ترجمہ و تفسیر — سورۃ الانسان/الدهر (76) — آیت 22

اِنَّ ہٰذَا کَانَ لَکُمۡ جَزَآءً وَّ کَانَ سَعۡیُکُمۡ مَّشۡکُوۡرًا ﴿٪۲۲﴾
بلاشبہ یہ تمھارے لیے ہمیشہ کا بدلہ ہے اور تمھاری کوشش ہمیشہ قدر کی ہوئی ہے۔ En
یہ تمہارا صلہ اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی
En
(کہا جائے گا) کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا بدلہ اور تمہاری کوشش کی قدر کی گئی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 22){ اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً …:} یہ سب کچھ تمھارے اعمال کا بدلا ہے اور تمھاری کوشش قدر کی ہوئی ہے یہ بات جنتیوں سے کہی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ انھیں تھوڑی سی عمر کے اعمال کے بدلے میں ابدالآباد کی یہ نعمتیں عطا فرمائے گا۔ اس سے بڑھ کر قدر دانی کیا ہو سکتی ہے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

22۔ (اور فرمائے گا) یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کوشش کی قدر [26] کی گئی ہے۔
[26] یعنی یہ نعمتیں عطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اہل جنت سے فرمائے گا کہ دنیا میں میری خاطر جو تم نے مصیبتیں برداشت کیں اور میرے احکام کی پابندیوں کا خیال رکھا۔ تمہاری ان محنتوں کی آج پوری قدر کی جاتی ہے اور ان کا تمہیں بیش بہا بدلہ دیا جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنَّ هٰؔذَا بلاشبہ یہ اجر جزیل اور عطائے جمیل ﴿ كَانَ لَكُمْ جَزَآءًؔ ان اعمال کی جزا ہے جو تم آگے بھیج چکے ہو۔ ﴿ وَّكَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا اور تمھاری کوشش کی قدر کی گئی ہے۔ یعنی تمھاری تھوڑی سے کوشش کے بدلے اللہ تعالیٰ نے تمھیں اتنی نعمتیں عطا کی ہیں جن کا شمار ممکن نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{[إنَّ] هذا}: الجزاء الجزيل [والعطاء الجميل] {كان لكم جزاءً}: على ما أسلَفْتموه من الأعمال، {وكان سعيُكم مشكوراً}؛ أي: القليل [منه] يجعل الله لكم به من النعيم [المقيم] ما لا يمكن حصره.