دنیا کو مطمع نظر بنانے کی ممانعت
① سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تتخذوا الضيعة فترغبوا فى الدنيا
”دنیا کے پیشوں اور ساز و سامان میں ایسے مشغول نہ ہو کہ دنیا ہی کی رغبت رہے۔“
ترمذی، کتاب الزہد 2328۔ مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابة 491/1 حدیث 3579۔
گناہ کے ارتکاب سے ممانعت
① سیدنا نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نیکی اور گناہ کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البر حسن الخلق ، والإثم ما حاك فى صدرك وكرهت أن يطلع عليه الناس
”نیکی، حسنِ خلق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تیرے دل میں کھٹکے اور تجھے یہ ناپسند ہو کہ لوگوں کو اس کا پتہ چل جائے۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والادب 2553/14، ترمذی، کتاب الزہد 2389۔
مال میں ناحق تصرف کرنے کی ممانعت
① سیدہ خولہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن هذا المال خضرة حلوة من أصابه بحقه بورك له فيه ، و رب متخوض فيما شاءت به نفسه من مال الله ورسوله ، ليس له يوم القيامة إلا النار
”یہ مال سرسبز و شیریں ہے۔ جس نے اسے اس کے حق کے ساتھ لیا تو اس کے لیے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے۔ بہت سے لوگ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مال میں اپنا من پسند تصرف کرتے ہیں قیامت کے دن ان کے لیے جہنم ہے۔“
ترمذی، الزہد 2374، مسند احمد، باقی مسند الانصار 6 / 408 حدیث 27191۔
② سیدنا خولہ انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن رجالا يتخوضون فى مال الله بغير حق فلهم النار يوم القيامة
”بے شک کچھ لوگ اللہ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں، قیامت کے دن ان کے لیے جہنم ہے۔“
بخاری، کتاب فرض الخمس 3118۔
حسب و نسب پر فخر کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أربع فى أمتي من أمر الجاهلية ، لا يتركونهن : الفخر فى الأحساب ، والطعن فى الأنساب ، والاستسقاء بالنجوم ، والنياحة
”میری امت میں جاہلیت کی چار چیزیں ہیں جنہیں وہ نہیں چھوڑیں گے: حسب پر فخر کرنا، نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے بارش طلب کرنا اور نوحہ کرنا۔“
مسلم، کتاب الجنائز 934/29، مسند احمد، باقی مسند الانصار 402/5، حديث 22969۔
② سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله أوحى إلى أن تواضعوا حتى لا يفخر أحد على أحد ولا يبغي أحد على أحد
”اللہ تعالی نے میری طرف وحی کی ہے کہ تم تواضع اختیار کرو، یہاں تک کہ کوئی کسی دوسرے پر فخر نہ کرے اور نہ کوئی کسی دوسرے پر سرکشی کرے۔“
مسلم، كتاب الجنة وصفة نعيمها واهلها 2865/64، ابوداؤد 4895، ابن ماجه 4179۔