سیدنا سلیمانؑ، سیدنا عزیرؑ اور سیدنا یعقوبؑ کے فضائل و مناقب قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سیدنا سلیمان علیہ السلام

سیدنا داؤد علیہ السلام کی اولاد میں سب سے چھوٹے سیدنا سلیمان علیہ السلام تھے۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا داؤد علیہ السلام کے علم و نبوت کا وارث ان کے بعد ان کے بیٹے سلیمان علیہ السلام کو بنایا تھا۔ آپ کثرت سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کرنے والے اور اس کی طرف رجوع کرنے والے تھے:
﴿وَوَهَبْنَا لِدَاوُودَ سُلَيْمَانَ ۚ نِعْمَ الْعَبْدُ ۖ إِنَّهُ أَوَّابٌ﴾
”اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا کیا، (وہ) اچھا بندہ تھا، بلاشبہ وہ (اللہ کی طرف) بہت رجوع کرنے والا تھا۔“
(38-ص:30)

◈ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا:

اللہ تعالیٰ نے انہیں بادشاہت سے بھی نوازا تھا۔ ان کی حکومت نہ صرف انسانوں، بلکہ پرندوں، جانوروں اور جنات پر بھی تھی۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر بجالاتے ہوئے لوگوں سے کہا کہ ہمیں پرندوں کی بولیوں کا علم دیا گیا ہے، اور ہمیں ہمارے رب کی جانب سے ہر چیز دی گئی ہے، کسی چیز کی کمی نہیں ہے، بے شک اللہ کا ہم پر واضح فضل و کرم ہے:
‏ وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمُؤْمِنِينَ ‎ ﴿١٥﴾ ‏ وَوَرِثَ سُلَيْمَانُ دَاوُودَ ۖ وَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنطِقَ الطَّيْرِ وَأُوتِينَا مِن كُلِّ شَيْءٍ ۖ إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِينُ ‎ ﴿١٦﴾ ‏
”اور ان دونوں (داؤد وسلیمان) نے کہا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت دی ہے۔ اور سلیمان داؤد کے وارث ہوئے، انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں چڑیوں کی بولیوں کا علم دیا گیا ہے، اور ہمیں ہر چیز دی گئی ہے، بے شک یہ اللہ کا نمایاں فضل ہے۔“
(27-النمل:15 ،16)

◈ مسجد اقصیٰ کی تعمیر:

آپ معمار بیت المقدس بھی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سیدنا سلیمان بن داؤد علیہما السلام بیت المقدس کی تعمیر مکمل کر چکے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین چیزوں کا سوال کیا: (1) اے اللہ! میرا فیصلہ تیرے فیصلہ کے موافق ہو۔ (2) مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو (یعنی ویسی حکومت میرے بعد کسی کو نہ دے) ان کی یہ دونوں دعائیں قبول کر لی گئیں اور تیسری دعا انہوں نے یہ کی کہ کوئی بھی شخص صرف نماز کی غرض سے میری اس تعمیر کردہ مسجد میں آجائے تو اس کے تمام گناہ معاف فرما کر ایسے کر دینا گویا وہ ابھی پیدا ہوا ہے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) میں یہ امید کرتا ہوں کہ یہ چیز بھی اللہ نے اُسے عطا کی ہے۔“
سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة، رقم: 1408۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔

◈ نماز کی پابندی:

ایک دفعہ آپ جنگی گھوڑوں کے مشاہدے میں اس قدر مشغول ہوئے کہ نماز عصر کا وقت ختم ہو گیا۔ تو آپ فرمانے لگے:
إِذْ عُرِضَ عَلَيْهِ بِالْعَشِيِّ الصَّافِنَاتُ الْجِيَادُ ‎ ﴿٣١﴾ ‏ فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ‎ ﴿٣٢﴾ ‏ رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ ‎ ﴿٣٣﴾ ‏
(38-ص:31 تا 33)
”جب شام کے وقت اس کے سامنے اصل تیز رو گھوڑے پیش کیے گئے۔ تب اس نے کہا: بلاشبہ میں نے مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد سے محبوب جانا (ترجیح دی) ہے، حتی کہ وہ (سورج) پردے میں چھپ گیا۔ کہا: انہیں میرے پاس لاؤ، پھر وہ (ان کی) پنڈلیوں اور گردنوں پر (ہاتھ) پھیرنے لگے۔“
مزید تفصیل دیکھیں: تفسیر الطبری: 23/185 ـ تفسیر ابن کثیر: 5/196۔

◈ رضائے الہی کی تلاش:

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام جنوں، انسانوں اور چڑیوں پر مشتمل اپنی ایک منظم و مرتب فوج کے ساتھ روانہ ہوئے۔ راستے میں ان کا گذر ایک ایسی وادی سے ہوا جس میں چیونٹیاں پائی جاتی تھیں۔ ایک چیونٹی نے اس لشکر جرار کو دیکھ کر دیگر چیونٹیوں سے کہا کہ تم سب جلد از جلد اپنی بلوں میں داخل ہو جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور اس کی فوج غیر شعوری طور پر تمہیں کچل دے۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام اس کی بات سن کر مسکرانے لگے اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے دعا کرنے لگے کہ:
﴿رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ﴾
”اے میرے رب! مجھے توفیق دے کہ تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے باپ ماں کو دی ہیں، اور ایسا نیک عمل کروں جسے تو پسند کرتا ہے، اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل کر دے۔“
(27-النمل:19)
علامہ شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”باپ ماں پر احسان گویا آدمی پر احسان ہوتا ہے، اس لیے اس پر بھی اللہ کا شکر ادا کرنے کی توفیق مانگی، اور چاہا کہ دنیاوی نعمتوں کے ساتھ اللہ انہیں دینی نعمت سے نوازے، اس لیے عمل صالح کی توفیق مانگی۔ اور چونکہ مرد مومن کا انتہائے مقصود آخرت کی کامیابی ہے، اس لیے آخر میں دُعا کی کہ اللہ انہیں قیامت کے روز اپنے نیک بندوں میں شامل کر دے۔“
یہاں علامہ شوکانی رحمہ اللہ نے اپنے لیے دعا کی ہے کہ اے اللہ! میں بھی تجھ سے وہی مانگتا ہوں جو تیرے نبی کریم سلیمان علیہ السلام نے تجھ سے مانگا تھا، تو میری دعا قبول کر لے اور مجھ پر فضل فرما، اگر چہ میں عمل میں کوتاہ ہوں، لیکن جنت کے حصول کا سبب محض تیرا فضل و کرم ہے۔‘‘
فتح القدير: 2/295۔
اے رب کریم! ہم بھی تیرے نبی کریم سلیمان علیہ السلام کی طرح تجھ سے تیری رضا اور عمل صالح کی توفیق مانگتے ہیں، اور ہمارے مولائے کریم! انتہائی تضرع اور عاجزی و انکساری کے ساتھ تیرے حضور سر بسجود ہو کر دعا گو ہیں کہ روز قیامت ہمیں بھی اپنے رحم وکرم سے اپنے نیک بندوں میں شامل کر دینا، اگر چہ ہم عمل میں کوتاہ ہیں اور ہمارے والدین، ہمارے بھائی بہن، ہمارے بیوی بچوں اور ہمارے اساتذہ کرام کو بھی اپنے فضل وکرم کے سائے تلے جگہ دے دینا۔ آمين يا ارحم الراحمين.

◈ آزمائش پر صبر:

اللہ تعالیٰ نے سیدنا سلیمان علیہ السلام کو حکومت و بادشاہی دے کر آزمایا، اور ایک دفعہ ان کی آزمائش کی کہ ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا، تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر لیا۔ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی اور ساتھ ہی یہ دُعا کی کہ اے میرے رب! مجھے ایسی حکومت دے جو میرے بعد کسی کو نہ ملے:
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ‎ ﴿٣٤﴾ ‏ قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ ‎ ﴿٣٥﴾
اور ہم نے سلیمان کو آزمائش میں ڈالا، اور اُن کے تخت شاہی پر ایک جسم ڈال دیا، پھر انہوں نے اپنے رب کی طرف رجوع کیا۔ انہوں نے کہا: میرے رب! مجھے معاف کر دے، اور مجھے ایسی بادشاہی عطا کر جیسی میرے بعد کسی کو نہ ملے تو بے شک بڑا عطا کرنے والا ہے۔“
(38-ص:34 ، 35)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے اس دھڑ کی حقیقت کو بیان نہیں کیا۔ جسے اس نے سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تخت پر ڈال دیا تھا۔ لہذا ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال کر ان کی آزمائش فرمائی تھی لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ وہ دھڑ کیا تھا۔ اس کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ سب اسرائیلیات سے ماخوذ ہے، ہم نہیں جانتے کہ اس میں سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا۔ واللہ اعلم۔“
تفسیر ابن کثیر: 5/198 ـ طبع دار السلام، لاہور۔

◈ مغفرت اور مزید انعامات الہیہ:

اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا، اور ان کی دعا قبول فرما لی اور ان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا جو ان کے حکم کے مطابق ان کے تخت کو، یا پھر ہوا میں تیرنے والے ان کے سفینے کو جہاں چاہتے لے کر جاتے۔ اس بادبانی سفینہ کی رفتار صبح کے وقت ایک ماہ کی، اور شام کے وقت ایک ماہ کی ہوتی تھی۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے شیاطین الجن کو بھی مسخر کر دیا تھا، جو ان کے حکم کے مطابق مختلف کام کیا کرتے تھے، ان میں کوئی معمار تھا، تو کوئی سمندر میں غوطے لگا کر موتی نکالتا تھا، اور ان میں سے جو نافرمانی کرتا تھا، ان کے ہاتھوں میں بیڑیاں ڈال کر ان کی گردنوں کے ساتھ باندھ دیتے تھے۔
سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنے رب سے جو کچھ مانگا انہیں عطا کیا، اور ان سے کہہ دیا کہ اب آپ جسے جو چاہیے اور جتنا چاہیے دیجیے، اور جسے چاہیے نہ دیجیے، آپ سے اس کا کوئی حساب نہ لیا جائے گا۔ ان ظاہر نعمتوں کے علاوہ انہیں اللہ تعالیٰ کی قربت بھی حاصل تھی، اور روز قیامت بھی ان کا انجام اچھا ہو گا:
وَالشَّيَاطِينَ كُلَّ بَنَّاءٍ وَغَوَّاصٍ ‎ ﴿٣٧﴾ ‏ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفَادِ ‎ ﴿٣٨﴾ ‏ هَٰذَا عَطَاؤُنَا فَامْنُنْ أَوْ أَمْسِكْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ‎ ﴿٣٩﴾ ‏ وَإِنَّ لَهُ عِندَنَا لَزُلْفَىٰ وَحُسْنَ مَآبٍ ‎ ﴿٤٠﴾ ‏
پس ہم نے ہوا کو ان کے تابع فرمان بنا دیا، جو اُن کے حکم سے دھیمی چلتی ہوئی، وہ جہاں چاہتے انہیں وہاں پہنچا دیتی تھی۔ اور ہم نے ہر مکان بنانے والے اور غوطہ لگانے والے شیطانوں کو بھی اُن کے تابع کر دیا تھا۔ اور دوسرے شیطانوں کو بھی جو زنجیروں میں جکڑے رہتے تھے۔ (ہم نے اُن سے کہا) یہ ہمارا عطیہ ہے، آپ چاہیں تو دوسروں کو اس میں سے دیجیے یا نہ دیجیے، اس کا آپ سے کوئی حساب نہیں ہو گا۔ اور یقیناً اُن کو ہم سے قربت حاصل تھی، اور اُن کا ٹھکانا بھی اچھا ہے۔
(38-ص:37 تا 40)

◈ سیدنا سلیمان علیہ السلام کی ایمان افروز نصیحت:

سیدنا سلیمان علیہ السلام ایک مرتبہ اپنے تخت پر کہیں جا رہے تھے۔ انسان اور جنات آپ کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔ بنی اسرائیل کے ایک عابد نے دیکھ کر کہا: اے سلیمان، اللہ کی قسم! آپ کو عظیم ملک دیا گیا ہے۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا: بندہ مومن کے نامہ اعمال میں درج صرف یہ ایک تسبیح میری تمام سلطنت سے بہتر ہے کیونکہ یہ سب فانی ہے مگر تسبیح باقی رہنے والی ہے۔“
مكاشفة القلوب، ص: 146۔

 سیدنا عزیر علیہ السلام

سیدنا عزیر علیہ السلام بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے ایک نبی تھے۔ آپ کا زمانہ نبوت سیدنا داؤد اور سلیمان علیہما السلام کے بعد اور سیدنا زکریا اور یحییٰ علیہما السلام سے پہلے کا ہے۔ بنی اسرائیل میں تورات کا کوئی حافظ باقی نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو توراۃ الہام کی، تو آپ نے بنی اسرائیل کو مکمل تورات لکھوا دی۔
قصص الأنبياء، ص: 635 ـ طبع اسلامی اکادمی لاہور۔

◈ قدرت الہی پر یقین کامل کا واقعہ:

آپ ایک ایسی بستی سے گزرے جو مکمل طور پر تہ و بالا ہو چکی تھی، اور اس کے رہنے والے بھی لوگ مر چکے تھے۔ اُن کے ذہن میں یہ بات آئی کہ ان لوگوں کو اب اللہ کیسے زندہ کرے گا؟ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے اور دیگر لوگوں کے حال پر رحم کرتے ہوئے انہیں ایک سو سال کے لیے مردہ بنا دیا، ان کا گدھا بھی مر گیا، اور اُن کے پاس کھانے پینے کی جو چیزیں تھیں وہ سب اپنی حالت پر باقی رہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہ آئی، جب اللہ نے انہیں دوبارہ زندہ کیا تو ان سے پوچھا کہ کتنے دن تم اس حال میں باقی رہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ تب اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ وہ سو سال مردہ رہے ہیں، پھر اللہ نے اُن سے کہا کہ تم اپنے کھانے پینے کی چیزیں دیکھو، وہ خراب نہیں ہوئی ہیں، اور اپنے گدھے کو دیکھو، اس کے چیتھڑے ہو چکے ہیں اور اس کی ہڈیاں سڑ گل گئی ہیں، اس کے بعد اللہ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے گدھے کو زندہ کیا، تو بول اُٹھے کہ مجھے یقین ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، اور یقیناً ہر فرد بشر کو قیامت کے روز زندہ کیا جائے گا۔ ارشاد فرمایا:
﴿أَوْ كَالَّذِي مَرَّ عَلَىٰ قَرْيَةٍ وَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلَىٰ عُرُوشِهَا قَالَ أَنَّىٰ يُحْيِي هَٰذِهِ اللَّهُ بَعْدَ مَوْتِهَا ۖ فَأَمَاتَهُ اللَّهُ مِائَةَ عَامٍ ثُمَّ بَعَثَهُ ۖ قَالَ كَمْ لَبِثْتَ ۖ قَالَ لَبِثْتُ يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ ۖ قَالَ بَل لَّبِثْتَ مِائَةَ عَامٍ فَانظُرْ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ ۖ وَانظُرْ إِلَىٰ حِمَارِكَ وَلِنَجْعَلَكَ آيَةً لِّلنَّاسِ ۖ وَانظُرْ إِلَى الْعِظَامِ كَيْفَ نُنشِزُهَا ثُمَّ نَكْسُوهَا لَحْمًا ۚ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ قَالَ أَعْلَمُ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾ ‎
یا اس آدمی کے حال پر غور نہیں کیا، جو ایک بستی سے گذرا جو اپنی چھتوں سمیت گری پڑی تھی، اس نے کہا کہ اللہ اب کس طرح اس بستی کو مر جانے کے بعد زندہ کرے گا، تو اللہ نے اُسے سو سال کے لیے مردہ کر دیا، پھر اُسے اُٹھایا، اللہ نے کہا کہ تم کتنی مدت اس حال میں رہے، اس نے کہا کہ ایک دن یا دن کا کچھ حصہ اس حال میں رہا ہوں، اللہ نے کہا بلکہ سو سال رہے ہو، پس اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو وہ خراب نہیں ہوئی ہیں، اور اپنے گدھے کو دیکھو، اور تاکہ ہم تمہیں اور لوگوں کے لیے ایک نشانی بنا دیں، اور (گدھے کی) ہڈیوں کی طرف دیکھو کہ ہم انہیں کس طرح اُٹھا کر ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، پھر اُن پر گوشت چڑھاتے ہیں، جب حقیقت اس کے سامنے کھل گئی تو کہا میں جانتا ہوں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“
(2-البقرة:259)

سیدنا یعقوب علیہ السلام

سیدنا یعقوب علیہ السلام بھی اللہ تعالیٰ کے پیغمبر ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے اسحاق کے ساتھ ہی پوتے یعقوب کی بھی خوشخبری سنا دی تھی۔
آپ کی اولاد میں سے سیدنا یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے علم نبوت سے سرفراز کیا۔
جب سیدنا یوسف مفقود الخبر ہو گئے تو سیدنا یعقوب علیہ السلام، یوسف علیہ السلام کی گمشدگی پر شدید حزن و ملال کا اظہار کرنے لگے، اس لیے کہ ان کی مصیبتوں کی ابتدا انہی کی گمشدگی سے ہوئی تھی، وہ گم ہوئے، بعد میں بن یامین غلام بنا لیے گئے اور پھر بڑے بیٹے نے بن یامین کے حادثے سے متاثر ہو کر مصر میں ہی غریب الوطنی کی زندگی اختیار کر لی۔

◈ اظہارِ افسوس:

سیدنا یعقوب علیہ السلام سیدنا یوسف علیہ السلام کے گم ہونے کے بعد گھٹ گھٹ کر اتنا روئے کہ مسلسل آنسو بہتے رہنے سے آنکھیں سفید ہو گئیں۔ اللہ ذوالجلال والاکرام نے ارشاد فرمایا:
﴿وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ﴾ ‎
”اور غم سے ان کی آنکھیں سفید ہو گئیں، اور اپنا درد اور غم دل میں چھپائے رہتے تھے۔“
(12-يوسف:84)

◈ بیٹوں کا باپ سے اظہارِ ہمدردی:

سیدنا یعقوب علیہ السلام کی حالت زار دیکھ کر ان کے بیٹوں کو ان پر رحم آتا تھا، اور ان کی حالت دن بدن غیر ہونے لگی۔ اور ڈرے کہ کہیں یوسف کا غم ان کے دل کو نہ کھا جائے، اور ان کی موت کا سبب نہ بن جائے۔ تو انہوں نے آپ علیہ السلام سے کہا:
﴿تَاللَّهِ تَفْتَأُ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ الْهَالِكِينَ﴾
اللہ کی قسم! آپ یوسف کو اسی طرح ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ گھل کر موت کے قریب ہو جائیں گے، یا ہلاک ہو جائیں گے۔“
(12-يوسف:85)

◈ سیدنا یعقوب علیہ السلام حالت زار میں صرف اللہ کا سہارا لیتے ہیں:

بیٹوں کی یہ بات سن کر آپ فرماتے تھے:
﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾
میں اپنا درد و غم اور حزن و الم اللہ سے کہتا ہوں۔“
(12-يوسف:86)
اور اس کی بارگاہ میں دُعا کرتا ہوں، اسی سے التجا کرتا ہوں، کسی انسان سے نہیں، لہذا تم لوگ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔