ترجمہ و تفسیر — سورۃ البقرة (2) — آیت 157

اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ۟ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۷﴾
یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے کئی مہربانیاں اور بڑی رحمت ہے اور یہی لوگ ہدایت پانے والے ہیں۔ En
یہی لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی مہربانی اور رحمت ہے۔ اور یہی سیدھے رستے پر ہیں
En
ان پر ان کے رب کی نوازشیں اور رحمتیں ہیں اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 156 میں تا آیت 158 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

157۔ 1 ان آیات میں صبر کرنے والوں کے لئے خوشخبریاں ہیں۔ حدیث میں نقصان کے وقت (اِناَّ لِلّٰہِ وَ اناَّاِ لَیْہِ رَجِعُوْنَ) 2:156 اور اللَّھُمْ اَجَرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ پڑھنے کی بھی فضیلت اور تاکید آئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

157۔ ایسے ہی لوگوں پر ان کے رب کی طرف سے عنایت اور رحمتیں برستی ہیں اور ایسے ہی لوگ ہدایت یافتہ ہوتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اُولٰٓىِٕكَ یہی لوگ ہیں۔ یعنی یہی لوگ جو صبر مذکور کی صفت سے موصوف ہیں ﴿عَلَیْهِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ان پر برکتیں ہیں ان کے رب کی طرف سے یعنی یہ ان کے احوال کی مدح و ثنا اور تعریف و تعظیم ہے ﴿ وَرَحْمَةٌ اور رحمت اور ان پر عظیم رحمت ہے۔ یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا حصہ ہے کہ اس نے ان کو صبر کی توفیق سے نوازا جس کے ذریعے سے وہ کامل اجر حاصل کرتے ہیں۔ ﴿ وَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُهْتَدُوْنَ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں یعنی وہ لوگ ہیں جنھوں نے حق کو پہچان لیا۔ اور وہ حق اس مقام پر یہ ہے کہ انھیں یہ معلوم ہو گیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے مملوک ہیں اور انھیں لوٹ کر اسی کے پاس حاضر ہونا ہے اور اس پر وہ عمل پیرا ہوئے اور یہاں عمل، اللہ تعالیٰ کے لیے ان کا صبر کرنا ہے۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہے کہ جس نے صبر نہ کیا انھیں وہ کچھ حاصل ہو گا جو صبر کرنے والوں کی ضد ہے۔ یعنی مذمت، عقوبت، گمراہی اور خسارہ۔ (اَعَاذَنَا اللہُ مِنْھَا) پس دونوں قسموں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے، اہل صبر کے لیے کتنی کم مشقت اور بے صبروں کے لیے کتنی بڑی تکلیف ہے۔ یہ دونوں آیتیں نفوس کو مصائب کے نازل ہونے سے پہلے ان مصائب کو خوش دلی سے قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہیں تاکہ جب مصائب نازل ہوں تو وہ آسانی سے برداشت ہو سکیں۔
ان آیات میں اس امر کا بھی بیان ہے کہ جب مصیبت نازل ہو تو کس چیز سے اس کا مقابلہ کیا جائے اور وہ ہے صبر۔ اس چیز کا بھی بیان ہے جو صبر پر مددگار ہوتی ہے، نیز یہ کہ صبر کرنے والوں کے لیے کیا اجر و ثواب ہے۔
ان سے بے صبر لوگوں کا حال بھی واضح ہوتا ہے جو صبر کرنے والوں کے حال کے بالکل برعکس ہے۔
ان آیات کریمہ سے یہ حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ ابتلا و امتحان اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آتی ہے اور تو اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں پائے گا۔ نیز ان آیات کریمہ میں مصائب کی مختلف انواع کا بیان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك}؛ الموصوفون بالصبر المذكور {عليهم صلوات من ربهم}؛ أي: ثناء وتنويه بحالهم، {ورحمة}؛ عظيمة، ومن رحمته إياهم أن وفقهم للصبر الذي ينالون به كمال الأجر {وأولئك هم المهتدون}؛ الذين عرفوا الحق، وهو في هذا الموضع علمهم بأنهم لله وأنهم إليه راجعون وعملوا به وهو هنا صبرهم لله، ودلت هذه الآية على أن من لم يصبر فله ضد ما لهم فحصل له الذم من الله والعقوبة والضلال والخسار، فما أعظم الفرق بين الفريقين وما أقل تعب الصابرين وأعظم عناء الجازعين.

فقد اشتملت هاتان الآيتان على توطين النفوس على المصائب قبل وقوعها لتخف وتسهل إذا وقعت، وبيان ما تقابل به إذا وقعت وهو الصبر، وبيان ما يعين على الصبر وما للصابرين من الأجر. ويعلم حال غير الصابر بضد حالة الصابر وأن هذا الابتلاء والامتحان سنة الله التي قد خلت ولن تجد لسنة الله تبديلاً وبيان أنواع المصائب.