تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِيْبَةٌ:} اس میں لفظ {” اِذَا“} میں اشارہ ہے کہ مصیبت پہنچتے ہی صبر کرنا اور {”اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَيْهِ رٰجِعُوْنَ“} کہنا چاہیے، بعد میں رو دھو کر تو ہر شخص ہی صبر کر لیتا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: [إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَۃِ الْأُوْلٰی] [بخاری، الجنائز، باب زیارۃ القبور: ۱۲۸۳] ”صبر صرف وہ ہے جو پہلی چوٹ کے وقت ہو۔ “
➌ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”کوئی مسلمان جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ وہی کلمہ کہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے (یعنی یہ دعا پڑھے): [إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، اَللّٰہُمَّ أْجُرْنِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَ أَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا] (یقینًا ہم اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں، اے اللہ! مجھے میری مصیبت میں اجر عطا فرما اور مجھے اس کی جگہ اس سے بہتر عطا فرما) تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر عطا فرماتا ہے۔ “ ام سلمہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ پھر جب (میرے خاوند) ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے کہا مسلمانوں میں ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو گا؟ پہلا گھرانہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے یہ (مذکورہ بالا) کلمہ کہہ لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی جگہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم عطا فرما دیے۔ [مسلم، الجنائز، باب ما یقال عند المصیبۃ: ۹۱۸]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
اور اس دور میں مسلمانوں کی معاشی تنگ دستی کا حال درج ذیل احادیث سے معلوم ہوتا ہے۔
1۔
2۔ حضرت عائشہؓ نے اپنے بھانجے عروہ بن زبیرؓ سے کہا کہ: میرے بھانجے ہم پر ایسا وقت گزر چکا ہے کہ ہم ایک چاند دیکھتے، پھر دوسرا چاند، پھر تیسرا چاند یعنی دو دو مہینے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں آگ نہیں جلتی تھی۔ عروہؓ نے کہا: خالہ! پھر تمہاری گزر کس چیز پر ہوتی تھی؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا: انہی دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر۔ اتنا ضرور تھا کہ چند انصاری لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمسائے تھے جن کے پاس بکریاں تھیں۔ وہ آپ کے لیے بکریوں کا دودھ تحفہ کے طور پر بھیجا کرتے جس سے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پلاتے۔ [بخاري۔ كتاب الهبة و فضلها و التحريض عليها]
3۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر آپ کی وفات تک ایسا زمانہ نہیں گزرا کہ انہوں نے مسلسل تین دن پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہو۔ [بخاري، كتاب الاطعمه باب قول الله تعالىٰ كلوا من طيبات مارزقنكم وكلوا من طيبات ما كسبتم]
4۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ مجھے بھوک لگی ہوئی تھی۔ مجھے حضرت عمرؓ ملے تو ان سے کہا کہ قرآن پاک کی فلاں آیت: ﴿وَيُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَليٰ حُبِّهٖ مِسْكِيْنًا وَّيَتِيْمًا وَّاَسِيْرًا﴾ مجھے پڑھ کر سناؤ، وہ اپنے گھر میں گئے اور یہ آیت مجھے پڑھ کر سنائی اور سمجھائی۔ آخر میں وہاں سے چلا۔ تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ بھوک سے بے حال ہو کر اوندھے منہ گر پڑا۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سرہانے کھڑے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اٹھایا اور پہچان گئے کہ بھوک کے مارے میرا یہ حال ہے۔ آپ مجھے گھر لے گئے اور میرے لیے دودھ کا پیالہ لانے کا حکم دیا۔ میں نے دودھ پیا، پھر فرمایا ابو ہریرہ! اور پی، میں نے اور پیا۔ پھر فرمایا: اور پی۔ میں نے اور پیا حتیٰ کہ میرا پیٹ تن کر سیدھا ہو گیا۔ پھر میں حضرت عمرؓ سے ملا اور اپنا حال بیان کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے میری بھوک دور کرنے کے لیے ایسے شخص کو بھیج دیا جو آپ سے اس بات کے زیادہ لائق تھے اللہ کی قسم! میں نے آپ سے جونسی آیت پڑھ کر سنانے کو کہا تھا۔ وہ مجھے آپ سے زیادہ یاد تھی۔ حضرت عمرؓ کہنے لگے، اللہ کی قسم! اگر میں اس وقت تمہیں گھر لے جا کر کھانا کھلاتا تو سرخ اونٹوں کے ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔ [بخاري، كتاب قول اللّٰه تعالىٰ كلوا من طيبات ما رزقناكم]
5۔ سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں کہ میں پہلا عرب ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر چلایا اور ہم نے اپنے تئیں اس وقت جہاد کرتے پایا جب ہم کو حبلہ اور سمر (کانٹے دار درخت) کے پتوں کے سوا اور خوراک نہ ملتی۔ ہم لوگوں کو اس وقت بکری کی طرح سوکھی مینگنیاں آیا کرتیں جن میں تری نام کی کوئی چیز نہ ہوتی۔
[بخاری، کتاب الرقاق، باب کیف کان عیش النبی صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابہ]
6۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لڑائی کو نکلے۔ سواری کے لیے ہم سب کے پاس ایک ہی اونٹ تھا اور باری باری اس پر سوار ہوتے اور چلتے چلتے ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے تو پاؤں پھٹ کر ناخن بھی گر پڑے۔ اس حال میں ہم پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ لیتے۔ اسی لیے اس لڑائی کا نام غزوہ ذات الرقاع (چیتھڑوں والی لڑائی) پڑ گیا [بخاري، كتاب المغازي باب غزوة ذات الرقاع]
7۔ حضرت جابر بن عبد اللہ انصاریؓ کہتے ہیں کہ آپ نے ایک لشکر سمندر کے کنارے بھیجا جس میں تین سو آدمی اور سردار ابو عبیدہ بن الجراحؓ تھے۔ ہمارا راشن ختم ہو گیا تو ابو عبیدہؓ نے حکم دیا کہ سب لوگ اپنا اپنا بچا ہوا راشن ایک جگہ جمع کریں۔ یہ سارا راشن کھجور کے دو تھیلے تھے ابو عبیدہؓ اس سے تھوڑا تھوڑا کھانے کو دیتے رہے۔ جب وہ بھی ختم ہو گیا تو ہمیں روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملا کرتی۔ وہب نے جابرؓ سے پوچھا! بھلا ایک کھجور سے کیا بنتا ہو گا۔ جابرؓ کہنے لگے کہ وہ ایک کھجور بھی غنیمت تھی، جب وہ بھی نہ رہی تو ہمیں اس کی قدر معلوم ہوئی۔ پھر ہم سمندر پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بہت بڑی مچھلی ٹیلے کی طرح پڑی ہے۔ سارا لشکر اٹھارہ دن اس کا گوشت کھاتا رہا، جب ہم چلنے لگے تو ابو عبیدہؓ نے حکم دیا کہ اس کی دو پسلیاں کھڑی کی جائیں وہ اتنی اونچی تھیں کہ اونٹ پر کجاوہ کسا گیا تو وہ ان کے نیچے سے نکل گیا۔ [بخاري۔ كتاب المغازي باب غزوة سيف البحر]
خوف کے علاوہ فاقہ، جان و مال اور پھلوں میں خسارہ یہ سب ایسی صورتیں ہیں جو اسلام کی راہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کو پیش آتی رہیں۔ اسی لیے انہیں صبر اور نماز سے مدد لینے کی ہدایت کی گئی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
[مسند احمد:27/4:صحیح] صحیح مسلم شریف میں بھی یہ حدیث باختلاف الفاظ مروی ہے، [صحیح مسلم:918] مسند احمد میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی مسلمان کو کوئی رنج و مصیبت پہنچے اس پر گویا زیادہ وقت گزر جائے پھر اسے یاد آئے اور وہ انا للہ پڑھے تو مصیبت کے صبر کے وقت جو اجر ملا تھا وہی اب بھی ملے گا، [مسند احمد:201/1:ضعیف] ابن ماجہ میں ہے ابوسنان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے اپنے ایک بچے کو دفن کیا ابھی میں اس کی قبر میں سے نکلا نہ تھا کہ ابوطلحہ خولانی رحمہ اللہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکالا اور کہا سنو میں تمہیں ایک خوشخبری سناؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ملک الموت سے دریافت فرماتا ہے تو نے میرے بندے کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور اس کا کلیجہے کا ٹکڑا چھین لیا بتا تو اس نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں اللہ تیری تعریف کی اور «اناللہ» پڑھا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس کے لیے جنت میں ایک گھر بناؤ اور اس کا نام بیت الحمد رکھ دو۔ [سنن ترمذي:1021، قال الشيخ الألباني:حسن]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أخبر تعالى أنه لا بد أن يبتليَ عباده بالمحن ليتبين الصادق من الكاذب والجازع من الصابر، وهذه سنته تعالى في عباده، لأن السراء لو استمرت لأهل الإيمان ولم يحصل معها محنة لحصل الاختلاط الذي هو فساد، وحكمة الله تقتضي تمييز أهل الخير من أهل الشر، هذه فائدة المحن لا إزالة ما مع المؤمنين من الإيمان ولا ردهم عن دينهم، فما كان الله ليضيع إيمان المؤمنين. فأخبر في هذه الآية أنه سيبتلي عباده، {بشيء من الخوف}؛ من الأعداء، {والجوع}؛ أي: بشيء يسير منهما لأنه لو ابتلاهم بالخوف كله أو الجوع لهلكوا، والمحن تمحص لا تهلك، {ونقص من الأموال}؛ وهذا يشمل جميع النقص المعتري للأموال من جوائح سماوية وغرق وضياع وأخذ الظلمة للأموال من الملوك الظلمة وقطاع الطريق وغير ذلك {والأنفس}؛ أي: ذهاب الأحباب من الأولاد والأقارب والأصحاب، ومن أنواع الأمراض في بدن العبد أو بدن من يحبه، {والثمرات}؛ أي: الحبوب وثمار النخيل والأشجار كلها والخضر ببرد أو برَد أو حرق أو آفة سماوية من جراد ونحوه، فهذه الأمور لا بد أن تقع لأن العليم الخبير أخبر بها فوقعت كما أخبر، فإذا وقعت انقسم الناس قسمين: جازعين وصابرين.
فالجازع حصلت له المصيبتان، فوات المحبوب وهو وجود هذه المصيبة وفوات ما هو أعظم منها وهو الأجر بامتثال أمر الله بالصبر ففاز بالخسارة والحرمان ونقص ما معه من الإيمان، وفاته الصبر والرضا والشكران وحصل له السخط الدال على شدة النقصان.
وأما من وفقه الله للصبر عند وجود هذه المصائب فحبس نفسه عن التسخط قولاً وفعلاً واحتسب أجرها عند الله وعلم أن ما يدركه من الأجر بصبره أعظم من المصيبة التي حصلت له، بل المصيبة تكون نعمة في حقه لأنها صارت طريقاً لحصول ما هو خير له وأنفع منها، فقد امتثل أمر الله وفاز بالثواب، فلهذا قال تعالى: {وبشر الصابرين}؛ أي: بشرهم بأنهم يوفون أجرهم بغير حساب، فالصابرون هم الذين فازوا بالبشارة العظيمة والمنحة الجسيمة، ثم وصفهم بقوله: