قیامت کی نشانی : امن وامان کا سنہری دور
وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ينزل عيسى ابن مريم إماما عادلا وحكما مقسطا فيكسر الصليب ويقتل الخنزير ويرجع السلم ويتخذ السيوف مناجل وتذهب حمة كل ذات حمة وتنزل السماء رزقها وتخرج الأرض بركتها حتى يلعب الصبي بالثعبان فلا يضره ويراعي الغنم الذئب فلا يضرها ويراعي الأسد البقر فلا يضرها
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : عیسی ابن مریم علیہ السلام حاکم اور عادل بن کر نازل ہوں گے ، صلیب توڑ ڈالیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، امن و سلامتی لوٹا دیں گے، تلواروں سے درانتیاں بنا لی جائیں گی ، ہر زہر آلود چیز کا زہر ختم ہو جائے گا، آسمان اپنا رزق اتارے گا ، زمین اپنی برکت (نباتات) اگائے گی حتی کہ بچہ اژدھے سے کھیلے گا مگر وہ بچے کو نقصان نہیں دے گا، بھیڑیا بکریوں کے ساتھ چرے گا مگر انہیں نقصان نہیں دے گا اور شیر گائے کے ساتھ چرے گا مگر اسے نقصان نہیں پہنچائے گا۔
احمد 638/2 واصلہ فی البخاری کتاب المظالم باب کسر الصلیب وقتل الخنزیر 2476 ومسلم 242 مختصرا ـ ابن ماجة 4129 ترمذی 2233 التاریخ الکبیر 3/357 شرح السنة 7/454 السنن الکبری 6/101 ابو یعلی 6584 عبد الرزاق 11/499
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم …. ويهلك الله فى زمانه المسيح الدجال وتقع الأمنة فى الأرض حتى ترتع الإبل مع الأسد جميعا والنمور مع البقر والذئاب مع الغنم ويلعب الصبيان بالحيات لا تضرهم
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس حضرت عیسی علیہ السلام کے دور میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک فرمائیں گے اور زمین پر امن وامان کا دور دورہ ہو گا حتی کہ اونٹ اور شیر، چیتے اور گائیاں، بھیڑیئے اور بکریاں سب ایک ساتھ چریں گے اور بچے سانپوں کے ساتھ کھیلیں گے مگر کوئی کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔
احمد 567/2
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فيبعث الله عيسى بن مريم كأنه عروة بن مسعود فيطلبه فيهلكه ثم يمكث الناس سبع سنين ليس بين اثنتين عداوة
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر اللہ تعالی عیسی ابن مریم علیہ السلام کو نازل فرمادیں گے گویا کہ وہ عروہ بن مسعود ہیں وہ دجال کو ڈھونڈھ کر قتل کریں گے پھر لوگ سات سال تک زمین پر زندہ رہیں گے اور دو بندوں کے درمیان بھی عداوت نہیں ہوگی۔
مسلم کتاب الفتن باب فی خروج الدجال 2940
عن أبى سعيد رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : يخرج فى آخر أمتي المهدي يسقيه الله الغيث وتخرج الأرض نباتها ويعطي المال صحاحا وتكثر الماشية وتعظم الأمة يعيش سبعا أو ثمانيا
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت کے آخری دور میں مہدی خارج ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اسے بارش سے سیرابی عطا فرمائے گا، زمین اپنی نباتات اگائے گی ، وہ مال کو صحیح تقسیم کرے گا، مویشی بکثرت ہوں گے ، امت عظیم ہو جائے گی اور وہ سات یا آٹھ سال تک زندہ رہے گا۔
حاکم کتاب الفتن 4/557 السلسلة الصحیحة 2/336
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ روئے زمین ظلم و نا انصافی سے بھر جائے گی پھر میری نسل سے ایک آدمی ظاہر ہو گا جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے منور کر دے گا جس طرح یہ ظلم و جور سے تاریک ہو گئی تھی۔
ابو داؤد 2485 ترمذی 2232 ابن ماجة 4134 حاکم 4/600 احمد 3/45 شرح السنة 7/457 السلسلة الصحیحة 2/336
فوائد :
➊ امام مہدی کے ظہور سے پہلے روئے زمین ظلم وعدوان سے تاریک ہوگی پھر اللہ تعالیٰ اسے امام مہدی جیسے عادل حاکم کے ساتھ عدل و انصاف اور امن وامان سے منور فرمادیں گے۔
➋ امام مہدی، دجال اکبر اور حضرت عیسی کا دور مشترک ہے۔ امام مہدی اور حضرت عیسی علیہ السلام مل کر دجال اور اس کے لشکر کا مقابلہ کریں گے اور انہیں تہہ تیغ کر دیں گے۔
➌ امام مہدی کے سنہری دور میں ہر طرف امن وامان ، مال و دولت ، رزق و اجناس کی فراوانی اور خوشحالی ہوگی اور اس جیسا دور تاریخ انسانی میں عدیم المثال ہوگا۔
➍ اس دور میں جانوروں کے خواص بدل جائیں گے حتی کہ دو متضاد الجبلت اور دشمن جانور ایک دوسرے کے دوست بن جائیں گے، بھیڑیا بھیڑ بکریوں کا دوست ہو جائے گا، شیر، چیتے ، گائے اور اونٹ کے دوست بن جائیں گے اور ایک ہی چراگاہ میں چریں گے مگر ایک دوسرے کو نقصان نہیں دیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے خواص تبدیل کر دیں گے۔ ان الله على كل شئ قدير
➎ بچے سانپ اور اژدھے جیسے موذی جانوروں سے بلا خوف خطر کھیلیں گے اور یہ بچوں کو نقصان نہیں دیں گے۔ کیونکہ ان کا زہر اللہ تعالیٰ کھینچ لیں گے۔ ان الله على كل شئ قدير
➏ مذکورہ احادیث حس و عقل کے خلاف بھی نہیں کیونکہ ہمارے مشاہدے میں ہے کہ پالتو کتا اہل خانہ کو نہیں کاٹتا خواہ وہ کتنا ہی موذی کیوں نہ ہو۔ پالتو بلی گھر کے چوزوں پر حملہ آور نہیں ہوتی بلکہ یہ جانور گھریلو اشیا کے محافظ بن جاتے ہیں لہذا جب جزوی طور پر ہمارے سامنے ایسی مثالیں موجود ہیں تو قیامت کے قریب ایسی علامات کے ظہور سے انکار چہ معنی دارد؟
➐ قیامت کی مذکورہ نشانی تا حال ظاہر نہیں ہوئی اور اس کے ظہور کا حتمی علم صرف اللہ تعالی کے پاس ہے۔ البتہ احادیث کے مطابق دجال اور اس کے لشکروں کے خاتمے کے بعد ایک سنہری دور دورہ ہو گا۔