شہداء فی سبیل اللہ کا جنت میں اپنی بلند و بالا منازل دیکھ کر پھر دنیا میں آنے کی تمنا کرنا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

عن مسروق قال سألنا عبد الله (وهو ابن مسعود) عن هذه الآية ولا تحسبن الذين قتلوا فى سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون قال أما إنا قد سألنا عن ذلك فقال: ”أرواحهم فى جوف طير خضر لها قناديل معلقة بالعرش تسرح من الجنة حيث شاءت ثم تأوى إلى تلك القناديل فاظلع إليهم ربهم إطلاعة فقال: هل تشتهون شيئا قالوا أى شيء نشتهي ونحن نسرح من الجنة حيث شئنا ففعل بهم ثلاث مرات فلما رأوا أنهم لن يتركوا من أن يسألوا قالوا يا رب نريد أن ترد أرواحنا فى أجسادنا حتى نقتل فى سبيلك مرة أخرى فلما رأى أن ليس لهم حاجة تركوا.
”مسروق سے روایت ہے کہتے ہیں ہم نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں پوچھا: جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل کیے گئے ہیں آپ ان کو مردے گمان نہ بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے ہاں رزق دیئے جاتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم اس بارے میں سوال کر چکے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شہداء کی روحیں سبز (رنگ کے) پرندوں کے قالب میں ہیں، ان ارواح کے لیے عرش کے ساتھ معلق قندیلیں ہیں، وہ جہاں چاہتی ہیں جنت میں چرتی ہیں پھر واپس اپنی قندیلوں میں آکر رہتی ہیں، ایک بار ان کو ان کے رب نے دیکھا پھر کہا: ”کیا تم کچھ چاہتی ہو؟“ انہوں نے کہا: ”ہم کیا چاہیں گی، ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں کھاتی اور پھرتی ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے تین بار ان سے پوچھا، جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر سوال کے ان کو نہیں چھوڑا جائے گا (یعنی اللہ تعالیٰ برابر پوچھے ہی جاتا ہے) تو انہوں نے کہا: ”اے ہمارے رب! ہم یہ چاہتی ہیں کہ ہمیں ہمارے جسموں میں واپس لوٹا دے تاکہ ہم دوبارہ تیری راہ میں شہید ہوں، “ جب رب تعالیٰ نے دیکھا کہ اب ان کی کوئی خواہش نہیں تو ان کو چھوڑ دیا گیا۔ “
( صحیح بخاری ومسلم) (رواہ مسلم، کتاب الإمارة، باب بیان أن أرواح الشہداء فی الجنة وأنہم أحیاء عند ربہم یرزقون، الرقم: 1887)

فوائد مستنبطہ

➊ ان شہیدوں کو قیامت سے پہلے جنت میں داخل کر دیا جاتا ہے۔
➋ برزخی زندگی میں شہیدوں کو دوسرا جسم ملتا ہے جو سبز پرندوں کی شکل میں ہوتا ہے۔
➌ قیامت کے بعد وہ دوسرے جنتیوں کی طرح انسانی جسم کے ساتھ جنت کی سیر کریں گے۔
➍ شہیدوں کی روحیں پلٹ کر اس دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتیں اور نہ انہیں دوبارہ دنیوی زندگی ملتی ہے۔

فائدہ:

جب شہداءِ احد کی روحیں پلٹ کر اس دنیا میں واپس نہیں آسکتیں ذرا انصاف سے بتائیے وہ ولی و بزرگ کون ہیں اور کہاں سے آئے ہیں جو کہ مرنے کے بعد پھر سے اس دنیا میں آکر لوگوں کو نفع و نقصان دے سکتے ہیں؟ مار پڑے ان قبر پرستوں کے دماغ پر جو کہ اصحاب قبور کے بارے اس طرح کے عقیدے رکھتے ہیں۔
➎ عرش الٰہی جنت سے اوپر ہے۔
➏ شہداء کی فضیلت: حدیث مذکور سے شہداء کی فضیلت بھی معلوم ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ رب العالمین نے ان سے براہ راست کلام کیا۔