مجاہد تیار کرنے کی فضیلت صحیح حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

مجاہد تیار کرنے کی فضیلت

سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من جهز غازيا فى سبيل الله فقد غزا، ومن خلف غازيا فى سبيل الله بخير فقد غزا .
” جو کسی غازی کو تیار کرے گا گویا اس نے خود جہاد کیا، اور جو نیکی اور بھلائی کے ساتھ کسی مجاہد کے اہل خانہ کی نگہداشت کرے، گویا اس نے خود جہاد کیا۔“
صحيح البخاري، كتاب الجهاد، باب فضل من جهز غازيا او خلفه بخير، رقم: 2843 ـ صحيح مسلم، کتاب الامارة، باب فضل اعانة الغازي في سبيل الله، رقم: 1895 .
اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مجاہدین کے ساتھ سامانِ حرب و دیگر ضروریات میں تعاون کرنا اسی طرح ہے، جیسا کہ بندہ خود جہاد میں شریک ہو ۔ اسی طرح مجاہد کے جہاد پر جانے کے بعد اس کے اہل خانہ کی ضروریات کا خیال رکھنا بھی باعث اجر وثواب ہے۔ نیز اس سے اخوت، بھائی چارہ اور احساس ذمہ داری کا بھی درس ملتا ہے ۔