اوجھل رہے اور کوئی اس طرف منہ کر کے نماز نہ پڑھ سکے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انہوں نے احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سمجھا تھا کہ قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا یا قبروں کو سجدہ گاہ بنانا قطعاً درست نہیں ہے۔
اس ساری بحث سے قبر پرست حضرات کا شبہ دور ہو جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک مسجد میں ہے۔ امام ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
دین اسلام میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ مسجد اور قبر ایک جگہ جمع ہوں اور ان میں سے جو پہلے بن جائے وہی برقرار رہے گی دوسری کو وہاں نہیں بنایا جائے گا اور اگر کوئی مسجد اور قبر کو بیک وقت بناتا ہے تو یہ بالکل ممنوع ہے۔
(زاد المعاد: 3/572)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بیعت رضوان والے درخت کو چھپا دینے کی حکمت یوں بیان فرمائی ہے:
اس میں حکمت یہ تھی کہ کہیں لوگ فتنے میں مبتلا نہ ہوجائیں، اگر یہ درخت باقی رہتا تو جاہل قسم کے لوگ اس کی تعظیم کرتے اور یہ بھی ممکن تھا کہ اس درخت کے بارے میں نفع و نقصان کا اعتقاد رکھنے لگتے۔ جیسا کہ دور حاضر میں اس سے بھی کم چیزوں کے بارے میں اعتقادات رکھے جاتے ہیں۔
(فتح الباری: 2/118)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ بتوں کی عبادت کی وجہ اور سبب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان کی عبادت کی اصل وجہ قبروں کے بارے میں غلو ہے، اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو مٹانے (یعنی حد شرعی تک رکھنے) کا حکم دیا ہے اور انسان کی تعظیم کے بارے میں مبالغہ آمیزی کو حرام قرار دیا ہے۔
(البدایہ والنہایہ: 10/262)
اس ساری تفصیل سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قبروں کی تعظیم میں غلو شرک کا سب سے بڑا سبب ہے۔ اگر اس بارے میں ہم اپنے اسلاف کو دیکھیں تو وہ ہمیں بے حد محتاط نظر آتے ہیں۔ اسلام جس طرح قبروں کی توہین سے منع کرتا ہے، اسی طرح ان کی تعظیم میں غلو کرنے سے بھی منع کرتا ہے۔ لہذا ہر مسلمان کو ایسے کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے جس سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور شرک کا ارتکاب لازم آتا ہو۔
(بصد شکر یہ ہفتہ روزہ اہل حدیث 106 راوی روڈ لاہور 25 دسمبر 2009 شمارہ نمبر 49)
شرک کفر دیاں رسماں کر کے حال اسے وچ موئے
جیکر ایہ بہشتاں جاسن تان پھر دوزخی کہڑے ہوئے