صدق دل سے شہادت مانگنے والا شہادت کا درجہ پاتا ہے، چاہے موت بستر پر آئے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

اگر کسی نے صدق دل سے اللہ تعالیٰ سے شہادت کی تمنا کی اس نے شہادت کا درجہ پالیا اگر چہ اسے موت بستر مرگ پر آئی

حدثني أبو شريح أن سهل بن أبى أمامة بن سهل بن حنيف حدثه عن أبيه عن جده أن النبى صلى الله عليه وسلم قال من سأل الله الشهادة بصدق بلغه الله منازل الشهداء وإن مات على فراشه.
”ابو شریح بیان کرتے ہیں کہ بیشک سہل بن ابی امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے والد سے انہوں نے اپنے دادا سے حدیث بیان کی کہ بیشک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ سے صدق دل سے شہادت کا سوال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے شہیدوں کے درجات تک پہنچا دیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے بستر پر ہی فوت ہو۔ “
( صحیح مسلم) (رواہ مسلم، کتاب الإمارة، باب استحباب طلب الشہادة فی سبیل اللہ تعالیٰ، الرقم: 1909)

فوائد مستنبطہ

➊ اخلاص کی بڑی برکت ہے۔
➋ شہادت کی تمنا رکھنا بہت بڑا نیک عمل ہے۔
➌ طلب شہادت کا جواز: حدیث مذکور سے شہادت کی تمنا کرنے کا جواز بھی ملتا ہے۔