اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے کے فضائل
جو لوگ اللہ کی خاطر نفس، شیطان، اور اللہ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتے ہیں، ایسے لوگ بڑے خوش نصیب ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ان کی محنت کا صلہ بڑھا چڑھا کر عطا فرماتا ہے اور انھیں اعمال صالحہ کی توفیق دیتا ہے۔ تاکہ ان کے ذریعے اس کی قربت حاصل کریں۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾
”اور جو لوگ ہمارے دین کی خاطر کوشش کرتے ہیں، ہمیں انھیں اپنے راہ راست پر ڈال دیتے ہیں، اور بے شک اللہ نیک عمل کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔“
(29-العنكبوت:69)
﴿وَمَنْ أَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَىٰ لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ كَانَ سَعْيُهُم مَّشْكُورًا﴾
”اور جس کا ارادہ آخرت کا ہو، اور جیسی کوشش اس کے لیے ہونی چاہیے وہ کرتا بھی ہو اور وہ با ایمان بھی ہو۔ پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی۔“
(17-الإسراء:19)
﴿إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنَىٰ مِن ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ وَثُلُثَهُ وَطَائِفَةٌ مِّنَ الَّذِينَ مَعَكَ ۚ وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ ۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحْصُوهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرْضَىٰ ۙ وَآخَرُونَ يَضْرِبُونَ فِي الْأَرْضِ يَبْتَغُونَ مِن فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَآخَرُونَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنفُسِكُم مِّنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِندَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾
تیرا رب بخوبی جانتا ہے کہ تو اور تیرے ساتھ کے لوگوں کی ایک جماعت قریب دو تہائی رات کے اور آدھی رات کے اور ایک تہائی رات کے تہجد پڑھتے ہیں، اور رات دن کا پورا اندازہ اللہ تعالیٰ کو ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ تم اسے ہرگز نہ نبھا سکو گے۔ پس اس نے تم پر مہربانی کی لہذا جتنا قرآن پڑھنا تمہارے لیے آسان ہو اتنا ہی پڑھو، وہ جانتا ہے کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوں گے، بعض دوسرے زمین میں چل پھر کر اللہ کا فضل یعنی روزی بھی تلاش کریں گے اور کچھ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد بھی کریں گے۔ سو تم با آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو، اور نماز کی پابندی رکھو، اور زکوۃ دیتے رہا کرو، اور اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دو، اور جو نیکی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر سے بہتر اور ثواب میں بہت زیادہ پاؤ گے، اللہ سے معافی مانگتے رہو۔ یقیناً اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
(73-المزمل:20)
اللہ عز وجل کی راہ میں جتنی زیادہ جد و جہد کی جائے، اللہ تعالیٰ اتنا ہی بندے کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث قدسی میں آیا ہے:
عن أنس رضى الله عنه ، عن النبى صلى الله عليه وسلم يرويه عن ربه عزوجل قال:إذا تقرب العبد إلى شبرا تقربت إليه ذراعا ، وإذا تقرب إلى ذراعا تقربت منه باعا ، وإذا أتاني يمشي أتيته هرولة
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب سے روایت فرماتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جب بندہ میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس کی طرف ایک ذراع قریب ہو جاتا ہوں، اور جب وہ میری طرف ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں اس کی طرف دو ہاتھ قریب ہو جاتا ہوں، اور جب وہ میری طرف چلتا ہوا آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں۔“
صحیح بخاری، کتاب التوحید، باب ذكر النبي صلى الله عليه وسلم وروايته عن ربه، رقم: 7536 .
غور فرمائیں! معصوم عن الخطا، شفیع المذنبین، شافع محشر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رستہ الہی میں کتنی جدوجہد کرتے ہیں، کتنی زیادہ محنت کرتے ہیں؟
عن عائشة رضي الله عنها ، أن نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقوم من الليل حتى تتفطر قدماه، فقالت عائشة: لم تصنع هذا يا رسول الله ، وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر؟! قال: أفلا أحب أن أكون عبدا شكورا؟
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو (اتنا لمبا) قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک پھٹ جاتے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیئے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیا میں اس بات کو پسند نہ کروں کہ میں اس کا شکر گزار بندہ بنوں؟“
صحيح بخاري، كتاب التفسير ، رقم : 4836 – صحیح مسلم، کتاب صفات المنافقين، باب إكثار الأعمال والاجتهاد في العبادة، رقم: 2820.
اللہ کی راہ میں جدوجہد کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ دن بھر بندہ دعوت کے میدان میں مصروف عمل رہے، اور رات کی تنہائیوں میں اپنے رب کے حضور سر بسجود ہو کر اپنے رب سے مناجات کرے۔ تا کہ اس کا رب اس سے راضی ہو جائے، اور اگر دین کو اختیار کرنے کی صورت میں مشکلات و شدائد رکاوٹ راہ بنیں تو انھیں خاطر میں لائے بغیر بس دین و ایمان کی پرواہ کرے۔ ایسا شخص جس قدر عظیم کام کا متحمل ہو رہا ہے، اس قدر اس کی مدح قرآن و احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
يأتي على الناس زمان الصابر فيهم على دينه كالقابض على الجمر .
”ایک زمانہ لوگوں پر ایسا آئے گا جس میں دین پر صبر کرنے والا شخص اس آدمی کے مانند ہو گا جس نے اپنی مٹھی میں انگارہ لے لیا ہو۔“
سنن ترمذی، کتاب الفتن، باب الصابر على دينه في الفتن ….. رقم : 2260 ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین رحمہم اللہ نے دین الہی کے لیے اپنا مال و جان تک قربان کر دیا، وہ جانتے تھے کہ یہ سب رب کا فضل ہے اور اسی کے بارے میں سوال ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لا تزول قدما عبد حتى يسأل عن عمره فيما أفناه وعن علمه فيما فعل فيه وعن ماله من أين اكتسبه وفيم أنفقه وعن جسمه فيما أبلاه .
”کسی بندے کے قدم اس وقت تک نہیں ہل سکیں گے جب تک اس سے چار سوالات نہیں کر لیے جائیں گے: اس نے اپنی عمر کو کس چیز میں ختم کیا؟ اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ اور اس نے اپنا مال کہاں سے کمایا اور کس چیز پر خرچ کیا؟ اور اس نے اپنے جسم کو کس چیز میں بوسیدہ کیا؟“
سنن الترمذي، كتاب صفة القيامة، باب في القيامة : 2417۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
دین کی اشاعت و تبلیغ کے سلسلے میں سیدنا ابو بکر، عمر، عثمان و عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ کی کاوشیں، جدوجہد، اس کی نظیر پیش نہیں کی جا سکتی کہ جب بھی ضرورت پڑی، تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم دامے درمے سخنے قدمے اس میں شریک کار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے راستے میں خلوص، اخلاص اور استقامت عطا فرمائے۔ آمین!