ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 10

قُلۡ یٰعِبَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ ؕ اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجۡرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾
کہہ دے اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو! اپنے رب سے ڈرو، ان لوگوں کے لیے جنھوں نے اس دنیا میں نیکی کی، بڑی بھلائی ہے اور اللہ کی زمین وسیع ہے، صرف کامل صبر کرنے والوں ہی کو ان کا اجر کسی شمار کے بغیر دیا جائے گا۔ En
کہہ دو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو اپنے پروردگار سے ڈرو۔ جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے۔ اور خدا کی زمین کشادہ ہے۔ جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بےشمار ثواب ملے گا
En
کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو، جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک بدلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت کشاده ہے صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بےشمار اجر دیا جاتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 10) ➊ { قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ:} سورت کے شروع سے توحید کا بیان آرہا ہے، اب بڑی محبت کے ساتھ ایمان والوں کو میرے بندو کہہ کر انھیں یہ پیغام دینے کا حکم دیا کہ صرف زبان سے توحید کا اقرار کافی نہیں، بلکہ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ {تَقْوٰي وَقٰي يَقِيْ وِقَايَةً} کا مصدر ہے، اس کا لفظی معنی بچنا ہے، مراد ایسے تمام کام چھوڑ دینا ہے جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر ہے اور ایسے تمام کام کرنا جن کے چھوڑنے سے اس کے عذاب کا ڈر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرو۔
➋ { لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ: حَسَنَةٌ } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے۔{ فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا } کا تعلق{ اَحْسَنُوْا } کے ساتھ ہے، یعنی جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک اعمال کیے ان کے لیے عظیم بھلائی ہے۔ اس بھلائی سے مراد دنیا کی بھلائی بھی ہے اور آخرت کی بھلائی بھی، کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی: [اَللّٰهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ] [بخاري، الدعوات، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم ربنا …: ۶۳۸۹] اے اللہ! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۰۱) کی تفسیر۔ دنیا اور آخرت دونوں میں اس بھلائی کی تفصیل کے لیے سورۂ نحل (۹۷) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
➌ {وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ:} یہ ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اگر کسی جگہ تم اللہ کے تقویٰ پر کار بند نہیں رہ سکتے اور اللہ کے دین پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ ہے تو اللہ کی زمین وسیع ہے، کسی دوسری جگہ چلے جاؤ، جہاں آزادی سے اللہ کے احکام پر عمل کر سکو۔ اس جملے کی مفصل تفسیر کے لیے سورۂ نساء کی آیات (۹۷ تا ۱۰۰) اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
➍ { اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ:} صبر کا لفظی معنی باندھنا ہے۔ اہلِ علم نے صبر کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر صبر، اس کی منع کر دہ چیزوں سے اجتناب پر صبر اور پیش آنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں پر صبر۔ صابر وہ ہے جس کی خصلت ہی صبر ہو۔ فرمایا، جن لوگوں کی خصلت صبر ہے، صرف یہی لوگ ہیں جنھیں ان کا اجر کسی حساب کے بغیر دیا جائے گا۔ اس میں ہجرت کے دوران پیش آنے والی تکالیف پر صبر کی تلقین ہے اور اس پر بے حساب اجر کی بشارت ہے۔ بغیر حساب اجر سے مراد جنت ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ دنیا کی ہر نعمت خواہ کتنی ہو ختم ہونے والی ہے اور ختم ہونے والی ہر چیز کا حساب ہو سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ» [المؤمن: ۴۰] اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بے حساب رزق دیے جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

10۔ 1 اس کی اطاعت کرکے، معاصی سے اجتناب کرکے اور عبادت و اطاعت کو اس کے لئے خالص کرکے۔ 10۔ 2 یہ تقویٰ کے فوائد ہیں۔ نیک بدلے سے مراد جنت اور اس کی ابدی نعمتیں ہیں۔ بعض اس کا مفہوم یہ کرتے ہیں، کہ جو نیکی کرتے ہیں ان کے لئے دنیا میں نیک بدلہ ہے ' یعنی اللہ انہیں دنیا میں صحت و عافیت، کامیابی اور غنیمت وغیرہ عطا فرماتا ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ آپ کہہ دیجئے کہ: اے میرے بندو! جو ایمان لائے ہو، اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو جو لوگ نیک کام کرتے ہیں۔ ان کے لئے اس دنیا میں (بھی) بھلائی [20] ہے۔ اور اللہ کی زمین وسیع [21] ہے۔ بلا شبہ صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بلا حساب دیا جائے گا۔
[20] یہاں بھلائی سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں اگرچہ مال و دولت بھی اس بھلائی میں شامل ہے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ اس دنیا میں پرہیزگاروں کو مال و دولت عطا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں مال و دولت عطا نہ کیا جائے۔ البتہ بھلائی کی اور بھی بہت سی اقسام ہیں۔ جو انہیں یقیناً حاصل ہوتی ہیں۔ مثلاً ایسے لوگوں کی سب ہی عزت کرتے ہیں خواہ عزت کرنے والے دیندار ہوں یا دنیا دار۔ ایسے لوگوں کی بات قابل اعتماد سمجھی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کی ساکھ قائم ہوتی ہے اور آخرت کی بھلائی جو بہرحال ایسے لوگوں کے لئے یقینی ہے۔
[21] حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے :۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ہجرت حبشہ سے پہلے یا اس عرصہ کے لگ بھگ نازل ہوئی تھی۔ جبکہ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا تھا۔ اور انہیں احکام اسلام کی بجا آوری میں کفار مکہ کی طرف سے سخت دشواریاں پیش آرہی تھیں۔ یعنی اگر مکہ کی سرزمین یا آس پاس کا علاقہ تمہارے لئے تنگ ہو گیا ہے تو اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے کسی دوسرے ملک میں چلے جاؤ۔ جہاں آزادی سے اسلام کے احکام بجا لاسکو۔ ترک وطن کے سلسلہ میں بھی تمہیں کئی طرح کی مشکلات پیش آئیں گی اور جہاں جاؤ گے وہاں بھی ابتدائی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ان مشکلات کو اگر صبر و ثبات سے برداشت کرو گے تو اس کا ثواب بھی بے حساب ملے گا۔ واضح رہے کہ صبر کا تعلق ان مسلمانوں سے بھی ہے جو ہجرت کر کے چلے گئے تھے اور ان سے بھی جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت یا کسی دوسری وجہ سے ہجرت نہ کی بلکہ مکہ میں ہی کفار کی سختیاں سہنے کے باوجود اپنے دین پر ڈٹے رہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہر حال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ ’ جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کر سکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ‘۔
معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔
مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہو جاؤں اپنے آپ کو رب کے احکام کا عامل اور پابند کرلوں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اشرف المخلوقات یعنی اہل ایمان کو دینی امور میں سے سب سے بہتر چیز تقوی کا حکم دیتے ہوئے کہہ دیجیے اور ان کے سامنے اس سبب کا بھی ذکر کیجیے جو تقویٰ کا موجب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور اس کی نعمتوں کا اقرار، جو ان سے تقویٰ اختیار کرنے کا تقاضا کرتی ہیں اور ان میں سے ایک نعمت یہ ہے کہ اس نے ان کو ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا، جو تقویٰ کا موجب ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آپ کسی سخی شخص سے کہیں اے سخی! صدقہ کر اور کسی بہادر شخص سے کہیں اے بہادر لڑائی کر۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ثواب کا ذکر فرمایا جو دنیا میں ان کے اندر نشاط پیدا کرتا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰؔذِهِ الدُّنْیَا جنھوں نے اس دنیا میں نیکی کی اپنے رب کی عبادت کے ذریعے سے تو ان کے لیے ﴿حَسَنَةٌ بھلائی لامحدود رزق، نفس مطمئنہ اور انشراح قلب ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً (النحل: 16؍97) جو کوئی بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہو، ہم اسے نہایت پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے۔
﴿وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ اور اللہ کی زمین وسیع ہے۔ یعنی اگر تمھیں زمین کے کسی خطے میں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو زمین کے کسی دوسرے خطے کی طرف ہجرت کر جاؤ جہاں تم اپنے رب کی عبادت کر سکو اور جہاں تمھارے لیے اقامت دین ممکن ہو۔جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰؔذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌ اور چونکہ یہ نص عام ہے… تو اس مقام پر بعض لوگوں کے لیے یہ کہنے کی مجال تھی کہ جو شخص بھی نیک کام کرے گا اس کے لیے دنیا میں بھلائی ہے، تو اس شخص کا کیا حال ہے جو کسی خطۂ زمین میں ایمان لایا بایں ہمہ وہ مظلوم اور محکوم و مجبور ہے اور وہ اس بھلائی سے محروم ہے؟ اس لیے اس گمان کا جواب ان الفاظ میں فرمایا: ﴿وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ اور اللہ کی زمین بڑی فراخ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت ہے۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس بشارت کو ان الفاظ میں منصوص فرمایا میری امت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا، کسی کا ان سے علیحدہ ہونا اور مخالفت کرنا انھیں کوئی نقصان نہ دے سکے گا یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے گا اور یہ گروہِ حق اسی نہج پر ہو گا۔ (صحیح البخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالیٰ ﴿انما قولنا لشئی اذا اردنٰہ‘ ح:7460۔ وصحیح مسلم، الجہاد، باب قولہ صلی اللہ علیہ وسلم لاتزال طائفۃ من امتي…، ح: 1920۔)
یہ آیت کریمہ اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس کی زمین بہت کشادہ ہے اس لیے جب کبھی بھی کسی جگہ تمھیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روک دیا جائے تو تم کسی دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ۔ ہر زمان و مکان میں یہ حکم عام ہے۔ تب لازم ٹھہرا کہ ہر ہجرت کرنے والے مومن کے لیے مسلمانوں کے اندر کوئی ٹھکانا ہو جہاں وہ پناہ لے سکے اور ایک جگہ ہو جہاں وہ اپنے دین کو قائم کر سکے۔ ﴿اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰؔبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ جو صبر کرنے والے ہیں، انھیں بے شمار ثواب ملے گا۔ یہ آیت کریمہ صبر کی تمام انواع کے لیے عام ہے، مثلاً: اللہ تعالیٰ کی تکلیف دہ قضا و قدر پر اس طرح صبر کرنا کہ اس میں ناراضی کا شائبہ نہ ہو، گناہ اور معاصی کے مقابلے میں صبر کرتے ہوئے ان کے ارتکاب سے بچنا، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر کرتے ہوئے اس پر قائم رہنا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے صبر شعار لوگوں کے لیے بے حساب اجر کا وعدہ کیا ہے، یعنی کسی حد، تعداد اور مقدار کے بغیر۔ یہ صبر کی فضیلت ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں اس موقع ومحل ہے اور بلاشبہ یہ ہر معاملے میں معین ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قل منادياً لأشرف الخَلْق، وهم المؤمنون، آمراً لهم بأفضل الأوامر، وهي التقوى، ذاكراً لهم السبب الموجب للتقوى، وهو ربوبيَّة الله لهم وإنعامُه عليهم، المقتضي ذلك منهم أن يَتَّقوه، ومن ذلك ما منَّ الله عليهم به من الإيمان؛ فإنَّه موجبٌ للتقوى؛ كما تقولُ: أيُّها الكريم تصدَّقْ! وأيُّها الشجاع قاتل! وذكر لهم الثوابَ المنشِّطَ في الدُّنيا، فقال: {للذين أحسنوا في هذه الدُّنيا}: بعبادة ربِّهم لهم {حسنةٌ}: رزقٌ واسعٌ ونفسٌ مطمئنةٌ وقلبٌ منشرحٌ؛ كما قال تعالى: {مَنْ عَمِلَ صالحاً من ذَكَرٍ أو أنثى وهو مؤمنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حياةً طيبةً}. {وأرضُ الله واسعةٌ}: إذا مُنِعْتُم من عبادتِهِ في أرض؛ فهاجِروا إلى غيرِها تعبُدون فيها ربَّكم وتتمكَّنون من إقامة دينِكم. ولمَّا قال: {للذين أحسنوا في هذه الدُّنيا حسنةٌ}؛ كان لبعض النفوس مجالٌ في هذا الموضع، وهو أنَّ النصَّ عامٌّ؛ أنَّه كل مَنْ أحسن؛ فله في الدُّنيا حسنةٌ؛ فما بالُ مَنْ آمن في أرض يُضْطَهَدُ فيها ويُمْتَهَنُ لا يحصل له ذلك؟ دَفَعَ هذا الظنَّ بقوله: {وأرضُ الله واسعةٌ}: وهنا بشارةٌ نصَّ عليها النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - بقوله: «لا تزال طائفةٌ من أمَّتي على الحقِّ ظاهرين لا يضرُّهم مَنْ خَذَلَهم ولا من خالَفَهم حتى يأتي أمرُ الله وهم على ذلك». تشير إليه هذه الآية وترمي إليه من قريب، وهو أنَّه تعالى أخبر أنَّ أرضَه واسعةٌ؛ فمهما مُنِعْتُم من عبادته في موضع؛ فهاجروا إلى غيرها. وهذا عامٌّ في كلِّ زمان ومكان؛ فلا بدَّ أن يكونَ لكلِّ مهاجرٍ ملجأ من المسلمين يلجأ إليه وموضعٌ يتمكَّن من إقامة دينِهِ فيه.

{إنَّما يُوَفَّى الصابرون أجْرَهُم بغير حسابٍ}: وهذا عامٌّ في جميع أنواع الصبر: الصبر على أقدار الله المؤلمةِ؛ فلا يتسخَّطُها، والصبر عن معاصيه؛ فلا يرتكبها، والصبر على طاعته حتى يؤدِّيَها، فوعد الله الصابرينَ أجرهم بغير حسابٍ؛ أي: بغير حدٍّ ولا عدٍّ ولا مقدارٍ، وما ذاك إلا لفضيلة الصبر ومحلِّه عند الله، وأنَّه معينٌ على كلِّ الأمور.