اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم کی عظمت و خدمات
اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ کائنات کا وہ پاک باز گروہ ہے، جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس طرح انہوں نے وفا کی ہے، کوئی دوسرا نہیں کر سکتا، بلکہ اس کی سوچ کی پرواز وہاں تک نہیں پہنچ سکتی، جہاں تک ان کی وفائیں پہنچ گئی ہیں۔
آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو دنیا بھر میں پھیلانے میں ان کا لازوال کردار تاریخ کے صفحات پر بکھرا پڑا ہے۔ از عرب تا عجم، کبھی یورپ کے مرغزاروں میں اور کبھی ماوراء النہر کے پہاڑوں پر، کبھی سندھ کے ساحل پر تو کبھی مصر کے صحراؤں میں، ان کی بے مثال جدوجہد اور کارنامے بکھرے نظر آتے ہیں۔
کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا حلقہ لگایا اور اپنی عمرِ عزیز اسی منہج کو پھیلانے میں صرف کر دی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کی دلیل ہیں۔ کسی نے جہاد کا علم اٹھایا اور قیصر و کسریٰ کے تخت اکھاڑ کر توحید کا جھنڈا گاڑ دیا، تو کوئی تفسیر میں امامت کا درجہ اختیار کر گیا۔ خدا نے کسی سے جمعِ قرآن کا کام لیا اور کسی کو فتنوں کے سامنے لا کھڑا کیا۔ تو یہ ان کی اپنے اپنے میدان میں قربانیاں ہیں اور دشمنانِ اسلام کو یہی باتیں کھٹکتی ہیں۔ آپ تدبر کریں، دشمنانِ اسلام ہمیشہ ان اصحاب پر جرح کریں گے، جنہوں نے اسلام کے کسی بڑے میدان میں بڑا کام کیا ہوگا۔
سیدنا ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما اسلام کے پہلے خلفاء اور اسلام کے محسن ہیں، یہ لوگ دن رات ان پر زبانِ طعن دراز کرتے ہیں۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیف اللہ کہا، یہ لوگ ان کے کارناموں پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ امی عائشہ رضی اللہ عنہا امت کی ماں اور آقائے کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لاڈلی ہیں، روافض ان کو نعوذ باللہ ناصبیہ کہتے ہیں۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دورِ حکومت ہر لحاظ سے پُرسکون رہا، اسلامی فتوحات ہوئیں، یہ لوگ ان کو نعوذ باللہ منافق کہتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا اعتماد دیا کہ اپنی دو بیٹیاں آپ سے بیاہ دیں، ان کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ حکومت پر اعتماد نہیں۔ ہم نے اصحابِ رسول رضی اللہ عنہم کے دفاع کی ادنیٰ سی کاوش کی ہے، احباب اس کا مطالعہ کریں، یہ آپ کے لیے سودمند ثابت ہوگی، ان شاء اللہ!