شہادت اور اس کی دعا کرنے کی فضیلت
عن سهل بن حنيف أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من سأل الله الشهادة بصدق، بلغه الله منازل الشهداء ، وإن مات على فراشه .
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص سچے دل سے اللہ سے شہادت مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے شہداء کے مرتبوں تک پہنچا دے گا، اگرچہ اسے بستر پر موت آئے۔“
صحیح مسلم، كتاب الإمارة، باب استحباب طلب الشهادة في سبيل الله تعالى، رقم: 1909.
عن أنس رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : من طلب الشهادة صادقا أعطيها ولو لم تصبه .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص سچے دل سے شہادت کا طالب ہو تو اسے یہ مقام عطا کر دیا جاتا ہے، اگرچہ شہادت اسے حاصل نہ ہو۔“
صحيح مسلم، كتاب الإمارة، باب استحباب طلب الشهادة، رقم: 1908.
أنس بن مالك أن أم الربيع بنت البراء – وهى أم حارثة بن سراقة أنت النبى صلى الله عليه وسلم فقالت: يا نبي الله! ألا تحدثني عن حارثة؟ وكان قتل يوم بدر . أصابه سهم غرب فإن كان فى الجنة صبرت ، وإن كان غير ذلك اجتهدت عليه فى البكاء قال : يا أم حارثة إنها جنان فى الجنة ، وإن ابنك أصاب الفردوس الأعلى
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ سیدہ ام ربیع بنت براء رضی اللہ عنہا – جو سیدنا حارثہ بن سُرَاقہ رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں – نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے حارثہ کی بابت خبر نہیں دیتے ؟ اور یہ بدر والے دن شہید ہو گئے تھے۔ اگر وہ جنت میں ہیں تو میں صبر کروں، اور اگر اس کے علاوہ کوئی بات ہے تو میں اس پر خوب جی بھر کر روؤں گی ۔ آپ نے فرمایا: ”اے ام حارثہ ! جنت میں متعدد درجے ہیں، اور تیرا بیٹا جنت کے اعلیٰ ترین درجے میں پہنچ گیا ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الجهاد، باب من أتاه سهم غرب فقتله، رقم: 2809
جابر ابن عبد الله يقول : جيء بأبي إلى النبى صلى الله عليه وسلم قد مثل به، ووضع بين يديه ، فذهبت أكشف عن وجهه ، فنهاني قومي فقال النبى صلى الله عليه وسلم : ما زالت الملائكة تظله بأجنحتها .
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں : میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائے گئے جب کہ مثلہ کر کے ان کی شکل و ہیئت بگاڑ دی گئی تھی، پس ان کی لاش آپ کے سامنے رکھ دی گئی، میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا تو کچھ لوگوں نے مجھے روک دیا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”فرشتے تیرے والد کو اپنے پروں سے برابر سایہ کرتے رہے ۔“
صحيح بخاري، كتاب الجهاد، باب ظل الملائكة على الشهيد، رقم: 2816 ـ صحيح مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل عبدالله بن عمرو، رقم: 2471.
عن أنس بن مالك رضي الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ما أحد يدخل الجنة يحب أن يرجع إلى الدنيا وله ما على الأرض من شيء إلا الشهيد يتمنى أن يرجع إلى الدنيا فيقتل عشر مرات لما يرى من الكرامة .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت میں جانے والا کوئی شخص ایسا نہیں جو جنت سے دوبارہ دنیا میں لوٹنے کو پسند کرے، خواہ اسے دنیا کے تمام خزانوں کا لالچ ہی دے دیا جائے ۔ البتہ شہید یہ تمنا کرے گا کہ وہ دنیا میں دوبارہ لوٹ جائے اور دس بار اللہ کی راہ میں شہید ہو کر آئے ۔ کیونکہ وہ شہید اللہ کے ہاں فضیلت و مرتبت بچشم خود دیکھ چکا ہے۔“
صحيح البخاري، كتاب الجهاد، باب تمنى المجاهد ان يرجع الى الدنيا، رقم: 2817 ـ صحیح مسلم، كتاب الامارة، باب فضل الشهادة في سبيل الله تعالى، رقم: 1877.