پہرہ دینے کی فضیلت
عن سهل بن سعد رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: رباط يوم فى سبيل الله خير من الدنيا وما عليها ، وموضع سوط أحدكم من الجنة خير من الدنيا وما عليها ، والروحة يروحها العبد فى سبيل الله أو الغدوة، خير من الدنيا وما عليها .
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں ایک دن سرحدی محاذ پر پہرہ دینا، دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے، اور جنت میں تمہارے کسی ایک کے کوڑے جتنی جگہ کا مل جانا، دنیا اور جو کچھ اس پر ہے، سے بہتر ہے ، اور اللہ کے راستے میں ایک شام یا ایک صبح کو چلنا ، دنیا اور جو کچھ اس پر ہے، سے بہتر ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب الجهاد، باب فضل رباط يوم في سبيل الله، رقم: 2892.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو انہوں نے فرماتے ہوئے سنا:
رباط يوم وليلة خير من صيام شهر وقيامه، وإن مات ، جرى عليه عمله الذى كان يعمله ، وأجري عليه رزقه ، وأمن الفتان .
”ایک دن اور رات کا پہرہ دینا ایک ماہ کے صیام و قیام سے بہتر ہے، اور اگر پہرہ کے دوران وہ فوت ہو جائے تو اس کے عمل کا ثواب جاری رہتا ہے، اور اس کا رزق جاری ہو جاتا ہے، اور وہ قبر کے فتنے سے محفوظ رہتا ہے۔“
صحيح مسلم، كتاب الإمارة، باب فضل الرباط في سبيل الله عز وجل، رقم: 1913.
فائدہ : جہاد فی سبیل اللہ کا طریقہ کار منہج نبوی علیہ الصلوۃ والسلام اور فہم وعمل صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مطابق ہونا چاہیے کیونکہ اس میں ہی اللہ کی رضا ہے ۔سلف صالحین نے بھی اس پر زور دیا ہے، ورنہ اُمت مسلمہ کا فتنوں میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔ جہالت ، خواہشات اور جذبات سے کام لینے کے بجائے انبیاء علیہم السلام کے وارث علمائے سلف کی طرف رجوع کیا جائے کیونکہ اسی میں خیر اور بھلائی ہے۔