زیارت قبور کی ممانعت، اسباب اور مشروط اجازت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

کیا قبروں کی زیارت مطلقاً ممنوع ہے؟

قبرستان کی زیارت کے بارے میں اختلاف ہے۔
سلف کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ قبرستان کی زیارت ممنوع ہے۔ ان کے نزدیک ممانعت کی تنسیخ والی احادیث نہ تو مشہور ہیں اور نہ امام بخاری ہی نے ان کو نقل کیا ہے۔ امام بخاری نے جو زیارت قبور کی حدیث نقل کی ہے تو انہوں نے اس عورت کی حدیث کا سہارا لیا ہے جو قبر پر رو رہی تھی۔
(صحیح بخاری کتاب الجنائز : باب زيارة القبور حدیث 1383)
ابن بطال یہ شعبی کا یہ قول نقل کرتے ہیں:
”لولا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن زيارة القبور لزرت قبر ابني“
”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں اپنے بیٹے کی قبر کی زیارت کے لیے ضرور جاتا۔“
نخعی رحمها اللہ اور ابن سیرین کا قول ہے کہ:
”سلف زیارت قبور کو مکروہ سمجھتے تھے۔“
ابن بطال ہی کہتے ہیں کہ امام مالک سے زیارت قبور کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے پہل منع فرمایا لیکن بعد میں اجازت دے دی تھی۔“
اب کوئی شخص زیارت قبور کے لیے جائے اور وہاں کوئی بدعت وغیرہ نہ کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
امام مالک سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ وہ زیارت قبور کو انتہائی کمزور اور ضعیف عمل خیال کرتے تھے۔

زیارت قبور سے ممانعت کے اسباب

اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتداء میں زیارت قبور سے روک دیا تھا۔ اس کی کئی وجوہ تھیں۔ مثلاً:
● اس سے انسان کا شرک میں مبتلا ہو جانا۔
●وہاں جا کر بین وغیرہ کرنا۔
●بعض لوگوں کا قبرستان جا کر ایک دوسرے پر کثرت قبور پر فخر کرنا۔
آیت کریمہ:
أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ حَتَّىٰ زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ
”تم لوگوں کو ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے یہاں تک کہ تم قبروں تک پہنچ جاتے ہو۔“
(102-التكاثر:1-2)
کی تفسیر میں علماء نے لکھا ہے کہ لوگ اپنے خاندان کی قبروں کی کثرت پر فخر کیا کرتے تھے۔
ابن عطیہ بھی لکھتے ہیں کہ:
یہ آیت کثرت زیارت قبور پر وعید ہے۔ یعنی تم نے عبادت کرنے اور علم حاصل کرنے کی بجائے زیارت قبور کو ایک مشغلہ بنا رکھا ہے۔

زیارت قبور کی مشروط اجازت

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها ولا تقولوا هجرا
”میں نے تم کو زیارت قبور سے منع کیا تھا۔ اب زیارت کے لیے چلے جایا کرو۔ اور وہاں کوئی خلافِ شریعت بات نہ کرنا۔“
سنن نسائی کتاب الجنائز : باب زيارة القبور (حدیث : 2035) واصله في صحيح مسلم كتاب الجنائز : باب استئذان النبي صلى الله عليه وسلم ربه عز وجل في زيارة قبر امه (حديث : 977)
گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منع مندرجہ بالا آیت کی تشریح تھا۔ کچھ عرصہ بعد زیارت قبور کی اجازت اس لیے دے دی گئی تھی کہ اس سے نصیحت حاصل ہو۔ اس لیے اجازت نہ دی تھی کہ لوگ فخر و مباہات میں گرفتار ہو جائیں اور قبروں پر قبے بنا ڈالیں یا قبروں کو چونا سفید کر دیں اور وہاں میلے لگائیں اور ناچ گانے اور قوالیاں کریں۔
ہمارا مقصود یہ ثابت کرتا ہے کہ علماء امت اس پر متفق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبور اور برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا تھا۔ البتہ اس کے منسوخ ہونے میں اختلاف ہے۔ کچھ علماء کا خیال ہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں ہوا۔ کیونکہ نسخ کی احادیث مشہور نہیں۔ اس لیے امام بخاری نے وہ احادیث ذکر نہیں کیں جن میں نسخ عام کا ذکر ہے۔ اور کچھ علماء کا کہنا ہے کہ یہ منسوخ ہو چکا ہے۔ پھر اس نسخ میں بھی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ مباح ہے مستحب نہیں۔ امام مالک اور امام احمد کا یہی مسلک ہے۔
اس کی وجہ بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ نہی کے بعد جب صیغہ امر ہو تو اباحت کا فائدہ دیتا ہے جیسے ایک صحیح حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كنت نهيتكم عن زيارة القبور فزوروها وكنت نهيتكم عن الانتباذ فى الأوعية فانتبذوا ولا تشربوا مسكرا
”میں نے تمہیں زیارت قبور سے منع کیا تھا اب زیارت کے لیے چلے جایا کرو۔ اور برتنوں میں نبیذ بنانے سے بھی منع کیا تھا۔ اب رخصت ہے۔ لیکن یاد رکھو کہ نشہ آور چیز نہ پینا۔ “
صحیح مسلم كتاب الجنائز : باب استئذان النبي صلی اللہ علیہ وسلم ربه عزوجل في زيارة قبر امه (حديث : 977)
ایک روایت میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں:
فزوروها ولا تقولوا هجرا
”اب زیارت کے لیے چلے جایا کرو۔ اور وہاں کوئی خلافِ شریعت بات نہ کرنا۔“
(سنن نسائی کتاب الجنائز : باب زيارة القبور حدیث 2035)
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ زیارت قبور سے روکنا صرف اس بنا پر تھا کہ لوگ وہاں جا کر غیر شرعی اعمال کرتے تھے۔ چنانچہ اس راستے ہی کو بند کر دیا گیا۔ جیسے شروع میں عام برتنوں میں نبیذ بنانے سے روک دیا گیا تھا، کیونکہ خمر (شراب) کا اثر آہستہ آہستہ ہوتا ہے اور پینے والا بے خبری میں شراب پی جاتا ہے۔