صبر کرنے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

کتاب الأدب

صبر کرنے کی فضیلت

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
‏ ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ. الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ .‏ أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ.﴾
”اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر، بھوک پیاس، مال و جان، اور پھلوں کی کمی سے، اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے۔ انہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اُن پر اُن کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔“
(2-البقرة:155،157)
صبر کرنے والوں کی اللہ نے یہ صفت بتائی کہ جب انہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو فوراً اللہ کی تقدیر پر اپنی رضا کا اظہار کرتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے غلام ہیں، ہماری جانیں اور ہمارے اموال سب کچھ اللہ کی ملکیت ہیں، اس لیے ارحم الراحمین اگر اپنے غلاموں اور ان کے اموال میں تصرف کرتا ہے، تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
صبر کرنے والوں کے لیے ایک اجر عظیم یہ بھی ہے کہ رب العالمین ان کی تعریف بیان کرتا ہے، اور ان پر رحمت کا نزول فرماتا ہے اور یہی لوگ فی الواقع راہِ ہدایت پر ہیں، اس لیے کہ انہوں نے جب جان لیا کہ وہ اللہ کے غلام ہیں، اور اس کی طرف لوٹ کر جائیں گے، تو کسی بھی حال میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ (تیسیر الرحمن: 1/ 87)
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
”اے ایمان والو! تم ثابت قدم رہو، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرو، اور جہاد کے لیے تیار رہو تا کہ تم مراد کو پہنچو۔“
(3-آل عمران:200)
‏ ﴿قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۗ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ۗ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾
”میرا پیغام پہنچا دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو۔ جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لیے نیک بدلہ ہے اللہ کی زمین بہت کشادہ ہے صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بے شمار اجر دیا جاتا ہے۔“
(39-الزمر:10)
﴿وجَزَاهُم بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا ‎.مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ ۖ لَا يَرَوْنَ فِيهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِيرًا .وَدَانِيَةً عَلَيْهِمْ ظِلَالُهَا وَذُلِّلَتْ قُطُوفُهَا تَذْلِيلًا ‎.‏ وَيُطَافُ عَلَيْهِم بِآنِيَةٍ مِّن فِضَّةٍ وَأَكْوَابٍ كَانَتْ قَوَارِيرَا .قَوَارِيرَ مِن فِضَّةٍ قَدَّرُوهَا تَقْدِيرًا ‎.‏ وَيُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنجَبِيلًا .عَيْنًا فِيهَا تُسَمَّىٰ سَلْسَبِيلًا ‎.وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ إِذَا رَأَيْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنثُورًا . وَإِذَا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا .عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ ۖ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا ‎. إِنَّ هَٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَاءً وَكَانَ سَعْيُكُم مَّشْكُورًا .﴾
”اور انہیں ان کے صبر کے بدلے جنت اور ریشمی لباس عطا فرمائے گا۔ یہ وہاں تختوں پر تکیے لگائے ہوئے بیٹھیں گے۔ نہ وہاں آفتاب کی گرمی دیکھیں گے نہ جاڑے کی سختی۔ ان جنتوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور اس کے پھل ان کے بالکل قریب کر دئیے جائیں گے۔ اور ان پر چاندی کے برتنوں اور ان جاموں کا دور کرایا جائے گا جو شیشے کے ہوں گے۔ شیشے بھی چاندی کے جن کو ساقی نے اندازے سے ناپ رکھا ہوگا۔ اور انہیں وہاں وہ جام پلائے جائیں گے جن کی آمیزش زنجبیل کی ہوگی، جنت کی ایک نہر سے ہے جس کا نام سلسبیل ہے، اور ان کے ارد گرد گھومتے پھرتے ہوں گے وہ کم سن بچے جو ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ تو وہاں جہاں کہیں بھی نظر ڈالے گا سراسر نعمتیں اور عظیم الشان سلطنت ہی دیکھے گا۔ ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انہیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائے گا۔ اور انہیں ان کا رب پاک صاف شراب پلائے گا۔ (کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوششوں کی قدردانی۔“
(76-الإنسان:12 تا 22)
﴿جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا وَمَن صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَدْخُلُونَ عَلَيْهِم مِّن كُلِّ بَابٍ ‎.‏ سَلَامٌ عَلَيْكُم بِمَا صَبَرْتُمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ.﴾
”ہمیشہ رہنے کے باغات جہاں یہ خود جائیں گے، اور ان کے آباؤ اجداد، بیویوں اور اولاد میں سے بھی جو نیکو کار ہوں گے، ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے آئیں گے۔ کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو صبر کے بدلے، کیا ہی اچھا بدلہ ہے اس گھر کا۔“
(13-الرعد:23،24)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے عظیم الشان انعامات و اکرامات کی برکھا برسائی ہے۔ یعنی کہ معلوم یہ ہوا کہ صبر ایسا عظیم عمل ہے کہ جو اللہ کی رضا مندی اور اس کی جنت کے حصول کا سبب بنتا ہے۔
عن أبى سعيد الخدري رضي الله عنه: أن ناسا من الأنصار سألوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فأعطاهم، ثم سألوه فأعطاهم، حتى نفد ما عنده، فقال: ما يكن عندي من خير فلن أدخره عنكم، ومن يستعفف يعفه الله، ومن يستغن يغنه الله، ومن يتصبر يصبره الله، وما أعطي أحد عطاء خيرا وأوسع من الصبر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ (مال) طلب کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کچھ دیا، انہوں نے پھر سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پھر دیا، حتی کہ آپ کے پاس جو کچھ تھا، ختم ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، جس وقت ہر چیز جو آپ کے ہاتھ میں تھی، خرچ کر دی، تو ان سے فرمایا: ”میرے پاس جو کچھ بھی آتا ہے، میں وہ تم سے بچا کر نہیں رکھتا اور جو شخص سوال سے بچنے کی کوشش کرتا ہے، اللہ اسے بچا لیتا ہے، جو بے نیازی اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے (لوگوں سے) بے نیاز کر دیتا ہے اور جو صبر کا دامن پکڑتا ہے، اللہ اسے صبر کی توفیق دے دیتا ہے اور کسی شخص کو ایسا عطیہ نہیں دیا گیا، جو صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع تر ہو۔“
صحیح بخاری، کتاب الزكوة، باب الاستعفاف عن المسألة، رقم: 1469 – صحیح مسلم، کتاب الزكوة، باب فضل التعفف والصبر، رقم: 1054.
عن صهيب رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : عجبا لأمر المؤمن إن أمره كله له خير، وليس ذلك لاحد إلا للمؤمن، إن أصابته سراء شكر، فكان خيرا له، وإن أصابته ضراء صبر فكان خيرا له
سیدنا صہیب (بن سنان) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اس کے ہر کام میں اس کے لیے بھلائی ہے اور یہ چیز مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ اگر اسے خوش حالی نصیب ہو تو اس پر اللہ کا شکر کرتا ہے، تو یہ شکر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے۔ اور اگر اسے تکلیف پہنچے، تو صبر کرتا ہے، تو یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے بہتر ہے۔“
صحیح مسلم، كتاب الزهد، باب المؤمن أمره كله خير، رقم: 2999
أم سلمة زوج النبى صلى الله عليه وسلم تقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما من عبد تصيبه مصيبة، فيقول: إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهم أجرني فى مصيبتي وأخلف لي خيرا منها – إلا أجره الله تعالى فى مصيبته، وأخلف له خيرا منها قالت: فلما توفي أبو سلمة، قلت: كما أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فأخلف الله لي خيرا منه، رسول الله صلى الله عليه وسلم.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس بندے کو کوئی مصیبت پہنچے، اور وہ کہے: ”ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما، اور اس کی جگہ بہتر بدل عطا فرما“ تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت میں اجر عطا کرتا ہے، اور اس کی جگہ اسے بہتر جانشین عطا فرماتا ہے۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے اس طرح دعا کی جس طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے (بہت) بہتر جانشین یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا فرما دیے۔“
صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند المصيبة، رقم: 918/4.
عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يقول الله تعالى: ما لعبدي المؤمن عندي جزاء إذا قبضت صفيه من أهل الدنيا، ثم احتسبه إلا الجنة
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: مومن بندے کے لیے میرے پاس، جب میں اس کی دنیا کی پسندیدہ چیز چھین لوں، پھر وہ اس پر ثواب کی نیت رکھے (اور صبر کرے) جنت کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں۔“
صحيح البخاري، كتاب الرقاق، باب العمل الذي يبتغي به وجه الله تعالى، رقم: 6424.
سیدنا عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: کیا میں تجھے جنتی عورت نہ دکھاؤں؟ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے (ایک عورت کی طرف اشارہ کر کے) کہا یہ سیاہ فام عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: میں مرگی کی مریضہ ہوں اور (مرگی کے دوران) میرا ستر کھل جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا فرمائیں (اللہ مجھے صحت عطا فرمائے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تو صبر کرے تو تیرے لیے جنت ہوگی، اور اگر چاہے تو اللہ سے تیرے لیے دعا کرتا ہوں وہ تجھے صحت عطا فرما دے گا (اس صورت میں جنت کا وعدہ نہیں کرتا)۔“ اس عورت نے عرض کیا: میں صبر کروں گی لیکن ساتھ یہ بھی عرض کیا (مرگی کے دوران) میرا ستر کھل جاتا ہے، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ میرا ستر نہ کھلے، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے یہ دعا فرمائی۔
صحیح بخاری کتاب المرض، باب فضل من يصرع من الريح، رقم: 5652۔ صحیح مسلم، كتاب البر والصلة، باب ثواب المؤمن فيما يصيبه من حزن، رقم: 2576.
جب کوئی مسلمان کسی مصیبت یا تکلیف کے وقت صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
ما يصيب المسلم من نصب ولا وصب، ولا هم ولا حزن، ولا أذى، ولا غم- حتى الشوكة التى يشاكها إلا كفر الله بها من خطاياه
”مسلمان کو جب تھکاوٹ یا بیماری لاحق ہوتی ہے، یا وہ حزن و ملال اور تکلیف سے دوچار ہوتا ہے۔ حتی کہ اگر ایک کانٹا بھی چبھتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“
صحیح بخاری: کتاب المرض، رقم: 5642 – صحيح مسلم: أيضًا، رقم: 2573.
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ما من مسلم يصيبه أذى إلا حات الله عنه خطاياه كما تحات ورق الشجر
”جب کسی مسلمان کو کوئی اذیت (تکلیف) پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو اس طرح گرا دیتا ہے جس طرح درخت کے پتے گرتے ہیں۔“
صحيح بخاری، کتاب المرض، باب شدة المرض، رقم: 5647 – صحیح مسلم أيضًا، رقم: 2571.