تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ: ” حَسَنَةٌ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے۔{” فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا “} کا تعلق{” اَحْسَنُوْا “} کے ساتھ ہے، یعنی جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک اعمال کیے ان کے لیے عظیم بھلائی ہے۔ اس بھلائی سے مراد دنیا کی بھلائی بھی ہے اور آخرت کی بھلائی بھی، کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا یہ تھی: [اَللّٰهُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ] [بخاري، الدعوات، باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم ربنا …: ۶۳۸۹] ”اے اللہ! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا۔“ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۰۱) کی تفسیر۔ دنیا اور آخرت دونوں میں اس بھلائی کی تفصیل کے لیے سورۂ نحل (۹۷) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
➌ {وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ:} یہ ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اگر کسی جگہ تم اللہ کے تقویٰ پر کار بند نہیں رہ سکتے اور اللہ کے دین پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ ہے تو اللہ کی زمین وسیع ہے، کسی دوسری جگہ چلے جاؤ، جہاں آزادی سے اللہ کے احکام پر عمل کر سکو۔ اس جملے کی مفصل تفسیر کے لیے سورۂ نساء کی آیات (۹۷ تا ۱۰۰) اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔
➍ { اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ:} صبر کا لفظی معنی باندھنا ہے۔ اہلِ علم نے صبر کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر صبر، اس کی منع کر دہ چیزوں سے اجتناب پر صبر اور پیش آنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں پر صبر۔ صابر وہ ہے جس کی خصلت ہی صبر ہو۔ فرمایا، جن لوگوں کی خصلت صبر ہے، صرف یہی لوگ ہیں جنھیں ان کا اجر کسی حساب کے بغیر دیا جائے گا۔ اس میں ہجرت کے دوران پیش آنے والی تکالیف پر صبر کی تلقین ہے اور اس پر بے حساب اجر کی بشارت ہے۔ بغیر حساب اجر سے مراد جنت ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ دنیا کی ہر نعمت خواہ کتنی ہو ختم ہونے والی ہے اور ختم ہونے والی ہر چیز کا حساب ہو سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ» [المؤمن: ۴۰] ”اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بے حساب رزق دیے جائیں گے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے۔
مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہو جاؤں اپنے آپ کو رب کے احکام کا عامل اور پابند کرلوں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قل منادياً لأشرف الخَلْق، وهم المؤمنون، آمراً لهم بأفضل الأوامر، وهي التقوى، ذاكراً لهم السبب الموجب للتقوى، وهو ربوبيَّة الله لهم وإنعامُه عليهم، المقتضي ذلك منهم أن يَتَّقوه، ومن ذلك ما منَّ الله عليهم به من الإيمان؛ فإنَّه موجبٌ للتقوى؛ كما تقولُ: أيُّها الكريم تصدَّقْ! وأيُّها الشجاع قاتل! وذكر لهم الثوابَ المنشِّطَ في الدُّنيا، فقال: {للذين أحسنوا في هذه الدُّنيا}: بعبادة ربِّهم لهم {حسنةٌ}: رزقٌ واسعٌ ونفسٌ مطمئنةٌ وقلبٌ منشرحٌ؛ كما قال تعالى: {مَنْ عَمِلَ صالحاً من ذَكَرٍ أو أنثى وهو مؤمنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حياةً طيبةً}. {وأرضُ الله واسعةٌ}: إذا مُنِعْتُم من عبادتِهِ في أرض؛ فهاجِروا إلى غيرِها تعبُدون فيها ربَّكم وتتمكَّنون من إقامة دينِكم. ولمَّا قال: {للذين أحسنوا في هذه الدُّنيا حسنةٌ}؛ كان لبعض النفوس مجالٌ في هذا الموضع، وهو أنَّ النصَّ عامٌّ؛ أنَّه كل مَنْ أحسن؛ فله في الدُّنيا حسنةٌ؛ فما بالُ مَنْ آمن في أرض يُضْطَهَدُ فيها ويُمْتَهَنُ لا يحصل له ذلك؟ دَفَعَ هذا الظنَّ بقوله: {وأرضُ الله واسعةٌ}: وهنا بشارةٌ نصَّ عليها النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - بقوله: «لا تزال طائفةٌ من أمَّتي على الحقِّ ظاهرين لا يضرُّهم مَنْ خَذَلَهم ولا من خالَفَهم حتى يأتي أمرُ الله وهم على ذلك». تشير إليه هذه الآية وترمي إليه من قريب، وهو أنَّه تعالى أخبر أنَّ أرضَه واسعةٌ؛ فمهما مُنِعْتُم من عبادته في موضع؛ فهاجروا إلى غيرها. وهذا عامٌّ في كلِّ زمان ومكان؛ فلا بدَّ أن يكونَ لكلِّ مهاجرٍ ملجأ من المسلمين يلجأ إليه وموضعٌ يتمكَّن من إقامة دينِهِ فيه.
{إنَّما يُوَفَّى الصابرون أجْرَهُم بغير حسابٍ}: وهذا عامٌّ في جميع أنواع الصبر: الصبر على أقدار الله المؤلمةِ؛ فلا يتسخَّطُها، والصبر عن معاصيه؛ فلا يرتكبها، والصبر على طاعته حتى يؤدِّيَها، فوعد الله الصابرينَ أجرهم بغير حسابٍ؛ أي: بغير حدٍّ ولا عدٍّ ولا مقدارٍ، وما ذاك إلا لفضيلة الصبر ومحلِّه عند الله، وأنَّه معينٌ على كلِّ الأمور.