شر کی ممانعت
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، پس جب آپ نے اسے دیکھا تو فرمایا: یہ اپنے قبیلے کا برا آدمی ہے۔ پس جب وہ بیٹھ گیا تو آپ پوری توجہ اور خندہ پیشانی کے ساتھ اس سے پیش آئے، جب وہ شخص چلا گیا تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جب آپ نے اس آدمی کو دیکھا تو آپ نے اس کے متعلق یوں یوں فرمایا تھا، پھر آپ پوری توجہ اور خندہ پیشانی کے ساتھ اس سے پیش آئے (وجہ کیا ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا عائشة، متى عهدتني فاحشا؟ إن من شر الناس عند الله منزلة يوم القيامة من تركه الناس اتقاء شره
”عائشہ رضی اللہ عنہا! آپ نے مجھے کب بدکلامی کرتے ہوئے پایا؟ روزِ قیامت اللہ کے ہاں سب سے برا شخص وہ ہوگا جس کے شر سے بچنے کے لیے لوگ اس کے ساتھ میل جول ختم کر دیں۔“
بخاری، کتاب الأدب 6032۔
اور ابو داؤد کی روایت میں ہے:
من شر الناس الذين يكرمون اتقاء ألسنتهم
”لوگوں میں سے برے لوگ وہ ہیں جن کی زبانوں کے شر سے بچنے کے لیے ان کی تکریم کی جاتی ہے۔“
بخل کی ممانعت
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اتقوا الظلم فإن الظلم ظلمات يوم القيامة، واتقوا الشح فإن الشح أهلك من كان قبلكم، حملهم على أن سفكوا دماءهم واستحلوا محارمهم
”ظلم سے بچو اس لیے کہ ظلم روزِ قیامت ظلمات کا باعث ہوگا، اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کر ڈالا، اس نے انہیں اپنے خون بہانے اور اپنے محارم کو حلال جانے پر تیار کیا۔“
مسلم، کتاب البر والصلة والآداب 56/2578۔ مسند احمد، باقی مسند المکثرین 396/3 حدیث 14474۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
شر ما فى الرجل شح هالع وجبن خالع
”آدمی میں جو بری خصلتیں ہیں، وہ طمع کے ساتھ لالچ اور دل نکال دینے والی نامردی ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الجهاد 2511، مسند احمد، باقی مسند المکثرین 404/2 حدیث 8030۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يجتمع غبار فى سبيل الله ودخان جهنم فى جوف عبد أبدا، ولا يجتمع الشح والإيمان فى قلب عبد أبدا
”کسی بندے کے پیٹ میں اللہ کی راہ (جہاد) والی غبار اور جہنم کا دھواں کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے۔ اسی طرح کسی بندے کے دل میں بخل اور ایمان اکٹھے نہیں ہو سکتے۔“
اور ایک روایت میں ہے:
في قلب مسلم
”مسلمان کے دل میں۔“
ترمذی، فضائل الجهاد 1633، النسائي، الجهاد 12/6، ابن ماجه، کتاب الجهاد 2774۔
④ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خصلتان لا يجتمعان فى مؤمن: البخل وسوء الخلق
”دو خصلتیں ایسی ہیں جو کسی مومن میں اکٹھی نہیں ہو سکتیں: بخل اور بد اخلاقی۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 1961۔
مشقت میں ڈالنے کی ممانعت
① سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ضار ضار الله به، ومن شاق شاق الله عليه
”جو شخص لوگوں کو نقصان پہنچائے گا اللہ اس وجہ سے اسے نقصان پہنچائے گا اور جو شخص لوگوں پر مشقت ڈالے گا تو اللہ اس پر سختی اور مشقت ڈالے گا۔“
ابو داؤد، کتاب الاقضیة 3635، ترمذی، کتاب البر والصلة 1940۔
مسلمان کی مصیبت پر خوش ہونے کی ممانعت
① سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تظهر الشماتة بأخيك فيرحمه الله ويبتليك
”اپنے بھائی کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کر، ہو سکتا ہے کہ اللہ اسے بچا لے اور تمہیں آزمائش سے دوچار کر دے۔“
ترمذی، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 2506۔